GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
بٹل سیکٹر میں پاکستانی فوجی ہلاک،آر پار تجارت و بس سروس معطل
لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں اضافہ

امریکی سفیردونوں ملکوں کیساتھ رابطے میں ہیں: واشنگٹن

یو این تحقیقات ناقابل قبول :چدمبرم/نئی دلی کے متضاد بیانات حیران کن :حنا ربانی

نیوز ڈیسک
اسلام آباد+نئی دلی+واشنگٹن //اوڑی کے بعد کرشنا گھاٹی سیکٹر میں بھارت اور پاکستانی افواج کے مابین شدید گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے تین فوجیوں کی ہلاکت سے لائن آف کنٹرول پر زبردست کشیدگی پائی جارہی ہے ۔مینڈھر پونچھ واقعہ کو لیکر جہاں اقوام متحدہ اور امریکہ نے دونوں ملکوں کو صبر و تحمل کامظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ وہیں پاکستان نے جمعرات کو اس بات کا دعویٰ کیا کہ بھارتی فوج نے بٹل سیکٹر پونچھ میں بعد دوپہر شدید گولہ باری کرکے پاکستان کے ایک فوجی حوالدار کو ہلاک کیا۔اس واقعہ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔3دنوں میں 3فوجیوں کی ہلاکت کے نتیجے میں پیداشدہ سخت کشیدگی نے جمعرات کو اُس وقت ایک نیا رُخ اختیار کیا جب بٹالہ سیکٹر میں فائرنگ کے تبادلہ میں پاکستانی فوج کا حوالدار مارا گیا۔ اسلام آباد میں پاکستانی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ  بھارت کی فوج نے جمعرات کو بعد دوپہر 2بجکر 40منٹ پر ہارٹ سپرینگ سیکٹر میں بٹل علاقہ میں قائم پاکستانی فوج کی ایک چوکی پر بلا اشتعال فائرنگ کی اور اس دوران فوجی حوالدار غلام محی الدین مارا گیا ۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کرشنا گھاٹی سیکٹر میں پیش آئے واقعہ سے متعلق دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے بدھ کو ہارٹ لائن پر بات چیت کی تھی اور اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ایسے واقعات کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی ۔مینڈھر سیکٹر میں فوجی نقل و حرکت میں اضافہ ہوگیا ہے اور کل شمالی کمان کے سربراہ نے وہاں جاکر اگلی چوکیوں کا معائینہ کیا ۔اس تازہ واقعہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں ٹھہرائو پیدا ہوگیا ہے ۔

اقوام متحدہ

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے روازانہ پریس بریفنگ کے دوران نامہ نگاروں کی طرف سے پاک بھارت تعلقات اور کنٹرول لائن پر پیش آئے واقعات کے حوالے سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاپاکستان نے 6 جنوری کو اوڑی میں پیش آئے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے، مشن جتنا جلدی ممکن ہوا،اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ8 جنوری کو پونچھ میں پیش آنے والے کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔
یو این فوجی مبصرین

بھارت اور پاکستان میں مقیم’’ یونائٹیڈ نیشنز ملٹری اوبزرور گروپ فار انڈیا اینڈ پاکستان‘‘(UNMOGIP)نے نئی دلی میں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں دونوں ملکوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صبروتحمل کا مظاہرہ اور سیز فائر کا احترام کرتے ہوئے بات چیت کے ذریعے آپسی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کریں۔بیان کے مطابق ’’اقوام متحدہ کا فوجی مبصرین کا مشن اس بات سے واقف ہے کہ بھارت اور پاکستان ہاٹ لائن کے ذریرے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں، مشن دونوں ملکوں پر زور دیتا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے تنائو کم کرنے کی کوشش کریں‘‘۔

واشنگٹن

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا’’ہم نے دونوں حکومتوں کو مشورے دئے ہیں تاکہ حالیہ واقعات کا ازالہ اور تنائو کم کیا جائے، ہم نے ان سے یہ بھی کہا ہے کہ اسکے لئے اعلیٰ سطح کی بات چیت کی جائے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا ہورہا ہے‘‘۔وکٹوریا نیو لینڈ نے مزید بتایا کہ امریکہ کو حالیہ واقعات میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کی ہلاکت پر تشویش ہے اور واشنگٹن نے نئی دلی اور اسلام آباد میں مقیم اپنے ہائی کمشنروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کشیدگی پر قابو پانے کیلئے دونوں حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔انہوں نے بھارتی فوج کے اہلکاروں کا سر قلم کئے جانے کے الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پاک بھارت کشیدگی سے واقف ہیں اور انہوں نے اپنے سفراء کو ہدایت دی ہے کہ وہ کشیدگی پر قابو پانے کے لئے حکومتوں کے ساتھ رابطے میں رہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کسی ’تھرڈ پارٹی‘ کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، امریکہ دونوں ملکوں پر زور دیتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے بات چیت کے ذریعے اس بحران کو حل کریں۔

