GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
کپوارہ میں 2روپوش اشتہاری ملزم گرفتار
دلہن قتل معاملہ

کپوارہ//کپوارہ پولیس نے 9ماہ قبل نئی نویلی دولہن کے قتل کی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے مقتولہ کے شوہر،والد اوربھائی سمیت 5افراد کی گرفتاری کے بعد دو اشتہاری ملزمان کو بھی حراست میں لیا ہے جن میں ایک سی آرپی ایف کے باغی اہلکار اور ایک ہوم گارڈ اہلکاربھی شامل ہے ۔ پولیس نے لڑکی کو قتل کرنے کے لئے زہر لانے والے شخص کو بھی گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا ہے اور ملزمان نے اعتراف جرم کرلیا ہے۔ 16فروری2012کو شاٹ مقام لولاب کی رہنے والی جواں سال خاتون امیرہ دختر مقصود احمد شاہ کی پر اسرار حالات میں ہلاکت کا واقعہ پیش آیا اور اس سلسلے میں خاتون کے سسرال والوں نے وقار احمد خان ساکن چھپورہ اور اس کے دیگر رشتہ داروں پر قتل کا الزام عائد کیا اور پولیس میں بیان دیا کہ وقار احمد نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر امیرہ کو پھانسی دیکرقتل کر دیا ۔چنانچہ پولیس نے فوری کارروائی عمل میں لاتے ہوئے وقار احمد خان سمیت 8افراد کو گرفتار کر لیا جنہیں 2روز قبل ایک مقامی عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات صادر کئے ۔اس معاملے کی عدالتی سماعت کے دوران 2ماہ قبل جب مقتولہ کی فارنسک رپورٹ موصول ہوئی تو اس میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ امیرہ کو پھانسی دیکر نہیں بلکہ زہر دیکر موت کی نیند سلا دیا گیا۔اس انکشاف کے بعد عدالت نے پولیس کو پورے کیس کی مکمل تحقیقات کرنے کی ہدایت دی جس کے بعد اس معاملے کی چھان بین کیلئے ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کپوارہ سجاد خالق بٹ کی قیادت میں پولیس کی خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ دوران تفتیش پولیس کو اس بات کا سراغ ملا کہ مذکورہ خاتون کو اُس کے شوہر نے اپنے باپ ،بھائی اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ مل کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔چنانچہ پولیس نے خاتون کے شوہر نصیر احمد شاہ ساکن ملہ گنڈ کے علاوہ مقتولہ کے والد مقصود احمد شاہ ،بھائی نواز احمد شاہ ،ایک قریبی رشتہ دار (پولیس وائر لیس آپریٹر )عبدالحمید شاہ اور مقصود احمد کے بزنس پارٹنرنذیر احمد شاہ کو گرفتار کر لیا۔9ماہ سے زائد عرصے کے بعد جب اس کیس نے ایک نیا موڑ لیا تو گرفتار ملزمان کو عدالت کی ضمانت پر رہا کرنے کے بعد نئے ملزمان کو حراست میں لیا گیا ۔ پولیس نے اس کیس کے سلسلے میں مقتولہ کے دیور اور نصیر احمد شاہ کے بھائی فیاض احمد شاہ ولد غلام محی الدین ساکن ملہ گنڈ کے علاوہ ریاض احمد شیخ ولد محمد صدیق ساکن سیور لولاب کو ملزم بنایا ہے ۔اس سلسلے میں ایس پی کپوارہ سے ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے دونوں کو اشتہاری ملزم قرار دیا ہے ۔34سالہ ریاض احمد شیخ سی آر پی ایف کی182بٹالین میں کام کرتا تھا اور وہ یونٹ چھوڑ کر چلا گیا ہے جس کے بعد متعلقہ یونٹ نے بھی اس کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے ۔29سالہ فیاض احمد شاہ ہوم گارڈ میں بطور رضا کار کام کرتا تھا اور ملزم قرار دئے جانے کے بعد اس کو معطل کر دیا گیا ہے۔ دونوں کوپولیس اسٹیشن لالپورہ میں درج ایف آئی آر زیر نمبر7/2012میںسی آر پی سی کی دفعہ87 اور88کے تحت اشتہاری ملزم قرار دیا گیا اور پولیس نے دونوں کی گرفتاری میں مدد دینے والے کیلئے انعام کا اعلان بھی کیاتھا ۔پولیس ذرائع نے کے ایم این کو بتایا کہ کئی ہفتوں تک روپوش رہنے کے بعد پولیس بالآخر دونوں کو دو جنوری کے روز گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی اور انہوں نے دوران تفتیش جرم میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے عبدالغنی پیر ولد محمد صادق ساکن شاٹھ مقام کا نام بھی ظاہر کیا جس نے لڑکی کو قتل کرنے کے لئے کپوارہ بازار سے زہر خریدا جس کے لئے اسے لڑکی کے والد نے بھیجا تھا۔پولیس نے عبد الغنی کو بھی حراست میں لیا ہے ۔ملزمان کے خلاف پہلے ہی عدالت میں چارج شیٹ دائر کی گئی ہے اور ان پر قتل کی دفعات عائد کی گئی ہیں۔واضح رہے کہ پولیس نے اسے واقعہ کو غیرت کے نام پر قتل سے تعبیر کرتے ہوئے چارج شیٹ میں کہا ہے کہ مقتولہ امیرہ اختر دختر محمد مقصودشاہ ساکن شاٹھ مقام لولاب نامی دوشیزہ وقار احمد خان ولد غلام نبی ساکن چھیپورہ کے محبت میں گرفتار تھی اور دونوں نے15اکتوبر 2011کو خفیہ طورنکاح بھی کیا تھا۔ حالانکہ وقار کے گھروالوں نے امیرہ کے گھر رشتہ بھی بھیجا تھا جسے ذات پات کی بنیاد پر مسترد کردیا گیاکیونکہ امیرہ پیر خاندان اور وقار، خان خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By