سرینگر//مرکزی مالیاتی کمیشن کی جانب سے 2010-11کیلئے فنڈز کی واگذاری کیلئے منظوری نہ ملنے کے باوجود ریاستی حکومت نے اسمبلی میں مکمل بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔وزارت خزانہ کے ذرائع نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ ریاستی بجٹ 4اہم اشوز پر محیط ہے جن میں ریاست کے اپنے وسائل ،مالیاتی کمیشن کی امداد،مرکزی محصولات اورمالیاتی اسکیمیں شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ تین اِشوز تو پہلے ہی خارج ہوچکے ہیں اور اب ریاستی وزیرخزانہ 12مارچ کو شیڈول کے مطابق مکمل بجٹ پیش کریں گے۔ذرائع نے بتایا کہ مالیاتی کمیشن کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ گذشتہ برس کے 5,500کروڑ روپے کے منصوبے میں10فیصد کا اضافہ ہوسکتا ہے۔مرکزی وزارت خزانہ ریاستی بجٹ کو حتمی شکل دے رہی ہے اور مالیاتی اسکیموں کے علاوہ اس بار بجٹ مکمل اور ہر شعبے پر محیط ہوگا۔مالیاتی اسکیموں کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنرپلاننگ کمیشن مونٹک سنگھ اہلوالیااور ریاستی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے درمیان ایک میٹنگ منعقد کی جارہی ہے جس میں یہ معاملہ زیر بحث آئے گا ۔ فائنانس اسکیم کے تحت ریاست میں آمدن اور خرچے کے درمیان پائے جارہے خلاءکو پاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس خلاءکو پر کرنے کیلئے مرکزی سطح پر مالی امداد ملے گی ۔اس بارے میں گذشتہ ماہ ہی مرکزی مالیاتی کمیشن اور ریاستی افسران کے درمیان میٹنگ منعقد ہوئی تھی ۔اسی میٹنگ کے دوران ریاستی حکومت کو مزید مرکزی امداد ملنے کا اشارہ مل گیا تھا ۔دریں اثناءچیف سکریٹری ، کمشنر سکریٹری پلاننگ بی بی ویاس اور مختلف محکموں ایگریکلچر، پاور،پبلک ہیلتھ ، اری گیشن ، ٹورازم اور دیگر محکموں کے سکریٹریوں پر مشتمل ایک وفد منگل کونئی دلی کیلئے روانہ ہوا جو مالیاتی کمیشن کےساتھ دو روز تک بجٹ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کرے گا۔10مارچ کو مختلف مرکزی سکریٹریوں کےساتھ میٹنگ ہوگی جس میں اگلے مالی سال کے دوران ترقیاتی سرگرمیوں اور منصوبوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ان میٹنگوں کے دوران پلان آﺅٹ لے اور پلانز منصوبوں کے بارے میں خدوخال وضع کئے جائیں گے ۔