GK Communications Pvt. Ltd

  مقابل اداریہ
قیدی نمیر 650
عدل وانصاف کی جگ ہنسائی

اُمتِ مسلمہ کی مایہ ناز سائنس داں بیٹی اس وقت کسی لیبارٹری میں نہیں بلکہ امریکی قید میں قید و بند کی صعوبتوں سے چلا چلا کر دنیا کے پونے دو ارب مسلمانوں اور ۵۸ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو پکاررہی ہے کہ کوئی ہے! جو دشمن کے چنگل میں پھنسی ملتِ اسلامیہ کی ایک بیٹی کو آزاد کراکے واپس لائے۔

عافیہ صدیقی کون ہیں ؟ اس وقت وہ کہاں ہےں؟ پاکستانی ایجنسیا ں اور ایف بی آئی اس کے پیچھے کیوں لگ گئیں؟اوروہ ایک پراسرار شخصیت کے طور پر کیوں سامنے آئی ہیں؟اس بارے میں میڈیا تفصیلات کے مطابق صورت حال بہت ہی گھمبیر ہے اور اُمتِ مسلمہ کےلئے یہ لمحہ فکریہ اور ایک بڑے چیلنج سے کچھ کم نہیں۔

اطلاعات کے مطابق یکم مارچ 2003کو جب راولپنڈی سے القاعدہ کے راہنماخالد شیخ کو پاکستانی انٹلیجنس نے گرفتار کیا تو اس واقعے کے چند ہی روز بعدراولپنڈی کے اپنے گھر سے سر سے ۳۲ سالہ عافیہ نام کی خاتون اپنے تین بچوں کے ساتھ گھر سے نکلیں۔ان کی والدہ گھر کے دروازے تک چھوڑنے آئیں۔ گھر سے نکلتے وقت سکارف لئے عافیہ نے اپنی والدہ سے کہا کہ وہ اسلام آبادچچا کے ہاںجارہی ہےں۔ والدہ کو خدا حافظ کہہ کر وہ بس اسٹاپ تک آئیں اور پھر اُن کی ٹیکسی اسلام آباد جانے والی سڑک پر چلنے لگی۔اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی ان کے ساتھ ایک عجیب واقعہ ہوا۔ اچانک ڈرامائی اور فلمی انداز میںکچھ لوگوں نے اس ٹیکسی کو گھیرے میں لے لیا۔گاڑیوں سے مسلح افراد باہر نکلے اورعافیہ اور بچوں کو زبردستی اپنی گاڑیوں میں بٹھا کر لے گئے۔یہ سب کچھ چند منٹوں میں ہوا۔ ٹیکسی ڈرائیور کو بعد ازاں چھوڈ دیا گیا۔ادھر کافی دیر گزرنے کے بعدجب اس کی والدہ نے اسلام آباد فون کیا ، جہاں عافیہ کو پہنچنا تھا تو پتہ چلا کہ وہ وہاں نہیں آئیں۔ ماں اپنی بیٹی اور نواسوں کی گمشدگی سے پریشان ہوگئیں اور اس نے اپنے جاننے والوں کو عافیہ کی گمشدگی کی اطلاع دے دی ۔یہ صورتحال سامنے آنے کے بعد موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص عافیہ کے گھر آیا۔ اس نے سر پر ہیلمٹ پہن رکھا تھا اور وہ اپنے انداز و اطوار سے فوجی لگ رہا تھا۔ اس نے عافیہ کی والدہ سے کہا کہ عافیہ گرفتار ہےں اور ایک انٹیلی جنس ایجنسی کی تحویل میں ہے۔اگر وہ اپنی بیٹی اور نواسوں سے دوبارہ کبھی ملنے کی خواہاں ہےں تو اُسے اپنی زبان بند رکھنا ہوگی۔

