GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  جمہ ایڈیشن
کتاب وسنت کے حوالے سے مسائل کا حل


طلاق: عدت کے بعد نان وکفاف لینا جائز نہیں

سوال:-کیا طلاق واقع ہوجانے اور معیادِ عدت گزرنے کے بعد مطلقہ خاتون کے لئے نانِ نفقہ طلب کرنایا لینا جائز ہے؟

افتاب احمد بٹ …چھانہ پورہ ، سرینگر

جواب:- جب کسی مسلمان نے ہوش حواس کی سلامتی کے ساتھ اپنے ارادے سے طلاق دے دی تو یہ طلاق واقع ہوگئی ۔یہ طلاق زبانی دی جائے یا تحریری دی جائے ۔ بہرحال طلاق واقع ہوگئی ۔اب یہ طلاق نہ تو زوجہ کے تسلیم کرنے پر موقوف ہے اور نہ یہ کسی کورٹ یا مفتی یا برادری کے روکنے کے معلق ہوسکتی ہے ۔ جیسے نکاح چند الفاظ سے منعقد ہوجاتاہے۔اسی طرح طلاق بھی الفاظ سے ہی ہوجاتی ہے ۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کے عہد میں نہ نکاح کی دستاویز لکھی جاتی تھی اور نہ طلاق کی تحریر ہوا کرتی ہے ۔تاہم آج کے عہد میں نکاح وطلاق بھی تحریراً ہوتاہے ۔ اس لئے بہرحال شوہر نے جب تحریری طلاق دے دی ہے تو یہ طلاق واقع ہوچکی ہے ۔ اگر ایک طلاق دی ہے تو واقع ہوگی ۔ تین طلاق دی ہیں تو تین واقع ہوگئیں۔
اب طلاق واقع ہونے کے بعد عورت (تین حیض یا تین ماہ یا وضع حمل)کی پوری مدت کانفقہ جس کو نان وکفاف کہاجاتاہے ،تو شوہر پرلازم ہے مگر جوںہی عدت ختم ہوگئی ۔اب شوہر کے ذمہ کوئی نفقہ نہیں اور نہ ہی زوجہ کو کوئی نفقہ لینا شرعاً جائز ہے ۔اگر کورٹ نے طلاق کوتسلیم نہ کیا اور نفقہ لازم کردیا تو بھی ان کی زوجیت ختم ہوچکی ہے او ریہ نفقہ لینا غیرشرعی ہے ۔ دراصل کورٹ کا فیصلہ اسلام کے نظام طلاق کو ختم نہیں کرسکتا ۔ مشہور زمانہ شاہ بانو کیس دراصل یہی نقطۂ مطلقہ کا کیس تھا جس میں مسلمانوں کی تحریک کی بناء پر یہ فیصلہ روک دیا گیا تھاکہ طلاق کے بعد صرف عدت کا خرچہ مسلمان طالق پر لازم ہے ،اس کے بعد کانہیں۔
مسلم پرسنل لاء کے معنی اسلام کے وہ مسائل جو عائلی معاملات کے متعلق ہیں اُن کے لئے خالص شریعت اسلامیہ کے مطابق فیصلہ کرنا ۔ چنانچہ نکاح، طلاق، نفقہ ، حضانت ، وراثت ، وقف ، ثبوت نسب ھبہ، مہر ، خلع وغیرہ عائلی معاملات ہیں ۔ ان تمام معاملات کے متعلق 1947ء سے پہلے بھی انگریزدورِ اقتدار اور1947ء کے بعد مقامی حکمرانوں کے دورِ حکومت میں یہ سلسلہ قائم رہا اور آئین میں یہ ضمانت دی گئی کہ مسلمانوں کے پرسنل لاء میں نہ کوئی مداخلت کی جائے گی اور نہ کسی ترمیم کی کوشش کی جائے گی ۔
مگر اس کے باوجود عدالتیں واقع شدہ طلاق کو مسترد کرکے غیر اسلامی زوجیت قائم رکھنے اور طلاق واقع ہونے کے باوجود سالہاسال تک اُس شخص سے نفقہ وصول کرانے کا کام کرارہی ہیں جس کی زوجیت ختم ہوچکی ہے ۔ یہ مسلم پرسنل لاء کی صریح خلاف ورزی ہے ۔
اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داران فکر مندبھی ہیں اور کوشاں بھی کہ عدالتوں کے یہ غیر شرعی فیصلہ خصوصاًطلاق اور نفقات کے متعلق کس طرح رُک جائیں او رکس طرح عدالتوں کے فاضل جج صاحبان چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم شریعت اسلامیہ کو ملحوظ رکھ کر فیصلے کریں تاکہ مسلم پرسنل لاء محفوظ رہے ۔مگر جب تک یہ سعی بارآور ہو مسلمان خود اپنے دین پر عمل پیرا ہونے کے ذمہ دارہیں۔
بہرحال طلاق واقع ہونے کے بعد رشتۂ زوجیت ختم ہوجاتاہے اور اس کے بعد کسی کورٹ یا برادری کے فیصلے کی بناء پر نفقہ لیتے رہنا غیر شرعی ہے اور اجنبی مال ہڑپ کرنے کے لئے کورٹ کا سہارالینا قرآن کے ارشاد کے مطابق حرام ہے ۔

