GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
عقائد بمقابلۂ الحاد۔۔۔۔۲
دُنیا اسلام کی متلاشی ہے مگر

یورپ میں کارل مارکس نے کپٹل ازم کے استحصال کے خلاف ایک عظیم تحریک شروع کی جس میں اس نظام کی معاشی ناہمواریوں پر زبردست تنقید کی گئی۔ مارکس اور ان کے ساتھی فریڈرک اینجلز، جو بہت بڑے الحاد نواز فلسفی تھے، نے تاریخ انسانی کی ایک نئی توجیہInterpretation کر ڈالی جس میں انہوں نے معاش ہی کو انسانی زندگی اور انسانی تاریخ کا محور و مرکز قرار دیا۔ان کے نزدیک تاریخ کی تمام جنگیں، تمام مذاہب اور تمام سیاسی نظام معاشیات ہی کی پیداوار تھے۔انہوں نے خدا، نبوت اور آخرت کے عقائد کا انکار کرتے ہوئے دنیا کو ایک نیا نظام پیش کیاجسے تاریخ میں کمیونزم کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔ کمیونزم کا نظام خالصتاً الحادی نظام تھا۔کمیونسٹ نظام انفرادی ملکیت کی مکمل نفی کرتا ہے اور تمام ذرائع پیداوار جن میں زراعت، صنعت، کان کنی اور تجارت شامل ہے، کو مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں دے دیتا ہے۔ پوری قوم ہر معاملے میں حکومت کے فیصلوں پر عمل کرتی ہے جو کہ کمیونسٹ پارٹی کے لیڈروں پر مشتمل ہوتی ہے۔کمیونسٹ جدوجہد پوری دنیا میں پھیل گئی۔ اسے سب سے پہلے کامیابی روس میں ہوئی جہاں لینن کی قیادت میں1917 میں کمیونسٹ انقلاب برپا ہوا اور دنیا کی پہلی کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی۔ دوسرا بڑا ملک جس نے کمیونزم کو قبول کیا، چین تھا۔ باقی ممالک نے کمیونزم کی تبدیل شدہ صورتوں کو اختیار کیا۔ کمیونزم کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ اس میں فرد کے لئے کوئی محرک یاIncentive نہیں ہوتا جس سے وہ اپنے ادارے کے لئے اپنی خدمات کو اعلیٰ ترین انداز میں پیش کرسکے اور اس کے لئے زیادہ سے زیادہ محنت کرسکے۔ اس کے بر عکس کپٹل ازم میں ہر شخص اپنے کاروبار کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینے اور اس سے زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے لئے دن رات محنت کرتا ہے اور اپنی اعلیٰ ترین صلاحیتیں استعمال کرتا ہے۔ کمیونزم کی دوسری بڑی خامی یہ تھی کہ پورے نظام کو جبر کی بنیادوں پر قائم کیا گیا اور شخصی آزادی بالکل ہی ختم ہو کر رہ گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سوؤیت یونین کی معیشت کمزور ہوتی گئی اور بالآخر 1990 میں یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ اس کے بعد اسے کپٹل ازم ہی کو اپنانا پڑا۔ دوسری طرف چین کی معیشت کا حال بھی پتلا تھا۔ چین نے اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے کمیونزم کو خیر باد کہہ دیا اور تدریجاً اپنی مارکیٹ کو اوپن کرکے کپٹل ازم کو قبول کرلیا۔ چین کی موجودہ ترقی کپٹل ازم ہی کی مرہونِ منت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کپٹل ازم اور کمیونزم دونوں نظام ہائے معیشت ہی استحصال پر مبنی نظام ہیں۔ ایک میں امیر غریب کا استحصال کرتا ہے اور دوسرے میں حکومت اپنے عوام کا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اہل مغرب نے اعلیٰ ترین اخلاقی اصولوں کو اپنا کر کپٹل ازم کے استحصالی نقصانات کو کافی حد تک کم کر لیا ہے، لیکن تیسری دنیا جس کی اخلاقی حالت بہت کمزور ہے وہاں اس کے نقصانات کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔چونکہ یہاں ہم الحاد کی تاریخ کا مطالعہ کر رہے ہیں اس لئے یہ کہنا مناسب ہو گا کہ پچھلی تین صدیوں میں معیشت کے میدان میں الحاد کو دنیا بھر میں واضح برتری حاصل رہی ہے اور دنیا نے الحاد پر قائم دو نظام ہائے معیشت یعنی کپٹل ازم اور کمیونزم کا تجربہ کیا ہے۔ کمیونزم تو اپنی عمر پوری کرکے تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، اس لئے اس پر ہم زیادہ بحث نہیں کرتے لیکن کپٹل ازم کے چند اور پہلوؤں کا ایک مختصر جائزہ لینا ضروری ہے جو انسانیت کے لئے ایک خطرہ ہیں۔کپٹل ازم کے نظام کی بنیاد سود پر ہے۔ بڑی بڑی صنعتوں کے قیام اور بڑے بڑے پراجیکٹس کی تکمیل کیلئے وسیع پیمانے پر فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک سرمایہ دار کیلے اتنی بڑی رقم کا حصول بہت مشکل ہوتا ہے۔ اگر اس کے پاس اتنی رقم موجود بھی ہو تو اسے ایک ہی کاروبار میں لگا نے سے کاروباری خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ ایک کاروبار اگر ناکام ہوجائے تو پوری کی پوری رقم ڈوبنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اگر وہی رقم تھوڑی تھوڑی کرکے مختلف منصوبوں میں لگائی جائے تو ایک منصوبے کی ناکامی سے پوری رقم ڈوبنے کا خطرہ نہیں ہوتا اور تمام کے تمام منصوبوں کے ڈوبنے کا خطرہ بھی نہیں ہوتا۔ اسے علم مالیات یاFinance کی اصطلاح میں Diversification کہا جاتا ہے۔ان بڑے بڑے پروجیکٹوں کے لئے رقم کی فراہمی کے ضمن میںدنیا نے Financial Intermediariesکا نظام وضع کیا ہے۔ اس درمیانی واسطے کا سب سے بڑا حصہ بنکوں پر مشتمل ہے۔ یہ بنک عوام الناس کی چھوٹی چھوٹی بچت کی رقوم کو اکٹھا کرنے کا کام کرتے ہیں جس پر بنک انہیں سود ادا کرتا ہے۔ پورے ملک کے لوگوں کی تھوڑی تھوڑی بچتوںکو ملا کر بہت بڑی تعداد میں فنڈ اکٹھا کر لیا جاتا ہے جو انہی سرمایہ داروں کو کچھ زیادہ شرح سود پر دیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر بنک عوام کو 8%  سود کی ادائیگی کر رہا ہے تو سرمایہ دار سے 10% سود وصول کررہا ہوگا۔ اس 2% میں بنک اپنے انتظامی اخراجات پورے کرکے بہت بڑا منافع بھی کما رہا ہوتا ہے۔

سرمایہ دار عموماً اپنے سرمایے کو ایسے کاروبار میں لگاتے ہیں جو اس سرمایہ پر بہت زیادہ منافع دے سکے۔ اگر ہم دنیا بھر کی مختلف کمپنیوں کی سالانہ رپورٹوںکا جائزہ لیں تو اس میں ایسے کاروبار بھی ملیں گے جن میں  Return on Capital Employed کی شرح 50%  سالانہ بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوگی۔اس منافع کا ایک معمولی سا حصہ بطور سود ان غریب لوگوں کے حصے میں بھی آتا ہے جن کا سرمایہ دراصل اس کاروبار میں لگا ہوتا ہے۔اس کو ایک مثال سے اس طرح سمجھ لیجئے کہ بالفرض ایک سرمایہ دار کسی بنک سے ایک ارب روپے 10%  سالانہ شرح سود پر لیتا ہے اور اس سرمائے سے50 کروڑ روپے سالانہ نفع کماتا ہے تو اس میں سے وہ10 کروڑ بنک کو بطور سود ادا کرے گا جب کہ بنک اس میںسے  8% سالانہ کی شرح سے 8 کروڑ روپے اپنے  کھاتہ داروں کو ادا کرے گا۔ چونکہ یہ کھاتہ دار بہت بڑی تعداد میں ہوں گے جنہوں نے اپنی تھوڑی تھوڑی بچت بنک میں جمع کروائی ہوگی اس لئے ان میں سے ہر ایک کے حصے میں چند ہزار یا چند سو روپے سے زیادہ نہیں آئے گا۔ اس طریقے سے سرمایہ دار ، عام لوگوں کو چند ہزار روپے پر ٹرخا کر ان کا پیسہ استعمال کرتا ہے جب کہ اسی پیسے سے خود کروڑوں روپے بنا لیتا ہے۔اس مثال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جس طرح جاگیر دارانہ نظام میں جاگیر دار یا مہاجن غریبوں کو سود پر رقم دے کر ان کا استحصال کیا کرتا تھا، اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دار غریبوں سے سود پر رقم لے کر ان کا استحصال کرتا ہے۔اس کے علاوہ فیوڈل ازم کے مہاجنی سود کا سلسلہ بھی اس نظام میں پوری طرح جاری ہے جس میں کریڈٹ کارڈزکے ذریعے  Micro-Financingکا سلسلہ جاری ہے۔ اس معاملے میں 36% سالانہ کے حساب سے سود بھی وصول کیا جارہا ہے۔ اس سود میں سے صرف8تا10% اپنے کھاتہ داروں کو ادا کیا جارہا ہے۔سرمایہ دارانہ نظام کی ایک اور خصوصیت جوئے کا فروغ ہے۔ یہ لعنت فیوڈل ازم میں بھی اسی طرح پائی جاتی تھی۔ دنیا بھر میں جوا کھیلنے کے بڑے بڑے ادارے قائم کئے جاچکے ہیں۔ سٹاک ایکسچینج، فاریکس کمپنیز اور بڑی بڑی کپٹل اور منی مارکیٹس ان کیسینوز کے علاوہ ہیں جہاں بڑی بڑی رقوم کا سٹہ کھیلا جاتا ہے۔ کھربوں روپے سٹے میں برباد کر دیے جاتے ہیں مگر بھوک سے مرنے والے بچوں کا کسی کو خیال نہیں آتا۔ ان کیسینوز میں جوئے کے ساتھ ساتھ بے حیائی اور بدکاری کو بھی فروغ مل رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے جوئے اور بدکاری کے مراکز بھی قائم کئے جاچکے ہیں۔ سود اور جوا ایسی برائیاں ہیں جن کا تعلق الحاد کی اخلاقی بنیادوں سے قائم کیا سکتا ہے۔ اس کی مزید تفصیل آگے آرہی ہے

الحاد کے سبب جو چیز سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، وہ اخلاق انسانی اور نظام معاشرت ہے۔ اگر کوئی شخص یہ فرض کر لے کہ (نعوذ باللہ) اس دنیا کا کوئی خدا نہیں ہے، موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے جہاں اسے اپنے کئے کا حساب دینا ہوگا تو پھر حکومت کے قوانین یا معاشرتی دباؤ کے سوائے کوئی چیز دنیا میں اسے کسی برائی کو اختیار کرنے سے نہیں روک سکتی۔ پھر اس کی زندگی کا مقصد اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ دولت اور اس سے لطف اندوز ہونا ہی رہ جاتا ہے۔اگر کسی کو یقین ہو کہ کوئی اسے نہیں پکڑ سکتا تو پھر کیا حرج ہے کہ اگر وہ اپنے کسی بوڑھے رشتے دار کی دولت کے حصول کے لئے اس کو زہر دے دے؟ اگر وہ اتنا ہوشیار ہو کہ پولیس اس کا سراغ نہیں لگا سکتی تو پھر لاکھوں روپے کے حصول کے لئے چند بم دھماکے کر کے ملحدین کا آلۂ کار بننے میں کیا حرج ہے؟ قانون سے چھپ کر کسی کی عصمت دری سے اگر کسی کی درندگی کی تسکین ہوتی ہے تو اس میں کیا رکاوٹ ہے؟ اپنی خواہش کی تسکین کے لئے بچوں کو اغواء کرکے، ان سے زیادتی کرکے ، انہیں قتل کر کے،تیزاب میں گلا سڑا دینے میں آخر کیا قباحت ہے؟ اپنے یتیم رشتہ دار کامال ہڑپ کر جانے سے آخر کیا فرق پڑتا ہے؟ فرضی دعویٰ ٰداخل کرکے اگر کسی کو اچھی خاصی جائیداد مل سکتی ہے تو کوئی ایسا کیوں نہ کرے؟ کسی کو اپنی گاڑی کے نیچے کچلنے کے بعد اسے اسپتال تک پہنچا کر اپنا وقت برباد کرنے کی آخر کیا ضرورت ہے؟ جائیداد کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لئے اگر کوئی اپنی بہن یا بیٹی پر کاروکاری کا الزام لگا کر اسے قتل کردے تو کیا قیامت برپا ہو جائے گی؟ اپنے دشمنوں کی بہو بیٹیوں کو ننگا کرکے بازاروں میں گھمانے پھرانے سے اگر کسی کے انتقامی جذبات سرد پڑتے ہیں تو ایسا کرنے میں کیا حرج ہے؟ اپنی لاگت یاCost کو کم کرنے کیلئے اگر کوئی خوراک یا ادویات میں ملاوٹ بھی کردے اور خواہ چند لوگ مر بھی جائیں تو کیا ہے، اس کا منافع تو بڑھ جائے گا؟ ذخیرہ اندوزی کرکے اگر کسی کے مال کی قیمتیں چڑھ سکتی ہیں تو وہ ایسا کیوں نہ کرے؟  اگر تیز رفتاری میں کسی کو مزہ آتا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے اگر اس سے کوئی ایک آدھ آدمی مر جائے یا ہمیشہ کیلئے معذور ہو جائے، اتنے مزے کیلئے ایک آدھ بندہ مارنا کونسا مسئلہ ہے؟ اگر کوئی کسی کے نظریات سے اختلاف کرے تو اسے گولی مارنے میں کیا قباحت ہے؟ یا پھر یہ سب نہ بھی ہو تو کوئی اپنا وقت معاشرے کی خدمت میں کیوں لگائے، وہ اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ تفریح یا عیاشی enjoyment  کے حصول میں ہی کیوں نہ خرچ کرے؟ اگر کوئی اپنے جرم کو چھپا سکتا ہو تو پھر سرکاری سودوں میں کمیشن کھا کر ملک و قوم کو نقصان پہنچانے میں کیا چیز مانع ہے؟یہ وہ مثالیں ہیں جواخبارات کے ذریعہ روزانہ منظر عام پر آتی ہیں۔راہ راست کے خوگر طبقہ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وحشی درندوں کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں جن پر انسان ہونے کا محض لیبل چسپاں ہے۔ کم وبیش اسی قسم کے واقعات تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پیش آتے ہیں۔ مفکرین کے نزدیک مسلم دنیا پر بھی الحاد غالب آچکا ہے۔ ایسا تو نہیں ہوا کہ مسلمان توحید، رسالت اور آخرت کا کھلم کھلا انکار کردیں لیکن عملی طور پر ہم ان حقیقتوں سے غافل ہو چکے ہیں۔ خدا ہے یا نہیں ہے، اس نے اپنے کسی رسول کو اس دنیا بھی بھیجا یا نہیں بھیجا ، آخرت ہو گی یا نہیں ہو گی ، اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ہر عمل پکار پکار کر  ملحدحامی ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں قانون کی طاقت سے محض چند بدطینتوں پر ہی قابو پایا جا سکتا ہے بشرطیکہ ان کے جرائم منظر عام پر آجائیں۔ معاشرہ دباؤ ڈال کر صرف ان لوگوں کی اصلاح کر سکتا ہے جن کے جرائم کا انہیں علم ہوجائے اور ان لوگوں کی تعداد معاشرے میں آٹے میں نمک کے برابر ہو۔ جو چیز جرائم کی شرح کو کم سے کم کرتی ہے وہ یہی انسانی اخلاقیا ت کا شعور ہی تو ہے۔ یہ شعور صرف ایک غالب قوت اور اس کے سامنے جواب دہی کے تصور ہی سے پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک ملحدانہ معاشرے میں یہ تصور کیسے پیدا کیا جاسکتا ہے؟یہ سب سے نمایاں سوال ہے جو الحاد پر کیا گیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ دنیا بھر کے ملحد مفکرین اور فلسفی اس اخلاقی شعور سے بے بہرہ ہوں۔ بلکہ وہ خود کو اخلاق اور انسانی حقوق کے علمبردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس سوال کا پوری طرح جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک فکر آخرت کا نعم البدل یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے کے ساتھ اس وجہ سے زیادتی نہ کرے کہ جواب میں وہ بھی زیادتی کرسکتا ہے یعنی دوسرے شخص کے منفی رد عمل سے بچنے کیلئے اس سے زیادتی نہ کی جائے۔اگر اس اخلاقی معیار کو درست مان لیا جائے تو ایسا صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب دونوں فریق قوت و اقتدار کے اعتبار سے بالکل مساوی درجے پر ہوں۔ ایک طاقتور شخص اگر کسی سے زیادتی کرے تو اسے جوابی ردعمل کا کیا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟ اگر غور کیا جائے تو دنیا بھر کے مجرموں اور جرائم پیشہ افراد اسی اخلاقی ضابطے کی پیروی کرتے ہیں۔ چوری اور ڈاکے کے بعد لوٹ کا مال آپس میں بڑی دیانت داری سے تقسیم کرلیا جاتا ہے۔ جوئے میں ہاری ہوئی رقم کو بڑی شرافت سے ادا کردیا جاتا ہے۔ منشیات فروش اپنا اپنا حصہ بڑی دیانت داری سے ایک دوسرے کو ادا کرتے ہیں۔لیکن ایک دوسرے سے دیانت دار یہ جرائم پیشہ لوگ پورے معاشرے کو تباہی کی طرف لے جار ہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ میرا ساتھی تو کسی طرح مجھے نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن ایک عام آدمی نہیں۔

الحاد کے اخلاقی اثرات بڑے واضح طور پر تیسری دنیا میں تو دیکھے جاسکتے ہیں لیکن دنیا کے ترقی یافتہ حصے میں یہ اثرات اتنے نمایاں نہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ الحاد کی تحریک کو سب سے پہلے فروغ مغرب میں حاصل ہوا لیکن وہاں کے لوگوں کا اخلاقی معیار تیسری دنیا سے نسبتاً بہتر ہے۔کوئی بھی فلسفہ یا نظام حیات سب سے پہلے معاشرے کے ذہین ترین لوگ تشکیل دیتے ہیں اور پھر اسے اپنی تقریر وتحریر کے ذریعے معاشرے کے ذہین طبقے میں پھیلاتے ہیں جسے عرف عام میں اشرافیہ یا Elite کہتے ہیں۔ یہی طبقہ معاشرے میں تعلیم و ابلاغ کے تمام ذرائع پر قابض ہوتا ہے۔ اس فلسفے یا نظام حیات کو قبول کرنے کے بعد یہ اسے عوام الناس تک پہنچاتا ہے۔ عوام ہر معاملے میں اسی اشرافیہ کے تابع ہوتے ہیں، اس لئے وہ اسے دل وجان سے قبول کر لیتے ہیں۔اہل مغرب میں الحادی نظریات کے فروغ میں جن ذہین افراد نے حصہ لیا وہ اخلاقی اعتبار سے کوئی گرے پڑے لوگ نہ تھے بلکہ انہوں نے خود کو انسانی اخلاق کے علمبردار کی حیثیت سے پیش کیا۔ جدید دور میں الحاد کی تحریک نے اپنا نام نہ صرف انسانی تحریک رکھ لیا ہے بلکہ وہ خود کو اخلاقیات کا چمپئن بھی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ کونسل فار سیکولر ہیومن ازم کے بانی پال کرٹز اپنی حالیہ تحریر کے ذریعہ زہر گھولتے ہیں کہ’ہمیں تیسری طرف جو جنگ لڑنا ہے وہ انسانی اخلاقیات کی جنگ ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اخلاقی انقلاب ہی انسانیت کے مستقبل کی ضمانت دیتا ہے۔
(بقیہ اگلے جمعہ ایڈیشن میں ملاحظہ فرمائیں)

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By