GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
رفیو جیوں کو پشتینی باشندگی سند دی گئی تو ایجی ٹیشن ہوگی: حریت۔۔۔گ


سرینگر//سید علی شاہ گیلانی کی قیادت والی حریت (گ)کی مجلس شوریٰ نے پاکستان سے آئے رفیوجیوں کو ریاست کا مستقل باشندہ قرار دینے سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور اسٹیٹس پر براہِ راست طور ایک حملہ ہوگا اور جموں کشمیر کے عوام اس کو کسی بھی صورت میں اور کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔ حریت (گ)کی مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس جمعرات کو الطاف احمد شاہ کی صدارت میں راجباغ سرینگر میں منعقد ہوا۔اجلاس میں عمرعبداﷲ حکومت کے دو منسٹروں رمن بھلا اور شام لال شرما کی ان تقاریر کا جائزہ لیا گیا، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ حکومت ریاستی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پاکستان سے آئے رفیوجیوں کو ریاست میں مستقل سکونتی سرٹیفکیٹ اجرا کرانے کیلئے آئین میں ترمیم کرنے کی بل پیش کریگی اور انہیں جموں کشمیر کا مستقل باشندہ بنانے سے متعلق ضروری قانون سازی عمل میں لایا جانا حکومت کے زیرِ غور ہے۔ ممبران مجلس شوریٰ نے مجوزہ آئینی ترمیم کو کُلی طور سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور اسٹیٹس پر براہِ راست طور ایک حملہ ہوگا اور جموں کشمیر کے عوام اس کو کسی بھی صورت میں اور کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔ حریت عوام کو اس مجوزہ ترمیمی بل کے تمام منفی پہلوؤں سے باخبر کرائے گی اور اس کو پاس کرانے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف بھرپور اور زوردار ایجی ٹیشن چلائی جائیگی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارت اور اس کی پُشت پناہی والے ریاستی حکمران 194 سے ہی جموں کشمیر میں آبادی کے تناسب کوتبدیل کرانے اور اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے ایک طویل منصوبے پر عمل کررہے ہیں اور اس سلسلے میں وقت وقت پر پہلے ہی کئی غیرقانونی اور غیرآئینی اقدامات اٹھائے بھی گئے ہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارت جموں کشمیر پر جبری قبضہ جمانے کے پہلے دن سے یہاں غیر ریاستی باشندوں کو بسانے کے سلسلے میں درپردہ کارروائی کرتا رہا ہے اور اب پاکستان سے آئے ان رفیوجیوں کو اسٹیٹ سبجیکٹ بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا گیا ہے، جو کسی بھی طور جموں کشمیر کے باشندے نہیں ہیں اور جنہیں مستقل سکونتی سرٹیفکیٹ اجراء کرانے کا کوئی آئینی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔ اجلاس میں حکمران جماعت کے دو سینئر لیڈروںکے اس سلسلے میں دیئے گئے بیانات پر شکوک وشبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مخلوط حکومت کے وزراء کی یہ تضاد بیانی ناقابل فہم ہے اور اس کا تعلق ان کی شاطرانہ سیاست کاری سے ہے۔اجلاس میں کہا گیا’’ عمرعبداﷲ کابینہ کے دو اہم وزراء آخر کس طرح اپنی ذاتی حیثیت میں اتنی بڑی بات کہہ سکتے تھے اور کس طرح ایک ایسے اشو کو پبلک جلسے میں زیرِ بحث لایا جاتا، جس کا تعلق جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت پر ضرب ڈالنے کے مترادف ہے اور جس کو ریاستی آئین میں ترمیم کرنے کے بغیر عملایا جانا ممکن ہی نہیں ہے؟‘‘ اجلاس میں کہا گیا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بھارت کی ہوم منسٹری نے یہ معاملہ ماضی کے ایک معاملے کی طرح رمن بھلا کے سُپرد ہی کیا ہو اور ان ہی کو یہ کام سونپا گیا ہو کہ وہ اس بل کے لانے کے سلسلے میں گراؤنڈ ورک کا آغاز کریں اور دوسرے وزراء کو بھی اس پرآمادہ کریں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ جو بھی ہو اس طرح کی کوئی کارروائی کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرانے کی ایک کوشش تصور ہوگی اور اس مسلم کُش آئین سازی کے خلاف حریت ہر ممکن طریقے سے احتجاج کرے گی۔ ممبران مجلس شوریٰ نے کہا کہ دہلی کے پالیسی سازوں کا یہ پلان ہے کہ عالمی دباؤ کے تحت اگر کبھی جموں کشمیر میں رائے شماری کا انعقاد عمل میں لانا پڑا تو اس وقت یہاں ہندوؤں کی اکثریت ہونی چاہیے، تاکہ رائے شماری کا نتیجہ بھارت کے حق میں نکلے،کشمیری عوام اس منصوبے سے اچھی طرح واقف ہیں اور وہ ہر ممکن طریقے سے اس کو ناکام بنانے کی کوششیں بروئے کار لاتے رہیں گے۔ آج کے اجلاس میں گرفتاریوں کے جاری چکر پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ حکومت بندوق کے زور سے جموں کشمیر میں جاری قبرستان کی خاموشی کو برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By