GK Communications Pvt. Ltd

  مقابل اداریہ
میرا اسکول اور کرگھے کا شور وشغب


بچپن ! میرا خیال ہے کہ عمر کے اس حصے کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ ان گزرے ہوئے بہترین ایام کی ہرنزاکت کو الفاظ اور جملوں میں بیان کرنا اور وہ بھی ایک ایسی اجنبی زبان میں قدرے دشوارہے۔جس کے حروف تہجی ہم نے جماعت چہارم سے سیکھنا شروع کئے۔

کلاس روم میں گونجنے والی آوازوں سے ہمارے سکول کے نزدیک جولاہوں کے شٹلوں کی آوازیں سنائی ہی نہیں دیتی تھیں۔میرے ذہن کے نہاںخانے میں وہ سبق اب بھی محفوظ ہے کہ بلّی چٹائی پر بیٹھی ہے ۔ چوہا پھندے میں پھنس گیا ہے ۔بلی چوہے کے پیچھے دوڑ رہی ہے ، یہ جملے ذہن کی تختی پر نقش ہیں ۔ میری نگاہوںمیں انگریزی کتاب کی وہ تصاویر بالکل اُسی طرح گھوم رہی ہےں جیسے کہ کسی آئی ایم اے ایکس تھیٹر میں فضا میں دمدار تارے دکھائے جارہے ہوں ۔ بسا اوقات میں ان اسباق کو طوطے کی رَٹ سے کہیں زیادہ سرعت سے اَز بر کرتا تھا۔ یہ آج بھی میرے ذہن میں اسی بلند آہنگی کے ساتھ گونج رہے ہیں ۔ سکول تک جانے والی گلی کوچوں میں جولاہوں کے شٹلوں کی آوازیں اب خاموش ہوگئی ہیں ۔ پُرا کوچہ ، جو میرے سکول تک جانے کے لئے مختصر راستہ تھا، سے اب ہینڈلومز کی ٹک ٹک کی بلند آہنگ آوازیں نہیں آرہی ہیں ۔ مشعلی محلہ ، سازگری پورہ اور حول کی گلیوں میں ہینڈلوموں اور پاور لوموں کے تیزی سے چلنے والے شٹلوں کی آوازیں بھی اب بند ہوگئی ہیں ۔ وہ اسی طرح خاموش ہوگئے ہیں جس طرح مُردے ہوا کرتے ہیں ۔ ان گلی کوچوں کا یہ سناٹا اور خاموشی ایک اور داستان بیان کررہی ہے ۔ ایک چھوٹی سی قوم کی کہانی جس کی اپنی شاندار روایات ہیں ،جو اپنے تشخص اور تہذیب وثقافت سے محروم ہوئی ہے ۔

میں جب کبھی سکول کی صبح کی دعائیہ مجلس میں دیر سے پہنچتا تو مولوی نور صاحب اور غلام احمد کاملی شیر کی طرح گرجتے ہوئے اخلاقیات کا درس دیتے تھے ۔ میں سکول کے گیٹ پر رک جاتا اور سکول میں داخل نہیں ہوتا۔مجھے اُس وقت یہ معلوم نہیں تھاکہ یہ دونوں بڑے مبلغ تھے یا میںیہ کہوں ہمارے شہر کے بڑے مذہبی سکالر تھے ۔ سکول کے ایک اور استاد سعد الدین کے بارے میں کہاجاتا تھاکہ وہ بھی بڑے مذہبی سکالر ہیں۔مگر وہ ہمارے داخلے سے قبل ہی سکول چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔ وہ بعدازاں جماعت اسلامی کے بانی امیر بن گئے ۔مجھے ان دنوں یہ معلوم نہیں تھا کہ نو رصاحب اور کاملی صاحب دو الگ الگ مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے اور دونوں کے ہزاروں کی تعداد میں پیرو کار تھے جو جمعہ کو ان کا وعظ سننے کے لئے میلوں کا سفر کرتے تھے ۔ اُس وقت مجھے جو کچھ معلوم تھا وہ یہ تھاکہ ایک پیدائشی مسلماں ہوں۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھاکہ مسلمانوں کے مسلک ہوتے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ میرے کسی بھی ہم جماعتوں کو بھی مسلکوں کے بارے میں کوئی علم تھا جس کا اب کھلے بندوں مساجد کے دروازوں پر سنگ مرمر اور سنگ خارا کے کتبے نصب کرکے کیا جاتاہے ۔ اب مسلکوں کے بارے میں سنہرے حروف میں لکھا جاتاہے او راس کے ساتھ ہی مسلکی مبلغوں کے نام مسجد کے باہر تحریر کئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ان میں اکثریت نئی تعمیر شدہ مساجد کی ہے۔ ہمیں ظہرنما زپڑھنے کے لئے قطاروں میں جامع مسجد لے جایا جاتا تھا۔ وہ دو استاد جو صبح کی دعائیہ مجلس سے خطاب کرتے تھے وہ نہایت ہی پُرجلال تھے ۔ میں صبح کی دعائیہ مجلس میں دیر سے شرکت کرنے کے لئے پکڑے جانے سے خوف زدہ ہوتا تھا کیونکہ میری ہتھیلی یا کہنیوں پر بید زنی کی جاتی یا ایک سومرتبہ اٹھا بیٹھک کرنا پڑتی یا مرغا بننا پڑتا تھا اور وہ بھی ٹانگیں پھیلا کر ۔ مجھے بتایا گیا کہ مرغا بننے کی سزا بیرونی حکمرانوں کی دین ہے ۔مجھے نہیں معلوم تاریخی لحاظ سے یہ کس حد تک درست ہے کہ یہ افغان حکمرانوں نے اپنے منشیوں کی ایماءپر رائج کی تھی ۔ یہ سزا دبے کچلے لوگوں کو ظلم وتعدی کاشکار بنانے کےلئے دی جاتی تھی۔