قضاءعمری نمازیں کس طرح ادا کی جائیں؟
سوال: بچپن سے نماز پڑھتا ہوں لیکن پابندی کے ساتھ نماز ادا نہیں کرسکا۔ چند سال قبل ایک عالم دین سے تعلق ہوا اور نمازوں کو اپنے اپنے اوقات پرپڑھنا شروع کیا ۔ اس دوران قضا عمری نمازیں بھی کچھ عرصہ ادا کیں ۔ لیکن کچھ عرصہ بعد بوجہ علالتِ زوجہ نمازیں پھر قضا ہونے لگیں ۔ اسی دوران ڈیوٹی لداخ چلی گئی اور وہاں بھی نمازوں کی پابندی نہیں ہوسکی۔ اب گھر واپسی پر نمازیں اپنے وقت پر ادا کرتاہوں اور کبھی کبھار اگر دن کی نمازیں قضا ہوئیں تو شام کو ادا کرلیتا ہوں یا پھر اگلے روز ۔ اب دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ قضا ہوئی نمازوں کو کس طرح ادا کروں اور نیت کیا ہو ؟ صبح کی سنتوں اور وتر نماز کی قضا کے بارے میںبھی بتائیں ۔

حمید اللہ حمید…پٹن

جواب:بالغ ہونے کے بعد سے آج تک مختلف اوقات میں جو نمازیں ادا نہیں ہوپائی ہیں ، ان کا تخمینی اندازہ لگاکر اُن کی تعداد مقرر کر لی جائے ۔ یہ تخمینہ یقینا قطعی طور پر قضا شدہ نمازوں کی تعداد کے عین مطابق نہیں ہوسکتا۔ مگر اسطرح کے تمام معاملات کے لئے شریعت اسلامیہ نے یہی اصول مقررکیا ہے کہ تخمینہ لگایا جائے ۔ اس کو شریعت کی اصطلاح میں ’’تحرّی‘‘کہتے ہیں ۔جب یہ تعداد مقرر ہو جائے تو پھر ان کی ادائیگی اس طرح کی جائے کہ ادا کرتے ہوئے ادا شدہ نمازوں کی تعداد نوٹ کرلی جائے تاکہ باقی ماندہ نمازوں اور پڑھی ہوئی نمازوں کا واضح حساب موجود رہے ۔

فوت شدہ نمازوں کا سبب چاہے غفلت رہا ہو یا سفر،یا ماحول کا اثر اور یا اسپتال میں قیام ، بہرحال وہ سب قضا ہی کے حساب میں شمار ہونگی ۔ اب ادا کرتے ہوئے صرف نیت یہ کرنی ہے کہ مثلاً جتنی فجر کی نمازیں مجھ پر باقی ہیں ان میں سے پہلی والی پڑھنے کی نیت کرتاہوں ، ہر نماز کے ساتھ یہی نیت کی جائے ۔

قضا شدہ نمازوں کو پڑھنے میں صرف فرض پڑھے جائیں ، گو یا فجر کی دورکعت ، ظہر کی چار رکعت، عصر کی چار رکعت ، مغرب کی تین اور عشاء میں چار فرض اور تین وتر پڑھے جائیں ۔