پاکستان

پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے بھارت کے متضاد بیانات اور الزامات حیران کن ہیںتاہم پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کیلئے سنجیدہ ہے۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے جمعرات کو اسلام آباد میں تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران  پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا ’’بھارت کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات حیران کن ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’’ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ پاکستان ہمیشہ ذمہ دار بیانات دیتا ہے،بھارت سے لائن آف کنٹرول کے واقعے کے حوالے سے متضاد بیانات آ رہے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن سے چھ جنوری کو پاکستانی چوکی پر حملے کی تحقیقات کا کہا ہے۔اس ضمن میں ان کا کہنا تھا ’ ’ہم کچھ نہیں چھپا رہے اور اسی لئے ہم چاہتے ہیں کہ آزادانہ تحقیقات ہو اور یہی پیشکش ہم نے بھارت کو بھی کی ہے‘‘۔بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کو تجارت کے حوالے سے وہی درجہ دیتا ہے جو ایک سو اسّی دیگر ممالک کو دیتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان نے گزشتہ دسمبر میں بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینا تھا۔ اس حوالے سے حنا ربانی کھر نے کہا ’’یہ درجہ دینے کا ایک عمل ہے اور چند ہفتے کی تاخیر بے معنی ہے‘‘۔انہو ں نے کہا کہ فائر بندی سے متعلق خلاف ورزیاں ہندوپاک کے امن عمل میں رکاوٹ نہیں بنیں گی ۔حنا ربانی نے کہا کہ کہ انہیں امید ہے کہ دونوں ملک صورتحال کو ٹھیک کرنے کے وعدہ بند ہے اور ہم صورتحال کو ٹھیک کرنے کا کام کر رہے ہیں ۔ان کاکہنا تھا کہ ہم نے بھارت سے کہا ہے کہ اس واقعہ کی اقوام متحدہ فوجی مبصرین کے ذریعے تحقیقات کی جائے لیکن بھارت نے اس سے نامنظور کر دیا ۔ہم اپنی نیت میں صاف ہیں اور اصل حقیقت کو سامنے لانے کیلئے ہم تیسرے فریق کو شامل کرنے کے حق میں ہیں ۔حنا ربانی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے پاس ایسا میکانیزم ہے کہ اس طرح کے واقعات کو روکا جاسکے ۔لیکن بھارت کی طرف سے کشیدگی بڑھانے کیلئے ایسے بیانات سامنے آئے جو افسوسناک ہے ۔اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم آپس میں ہمسایہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت اور عوام بھارت کے ساتھ تعلقات نارمل بنانے کے حق میں ہے اور ہم نے جو سفر شروع کیا ہے وہ جاری رہیگا۔اس سے قبل پاکستان کے سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے معاملے پر دونوں ممالک کے ڈی جی آپریشنز کے درمیان رابطہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے دس سال بعد اس کی خلاف ورزی بد قسمتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی ہے اور اس پیشکش کے حوالے سے بھارت کے جواب کا انتظار ہے۔
بھارت
بھارت نے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں پیش آئے واقعہ کی اقوام متحدہ کے ذریعے تحقیقات کرنے کی پیش مستر د کر دی ۔سیکورٹی سے متعلق کابینہ کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں وزیر دفاع اے کے انتونی نے وزراء کو اس واقعہ سے متعلق جانکاری دی ۔میٹنگ کے بعد وزیر خارجہ پی چدمبرم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم قطعی طور اس معاملے کو بین الاقوامی سطح ُپر لانے کے خواہشمند نہیں اور ہم اس واقعہ کی تحقیقات اقوام متحدہ کے ذریعے کرانے کے حق میں نہیں ۔لہٰذا پاکستان کی مانگ کو مستردکیا جاتا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا ہم نے اس پر سنجیدگی سے غور کیا ہے اور اس حوالے سے جو بھی کرنا ہوگا ہم کرینگے۔چدمبرم نے کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے فائر بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے اور بھارت کی فوج اپنے حدود کے اندر اسی طرح کام کر رہی ہے جس طرح دونوں ملکوں کے درمیان قواعد وضع کئے گئے تھے ۔

تجارت و بس سروس معطل

راجوری سے ناصر ملک نے اطلاع دی ہے کہ  مینڈھر کنٹرول لائن واقعہ کا اثر ہند پاک آپسی تعلقات پر بھی پڑتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ اس واقعہ کے بعدکل پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی انتظامیہ نے ٹرک سروس چلانے پر روک لگا دی اور اس سلسلہ میں پونچھ انتظامیہ کومطلع کیاگیا۔ جمعرات کو پونچھ راولا کوٹ سڑک سنسان رہی جس پر 25مال بردار ٹرکوں کو راولاکوٹ جانا تھا۔ ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی انتظامیہ نے آر پار تجارت و بس سروس پر روک لگا دی ہے ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی زیر انتظام کی انتظامیہ نے ہاٹ لائن پر پونچھ انتظامیہ سے بھی بات کی جس میں انتظامیہ سے کہا گیا کہ وہ ٹرک سروس و بس سروس روک رہے ہیں اور تب تک یہ سروس معطل رہے گی جب تک کنٹرول لائن پر کشیدگی میں کمی نہ آئے۔ ذرائع کے مطابق پونچھ کے رانگڑ ٹریڈ سنٹر میں جمعرات کیلئے تاجروں نے 25ٹرک لوڈ کئے تھے جن کو راولا کوٹ روانہ کرنا تھا ۔ تاہم بعد میں سامان اتارا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے کئی مسافر جموں وکشمیر کے الگ الگ مقامات پر ہیں جبکہ جموں کشمیر کے کئی لوگ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں موجود ہیں جن کو بس سروس کی معطلی سے کافی پریشانی اٹھاناپڑے گی۔ اس سلسلہ میں جب کشمیر عظمیٰ نے آر پار تجارت و بس سروس کے کسٹوڈین عبد الحمید شیخ سے بات کی تو انہوں نے تصدیق کردی کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی انتظامیہ کی طرف سے انہیں ٹیلیفون پر مطلع کیا گیا کہ وہ فی الحال تجارت و بس سروس کیلئے تیار نہیں ہیں اور جب تک حالات بہتر نہیں ہوتے یہ دونوں سروس معطل رہیں گی۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By