اُستاد منطقی استدلال کا سہار ا لے کرشاگردوں کو سمجھانے کے لئے مثال دیتے ہیں ۔کیا آلو ایک سبزی ہے؟....بالکل ہے ۔ مگر کیا تمام سبزیاں آلو ہیں ؟.... بالکل نہیں....پادری اکثر غیر شادی شدہ ہوتے ہیں....جی بالکل.... کیا تمام غیر شادی شدہ لوگ پادری ہوتے ہیں ؟....بالکل نہیں....اِسی طرح گاﺅں میں بود وباش رکھنے والوں کے پاس زمین ہوتی ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ اُن تمام لوگوں کے پاس زمینیں ہوں جو گاﺅں میں سکونت رکھتے ہیں ۔وادی کشمیر کے کچھ لوگ سردیوں کے دوران مدتِ دراز سے اپنی زندگی کی گاڑی ہانکنے کے لئے ہندوستان کے مختلف شہروں میں شال، دوشالے ، پرس ، بیگ ، چادر اور دیگر سوئی کا کام لے کر جاتے ہیں او ربقول کسے ہلد ی او رچائے کماکر لاتے ہیں مگر بھارتی پولیس کی مہربانی سے کتنے ایسے لوگ ہیں جنہیں پکڑ کر ان پر جھوٹے کیس بنا کر اور اُگر وادی کا لیبل چسپاں کرکے اذیت خانوں میں ڈال دیئے جاتے ہیں ۔ والدین خانماں برباد اور گھر تو ان کے تباہ ہوہی جاتے ہیں مگر ساتھ میں ہی ان کی زندگیوں کی شام بھی ہوجاتی ہے ۔ کشمیر بار ایسوسی ایشن ہندوستان کی مختلف جیلوں میں جاکر جب کچھ روح فرسا واقعات اور دردناک کہانیاں اکھٹا کرکرکے سناتی ہے تو پتھر دل بھی دہاڑیں مارکر رونے لگتے ہیں ۔ وادی سے باہر مختلف کاروباری سلسلے میں یا علاج ومعالجے کے لئے جانے سے نوجوان تو کیا بوڑھے بھی خوفزدہ رہتے ہیں ۔ نگروٹہ جموںاور امرتسر پنجاب میں یہاں کے ٹرک اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ کیا ہوتاہے ، وہی جو اُن تانگہ بانوں کے ساتھ ہوا جب 1947ءکے پُرآشوب دور میں ڈوگروں کو بحفاظت جموں پہنچا کر لوٹنے پر ہوا تھا ۔ سیب لے کر جانے والوں کو پھلوں سے لدی بھری پُری ٹرکوں کے عوض میں کیا ملتا ہے فضیحت، دھتکار ، گالیاں ، مارپیٹ اور جیل ۔ مشہور کشمیری گلوکار غلام نبی شیخ کو کس نے مارا؟ اور کس جرم میں مارا؟ کیا گیتوں کا شہزادہ راگنیوں کے بھان برسا کر اور سروں کے تیر چلاکر آتنک پھیلاتا تھا ؟ آخر ہم کہاں جائیں ، ہمارا جینا دو بھر کردیا گیا ہے ؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد نبوت میں یہودیوں کو ختم کرنے کے لئے اُس وقت کے فرعون رعمیس دوم نے نرینہ بچوں کو مارنے کا حکم دیا تھا ۔ اُس کی وجہ یہ تھی کہ جب مرد نہیں رہتے ، عورتوں کی کثرت ہوجاتی تو فحاشی پھیل جاتی ۔ اس طرح سے وہ ایک تیر سے دو شکار کرتا تھا۔ اوّل قوم کو تباہ اور دوسرا اخلاقی طور انحطاط پذیر کیونکہ جس قوم میں فحاشی بڑھتی ہے تو وہ قوم اخلاقی ، سماجی اور معاشرتی پسماندگی میں تو آ ہی جاتی ہے مگر ساتھ میں ہی اس قوم کا ضمیر بھی سوجاتاہے ، وہ قوم بے غیرت ہوجاتی ہے ۔