جب اپنے تخمینے کے مطابق مقرر شدہ نمازیں پوری کرلی گئیںتو پھر شکر بھی ادا کریں یعنی صلوٰۃ التوبہ پڑھیں ۔اس کے بعد کوئی نماز قضا نہ ہونے دیں اور اگر کہیں قضا ہوجائے تو اُسے اُس پچھلے ظنّی حساب سے  الگ شمار میں رکھ لیں اور حتی الامکان جلد پڑھنے کی سعی کریں ۔

قضا نماز یں پڑھنے کے لئے وقت کا کوئی تعین نہیں ۔ صر ف ان تین اوقات میں نہ پڑھی جائیں ،طلوعِ آفتاب ، زوالِ آفتاب اور غروبِ آفتاب۔فجر کے بعد اور عصر کے بعد دوسرے مسلمانوں کی موجودگی میں قضا نمازیں پڑھنے سے اسلئے پرہیز کیا جائے کہ کہیں ایسا نہ کہ وہ یہ سمجھیں کہ نفلیں پڑھی جارہی ہیں اور پھر وہ بھی جائز ہونے کا تصور قائم کرلیں گے ۔

قضا نمازوں کو پڑھنے کا سب سے آسان او رآخری درجہ کاطریقہ ادائیگی یہ ہے کہ ہروقت کی نماز کے ساتھ ایک قضا نماز بھی پڑھ لی جائے ۔ فجر کے ساتھ ایک قضاشد ہ فجر ، ظہر کے ساتھ ایک قضا شدہ ظہر وغیرہ ۔

جن ایام میں عام طور پر شب گذاری کی جاتی ہے اور رات بھر عبادت میں مشغول رہتے ہیں ۔ مثلاً شبِ برات وغیرہ ۔ ان ایام  میں زیادہ تر وقت قضا نمازو ں کے پڑھنے میں صرف کرنا بہتر ہے ۔ اسی طرح مغرب سے لے کر عشاء تک کا وقت عام طور پر فراغت کا وقت ہوتاہے اور اس لئے ضائع ہی ہوتاہے تو اس پورے وقت کو اگر قضا نمازوں کی ادائیگی میں صرف کرلینے کا معمول بنا لیا جائے تو نہایت مناسب ہوگا ۔ وہ مسلمان جو تمام نمازوں کے بوجھ سے فارغ ہو جائے چاہے قضا پڑھ کر ہی سہی ، کس قدر ذہنی اطمینان اور قلبی سکون کے ساتھ اپنی باقی ماندہ زندگی گزارے گا اور کم از کم نمازوں کے سلسلے میں کتنا بے فکر ہو کر دنیا سے جائے گا یہ واضح ہے ۔

قضاء عمری کی فکر کرنا اور فوت شدہ نمازوں کی ادائیگی کے لئے سرگرم ہونا اور ہمت وعزم کے ساتھ ادا کرنے کا اہتمام کرنا یقینا ایمان کا مقتضی ٰ بھی ہے اور زیادتی ایمان کا سبب بھی ہے ۔ یاد رہے کہ مسلمان پر نماز بالغ ہونے کے بعد فرض ہوتی ہے اور بالغ ہونے کا اصول یہ ہے ۔

لڑکے پر جس وقت غسل لازم ہوجائے اُسی وقت وہ بالغ ہو جائے گا ۔ اگر غسل تو فرض نہیں ہوا مگر اُس کی عمر پندرھویں سال میں پہنچ گئی ہو تو اب وہ عمر کی بناء پر بالغ قرارپائے گا ۔یعنی پندرہ سال مکمل کرکے جب وہ سولہویں سال میں داخل ہوا تو جس وقت اس نے سولہویں سال میں قدم رکھا اُسی وقت اُس پر نماز فرض ہو جائے گی۔

خواتین کے لئے مجالس علم واصلاح ضروری

سوال:۱-موجودہ دور میں پائی جارہی مرد وخواتین میںجہالت اور بے راہ روی کو دور کرنے کے لئے کیا مسجدوں میں ’’طبقہ خواتین‘‘ کا ہونا ضروری نہیں ہے تاکہ مسلمان مردوں کے ساتھ ساتھ مسلمان خواتین بھی تقاضائے اسلام سے واقف ہوں۔

