GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
مرحوم قاضی حسین احمد
اسلام پہ نثاروہ ملت کا غمگسار

دنیا کا ازل سے دستور رہا ہے کہ جب کوئی یہاںسے رخصت ہوتا ہے تواپنوں کو سوگوار چھوڑ جاتاہے ۔ مر نے والوں میں کم ہی ایسے ہوتے ہیں جو پورے عالم کو سوگواربناتے ہیں۔ ۵ جنوری 2013ء امت مسلمہ سے جدا ہونے والا مرد حق آ گاہ قا ضی حسین احمد دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ۔ مرحوم ایسے ہی خوش بخت نفوس میں سے ایک تھے جن کی ابدی جدائی کو دنیا کے گوشے گوشے میں دکھ اور افسوس کے ساتھ محسوس کیا گیا ۔ امت کا شاید ہی کوئی طبقہ ٔ خیال یا گروہ ایسا ہو جس نے اس جدائی کو ذاتی غم کی طرح محسوس نہ کیا۔ اس کی بنیادی وجہ  دراصل یہ ہے کہ مرحوم دعوت اسلامی کے میدان میں بے پناہ اخلاص مندی ،حق کی نشرو اشاعت کا لا ثانی جذبہ اور مسلما نوں کی سر خ روئی کی آ رزوسے ہی بہرہ مند نہ تھے بلکہ افغان جہاد میںاپنے قائدانہ رول اور خدمت خلق اللہ کی مناسبت سے  ان کی ایک خاص پہچان ہے۔  اپنی وفات کے وقت ان کی عمر چوہتر برس تھی اور آ پ گذشتہ بیس سال سے دل کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ غالبا ًاپنی پڑھائی کے دوران ہی جماعت اسلامی سے وابستہ ہوئے تھے اور پھر اسی تحریک کے اسیر ہوکر رہ گئے۔ مولانا سید مودودی مرحوم کے بعد یہ اس تحریک کے تیسرے امیر تھے اور دو بار منصب امارت پر منتخب ہوئے ،تیسری بار خود یہ بار اٹھانے سے معذرت کی ۔ ان کی وفات کی خبر سن کر ان کے واقف کاروں اور مداحوں پر سکتہ جیسا طاری ہوگیامگر کیا کیجئے قضائے الہی کے سامنے  ہر فرد بشر مجبور محض ہے ۔

قاضی صاحب 1970ء میں جماعت اسلامی پشاور کے امیر بنے تھے ۔ اس کے بعد وہ 1986ء میں چھ سال کے لئے ایوان ِبالا سینٹ آف پاکستان کے ممبر منتخب ہوئے۔1992ء میں وہ دوبار سینٹر منتخب ہوئے مگر بعض حکومتی پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے 1996ء میں استعفیٰ دے دیا۔ مرحوم دوبار قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ قاضی صاحب نے اپنی دورامارت میں بہت سی تحریکوں کی قیادت و سیادت کا بھی فریضہ انجام بھی دیا ہے۔ چنانچہ دس اکتوبر 2002ء سے اٹھارہ فروری2008ء تک پا کستان میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد ’’متحدہ مجلس عمل ‘‘کے صدر بھی رہے۔

