GK Communications Pvt. Ltd

  اداریہ
سکولوں کے دروازے بند نہ کرو


چھٹے تنخواہ کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری کے معاملے میں حکومت اور سرکاری ملازمین کے درمیان ٹکراﺅ کی براہ راست زد میں جہاں ریاست بھر کے عام سائل آئے ہیں ، وہیں سرمائی تعلیمی زون کے مختلف تعلیمی اداروں میں طالب علموں کا حال بے حال ہے ، کیونکہ پونے تین ماہ کی تعطیلات کے بعد 8مارچ کو ایک دن کےلئے سکول کھلنے کے صرف ایک دن بعدملازمین کی ہڑتال کیو جہ سے سکول دوبارہ بند ہوکر رہ گئے ہیں ۔اگرچہ تعلیمی ادارے میں تعطیلات یکم مارچ کو ختم ہورہی تھیں،لیکن انتظامیہ نے موسم میں بہتری آنے کے باوجود خراب موسم کا بہانہ بناکر تعطیلات میں ایک ہفتے کا اضافہ کرکے طلبہ پر پہلے ہی ”مہربانی“ کی تھی۔یہ دو واقعات اس امر کے عکاس ہیں کہ نئی نسل کے حوالے سے ہم کس قدر غیر سنجیدہ اور عامیانہ روّیے کے متحمل ہورہے ہیں۔ماضی میں تعلیم وتعلیم کے حوالے سے متواتر غفلت شعاریوں اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے تعلیمی سطح پر ہم جس پسماندگی کی نذر ہوئے ہیں ، ایسے حالات میں اُس کا خاتمہ تو دور کی بات ، اس میں مزید اضافہ ہو جانے کا امکان ہے ۔خاص طور پر سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین اس وجہ سے پریشان ہیں کہ ان کے بچوں کو مسابقے میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے طلبہ کا سامنارہتاہے ، جہاں اس نوعیت کی ہڑتالوں کا زیادہ اثر دیکھنے کو نہیں ملتا۔ سرکاری سکولوں میں پہلے ہی تعلیمی معیار کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے اور اکثر اساتذہ کے بارے میں یہ شکایت کی جاتی ہے کہ وہ کلاس روموں میں پڑھائی پر زیادہ دھیان دینے کی بجائے پرائیوٹ ٹیوشن پر محنت کرتے ہیں ، جہاں طلبہ سے بڑی بڑی رقمیں بطور ٹیوشن فیس وصول کرکے انہیں وہی نصاب پڑھایا جاتاہے ،جس کی تعلیم سکولوں میں دینے کےلئے انہیںخزانہ عامرہ سے اچھی خاصی تنخواہیں دی جاتی ہیں ۔ عام لوگ جن میں طلبہ کے والدین بھی شامل ہیں اساتذہ سمیت سرکاری ملازمین کے مطالبات کے قطعاً خلاف نہیں ہیں ، بلکہ اسی سماج کا حصہ ہونے کے بہ سبب اُن کی یہ خواہش ہے ، ان کے جائز مطالبات منظور کئے جائیں تاہم جب اسی طبقہ کے ہاتھوں ان کے بچوں کو دہری مار پڑتی ہے تو مایوسی اور قنوطیت کی ایک ایسی فضاءپیدا ہوجاتی ہے جوبچوں کی نفسیات کو متاثر کئے بنا نہیں رہتی ۔ دنیا بھر میں اس وقت تعلیم وتعلّم پر بہت زیادہ زور دیا جاتاہے اور اکثر ترقی پذیر ممالک میں تعلیم کے شعبہ کے لئے مالی بجٹ کا اچھا خاصہ حصہ مختص کیا جاتاہے ۔ لیکن ہماری ریاست میں جہاں تعلیمی شعبے ،خاص کر اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی طرف جس پیمانے پر سرکاری بے توجہی کا مظاہرہ ہورہاہے ، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اس شعبے کا بوجھ آہستہ آہستہ اپنے کاندھوں سے اُتار کر اسے پرائیوٹ سیکٹر کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھانے کے عمل میں مصروف ہے ۔ اس ساری صورتحال میں حکومت اور سرکاری ملازمین کی انجمنوں کا شعبہ تعلیم کی جانب وطیرہ انتہائی غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ نظر آرہاہے ، جو نئی نسل کے مستقبل کو بتدریج تاریکیوں کی نذر کرتا جارہاہے ۔ دریں حالات اگر طلبہ کے والدین یہ مطالبہ بھی کریں کہ شعبہ تعلیم کو لازمی سرورس قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ چونکہ اضافی تعطیلات کی وجہ طلبہ پہلے ہی پریشانیوں کا شکار ہیں اور اگر موجودہ ہڑتال جاری رہی تو آنے والے امتحانات میں بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہے گا ، جو کلہم سطح پرترقی کے عمل میں مزید رکاوٹوں کا سبب بن جائے گا ۔ ملازمین کی ہڑتال کے پہلے دن جب پرائیوٹ سکول کھل گئے تو کئی سرکاری سکولوں کے طلبہ بھی صبح سویرے اپنے مدارس پہنچ گئے ،لیکن وہاں دروازوں پر پڑے بڑے بڑے تالوں نے ان کے چہروں پر مردنی پھیردی ۔ ملازم انجمنوں کا قومی فریضہ ہے کہ وہ اس گمبھیر صورتحال کا پُرخلوص جائزہ لے کر اپنے پروگرام میں ترمیم کرنے پر غور کرے، تاکہ سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کا مستقبل تاریک نہ ہو ۔

 


سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    







 
 


©  2010   KashmirUzma.net

طابع وناشر:رشید مخدومی برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ
ایڈیٹر :فیاض احمد کلو،ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر،مقام اشاعت :6پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
 


GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By