حفیظ اللہ خان…راولپورہ، سرینگر

جواب:۱-طبقہ خواتین کی اصلاح کے لئے گھروں میں دینی تعلیم ، نمازوں کی پابندی ، اچھی خواتین کی صحبت ، بہتر مفید اور اصلاحی کتابوں کا مطالعہ ، ایسے ادارے جہاں لڑکوں کے ساتھ اُٹھانا بیٹھنا ہو وہاں سے دور رکھنا ،ٹی وی اور اس طرح کے دوسرے وہ تمام ذرائع ابلاغ جو خرابیاں پھیلانے کا کام ہی زیادہ کرتے ہیں ان سے دور رکھنا ۔یہ وہ اقدامات ہیں جو اصل طریقہ اصلاح ہے ۔ مساجد میں خواتین کا آنا باعث اصلاح ہوگایا نہیں ۔اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ مردوں کے لئے مسجد میں نمازوں کے لئے حاضر ہونا لازم ہے مگر مساجد کی نمازوں اور وعظ وغیرہ میں کتنے نوجوان شرکت کرتے ہیںاور کتنوں کی اصلاح ہوتی ہے ۔

اصل طریقۂ اصطلاح وہی ہے جو حضرت نبی کریم علیہ السلام نے اختیار فرمایا تھا۔ امام بخاریؒ کی جامع صحیح میں کتاب العلم کے ذیل میں ہے کہ عورتوں کے لئے مستقل الگ سے مجلس علم واصلاح منعقد ہوتی تھی ۔ یہ طریقۂ اصلاح آج بھی اپنانا مفید ہے جیسے کہ امت مسلمہ ہر دور میں اپناتی آرہی ہے ۔

انکم ٹیکس کی ادائیگی کے بعد بھی زکوٰۃ لازم

سوال:۱- اپنے ایک دوست سے سناہے کہ جس رقم پر انکم ٹیکس پڑجائے وہ رقم واجب الذکوٰۃ نہیں ہے ۔اس پر اس نے عشر کی مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جس زمین پر آبپاشی کے لئے کچھ رقم بطور ٹیکس (آبیانہ) اور باقی خرچہ جات ادا کرنا پڑے اس سے حاصل شدہ غلہ پر صرف نصف عشر دینا پڑتاہے ۔ازراہ کرم رہنمائی فرمایں ۔

عاصی نذیراحمد بٹ ……کھڈونی

جواب:- انکم ٹیکس اداکرنے کے بعد جورقم باقی ہے اُس پر زکوٰۃ لازم رہتی ہے ۔ یہ کہنا بالکل غلط اور شریعت کے سراسر خلاف ہے کہ جس رقم پر انکم ٹیکس ادا کیا جائے اس میں زکوٰۃ معاف ہوگئی ۔زکوٰۃ اسلام کا فریضہ قرآن کا حکم اور اسلام کے پانچ فرائض میں سے ایک لازمی فرض ہے ۔ جب یہ فرض لازم ہوجائے تو معاف نہیں ہوتا ۔الا یہ کہ سارا مال ہی ختم ہوجائے ۔اگر انکم ٹیکس اداکرنے میں کسی نے کوتاہی کی تو بھی زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہے ۔ اور انکم ٹیکس ادا کیا گیا تو بھی یہ لازم ہے ۔ عشر کی مثال میں عشرمعاف نہیں ہوتا ۔ہاں عشر کم ہوجاتاہے اور عشر میں یہ تخفیف شریعت نے دی ہے ۔اس لئے ہر سال انکم ٹیکس پر منطبق نہیں ہوتی ۔
سوال:-اگر کوئی مسلمان گورنمنٹ کو انکم ٹیکس نہیں دیتا مگر زکوٰۃ پوری ادا کرتاہے ۔ کیا وہ شخص گناہ گار ہوتاہے کہ نہیں ؟

محمد اکبر ……لچھی پورہ ،بونیار

جواب:-زکوٰۃ اداکرنا اللہ کا فریضہ ہے اور انکم ٹیکس دینا حکومت کا قانون ہے ۔شریعت اسلامیہ اُس حکومت کے اُن قوانین جو خلافت شریعت نہ ہوں اور فلاحی ہوں کو،پورا کرنے کا حکم دیتی ہے جس حکومت کے فلاحی ورفاہی فوائد سے ہم فائدے اٹھائیں اگر اس کو ٹیکس نہ دیں گے تو پھر وہ فوائد حاصل کرنے کا حق کیسے ہوگا ۔ اس لئے انکم ٹیکس ادا کرنا چاہئے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By