موجودہ وقتوں میں یہودی اُسی ایجنڈ ا پر عمل کرکے ساری دنیا میں اخلاقی زوال پذیری کا باعث بن رہے ہیں ۔ چونکہ ہمارے یہاں بھی ان ہی کے مشورے پر عمل ہورہاہے ،اسی وجہ سے آئے دن یہاں اخلاقی بربادی کی باتیں عام طور پرکسی اور سنی جاتی ہیں ۔ کچھ معاملوں کی تشہیر ہوجاتی ہے اگر اس میں ”بڑے لوگ“ ملوث ہوئے تو وہ جلد ہی معدوم ہوجاتے ہیں مگرعام طور پریہ باتیں ظاہرنہیں کی جاتیں ۔
چھوٹے بچوں کا قتل تو اب عام سی بات ہوگئی ہے ۔ اس لئے وادی کے مسلمانوں کے لئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ سوچ سمجھ کر اپنی بپتا کو عالم انسانیت میں لے جانے کی ضرورت ہے ۔پتھر مارنا اُس کا حل نہیں ہے ۔ اس طرح سے بچوں پر تعزیرات لگ جاتی ہے ۔ وہ تعلیم وتربیت سے بھی رہ جاتے ہیں ، گھر کی شفقت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں اور عقوبت واذیت خانوں میں سحر پھوٹنے کے ساتھ ہی ان کی زندگی کی شام بھی ہوجاتی ہے ۔ان باتوں کی علت جو بھی بتا دیجئے نقصان بہر صورت قوم کا ہی ہوجاتاہے ۔
کشمیری پنڈتوں نے جب کشمیر سے خروج لیا تو باہرجاکر انہوں نے ہر ایک چیز کے ساتھ مصالحت کی ، ضروریات کے ساتھ کمپرومائز کیا مگر بچوں کی تعلیم کے ساتھ کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔ انہوں نے سب کچھ چھوڑ دیا، گھر بار ، مال وجائیداد، کھیت کھلیان ، باغات مگر تعلیم کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔ تعلیم کو ہرصورت میں جاری رکھا۔ گرمی اور سردی میں ، بند کمروں اور کھلے میدانوں میں، نہر کے کناروں پر اور توی کے پتنوں پر ،اندھیرے اور اُجالے میں ،لالٹینوں کی ملگجی اور شمع کی ٹمٹماتی روشنیوں میں ، مٹی کی چادروں اورریت کے بستروں پر ....مرحبا.... آفرین .... مہاجربھائی ، بہنوں ، بزرگوں اور بچوں کو....
ستم ظریفی دیکھئے ہم تعلیم کو ہی خیرباد کہہ رہے ہیں ۔ وادی سے باہر نہ صرف برصغیر میں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں لوگ تعلیم کی طرف بھر پور دھیان دینے کے ساتھ ساتھ خاطر خواہ وقت بھی دیتے ہیں تب ان کے بچے تعلیمی دوڑ میں آگے آگے ہوتے ہیں ۔وہی بچے معاشی ، صنعتی ، سائنس وٹیکنالوجی کا انقلاب لانے کا باعث بنتے ہیں او ر وہی بچے سمندروں میں گُل کھلانے والے اور ریگستانوں میں فلک نما عمارات اورآسمان سے باتیں کرنے والے ٹاور بنانے والے بن جاتے ہیں ۔ ہم نے کبھی اس بات پر دھیان ڈینے کی کوشش نہیں کی ہمارے بچوں کو ایک سال یا تین سو پینسٹھ دنوں میں سے کتنے دن کوچنگ کے یا سکول کے مل جاتے ہیں ۔ ذرا مندرجہ ذیل تفصیل کو ملاحظہ فرمائیے ۔ ہوسکتاہے کہ میں غلط بیانی کروں تو براہ کرم مجھے ٹوکئے گا ضرور۔