عافیہ صدیقی کی والدہ عصمت صدیق کے مطابق انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے اس سلسلے میں شور مچایاتو یہ عافیہ کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔ عافیہ صدیقی کے بارے میں پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیاں اور ایف بی آئی کافی عرصہ سے پریشان تھیں اور خالد شیخ کی گرفتاری کے بعدان کی تلاش شروع ہوئی تھی۔ ایف بی آئی کے سربراہ نے اس کا تعلق القاعدہ سے جوڑا اور اس کے گھر والوں پرمصیبتیں پر ٹوٹ پڑیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی ۳۲ سالہ عافیہ صدیقی پر یہ الزام ہے کہ وہ القاعدہ کی سرگرم رکن اور امریکہ پر القاعدہ کی طرف سے حملوں کی منصوبہ بندی میں شامل تھیںاور یہ کہ وہ ہیروں کی سمگلنگ کے ذریعے القاعدہ کو رقم اکٹھی کرتی تھیں۔ایف بھی آئی نے انہیںدہشت گرد قرار دے کر اس حوالے سے ایک پوسٹر بھی جاری کردیا ۔ حقیقت کیا ہے؟ وہ سمجھنے کی ضرورت ہے ۔عافیہ صدیقی انتہائی مذہبی خاتون ہےں۔ وہ ۲ مارچ ۱۹۷۲ کو پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محمد صدیقی ڈاکٹر تھے، اُنہوں نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی اور پھر کراچی میں پریکٹس کی۔ عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی نے اپنے تین بچوں عافیہ صدیقی،فوزیہ صدیقی اور ایک بیٹے کی تربیت بڑے مذہبی انداز میں کی۔ عافیہ کا بھائی ماہرِ تعمیرات ہےں اور اب وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بوسٹن میں مقیم ہیں۔بہن فوزیہ ہاروڑ یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ہے اور بالٹی مور کے سینائی ہسپتال میں خدمت سر انجام دے رہی ہےں۔ عافیہ نے انتہائی شہرت کی حامل یونیورسٹیوںسے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ وہ امریکہ کی میسا چوسٹس یونیورسٹی کی بھی ایواڑ یافتہ طالبہ رہ چکی ہے۔ ۱۹۹۵ میں اس نے بیالوجی کی ڈگری حاصل کی جبکہ۲۰۰۱ءمیں نیورلوجیکل سائینس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔عافیہ برنڈلیس یونیورسٹی میں بھی زیرِ تعلیم رہیں۔

گریجویشن کے دوران ہی اُنہوں نے مسلم طلبہ کی ایک تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ اس دوران انہوں نے تین پمفلٹ بھی تحریر کئے تھے۔ ایک پمفلٹ سے اسلام سے ان کی والہانہ عقیدت کا اظہارہوتا ہے، جس میں وہ لکھتی ہیں۔”اللہ تعالیٰ ہمیں طاقت اور خلوص و لگن عطا فرمائے تاکہ ہم عجز و انکساری سے اپنی کوششیں جاری رکھیںاور آگے بڑھتے چلے جائیں، حتیٰ کہ امریکہ مسلمانوں کی سر زمین بن جائے۔

یونیورسٹی میں عافیہ کے ساتھی طلباءو طالبات کا کہنا ہے کہ دورانِ تعلیم وہ اسلام سے گہری عقیدت رکھتی تھیں۔ وہ اکثر سکارف اوڑھتی تھیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق عافیہ کے شوہر امجد خان اس سے کہیں زیادہ مذہبی شخص ہیں۔دونوں کے تعلقات بعض امور پر کشیدہ ہوگئے جو آخر تک بہتر نہ ہوسکے۔

