GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
وائے ناکامی۔۔۔۔وائے افسوس
بگڑ ے انسان کو سنبھالیں تو مانیں

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بنایا اور اس میں مختلف قسم کی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ان تمام مخلوقات میں انسان کو سب پر برتری عطا کی۔ انسان کو دوسری مخلوقات پر برتری اس لحاظ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جاننے، سمجھنے اور سوچنے کی قوتیں دیں، بھلائی اور برائی کی تمیز عطا کی، انتخابِ عمل و رائے کی آزادی دے کر اسے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا۔ دنیا کی اس زندگی میں انسان کو اختیارات دے کر بھیجنے کا مقصد آزمائش تھی اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دنیا کی زندگی ایک امتحان گاہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی منشا یہ تھی کہ انسان کو خلافت کے اختیارات دے کر یہ دیکھے کہ ان میں سے کون ان اختیارات کا صحیح استعمال کرتا ہے اور اپنی اخلاقی ذمہ داری کا حق ادا کرتا ہے۔ اگر انسان کی پیدائش کا مقصد آزمائش نہ ہوتی، کسی محاسبے اور کسی جزا و سزا کا کوئی تصور نہ ہوتا، تو انسان کی تخلیق بے معنی ہو کر رہ جاتی۔ یعنی آزمائش، محاسبے، جزا وسزا کے بغیر انسانی زندگی بے معنی ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:  ’’اللہ ہی ہے جس نے موت اور حیات کو اس لئے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے‘‘۔ (سورۃ الملک:۲)

انسان کی زندگی اور موت دونوں بامقصد ہیں۔ انسانی زندگی دراصل ایک مہلت امتحان ہے یہ دیکھنے کے لئے کہ کون اچھے اعمال کرتا ہے، اور کون برے، کون فرماں بردار بنتا ہے اور کون نافرمان، کون اطاعت شعاری اور بندگی کا راستہ اختیار کرتا ہے اور کون بغاوت و سرکشی اور عدوان(دشمنی) کا راستہ اختیار کرتا ہے۔

موت کا مقصد یہ ہے کہ انسان نے جو کچھ دنیا کی زندگی میں کیا ہے اس کا اس کے مطابق اسے بدلہ دیا جائے، اگرامتحان کے بعد بدلہ نہ ہو تو ہر امتحان ہونا ایک طرح کا مذاق ہی ہو گا۔آزمائش مختلف طریقوں سے ہوتی ہے۔ کبھی اقتدار ، سلطنت و بادشاہت بخش کر، کبھی غربت و افلاس میں رکھ کر، کبھی خوشحالی و فارغ البالی دیکر اور کبھی نعمتوں سے محروم رکھ کر۔ انسان تو اس دنیا میں چند روز کے لئے آیا ہے اور اصل منزل اس کی آخرت ہے۔ تخلیق انسانیت کا مقصود آزمائش ہے،اس آزمائش میں کامیاب ہونے کے نتیجے میں ابدی اور لازوال جنت ملنے والی ہے اور ناکامی کی صورت میں ہمیشہ ہمیشہ کی ذلت و رسوائی (جہنم) مقدر ہونے والی ہے۔( اللہ اس سے ہم سب کو بچائے) گویا انسان کا اصل کام اس دنیا میں آکر یہ ہے کہ ہر وقت اسے اپنے پیش نظر خدا اور اس کے رسول صلعم کی تعلیمات رکھ کر اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اور جو اس میں کامیاب ہوا یعنی صحیح طور پر جس نے اپنی زندگی کو اس کے سانچے میں ڈالا تو وہی اُخروی طور کامیاب ہوا لیکن افسوس آج کا انسان اس سے غافل پڑا سویا ہے، اُسے اپنی آخرت سنوارنے کی ذرا برابر بھی فکر اور غم نہیں، اس نے صرف اپنے آپ کو ہی نہیں بلکہ اس دنیاکو بھی اسی رنگ میں رنگ کر تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔بے حیائی ، فحاشی و عریانیت کا آج ہر جگہ چرچا ہے، اخبار و رسائل پڑھیں یا ٹی وی دیکھیں تو یہ سب اکثر فحاشی سے بھرے پڑے ہوتے ہیں، شہ سرخیاں یہ خبر یں بنتی ہیں کہ آج یہاں اور وہاں ایسے ایسے سیاہ کارنامے انجام پا ئے اوراور اتنے اغوا کاری کے واقعات ہوئے ، گھر بار چھوڑ کرلڑکوں اور لڑکیوں کے بھاگنے کی شر م ناک خبریں آئے دن پڑھنے کو ملتی ہیں ۔ آخر اس سوئے ہوئے مر دہ ضمیرانسان کو خبر بھی ہے کہ یہ واقعات آج کیوں رونما ہورہے ہیں؟ کیا وجہ ہیں ان کے رونما ہونے میں…؟ اور کیسے یہ معاشرہ ان شرورات سے بچے گا؟ اس کے لئے بہرحال ہمیں مسلمان ہو نے کے ناطے غور کرنا ہو گا کہ ان بیماریوں کی وجوہات کیا ہیں اور ان کا علاج کیسے ممکن ہیں…؟

