GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
وادی میں4 سریع الرفتارعدالتیںقائم
جج تعینات ،زیر سماعت956معاملات منتقل

طارق علی میر
سرینگر// ریاستی چیف جسٹس کے ہاتھوں کل وادی میں خواتین کیخلاف جرائم کی روزانہ بنیادوں پر سنوائی کیلئے 4سریع الرفتارعدالتوں کا افتتاح ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ کیا گیا۔ سرینگر،بارہمولہ،اسلام آباد اور پلوامہ میں قائم کئے گئے مذکورہ عدالتوں کیلئے معاون ڈسٹرک سیشن جج تعینات کئے گئے ہیں۔ سرکاری عداد وشمار کے مطابق عصمت ریزی  اور خواتین سے  متعلق دیگر جرائم کے ان 4 اضلاع میں اس وقت 956 کیس زیر سماعت ہیں۔تاہم ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے کئی ایسے معاملات ہیں جن کی سر نو جانچ کی جائے گی ۔ دلّی کے بعد ریاست جموں وکشمیر ہندوستان کی پہلی ریاست ہے جہاں پر خواتین کیخلاف ہونے والے جرائم خصوصا ًآبروریزی کے واقعات میں متاثرین کو فوری انصاف فراہم کئے جانے کیلئے 4 فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی گئی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایم ایم کمار نے جسٹس حسنین مسعودی اور جسٹس محمد یعقوب میر کی موجودگی میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سرینگر محمد شفیع خان، پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بارہمولہ کنیز فاطمہ ،پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد عبدالرشید ملک اور پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پلوامہ محمدیوسف وانی سے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے حوالے ہدایات جاری کئے۔جہاں پولیس ریکارڈ کے مطابق سال 2012کے دوران وادی میں116عصمت دردی کے واقعات رونماہوئے ہیں جن میں سے92کا چالانپیش عدالت کئے گئے ہیں جبکہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت سرینگر ڈسٹرک کورٹ میں خواتین کے ساتھ زیادتیوں سے متعلق188کیس زیر سماعت ہیں۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بارہمولہ کنیز فاطمہ کے مطابق ضلع بارہمولہ کی مختلف عدالتوں میں اس نوعیت کے359کیس زیر سماعت ہیں۔ کنیز فاطمہ نے کشمیر عظمیٰ سے مختصر بات کر تے ہوئے کہا’’ خواتین سے متعلق زیر سماعت359 کیس دراصل مختلف نوعیتکے ہیں لہٰذ اپہلے ان کی درجہ بندی کی جائیگی اور اس کے مطابق فاسٹ ٹریک کورٹ کو منتقل کئے جائیںگے ‘‘۔اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ کورٹ میں 257  جبکہ پلوامہ میں 152کیس زیر سماعت ہیں جو اب صرف فاسٹ ٹریک کورٹ میں سنیں جائیںگے۔ مذکورہ عدالتوں کیلئے جو معاون ڈسٹرکٹ سیشن جج تعینات کئے ہیں ان میں سرینگر کیلئے مدن لال،اسلام آباد کیلئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج محمد اشرف ملک ،بارہمولہ کیلئے قیصر قریشی اور پلوامہ فاسٹ ٹریک عدالت کیلئے خواجہ جواد احمد بطور جج مقرر کئے گئے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر عدالت عالیہ نے ریاست کے اضلاع میں فاسٹ ٹریک کورٹ کی صورت میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کے عہدے کی8 عدالتیں وجود میں لانے کامطالبہ کیا ہے تا کہ عصمت دری کے التواء میں پڑے ہوئے معاملوں کو جلد از جلد نمٹایاجاسکے۔عدالت عالیہ نے خواتین کے خلاف جرائم کے معاملوں کو مجسٹریل سطح پر تیزی سے نمٹانے کے لئے سول جج( سینئرڈویثرن) سب جج( جے ایم آئی سی) سطح کی10 فاسٹ ٹریک عدالتوں کو وجود میں لانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ پہلے صرف سرینگر اور جموں میں فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن ریاست کے چیف جسٹس نے آخری وقت پر وادی کیچار اضلاع میں اس قسم کی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دی اور یہ مرحلہ کل مکمل کیا گیا ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By