۱۱ ستمبر کے واقعہ سے پہلے دونوں میاں بیوی پاکستان آگئے جہاں انہوں نے مختصر وقت کے لئے قیام کیا اور بعد ازاں وہ پھر امریکہ چلے گئے۔ یہاں وہ ۲۰۰۲ تک مقیم رہے۔اگست ۲۰۰۴ ءمیں دونوں کی راہیں جدائی کے مرحلے پر پہنچ چکی تھیں۔اس وقت اُن کے ہاں تیسرے بچے نے جنم لیاتھا۔ عافیہ اور امجد خان کراچی آگئے اور الگ الگ رہائش اختیار کرلی۔عافیہ اپنے والدین کے گھر مقیم تھیں۔ایک روزامجد ان کے گھر پہنچااور اُسے طلاق دے دی۔عافیہ کے والد جو پہلے ہی دل کے مریض تھے اس صدمے کو برداشت نہ کرسکے اور انتقال کرگئے۔

عافیہ صدیقی ....جس نے اپنی ذہانت کا لوہا منوایا، امریکا میں نیورو سائنس میں مہارت حاصل کرچکی ہیں۔ دس سال سے زیادہ امریکہ میں اپنی خدمات پیش کرنے والی عافیہ صدیقی امریکا کے زیرِ انتظام خفیہ جیل میں قید ہےں۔ ان کو دہشت گردی کا ماسٹر مائنڈ تصور کیا جارہا ہے اور 9/11 کے پراسرارحملہ کا بھی کلیدی کردار بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ پاکستان ہی نہیں، دنیا کی کئی حقوقِ انسانی کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے انہیں بے قصور قرار دیا ہے اور ان کا دہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۱۹ جنوری ۲۰۱۰ءسے عافیہ صدیقی کا ٹرائل شروع ہوگیا ہے، حالانکہ انہوں نے یہ الٹی میٹم تھا کہ وہ ٹرائل کا بائیکاٹ کرےں گی اور پاکستانی حکومت کے ذریعے جو اٹارنی متعین کیا گیا ہے وہ ان کے برخواست کئے جانے کی بھی خواہش مند ہےں۔ عافیہ صدیقی نے اس کا کیس دیکھ رہے جج سے کہا کہ وہ جیوری پینل میں کسی یہودی کو دیکھنا نہیں چاہتی ہےں۔ اس نے بہت شدت سے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹرائل کا بائیکاٹ کرےں گی، اگر جیوری پینل میں یہودی یا اسرائیلی بیک گراونڈ رکھنے والا شخص ہو۔

آج تمہارا خُدا کہاں ہے؟

معروف کالم نویس اشتیاق بیگ alarabia.netپر شائع شدہ اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ امریکی عدالتی نظام دنیا کے دیگر ممالک سے مختلف ہے کیونکہ امریکہ میں جیوری کے لئے عام شہریوں کو چنا جاتا ہے جو ایک ملزم کو مجرم یا بے گناہ قرار دیتے ہیں اور جج کا کام قانون کے مطابق مجرم کو سزا دینا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کا کیس نیو یارک میں ٹُوِن ٹاورز کے قریبی جگہ مین ہٹن کی ایک عدالت میں چلایا گیا اور جن ۱۲، افراد کو جیوری کے لئے چنا گیا ان کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا اور یہ لوگ ۹/۱۱کے واقعہ سے براہ راست یا بلواسطہ متاثر ہوئے تھے ۔ اس ٹرائل کے دوران امریکی میڈیا عافیہ صدیقی کو تسلسل کے ساتھ ایک دہشت گرد کے طور پر پیش کرتا رہا۔ اس مخالفانہ پروپیگنڈے سے جیوری کے یہ افراد متاثر لگتے تھے، جس کا ثبوت جیوری کے دو ارکان کے وہ ریمارکس ہیں جو انہوں نے عدالتی فیصلے کے بعد ڈاکٹر عافیہ کو مخاطب کرتے ہوئے طنزیہ کہے کہ ”آج تمہارا خدا کہاں ہے؟“۔