چناں چہ اگر آج ہم اپنے گھر سے لے کر پورے معاشرے تک کا حال دیکھتے ہیں تو لگ بھگ ہر جانب ایک ہی چیز دکھائی دیتی ہے کہ انسان انسانیت سے دور جا کر جانوروںکی سطح پر گر چکا ہے۔ مطلب یہ کہ دنیا میں رہنے والے لوگوں نے اپنے جینے اور مرنے کا وہ اندازاختیار کیا ہوا ہے جو عموماً ایک انسان اور خصوصاً ایک مسلمان کا طریقہ زندگی نہیں ہو سکتا۔ انسان جانوروں کی طرح اپنی بے مقصد زندگی گزار رہا ہے، اس کا جینا بھی پیٹ پو جا اور اس کا مرنا بھی حصول مال ہے۔ وہ گھر سے نکلے تو اپنا فائدہ سوچ کر نکلتا ہے اور بازار سے گھر جانا بھی اسی مقصد کے ارد گرد گھومتا رہتا ہے، یعنی اسے مادہ پرستی نے اس قدر آگھیرا ہے کہ وہ اس سے باہر نکل ہی نہیں پا رہا ہے۔ کبھی فرصت ہی نہیں ملتی ہے کہ ذرا سوچے کہ وہ آخر اس دنیا میں کیوں آیا ہے…؟ اسے کس غرض کے لیے بھیجا گیا ہے…؟ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ اسے کس ذات نے تخلیق کیا ہے…؟ اس کا پیدا کرنے والا اور مارنے والا کون ہے…؟ یہ سب کچھ انسان بھول چکا ہے۔ اس کے ذہن سے ایسے ایسے خرافات، نظریات، تفکرات کا زہر نکل رہا ہیں کہ انسان ہوتے ہوئے بھی اسے یہ ہوش نہیںکہ وہ انسانوں جیسا کام کرتا ہے یا جانوروں جیسا؟ ۔

جب اس قدر معاشرہ مادہ پرستانہ ذہنیت کا شکار ہو چکا ہو تو اس وقت یہ آس رکھنا کہ معاشرہ اوراس میں رہنے والے لوگوں کے درمیان یکجہتی کا سماں پیدا ہو، معاشرہ پاک و صاف ہو، معاشرے کے لوگوں میں ایک دوسرے کے لئے ہمدردی ہو، لوگوں کے درمیان محبت اور بھائی چارگی کا ماحول قائم ہو، انہیں اپنی زندگی کا مقصد یاد ہو، یہ سب کچھ خواب وخیال بن جاتا ہے۔ چنانچہ لوگوں کے درمیان بہت سارے ذی حس لوگ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں رہنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے میں اتحاد قائم ہو۔ وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں لیکن عملاً ایسا کچھ دیکھا نہیں جا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی روحانی اوراخلاقی پہچان کو ہی بھول گیا ہے۔ اسے یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا ہے…؟ کیوں ہے اور کس نے کن کاموں کے لئے اسے دنیا میں کیا دے کربھیجا ہے…؟ اس لا علمی یا خودسری کی وجہ سے وہ تمام ان کاموں کا مرتکب ہو رہا ہے جو انسان کے کرنے کے نہیں تھے۔ وہ خدا بیزاری ، مادہ پرستی، لوٹ مار، قتل و غارتگری، ظلم و فساد کا راستہ اختیار کرتا ہے، صرف اس لئے کہ وہ سب سے بڑا بن جائے، اس کا نام، اس کا Statusاونچا ہو جائے، اسے وہ سب کچھ ملے جو کسی کو نہ مل سکا ہو، وہ جہاں بھی جائے اس کا خیر مقدم ہو، اس کے ہر کام کو سراہا جائے، اس کی لیڈری تسلیم کی جائے، اس کے آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں سب اس کے تابع ہوجائے ۔ یہ سوچ اس وقت پیدا ہو جاتی ہے جب اسے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کیا ہے…؟ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے…؟ اسے کس نے پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی کا مقصد اور بھیجنے کا مقصد کیا ہے…؟ جب انسان خدائے یکتا کے تصور سے خالی ہو جاتاہے، اس کے ذہن سے تصور آخرت ختم ہو جاتا ہے، اس کا ذہن تصور رسالت کا انکاری بن جاتا ہے تو اس وقت وہ ایک جانور سے بھی بدتر شکل اختیار کر جاتا ہے۔ وہ جانوروں کی طرح بے مقصد زندگی گزارتا ہے، یہ نہیں دیکھتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، کیا جائزہ ہے اور کیا ناجائز، کون سے چیزیں اس کے خالق نے حلال کی ہیں اور کون سے حرام؟ ان سب سے وہ دور نکل کر صرف اور صرف اپنے پیٹ کی بھوک مٹانے اور اپنی خواہشات نفس کا بندہ بن کر ’’جانوروں‘‘ کی صورت اختیار کرتا ہے۔ جیساکہ دامنی کے ساتھ دلی میں ہو ااور اگر انسان نہ بدلا تو آ گے بھی یہی ہو گا بلکہ اس سے بد تر ۔ آ ج انسان نما حیوان کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ جہاں کہیں سبزہ دیکھا وہیں دوڑ پڑا، جہاں نفس کی تسکین پائی وہیں جائے قرار اختیار کیا۔ اسے ہر وقت اپنے نفس کی بھوک سامنے رہتی ہے جس کے لئے وہ جانوروں جیسا طریقہ اختیار کرنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتابلکہ قرآن کے الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ’’وہ جانوروں سے بھی بدتر بن جاتا ہے‘‘۔