نورصاحب اعلیٰ پایہ کے مقرر تھے مگر اس کے ساتھ ہی وہ نئی نئی سزائیں ایجاد کرنے کاید طولیٰ رکھتے تھے اور ہمیں زندگی بھر کا سبق دیتے تھے۔ انہیں گندگی بہت ہی ناپسند تھی۔وہ بسا اوقات وہ کسی لڑکے کی گندی قمیص اتارتے اور اس کو واٹر ٹینک کے عقب میں ٹھونس دیتے یا کشمیر کے ایک اعلیٰ پایہ کے ڈاکٹر علی جان کے آبائی مکان کی دیوار پر رکھتے تھے اور وہ ہمیں سزا دیتے وقت یادلاتے تھے کہ یہ فزیشن اسی سکول کا طالب علم رہاہے ۔ جونہی واٹر ٹینک پانی سے بھر جاتا تو وہ دیر سے سکول آنے والے طلبہ کے سر اسی میں ڈبو تے تھے ۔ ہر ڈبکی کے بعد وہ سکول کے ان طلبہ کے نام لیتے تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں کارہائے نمایاں انجام دیئے تھے۔ ہر ڈبکی پر وہ اس جملے کو دہراتے تھے کہ ”میں تمہیں اس بڑے اور عظیم ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دوں گا جس نے اس دبی کچلی مسلمان قوم کو اعلیٰ پایہ کے انجینئر ، ڈاکٹر ، اساتذہ اور لیڈر دیئے ہیں “۔ مجھے ا س سکول کے ان طلبہ کے نام یاد ہیں جنہوں نے میری پیدائش سے قبل بڑا نام کمایا تھا ۔

سکول کے دروازے اکثر بند رہا کرتے تھے ۔ استادوں کے خوف کی وجہ سے میں نے کبھی بھی مستعدچپراسی محمد سبحان سے کبھی بھی سکول میں داخل ہونے کےلئے منت سماجت نہیں کی ۔ میں سکول کے باہر مٹر گشتی کے لئے پکڑے جانے سے بچنے کے لئے نزدیکی محلوں میں گھوما کرتا تھا جن میں کثرت سے ہینڈ لوم ہوا کرتے تھے ۔ میں مردوں اور خواتین کوگاتے ہوئے پشمینہ کو کھولتے دیکھ کر محظوظ ہوا کرتاتھا ۔ میرے سکول کے نزدیک کھلے میدانوں اور قبرستانوں پر شاید شاہ تو س کے دھاگوں سے تانا بانا تیار کیا جاتا تھا ۔ میرے سکول سے عید گاہ تک بڑے بڑے قبرستانوں پر یہ دستکار کام میں مصروف نظر آتے تھے ۔ میں چھوٹے چھوٹے تکلوں سے دھاگوں کو اُتارتے دیکھ کر محظوظ ہوتا تھا ۔ یہ تکلے بڑی تیزی سے پھرائے جاتے تھے ۔ اسی طرح سرعت سے مرد وزن ان دھاگوں سے بچتے بچاتے بید کی چھڑیوں کے گرد گھومتے تھے ۔ میر ا یہ تاثر تھاکہ اس تجارت سے صرف مسلمان مرد وخواتین وابستہ تھےں ۔ میں نے اپنی دادی اماں سے سنا تھاکہ بیسوی صدی کے اوائل کشمیر پنڈت خواتین چرخہ کاتتی تھیں اورپشمینہ سے نہایت ہی باریک تار نکالتی تھیں ۔ و ہ ہم جیسی ہی تھیں تاوقتیکہ انہوںنے گزشتہ صدی کے بیسوے عشرے میں نیا لباس پہننا شروع کیا ۔ مجھے پچھلے سال تصویر وں کی ایک نمائش کے دوران معلوم ہوا کہ کشمیری ہندوخواتین انیسویں صدی کے دوران کشمیری شال بنانے کے لئے پشمینہ کاتتی تھیں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ آیا اس طبقے سے تعلق رکھنے والا کوئی جولاہا تھا یا نہیں مگر میرے بچپن میںشال بُننے والے میرے سکول کے اردگردمحلوں میں رہا کرتے تھے اور ان محلوں میں کوئی پنڈت نہیں تھا ۔

میں نہ صرف تانابانا تیار کرنے والے مردوں اور عورتوں کو دیکھنے میں اپنا وقت صرف کرتا تھا بلکہ میں گھروں کے اندر جاکر ہینڈلوموں کودیکھ کرتا تھا جن کی کثرت تھی ۔ شال بُننے والے جس مشاقی سے نوک دار پھرکی کواِدھر اُدھر چلاتے تھے اس پر مجھے رشک ہوتا تھا اور انہی مشاق ہاتھوں سے وہ اعلیٰ قسم کے پشمینہ شال تیار کرتے تھے ۔ کانی شال کو بنتے دیکھنا گویا جان کیٹس کی شاعری کا مطالعہ کرنا تھا ۔میںآج بھی اُن کی شاعری کو پڑھنا پسند کرتاہوں ۔ یہ تقریباً سکول کا وقفہ ہوتا تھا جب میں اپنی کلاس کے لڑکوںسے مسجد میں جاملتا تھا ۔ اور دوسرا نصف دن سکول میں گذارتا تھا ۔

zahidgm@greaterkashmir.com

 


سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    







 
 


©  2010   KashmirUzma.net

طابع وناشر:رشید مخدومی برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ
ایڈیٹر :فیاض احمد کلو،ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر،مقام اشاعت :6پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
 


GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By