سرزمین پاکستان پر اسلامک فرنٹ کا قیام ہو یا شباپ ملی کی تاسیس،کاروان دعوت و محبت کی مہم جوئی ہو یا مذہبی جماعتوں کا متحدہ پلیٹ فارم  ان سب کے پیچھے مرحوم قاضی حسین احمد کی تنہا شخصی قوت کارفرما تھی اوریہ سب ان کی انتھک جدوجہد کا ہی نتیجہ تھا۔ ان تنظیموں کی وساطت  سے دعوت اسلامی کو گرچہ پاکستان کے اکناف و اطراف میں پھلنے پھولنے کا موقع ملا مگر اس سے جماعت اسلامی پاکستان کا پورا نیٹ ورک  بری طرح سے متاثر بھی ہوا ۔ عام طور پرخیال کیا جاتا ہے کہ یہ حکمت عملی قاضی صاحب مرحوم کی جانب سے جماعت اسلامی پاکستان کی تاریخ میں ایک تبدیلی کے علاوہ اقتدار تک پہنچنے کا ایک شارٹ کٹ تھا۔ ان تنظیموں کے مقصد قیام ، طر یق کار اور ان کے جلسے جلسو س جماعت کے مزاج سے نہ صرف مختلف تھے  بلکہ ان میں طرح طرح کے اشتہارت اور نعرے بازیاں دیکھ کر قاضی صاحب کو جماعت کے اندر شدید قسم کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ جماعت کے اندر اختلافات اور تضادات کا بیج بویا۔ بہت بار قاضی صاحب پر یہ دباؤ پڑا کہ وہ جماعت کی امارت سے مستعفی ہوجائیں ،خاص کر میاں محمد طفیل مرحوم سابق امیر جماعت ان کے سب سے بڑے ناقد رہے۔ با یں ہمہ قاضی صاحب کے دور امارت میں جماعت کو ایک عوامی فورس کی حیثیت سے متعارف کرانے میںان کی جدوجہد کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ مرحوم کے دور میں جو تبدیلیاں عمل میں لائی گئیں ان کااثربہت دیر تک جماعت پر قائم و دائم رہے گا۔جماعت کی رکنیت کے لئے جو سخت شرائط دستور جماعت میں رکھی گئی تھیں ،ان میںحد سے زیادہ لچک اور نرمی لا ئی گئی۔ اس حوالے سے مرحوم میاں محمد طفیل صاحب کی باتیں قابل غور ہیں کہ ’’ جو گروہ اور پارٹیاں یہ چاہتی تھیں کہ محب وطن جماعتوں میں اتفاق کی بجائے افتراق بڑھتا چلاجائے اور ملک کے اندر کام کرنے والی جو ایجنسیاںملک کو ایک خاص مقام تک پہنچانے کے لئے سرگرم تھیں، انہوں بڑی حکمت سے اسلامک فرنٹ کے جلسوں اور جلسوں کی حاضری بڑھانے اور اس کے راہنمائوں کو ہوا کے گھوڑے پر سوار کرنے کے لئے ان عوامی اجتماعات کو کامیاب بنانے میں بھرپور کرداد اداکیا‘‘۔ اس طرح قاضی صاحب مرحوم اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ ایجنسیوں کے ہتھے چڑھ کر پاکستانی سیاست پر چھاگئے۔غالبا اسی پس منظر میں میاں محمد طفیل مرحوم نے کہا تھا کہ ’’ ہم نے جماعت اسلامی کو اس قوم میں دودھ نکال کر بنایا تھا لیکن اب اسے لسی بنایا جارہا ہے۔

مرحوم قاضی حسین احمد مرحوم کا نام دور پُر آ شوب میں وادیٔ کشمیر کی سرد ہواووں میں بھی سنا گیا۔ نوے کی دہائی میں جب کشمیر میںمسلح جدوجہد شروع ہوئی تو کئی بار احتجاجی جلسوں جلو سوں میں لوڈا سپیکروں کے ذریعہ جہادی ترانے بھی سنائے جاتے تھے ، ان یہ پر جوش نغمہ زبان زد عام ہوگیا تھا کہ’’ سب مل کر کریں گے وار قاضی گیلانی اور حکمت یار‘‘قاضی صاحب مرحوم سے راقم السطور کو کئی بار نہ صرف ملاقات کا شرف حاصل ہوا بلکہ لندن میں قیام کے دوران دو ہفتے ان کی معیت میں گزارے۔ یوں مجھے انہیں قریب سے دیکھنے کا  زریںموقعہ ملا ۔ ان جاذب نظر وجا ہت، بارونق اور پررعب چہرہ دیکھ کر مجھے پہلے یہی محسوس ہوا یہ غالباً سخت گیر قسم کے انسان ہوں گے اور نہ معلوم میری بات سنیں بھی گے مگر جب میں ان سے ملا تو انتہائی پرتباک طریقہ سے ملے اور یوںگلے لگایا جیسے صدیوں سے جان پہچان تھی ۔ میں نے انہیں  مزاجاً بہت ہی نرم دل اور معتدل طبیعت کا مالک دیکھا ۔ وہ ہر ایک سے انتہائی خندہ پیشانی اور اپنا ئیت کے جذ بے سے ملتے تھے ۔لندن میں دل کی سرجری کے بعد ڈاکٹروں نے ا نہیںمشورہ دیا کہ آرام کریں مگر وہ سیماب فطرت انسان ڈاکٹروں کی نصیحت کو طاق پر رکھ اٹھ کھڑے ہوتے اور لوگوں سے مصافحہ معانقہ کرلیتے تھے ۔