اس لحاظ سے موجودہ معاشرے کو اگر یکجہتی اور اصلاح کا درس دیا جائے، انہیں بتایا جائے کہ اتحاد کیا ہے اور کیوں ضروری ہے، معاشرے کو پاک وصاف کے لیے کھڑے ہو جائو، معاشرہ بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے تو معاشرے میں رہنے والے ان نفس کے بندوں کو یہ سب کچھ فضول دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ اس کا ذہن، اس کی سوچ، اس کا نفس اس سے عاری ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کے سامنے اپنا ایک مقصد ہوتا ہے تو جب وہ اپنے مقصد کے بیچ روڑا اٹکانے والے لوگوں کوپاتاہے تو اس کے جسم کا ایک ایک عضو دشمنی پر اُترآتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے کہ اس کے دل ودماغ میں اپنی مسلمانا نہ پہچان نہیں ہے۔ اسے اس کی فکر نہیں ہے کہ ایک دن مرنا ہے۔ وہاں تمام کئے ہوئے اعمال کا پورا پورا جواب دینا ہے، وہاںکو ئی ڈنڈی ماری اور بے جا سفارش نہ ہو گی ۔

جب اس قدر حالات بگڑے ہوئے ہوں تو یہ سوچنا کہ اصلاح احوال کیوں نہیںہوتا…؟ اتحاد ملت کیوں مسلمان ایک دوسرے کے بھائی کیوں نہیں بنتے؟ اپنی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجدیں بند کر کے ایک ہی مسجد میں لوگ کیوں جمع نہیںہو تے؟ یہ سب کچھ چاند اور تارے کو روشنی دکھانے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔ انسان اپنی پہچان سے تب ہی روشناس ہو سکتا ہے جب اسے یہ معلوم ہو کہ اس کا خالق کون ہے، اس کا اصل مالک کون ہے؟ وہ کس کا بھیجا ہوا بندہ ہے؟انسان تب ہی برے کاموں سے رُک سکتا ہے ہے جب اسے یہ احساس ہو کہ ایک دن مرنا ہے اور مرنے کے بعد اپنے کئے ہوئے اعمال کا جواب دینا ہے۔ جب اس سب سے ایک انسان بے خبر ہو تو اس کے کیا معنی ہیں کہ وہ وہی کام کرے جو اچھے اور صحیح ہیں۔ غرض دنیا میں رہنے والے لوگوں کے درمیان نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ لوگوں کے پاس آکر انہیں اصل حقیقت سے آشناس کرانا پہلی ضرورت ہے۔ جب انسان اپنی پہچان پا لے گاتو ہر وہ کام انجام دیا جا سکتا ہے جس سے معاشرہ پاک ہو جائے۔ جس سے خدائی تصور عام جائے، جس سے بدیوں کا قلع قمع اور نیکیوں کا فروغ عام ہو جائے۔ تو پہلی ضرورت ہے کہ انسان کو انسانی پہچان دلائی جائے۔ اس میں عجلت سے کام لیکر پہلے ہی وار میں تنقید کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے اصلاح کا راستہ اختیار کرنا افضل دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ انسان اس قدر بندگیٔ نفس کے دلدل میں پھنس چکا ہے کہ اگر اسے عجلت میں سدھارنے کاکوئی پروگرام بنایا جائے تو اس سے فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہوں گے۔ داعی کا کام یہ نہیں کہ مدعو کو متنفر کرے بلکہ داعی کی دعوت اس قدر ہونی چاہیے کہ مدعو اس کی جانب لپک جائے اور اگر لپک بھی نہ پائے تو کم از کم اس کا ذہن اور اس کی سوچ محدود ہو جائے۔ 

