انسان کی فطرت میں یہ بات ودیعت ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارے ۔ چنانچہ وہ اپنی فطرت کے تقاضوں کے مطابق دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہتاہے ۔ اُن سے بھائی چارہ قائم کرتا ، اُن کے دُکھ سکھ میں شریک ہوتاہے اور دوسرے لوگ بھی اس کے کام آتے ہیں ، اور اس سے محبت کا رشتہ قائم کرتے ہیں ۔
انسان مختلف ضرورتوں کا پابند ہے اور اس کی ضرورتیں اجتماعی سطح پر پوری ہوتی ہیں ۔ ان ضرورتوں کے پیش نظر انسان نے اجتماعی طور پرزندہ رہنے کا فن سیکھ لیا ہے اور اس طرح سے انسانی معاشرہ وجود میں آتاہے ۔ انسانوں کے اجتماعی معاشرے میں یہ سب پر واجب ہے کہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں ۔
روئے زمین پر انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ زمین پر جو کچھ ہے ،یعنی زمین کی جو نعمتیں ہیں ،وہ ان کو سبھوں تک پہنچائے کیونکہ ہر انسان زمین کی کوکھ سے ہی پیدا ہواہے لیکن انسانی معاشرہ جوں جوں ترقی کرتا گیا ، زمین کی نعمتوں پر کچھ گروہوں اور طبقوں کا قبضہ ہوگیا اور وہ بے زمین لوگوں کو اپنے حق سے محروم کرنے لگے ، اس سے طبقاتی اونچ نیچ پیداہوگئی اور انسانوں میں آپسی احترام کا جذبہ ماند پڑنے لگا ، حالانکہ مذہب اور اخلاق برابر یہ تقاضا کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں میں دوسروں کو شریک کیا جانا چاہئے ، اسی طرح جو انسان بے شمار دولت کا مالک بن جائے ، اس پر لازم آتاہے کہ حقوق العباد کی رو سے دوسروں کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھے ۔
انسان کے لئے اپنے والدین کے حقوق کی ادائیگی بے حد ضروری ہے ۔ یہ والدین ہی ہیں جو اُسے جنم دے کر اور پال پوس کر بڑا کرتے ہیں ، اس کے علاوہ قرابت داروں ، ہمسایوں ،یتیموں ، مسکینوں کا خیال رکھنا اور ان کو راحت پہنچانا اس کے فرائض میں شامل ہیں ۔
چونکہ انسان معاشرے کا ایک فرد ہے اور معاشرے کے ساتھ بندھا ہواہے ۔ اسلئے لوگوں کی اجتماعی ضرورتوں کے مطابق بھی اُس پر فرائض عائد ہوتے ہیں ۔تعلیم کو لیجئے ، معاشرے کی فلاح وبہبود کے لئے تعلیم ضروری ہے ۔تعلیم نورہے جو جہالت کے اندھیرے دور کرسکتاہے ۔ اس لئے انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی دوسروں کو تعلیم دینا وہ حق ہے جو اللہ کے نیک بندوں پرقائم ہوتا ہے اور جس کی ادائیگی ضروری ہے ۔ وہ تعلیم یافتہ ہونے کی صورت میں ، خود بھی فرصت کے اوقات میں اپنے ہمسایوں میں مرد وزن کو تعلیم دے سکتاہے اور اگر یہ ممکن نہیں تو اُن تعلیمی اداروں کو مالی مدد دینا اس کے حقوق میں شامل ہوجاتاہے جو عام لوگوں کی تعلیم کا بیڑااُٹھاتے ہیں ، قرآن حکیم میں رسول اکرم سے یہ فرمایا گیا کہ لوگ دریافت کرتے ہیں کہ آمدنی کا کتنا حصہ لوگوں پر خرچ کریں ۔
(رسول مقبول) فرمادیجئے کہ جو کچھ ہم بچ رہے ،وہ دوسروں کوں دیں ۔ ظاہرہے اس کا مطلب اس لئے سوا اور کچھ نہیں کہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جو زائد روپے پیسے یا چیزیں ہوں ، وہ اللہ کے بندوں کی فلاح کے لئے تقسیم کی جائیں ۔
آفاتِ سماوی یعنی قحط ، وبا ، آتش زنی یا قتل عام کی زدمیں آنے والی مخلوق ، جن کو بس خدا کا آسراہوتاہے ، کی کھلے دل سے مدد کرنا حقوق انسانی میں شامل ہے ۔ خود آرام دہ بستر میں استراحت کرنا اور دوسروں کو آسمان کی کھلی چھت کے نیچے بے سروسامانی کی حالت میں دیکھنا انسانیت سے بعد ہے ۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ دوسری مخلوقات کے بارے میں بھی حقوق ہیں ۔ چنانچہ حیوانات اور نباتات کی رکھوالی بھی انسان کا فرض ہے ۔ ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص صرف اس لئے بخشا گیا کہ اُس نے ایک پیاسے کُتّے کو پانی پلاکر اس کی جان بچائی تھی ۔