مرحوم اپنے نظریہ اور موقف میں پختہ ،واضح ، دوٹوک اور غیر متزلزل تھے۔پھر اپنی تحریر اور تقریر کے ذریعہ ان کی وضاحت بھی بے با کا نہ انداز میںکرتے تھے ۔ وہ کسی سے مرعوب ہو تے نہ کسی مادی قوت کے سامنے جھکنے والے تھے بلکہ ہمیشہ دبنگ آواز میں بات کرتے تھے  اپنے مافی الضمیر کو اظہار کی زبان د ینے میںجری اور بے خوف ہی نہیں تھے بلکہ دلیل کے ذریعہ مخاطب سے قائل بھی ہو تے اور جوابی دلیل سے دوسروں کو مطمئن کر کے چھو ڑتے تھے۔ وہ ذاتی مصلحتوں کی غلامی ان کے سامنے پھٹکنے بھی نہ پا تی تھی۔  اس میں ودرائے نہیں کہ وہ مملکت خدا داد کو ایک اسلامک اسٹیٹ کی صورت میں دیکھنے کی تمنا رکھتے تھے اور اسی کے لئے دن رات محنت بھی کرتے تھے ۔ میں نے انہیں  بار باریہ کہتے سنا کہ پاکستان تہذیب افرنگ کے خلاف اسلام کا مضبوط قلعہ ہے لیکن ا بھی مغربیت کے خلاف معرکہ ٓرائی ہم مسلمانوں کے سر اُدھار ہے اور نہ معلوم کب تک یہ چکتا ہو جائے گا پھر بھی ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ قاضی صاحب ملی اتحاد کے سب بڑے علمبردار تھے۔ جب افغانستان کی جنگ ختم ہونے کے بعد وہاں کی لیڈرشپ میں اختلافات پیدا ہوئے تو قاضی صاحب دن رات اتحاد کی خاطر افغان قائدین کی منتیں کرتے تھے اور اس سلسلے میں میلوں پیدل دشوار گزارپہاڑوں کا پر خطر سفر بھی کیا کرتے تھے ۔ وہ یہ کہتے تھے کہ ہم نے ایک سپر پاور کو افغانستان سے تو نکال دیا مگر اس جنگ کے مفید ثمرات ہمیں نصیب نہ ہوئے بلکہ سازشوں کے ذریعہ مسلمانوں کو آ پس میں لڑایا جارہا ہے۔

پاکستان میں جب مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا ایک الائنس آ ئی جے یو  ( اسلامی جمہوری اتحاد) کے نام سے قائم ہوا، اس کے روح رواں بھی مرحوم قاضی ہی تھے ۔یہ اتحاد زیادہ دیر تک نہ چل سکا کیونکہ اس میں شامل مسلم لیگ کا اپنا ایجنڈا تھا ، البتہ بعد میں جب نواز برادارن کو مشرف دور میں جلائے وطن کیا گیا تو اس جمہوری اتحاد اسلامی کو ازسرنو متحد کرنے کے لئے وہ لندن تشریف لائے ۔ یہاں لندن کی سنٹرل مسجد میں نماز عصر کے بعد ایک نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں نواز شریف، شہبار شریف، پروفسر خورشید احمد ، پاکستان کے سابق صدر مرحوم رفیق تارڑ، جمعیت علمائے پاکستان کے مولانافضل الرحمان ، انصاف پا رٹی کے بانی قائد عمران خان کے علاوہ دسیوں پاکستانی سیاسی پارٹیوں کے نمایند ے بھی شامل تھے۔ اس وقت بھی مرحوم یہی درد سینے میں لئے ہوئے تھے کہ خدارا اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھو اور پارٹی بازی سے بالاتر ہوکر پاکستان اور پاکستانی قوم کے لئے کو ئی اچھا کام کرو اور یہ کہ اگر آپ لوگ آرمی ڈکٹیٹر پرویز مشرف سے خلاصی چاہتے ہیں تو اتحاد کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔

 قاضی مرحوم پشاور میں پیدا ہوئے تھے اور وہاں ہی ان کی تعلیم و تربیت ہوئی تھی ۔ انہوں نے اقتصادیا ت میں ڈگری لی تھی البتہ وہ بیک وقت پانچ زبانیں بھی خدا داد قابلیت کے ساتھ بولتے تھے جن میں پشتو، فارسی، عربی اور انگریزی شامل ہے ۔ جب وہ اردو بولتے تو اس میںسے پشاوری لہجہ اور مخصوص گرج بھی شامل ہوکر اسے دوآ تشہ بناتی ۔

