GK Communications Pvt. Ltd

  صفحہ اوّل
لوگ جائیں تو جائیں کہاں؟


سرینگر//سرکاری ملازمین کی بدھ سے شروع ہوئی 5روزہ ہڑتال کے دوران صرف افسران ہی اپنے کمروں میں کام کا ج میں مشغول دکھائی دیئے۔عوامی سطح پر سرکاری ملازمین کے مطالبات کو حق بجانب قرار دیا جارہا ہے اور ان کے تئیں سرکار کی بے رخی پر ناراضگی بھی ظاہر کی جارہی ہے تاہم بعض لوگوں کاکہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی اکثر ہڑتالوں کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کر نا پڑرہا ہے۔عوام کے ایک طبقے کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کا اب ہڑتالوں پر جانے کا نیا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور عوامی مسائل کا کوئی پاس و لحاظ کئے بغیر یہ ملازمین اب اکثر ہڑتالوں پر جاتے ہیں۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکاری دفاتر میں جو ٹریڈ یونین ازم پروان چڑھ رہا ہے اس کی وجہ سے عوامی مسائل کا حل ناممکن بنتا جا رہا ہے اور ملازمین کی ہڑتالوں کا ایک نیا کلچر شروع ہوچکا ہے۔اولڈ سیکریٹریٹ سرینگر کے سامنے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے محمد جمال ملک نے کہا”میں بڈگام سے آیا ہوا ہوںاور سماجی بہود کے آفس میں کچھ کاغذات حاصل کر نے ہیںمگر یہاں پر کوئی بھی ملازم حاضر نہیں ہے جس کی وجہ سے اسے واپس جانا پڑا‘۔یہ پوچھے جانے پر کہ وہ سرکاری ملازمین کی ہڑتال کو کس نظریہ سے دیکھتے ہیں محمد جمال کہتے ہیں”سرکاری ملازمین کے مطالبات حق بجانب تاہم مسلسل ہڑتالوں کا جو سلسلہ ملازمین نے شروع کیا ہے اس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کاسا منا کرنا پڑ رہا ہے اور سرکاری دفاتر میں کوئی بھی کام نہیں ہوپارہاہے “۔ڈپٹی کمشنر آفس سرینگر کے صحن میں کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے ایک ضعیف العمر بزرگ عبد الرحمان بٹ نے کہا”میرا اراضی تنازعہ ہے اور یہ کیس محکمہ مال میں عرصہ دراز سے پڑا ہوا ہے اور آج میں اسی کیس کے سلسلے میں یہاں آیا ہوںمگر یہاں متعلقہ آفیسر کے بغیر کوئی بھی ملازم حاضر نہیں “۔عبدا لرحمان کا کہنا تھاکہ میں بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچ گیا مگر ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے اسے آج بھی مایوس ہی لوٹنا پڑرہاہے“۔سرکاری دفاتر میں آفیسران اکیلے اپنی کمروں میں بیٹھے ہوئے تھے تاہم کسی بھی افسرنے ملازمین کی ہڑتال پر کوئی رائے زنی کر نے سے انکار کیا۔ وادی کے متعدد اسپتالوں مےں بھی طبی عملے کی ہڑتال نے مرےضوں کےلئے صورتحال کو انتہائی پرےشان کن بنا دےا۔صدر اسپتال سرینگر کے باہر صبح سے ہی مریض پرےشان دےکھے گئے ۔اسپتال مےں لازمی سروس کے بغےر دےگر شعبوں مےں کام کاج کافی متاثر دےکھا گےا اور اسپتال مےں تےمار دار بھی ڈاکٹروں اور دےگر طبی عملے کی عدم دستےابی سے انتہائی مشکل صورتحال سے گذر رہے تھے ۔دور دراز علاقوں سے آنے والے بےمار بھی واپس ماےوس ہو کر لوٹ رہے تھے۔وادی کے دیگر اضلاع میں بھی تمام سرکاری دفاتر بند رہے اور دن بھر کوئی بھی سرکاری کام کاج نہیں ہوسکاجس کی وجہ سے لوگوں زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔پوری وادی میں اگر چہ سرکاری سکولوں میں بھی درس و تدریس کا کام متاثر رہا تاہم دور دارز علاقوں ،جہاں رہبر تعلیم اساتذہ تعینات ہیں ،نے سکول کھلے رکھے اور درس و تدریس کا کام جاری رکھا۔رہبر تعلیم استاد ظہور اقبال ملک نے بتایا”کل ہی سکول کھولے گئے ،اگر ہم آج ہڑتال پر چلے جاتے تو یہ بچوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا“۔ظہور اقبال نے بتایا”ہم نے سکول کھلا رکھا اور درس و تدریس کا کام دن بھر چلتا رہا “۔

 


سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    







 
 


©  2010   KashmirUzma.net

طابع وناشر:رشید مخدومی برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ
ایڈیٹر :فیاض احمد کلو،ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر،مقام اشاعت :6پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
 


GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By