GK Communications Pvt. Ltd

  صفحہ اوّل
خواتین ریزرویشن بِل
راجیہ سبھا میں منظور،ایوانِ زیریںمیں پیش ہوناباقی

نئی دلی//خواتین کےلئے ریزرویشن پارلیمنٹ کے ایوان بالا میںدو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا گیا ۔جس وقت اس بل پر ووٹنگ ہوئی اس وقت راجیہ سبھا میں 186ارکان تھے اور اس کی حمایت میں183ارکان نے ووٹ ڈالے جبکہ مخالفت میں ایک ارکان نے ووٹ دیا۔وزیراعظم منموہن سنگھ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ایک تاریخی بل ہے۔ یہ ہندوستان کی ان عظیم اور بہادر خواتین کے اس قرض کواتارنے کےلئے ہے جنہوں نے تحریک آزادی میں اہم رول ادا کیا تھا۔”یہ بل اقلیتی برادری یا دوسرے طبقہ کی مخالفت میں نہیں بلکہ اس سے خواتین کی خود مختاری کا عمل شروع ہوگا۔اس سے قبل دوپہر بعد جب اس بل پر بحث کےلئے اجلاس شروع ہوا تو چیئرمین نے اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ارون جیٹلی کو خطاب کرنے کی اجازت دی۔ لیکن اس کی مخالفت کرنے والے بعض ارکان نعرہ بازی کرتے رہے اور شور شرابے کے سبب انہیں بولنے کا موقع نہیں ملا۔تاہم سپیکر نے اس ہنگامہ کے دوران ہی بل پر لوگوں کی رائے پوچھی جس پر ارکان کی اکثریت نے بلند آواز سے اس کی حمایت کا اعلان کیا۔اس دوران سکیورٹی کی مدد سے ہنگامہ کر نے والے ارکان کو ایوان سے باہر کردیاگیا اور پھر راجیہ سبھا کے چیئرمین حامد انصاری نے اعلان کیا کہ پارلیمان میں خواتین کے لئے ریزرویشن کے بل کو راجیہ سبھا نے دو تہائی اکثریت سے پاس کر دیا ۔تاہم ارکان کے اصرار پر چیئرمین نے اس پر پھر سے بحث کی اجازت دید ی جو چند گھنٹے تک چلی اور پھر اس پر ووٹنگ ہوئی۔ابھی یہ بل پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں پیش نہیں ہوا ہے اور امکان ہے کہ اسے لوک سبھا کے بجٹ اجلاس میں پیش نہیں کیا جائیگا۔ قانون بننے کے لئے اس بل کو لوک سبھا سے منظوری کے بعد کم سے کم نصف ریاستی اسمبلیوں سے منظوری ضروری ہے۔ماہرین کے مطابق راجیہ سبھا سے منظوری پہلا قدم ہے لیکن اس پر ابھی لمبی بحث ہوگی اور قانون بننے میں ابھی وقت لگے گا۔ اس سے قبل صبح پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لئے 33فیصد نشستیں مختص کرنے کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی تھی،لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا ۔ان جماعتوں کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری سے پہلے کل جماعتی میٹنگ طلب کرنا ضروری ہے۔اس مسئلے پر ہنگامہ آرائی کے سبب پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس ایک بار پھر ملتوی کر دیئے گئے تھے۔راشٹریہ جنتا دل کے رہنما لالو پرساد یادو، ایس پی کے ملائم سنگھ یادو اور جنتادل یو کے شرد یادو کا کہنا ہے کہ وہ ریزرویشن بل کے مخالف نہیں کررہے لیکن اس ریزرویشن میں دلتوں، مسلم، اور پس ماندہ طبقہ کی خواتین کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔گزشتہ روز جب پارلیمان کے ایوان بالا میں یہ بل پیش کیا گیا تو زبردست ہنگامہ ہوا اور ناراض ارکان نے اس بل کو پھاڑ کر نائب صدر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین حامد انصاری پر پھینک دیا تھا۔منگل کوجیسے ہی اجلاس دوبارہ شروع ہوا ،بل کی مخالفت کرنے والے ارکان نے نعرہ بازی شروع کردی اس لئے اجلاس دوپہر تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ۔لیکن اجلاس ملتوی ہونے سے پہلے ہنگامہ کرنے والے اور بل کو پھاڑنے والے ارکان کو راجیہ سبھا کے موجودہ بجٹ سیشن کے باقی دو دنوں کے لئے معطل کر دیا گیا ۔خواتین ریزرویشن بل بھارتی آئین میں ایک اہم اور تاریخی تبدیلی ہے۔ اس کے تحت پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں میں 33فیصد نشستیں خواتین کے لئے مخصوص ہو جائیں گی۔تقریباً سبھی جماعتیں اس کی حامی ہیں لیکن جو چند علاقائی جماعتیں موجودہ بل کی مخالفت کر رہی ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ اگر اس میں کمزور طبقے، دلت اور مسلم خواتین کو شامل نہیں کیا گیا تو یہ طبقے مزید پیچھے رہ جائیں گے۔لیکن حکمراں جماعت کانگریس، اپوزیشن بی جے پی اور بایاں محاذ اس بل کی حامی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بل میں مجوزہ تبدیلیاں بعد میں کی جا سکتی ہیں۔

 


سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    







 
 


©  2010   KashmirUzma.net

طابع وناشر:رشید مخدومی برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ
ایڈیٹر :فیاض احمد کلو،ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر،مقام اشاعت :6پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
 


GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By