اہل کشمیر اور مسئلہ کشمیر سے انہی خاصی دلچسپی تھی۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ انہیں ایک خاص طرح کی ہمدردی تھی، وہ  شعور کی گہرائیوں کے ساتھ کشمیر کو پاکستان کا جزولاینفک سمجھتے تھے 5   جنوری کو یوم کشمیر ملکی پیمانے پر منانا انہی کا شروع کردہ اقدام تھا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ جب جولائی 2000 میں مشہور عسکری پسند عبدالمجید ڈار نے سیزفائر کا اعلان کرط کے حکومت ہند کے اعلی ٰ سر اکری عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات کا آ غاز کیا توقاضی صاحب اس وقت امریکہ میں تھے ۔ اس سنسنی خیز ڈیولپمنٹ پران کا ردعمل بہت ہی شدید تھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے ضمن میںان کاکیا رول رہا ہے۔ قاضی صاحب مرحوم ہمیشہ کشمیریوں کی عزت کرتے تھے اور جس طرح بھی ممکن ہوتا ان کی مدد کرتے رہتے تھے۔ ان کا یہ ذاتی وصف صرف کشمیر تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ مسلمانوں سے وابستہ ہر مسئلہ گویاان کا اپنا ذاتی مسئلہ تھا،وہ امت کے ہر غم کو وہ اپنا غم سمجھتے تھے۔ امت کے تئیں ان کی وارفتگی عالم یہ تھا کہ افغانوں کی روس کے خلاف جنگ ہو، کویت عراق لڑائی ہو، بوسنیا کا مسئلہ ، شیشان کا قضیہ ہو، فلسطین کا جہاد یا اسرائیلی بربریت کے خلاف صدائے احتجاج ہو،وہ ہر جگہ پہنچے اور ہر مظلوم کے ساتھ اپنی غیر مشروط یکجہتی کا اظہار کیا   ؎  

خنجر چلے کسی پہ تڑپے ہیں ہم اسیر

سارے جہاں کادرد ہمارے جگر میں ہے

جب بھی تقریر کرتے تھے تو ہمیشہ کلام اقبال سے آغاز کرتے تھے ۔ جب یہاں لندن میں مجھے پہلی بار ان کی تقریر سننے کا موقع ملا تو سامعین میں زیادہ تر پاکستانی ہی تھا۔پاکستان کی صورتحال پربھرپور روشنی ڈالنے کے بعد انہوں عالم اسلام کے مختلف مسائل کا بھی ذکر کیا اور جماعت اسلامی پاکستان کے موقف کی بھی وضاحت کی۔ پاک بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر کے تناظر میں انہوںنے کہا کہ ہم لال قلعہ پر بھی اسلام کا  جھنڈا لہرائیں گے۔ پروگرام کے اختتام پر جب ہم قیام گاہ پر پہنچے تو میں نے انہیں اس جانب توجہ دلائی کہ یہاں برطانیہ میں کوئی لال قلعہ نہیں ہے، آپ نے اپنی تقریر میںاس کا تذکرہ کیا۔ کہا بیٹے میرا مطلب یہ نہیں بلکہ ہم پورے ہندوستان کو اسلام کی ابدی تعلیمات سے روشناس کرانا چاہتے ہیں۔

یہ اللہ کا بندہ اپنی تمام زندگی میں اداروںکی معاونت اور اقامت دین اورآزادی کی تحریکوں کی آبیاری کرنے میں مصروف رہا۔

 یوں ہمارے اپنے دور میں سلف صالحین کے دور کی تابناک مثال قائم کی ۔یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ مرحوم قاضی حسین ان لوگوں میں سے تھے جو اللہ کو اپنا رب مان لینے کے بعد اس پر جم گئے اور اللہ کی اطاعت، اس کے دین کی سربلندی اور اس کی مخلوق کی خدمت میں ساری زندگی اور اپنے سارے وسائل خوشی خوشی لٹا دئے۔ میری دانست میں وہ منافی الامت تھے اور ان میںکسی علاقائی یا گروہی عصبیت کا کوئی شائبہ بھی نہیں دیکھا گیا۔ اسلام اور امت مسلمہ کی عظمتِ رفتہ ان کی بے داغ زندگی کا مرکز اور محور تھے اور انہی کی خدمت میں وہ مالک حقیقی سے جاملے۔ اللہ تعالی ان کی نیک اعمال کو قبول فرمائے اور انہیں جنت میں اعلی مقام میں جگہ دے۔(آمین)

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کر ے

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By