ایک سال میں اتوار کے 52دن ، گزیٹیڈچھٹی کے 29دن اور علاقائی چھٹی کے چار دن بنتے ہیں ۔ اس کے بعد اتفاقی یا حادثاتی چھٹی کے صرف دو دن مان لیجئے ۔ ٹیچرس میٹنگ ، پیرنٹس ڈے ، لانگ ریس، گیمز، ریس ، مارچ پاسٹ ،15اگست ،ایکسکریشن اور اسی طرح کی دیگر مصروفیات کے آپ تعلیمی سال کے دوران صرف بیس دن لگالیجئے ۔ یہ کُل 107دن ہوگئے پھر ۔سردیوں کی چھٹیاں 90دن، گرمیوں کی چھٹیاں آٹھ دن۔ امتحان سے قبل تیاری کے دو دن ، امتحان دینے کے بعد رزلٹ کی تیاری وغیرہ کے لئے آٹھ دن ۔ کُل ملاکر یہ دو سو پندرہ دن ہوگئے ۔ حالانکہ بنتے اس سے زیادہ ہیں کیونکہ میں نے اس میں نیاتعلیمی سال شروع کرنے پر ایڈمیشن کے دن نہیں گِنے ۔ یہ ڈاٹا نویں تک کی کلاس سے متعلق ہے۔ پھر10+2 اورآگے کے لئے خدا ہی حافظ ہے ۔ بہرحال مندرجہ بالا دنوں کے ساتھ پھر ہڑتال کے دن لگالیجئے ۔ اگر کوئی ہڑتال نہیں ہوئی تو آپ کے بچے کے لئے تعلیمی سال پانچ مہینے کا بنتا ہے اور اگر درمیانہ درجے کی ہڑتالیں ہوئیں تو تعلیمی سال تین مہینے کا رہ جاتاہے ۔ اب یہ تین مہینے کا ہو یا پانچ مہینے کا ، خدا راانصاف کیجئے یہ بچہ جس کے تعلیمی اوقات کار میں آف ہی آف لکھا ہو ، پڑھے لکھے بغیر ہی ٹی وی دیکھ کر یا ادنیٰ درجے کا کرکٹ کھیل کر ، سڑکوں پر غل غپاڑہ کرکے ہمسایوں کے شیشے توڑ کر ہونہار بن سکتاہے اور مقابلہ جاتی امتحانات میں کھرااُتر سکتاہے ۔ آنے والے دور کا دارومدار بنیاد پر ہے اور جب بنیادہی کمزور ہوتو آگے کے لئے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے ؟یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ ابھی حال ہی میں جو بورڈ آف سکول ایجوکیشن نے نتائج شائع کئے ان میں بورڈ کی جانب سے بچوں کو 30 اور 35نمبرات گریس کے مل گئے ۔ حالانکہ مذکورہ ادارے پر ایسی کوئی قانونی پابندی نہیں تھی مگر اربابِ اختیار کیا کرتے حالات ہی ایسے تھے۔ بہرحال افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے بچوں کے ساتھ ، ان کے تعلیمی کریئر کے ساتھ یا بہ الفاظ دیگرقوم کے مستقبل کے ساتھ ہمیشہ کھلواڑ کیا ہے ۔ بچے نافہم یا کند ذہن نہیں ہیںمگر ظالم ہم خود ہی ہیں ۔ ہم نے پھولوں کو کانٹوں کی باڑھ لگا کر قید کیا ہواہے ۔ اس لئے یہ پھول نہ اپنی خوشبو پھیلا سکتے ہیں اور نہ کسی گھر یامحفل کی زیب وزینت ہی بننے کی پوزیشن میں ہیں ۔
سوچئے کیا کرنا چاہئے....ساقی لکھنوی بھی کچھ کہتے ہیں ،اسے بھی سنتے جائےے
فلک کے چاند ستاروں کی بات کرتے ہو
زمین کے چاند ستاروں کا تذکرہ بھی کرو
رباب وچنگ کے نغموں سے گرملے فرصت
کبھی نصیب کے ماروں کا تذکرہ بھی کرو
جفائے غیر پر ماتم تو کرتے رہتے ہو
خود اپنے تیر کے ماروں کا تذکرہ بھی کرو