GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
خواتین کیخلاف جرائم کا تدارک کیاجائے
فورسز کے ہاتھوں زیادتیوں کی تحقیقات ہو: سول سوسائٹی

سرینگر//کشمیر کی سول سوسائٹی نے خواتین کیخلاف جرائم پر سرکاری و غیر سرکاری سطح پر متحرک ہونے کی صلاح دیتے ہوئے کہاکہ گذشتہ 22برسوں کے دوران وردی پوش اہلکاروں یا دیگر افراد کے ہاتھوں خواتین کیخلاف ہوئے جرائم کی از سر نو تحقیقات کی جانی چاہئے اور مجرموں کو سخت ترین سزا دی جائے ۔سول سوسائٹی نے وردی پوشوں کو ایسے جرائم میں معافی دیئے جانے کی روایت ختم کرنے کی وکالت کرتے ہوئے بھارت کی سول سوسائٹی پر زور دیا ہے کہ وہ دلی اجتماعی عصمت ریزی واقعے کیخلاف چلائی جارہی ایجی ٹیشن کی طرح شوپیان سانحہ اور اس طرح کے سینکڑوں واقعا ت پر بھی آواز اٹھائیں ۔جمعرات کو امرسنگھ کلب سرینگر میں کشمیر سنٹرفار سوشل اینڈ ڈیولپمنٹ سٹیڈیز کے اہتمام سے منعقدہ ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔کانفرنس کی سربراہی تنظیم کی چیئرپرسن پروفیسر حمیدہ نعیم نے کی جبکہ وادی کے دانشوروں اور وکلاء سمیت طلباء اور دیگر تجارتی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔شرکاء کانفرنس میں ڈاکٹر جاوید اقبال ،پروفیسر نور بابا،محمد انور عشائی ،عبدالمجید زرگر،شکیل قلندر،زیڈ جی محمد ،سید ناظم الدین،محمد شفیع خان،صادق بقال،پروفیسر زیڈ اے چشتی،شاہد رسول،اعجازالحق ،عتیقہ بانو،ایڈوکیٹ بشیر احمد بشیر ،غلام نبی شاہین ،پروفیسر شیخ شوکت ،حوا بشیر،قرۃ العین ،عرشی جاوید ،دیبا اقبال ،عندلیب،سید فضل الہی،ایڈوکیٹ اشرف وانی ،عبدالمجید بٹ ،ندیم قادری اور ایڈوکیٹ الطاف معراج شامل ہیں ۔گول میز کانفرنس کے دوران مقررین نے دلی میں ایک طالبہ کیساتھ ہوئی اجتماعی عصمت دری واقعے کیخلاف عوامی غیض وغضب اور ایجی ٹیشن کی سراہنا کی گئی ۔مقررین نے کہاکہ ہم مظلوم طالبہ کے ساتھ ہوئے ظلم وجبر کی مذمت کرتے ہیں اور اس سانحے کیخلاف بھارت بھر میں اٹھی احتجاجی لہر کو جائز اور بروقت قرار دیتے ہیں تاہم اس موقعے پر بھارت کی سول سوسائٹی کو کشمیر میں وردی پوشوں کے ذریعے صنف نازک کے ساتھ تشدد کیخلاف بھی آواز اٹھانے کی تلقین کی گئی ۔ صنف نازک پر تشدد میں اضافے اور امرناتھ یاتراسے متعلق عدالتی فیصلے پر سیول سوسائٹی گروپ’’ کشمیر سنٹر فار سوشل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈیز ‘‘کی طرف سے یک روزہ گول میز کانفرنس منعقد ہوئی جس کے دوران13نکات پر مشتمل قرار داد پیش کی گئی۔اس دوران باغات میں معلمہ پر تیزاب پھینکنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دلی عصمت ریزی پر سیول سوسائٹی کی طرف سے آواز بلند کرنے کو سراہا گیا تاہم کشمیر میں اس مبینہ طور پر فورسز کے ہاتھوں اس طرح کے واقعات پر خاموش اظہار کرنے پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔کانفرنس کی پہلی نشست میں خواتین پر تشدد میں اضافے سے متعلق مقررین نے روشی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ سماج میں بکھرے ہوئے تانے بانے کو بحال کرنے کیلئے اخلاقی تعلیم کو فوغ دینا لازمی ہے۔مقررین نے دہلی عصمت ریزی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس سے متعلق لوگوں اور سیول سوسائٹی کی طرف سے آواز بلند کرنے کی سراہنا کی گئی تاہم ہندوستانی سیول سوسائٹی کی طرف سے کشمیر میں مبینہ طور پر فورسز کی طرف سے اس طرح کے واقعات بشمول سانحہ شوپیاں منظر عام آنے کے بعد خاموشی اختیار کرنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا۔ کانفرنس میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کو سخت سزائیں فراہم کرنے کیلئے فاسٹ ٹریک بنیادوںپر عدالتوں کا قیام عمل میںلانا چاہے۔اس دوران کانفرنس میں حالیہ دنوں باغات میں ایک معلمہ کو تیزاب پھنکنے کے واقعے کی بھی مذمت کرتے ہوئے شوپیاں میں ایک نابالغ دوشیزہ کی عصمت ریزی میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا۔گول میز کانفرنس کے دوران13نکات پر مشتمل قرادادیں پاس کی گئی جس میں میڈیا،سیول سوسائٹی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے خواتین سے متعلق انسانی حقوق کی جانکاری مہم چلانے کا فیصلہ بھی لیا گیا جبکہ جنسی نابرابری کیخلاف لڑنے اور ہر سطح پر مہم چلانے کا اعادہ کیا گیا۔رائونڈ ٹیبل کانفرنس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خواتین کیخلاف تشدد کو روکنے کیلئے محلہ کمیٹیوں کا انعقاد عمل میں لایا جائے تاکہ ان واقعات پر نظر گزر رکھی جا سکے۔سیول سوسائٹی نے جرائم کرنے والوں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا گیا۔اس موقعہ پر محسوس کیا گیا کہ منشایات اور شراب کا پھیلاو ٔبھی خواتین کیخلاف جرائم میں اضافہ کر رہا جبکہ ان مسائل سے نپٹنے کیلئے سیول سوسائٹی اور حکومتی سطح پر سدباب کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہے۔ دوران سفر مسافرگاڑیوں میں صنف نازک کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خواتین کیخلاف تشدد میں ملوث افراد کو سزائیں فراہم کرنے کیلئے فاسٹ ٹریک بنیادوں پر عدالتوں کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا جبکہ پولیس میں اصلاحات کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ کانفرنس کے دوسرے سیشن میں امرناتھ یاترا کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔سول سوسائٹی نے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کئی فیصلہ جات لئے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By