GK Communications Pvt. Ltd

  صفحہ اوّل
کام پر لوٹ آﺅ،ملازمین سے اپیل
ہڑتال سے تینوں خطوں میں کام کاج ٹھپ

وزیراعلیٰ نے وعدہ کیا ہے، سرکارمطالبات پر ہمدردانہ غور کر رہی ہے:پرنسپل سکریٹری

 

سرینگر//چھٹے پے کمیشن بقایاجات کی واگذاری اور دیگر کئی مطالبات کے حوالے سے جوائنٹ کنسلٹیٹیو کمیٹی کی 5روزہ ہڑتالی کال کے پہلے روزریاست بھر میں سرکاری دفاتر پر سکوت چھایا رہا جبکہ تمام ضلع وتحصیل صدر مقامات پر دفاتر کے باہر ملازمین نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے۔اس دوران حکومت نے ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ واپس کام پر لوٹ آئیں۔ملازم قیادت نے 5روز کے دوران حکومت کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل سامنے آنے پر اگلے مرحلے میں غیرمعینہ عرصے تک ہڑتال شروع کرنےکی دھمکی دی ہے ۔دوسری طرف حکومت بھی اب ہڑتالی ملازمین کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کی سوچ رہی ہے تاکہ آئے روز کی ہڑتالوں سے ورک کلچر پر پڑنے والے اثرات کا ازالہ کیا جاسکے۔ریاست کی گرمائی دارالحکومت سرینگر کے سبھی دفاتر میں منگل کو مکمل ہڑتال رہی جبکہ شہر سرینگر کے سبھی سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی کام کاج مفلوج رہا۔طلباءکی حاضری بھی ہڑتال کے باعث نہ ہونے کے برابر رہی جبکہ اساتذہ بھی اپنی کلاسوں سے دور رہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس ہڑتال کا زیادہ اثرسرکاری تعلیمی اداروں پر ہی رہا کیونکہ طویل سرمائی تعطیلات کے بعد ابھی صرف ایک ہی روز تعلیمی ادارے کھلے کہ دوبارہ5روز کیلئے بند ہوگئے تاہم رہبر تعلیم اور رضاکارانہ طور بچوں کو تعلیم دینے کی اسکیم چلارہے اساتذہ نے اسکول کھلے رکھے اور ہڑتال میں شمولیت نہیں کی۔اس دوران کئی سرکاری دفاتر میں مارچ کے مہینے کے پیش نظر کلرکل اسٹاف نے کام کو ہی ترجیح دی تاہم سرینگر میں جے سی سی کے فلائنگ اسکاڈوں نے ان دفاتر کا معائینہ کرکے ملازمین کو بھی دفاتر بند کرنے پر مجبور کیا ۔ادھر سرکاری اسپتالوں اور طبی مراکز پر اگرچہ عام خدمات متاثر رہیں تاہم لازمی سروسز کو ہڑتال سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔جے سی سی ترجمان فاروق احمد ترالی نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا کہ ہڑتال کی کال کا ملازمین نے اچھا ردعمل ظاہر کرکے بھر پور اتحاد کا مظاہرہ کیا اور ریاست گیر سطح پرہڑتال کو کامیاب بنا یا ۔فاروق ترالی کا کہنا تھاکہ حکومت اگر بقایاجات کی ادائیگی کیلئے سنجیدہ اقدامات کرتی ہے تو ان کیلئے ملازمین کی جانب سے سخت روےے سے بھی نجات ملے گی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملازم قیادت نہ کبھی دھمکیوں سے دبی ہے اور نہ ہی ملازمین کے مسائل کی ترجمانی کرنے سے بازآئی ہے اور نہ ہی آئندہ جھکے گی۔کشمیر عظمیٰ نے جب اس حوالے سے وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری خورشید احمد گنائی سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کے مطالبات سب کے سامنے ہیں اور حکومت اپنی طرف سے ان مسائل پرہمدردانہ غور کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی اجلاس کے دوران بھی اس بارے میں حکومت کا موقف واضح کیا تھا ۔پرنسپل سیکریٹری نے ملازمین سے اپیل کی کہ وہ کام پر واپس آجائیں تاکہ عام لوگ پریشانی کے شکار نہ ہوں ۔انہوں نے کہاکہ حکومت معاہدے کے مطابق ملازمین کے منظور شدہ مطالبات کی بحالی کیلئے اپنی طرف سے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ۔دریں اثناءجموں وکشمیر گورنمنٹ ایمپلائز کانفرنس نے ریاستی ملازمین کے پانچ روزہ ہڑتال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی سرکار بشمول وزراءاور بیورو کریٹوں کو غریب ملازمین کو درپیش مسائل اور مشکلات کا احساس نہیں بلکہ وہ اپنی چادربچھا کر مرکزی سرکار کی طرف سے فراہم ہورہے اربوں روپے کے رقومات کو اپنی عیش وعشرت پر صرف کررہے ہیں۔ ایمپلائز کانفرنس کے ایک غیرمعمولی اجلاس میں صدراشتیاق احمد بیگ نے ہڑتال کو کامیاب قرار دیتے ہوئے امیدظاہر کی کہ ملازمین پانچ روزہ ہڑتال کے دوران اتحاد واتفاق کا بھرپور مظاہرہ کریں گے۔ ادھر جموں سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ سول سیکریٹریٹ کے علاوہ سبھی سرکاری دفاتر میں تالہ بند ہڑتال رہی جبکہ لداخ صوبے میں بھی ملازمین نے جے سی سی کال پر 5روزہ ہڑتال کاآغاز کیا اور ملازمین نے حکومتی بے رغبتی کے خلاف سخت احتجاج درج کیا۔

 


سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    







 
 


©  2010   KashmirUzma.net

طابع وناشر:رشید مخدومی برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ
ایڈیٹر :فیاض احمد کلو،ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر،مقام اشاعت :6پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
 


GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By