 ہفت روزہ اخبار ”نئی دُنیا“ کے 15فروری کے شمارے کے مطابق عافیہ صدیقی پرالقاعدہ سے تعلق رکھنے کے علاوہ یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے افغانستان میں امریکی فوج کے ایک گروپ اور ایف بی آئی کے ایجنٹ پر گولی چلائی اور جان سے مار ڈالنے کی کوشش کی۔ یہ” واقعہ“ جولائی ۲۰۰۸ میں غزنی شہر میں پیش آیا تھا۔

امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ عافیہ صدیقی کو اس وقت جب اسے تحقیقات کے لئے پولیس اسٹیشن لایا گیا تھا ، کھڑے ہوئے پولیس افسر کے ہاتھوں سے آٹو میٹک رائفل چھین کر اس نے تابڑ توڑ گولیاں چلادیں، لیکن اتفاق سے ساری گولیاںخطا کرگئیں، جبکہ عافیہ کے وکیل کا الزام ہے کہ امریکی درندوں نے عافیہ کے ساتھ ظلم وتشددشروع کردیا تھا، وہ تحقیقات کے نام پر صرف ان کی زندگی سے کھیلنا چاہتے تھے۔ عافیہ صدیقی سسکتی رہیں، ان درندوں سے انصاف کی اپیل کرتی رہیں لیکن ان درندوں کو نہ تو تحقیقات سے مطلب تھا اور نہ عافیہ کے بہتے آنسووں سے، وہ تو صرف ان کو پامال کرنا چاہتے تھے ۔حقیقت یہ ہے کہ ایک بھی گولی ان پولیس والوں کو نہیں لگی اور وہ خود یو ایس وارنٹ افسر کی گولیوں کی شکار ہوگئیں۔ دو گولیاں ان کی پیٹ میں لگی تھیں اور وہ تڑپ کر وہیں زمین پرگرپڑیں ، لیکن اس کے باوجود اسے کسی ڈاکٹر یا فزیشن کو نہیں دکھایا گیا، بلکہ وہاں موجود نرسوں سے طبعی امدادلی گئی، آخر کیوں؟ماہرین کا خیال ہے کہ اگر گولی لگنے کے بعد عافیہ صدیقی کو سرکاری ہسپتال یا اچھے ڈاکٹر کو دکھایا جاتا، تو ظالم امریکی فوجیوں کی پول کھل جاتی۔ ان کا خونی چہرہ عوام کے سامنے آجاتا اور لوگوں کو پتہ چل جاتا کہ آخر انہوں نے رائفل کیوں اُٹھائی۔ عدالت میں دوسری پیشی کے دوران ان کی وکیل ایلزبتھ فنک نے عدالت میں اپنی موءکلہ کی طبعی حالت پر سوال اُٹھایا تھا کہ آخر اسے اب تک کسی اچھے ڈاکٹراور ایم ڈی کو کیوں نہیں دکھایا گیاہے،جبکہ ان کے جسم پر زخم ہیں اور آنتوں سے خون بہہ رہا ہے۔ اس پر عدالت میں موجود امریکی حکومت کے وکیل ِاستغاثہ نے یہ کہہ کر دامن بچانے کی کوشش کی تھی کہ عافیہ صدیقی کسی خاتون ڈاکٹر سے طبعی معائنہ کروانا چاہتی ہیں اور خاتون ڈاکٹر بروقت دستیاب نہ ہوسکی ۔ اس جواب پر کوئی اپنا سر نہ پیٹے تو اور کیا کرے؟ کیا امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میںخاتون ڈاکٹروں کا قحط پڑ گیا یا کچھ اور ہے جس کی پردہ داری ہے، امریکی حکومت کے اس دعوے کی فوراً ہی عافیہ کے وکیل نے یہ انکشاف کیا کہ عافیہ نے میرے اور پاکستانی قائم مقام کونسل جنرل کے سامنے کہا تھاکہ انہیں ڈاکٹر کی جنس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

(جاری)

 


سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    







 
 


©  2010   KashmirUzma.net

طابع وناشر:رشید مخدومی برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ
ایڈیٹر :فیاض احمد کلو،ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر،مقام اشاعت :6پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
 


GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By