دعوت ایک نعمت بھی ہو سکتی ہے اور کبھی کبھار ہماری کم عقلی اور عجلت پسندی کی وجہ سے نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ آج وقت کی ضرورت کے ساتھ ساتھ دعوت دین کا کام کرنے والوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مدعو کے سامنے اس طرح پیش آجائے کہ مدعو سوچ میں پڑ جائے کہ اصل حقیقت آخر ہے کیا…؟ اگر طریقہ نرمی کے بدلے سختی کا اختیار کیا جائے تو اسے کے نتائج بھی سخت ہی نکل سکتے ہیں۔

موجودہ معاشرے میں رہنے والے لو گ اگرچہ انسانی شکل صورت صورت رکھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ شومیٔ قسمت سے ان میں سے اکثر کا تعلق فکری و نظریاتی طور انسانوں سے کم بہیمانہ خصلتوں سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ جانور بھی صبح سویرے نکلتا ہے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے تو انسان بھی یہ کچھ مقصد رکھتا ہے، جانور بھی بنا دیکھے کسی کے مال و جان اور کے پیچھے پڑکر اپنا پیٹ اور اپنی خواہشات پوری کرتا ہے تو انسان بھی اسی سوچ کا حامل ہو کر دنیا میں صر ف اور صرف اپنے مفادات کو دیکھتا رہتا ہے۔ جانور اپنی نفسانی خواہشات اور شہوت رانی کے لئے اصولوں کا پا بند نہیں ،نسان بھی ان پا بندیوں کابا غی بنا ہو اہے ۔ غرض انسانی شکل وصورت رکھنے کے باوجود آج جانوروں کی خصلتیں انسانوںمیںزیادہ پائی جاتی ہیں،۔ان حالات میں داعی کا مسلمان داعی کا فرض ہے کہ تمام بگڑے ہو ئے لوگوں کے ساتھ نرمی کے بجائے پیش آ ئے ، دل سوزی کے ساتھ انہیں اصلاح کی پٹر ی پر لا ئے ، سختی کا طریقہ کار اختیار کرنا دعوت کے نام پر انتہا پسندی ہے جس سے کام بگڑ جائے گا نہ کہ کچھ  اچھاکام ہو سکے گا۔

 بگڑے ہو ئے سماج کے فرد فرد تک اصلاح کی دعوت صحیح طریقے سے پہنچے تو اس کے پھل میٹھے اور فائدہ مند ثابت ہوں گے اور اگر دعوت غلط حکمت عملی۔ عجلت  پسندی اور سختی ، خود غرضی اور اپنی تعمیر کو اونچا کرنے کے لئے دی جائے تو دعوت کے پھل اس قدر زہر آلود نکلیں گے کہ دور سے دیکھنا بھی گوارنا نہ ہو پائے گا۔ آخر پر مولانا سید مودودی ؒ کا ایک جگہ لکھتے ہیں :

’’نصیحت ایسے طریقے سے کی جائے جس سے دل سوزی اور خیر خواہی ٹپکتی ہو۔ مخاطَب یہ نہ سمجھے کہ ناصح اسے حقیر سمجھ رہا ہے اور اپنی بلندی کے احساس سے لذت لے رہا ہے بلکہ اسے یہ محسوس ہو کہ ناصح کے دل میں اس کی اصلاح کے لئے ایک تڑپ موجود ہے اور وہ حقیقت میں اس کی بھلائی چاہتا ہے‘‘

email: ibrjamal38@gmail.com

٭٭٭٭٭٭

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By