GK Communications Pvt. Ltd

  صفحہ اوّل
جموں جیل میں بندغیرملکیوںکی حوالگی
ہیومن رائٹس کمیشن کی سفارشات سرکارکو روانہ

سرینگر//ریاستی ہیومن رائٹس کمیشن نے جموںجیل میں نظربنداُن غیر ملکی قیدیوں کی بدستور نظربندی کو تشویش کا اظہار کیا ہے جنہوں نے اپنی سزا کی مدت مکمل کی ہے۔ کمیشن نے ریاستی سرکار سے کہا ہے کہ وہ ان قیدیوں کی حوالگی سے متعلق مرکزی سرکار اور ان قیدیوں کے متعلقہ ممالک سے رابطہ قائم کرے۔کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس بشیرالدین نے یہ سفارشات اُس دورے کے بعد دی جب اُنہوں نے کورٹ بلوال جیل کا گذشتہ ماہ دورہ کیا ۔ اپنی نو صفحات پر مشتمل رپورٹ میں چیئرمین نے کہا ہے کہ وہاں موجود قیدیوں میں 72 غیرملکی ہیں جن میں 13کو سزا سنائی گئی ہے ،9کا معاملہ زیر سماعت ہے اور 50پرپبلک سیفٹی ایکٹ لگایا جاچکا ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے ”کئی نظر بندوں نے اس بات کی شکایت کی ہے کہ اُنہوں نے یا تو اپنی سزا ختم کی ہے یا اُنہوں نے نظربندی کی مدت پوری کر لی ہے لیکن اس کے باوجود وہ گذشتہ کئی برسوں سے جیلوں میں پڑے ہیں، ان میں سے ایک نے کہا کہ میں پچھلے 15برسوں سے قید ہوں“۔ رپورٹ میں کمیشن کے چیئرمین نے مزید بتایا ہے ”وہ نظربند جو اپنی سزا مکمل کر چکے ہیں، اور جن کے خلاف اب کوئی کیس نہیں ہے اُنہیں غیرمعینہ مدت تک نظربند نہیں رکھا جاسکتا، ایسے معاملات مرکزی سرکار کی نوٹس میں لانے چاہئیں تاکہ اُن کی نظربندی ایک محدود مدت کےلئے تب تک ممکن بن سکے جب تک نہ اُنہیں اپنے متعلقہ ممالک کے حوالے کیا جائے“۔ چیئرمین نے ریاستی سرکار اور متعلقہ حکام کے نام جو سفارشات کی ہیں کہ وہ سنجیدگی سے حوالگی کے حوالے سے تمام لوازمات پورے کریں جو قیدی ریاست کے جیلوں میں مقید ہیں۔ اُنہوں نے ریاستی سرکار سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو مقررہ وقت کے اندر مرکزی سرکار سے اُٹھائے۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے ”قیدیوں نے یہ شکایت کی ہے کہ اُنہیں ریاسی، رام بن، پونچھ ، راجوری، ڈوڈہ اور کشتواڑ میں متعلقہ عدالتوں میں چل رہے اُن کے خلاف کیسوں کی سماعت کے دوران حاضر رہنے کےلئے ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں لہٰذا وہ سماعت کی تاریخوں پر عدالتوں میں حاضرنہیں ہوپارہے ہیں جس کی وجہ سے سماعت میں وقت لگ جاتا ہے اور کیسوں کے نپٹارے میں تاخیر ہورہی ہے “۔ہیومن رائٹس کمیشن نے ریاستی سرکار سے اس بات کی سفارش کی ہے کہ وہ ایک علیحدہ سیل قائم کرے تاکہ قیدیوں کو متعلقہ اضلاع اور وہاں قائم عدالتوں میں لے جانے کےلئے ٹرانسپورٹ اور سیکورٹی فراہم کی جاسکے، ایک سنٹرلائزڈ ایجنسی اس مقصد کی خاطر بنانے سے معاشی بوجھ بھی نہیں پڑے گا ، وقت بھی ضائع نہیں ہوگا اورایسا طریقہ بہتر بھی رہے گا،یہ کام ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ کوسونپا جائے تاکہ وہ اس کی سربراہی کریں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں میں کوئی بھی قانونی امداد اورشکایت کا ازالہ کرنے کا میکانزم نہیں ہے ۔سفارشات میں یہ بھی کہا ہے کہ جیلوں میں کونسلنگ سنٹر اور لیگل ایڈ سیل بنائی جائے تاکہ نظربند قیدیوں کو ضمانتوں ،اپیلوں اور رٹ پٹیشن سے متعلق مشورہ دیا جاسکے۔ کمیشن نے جیل حکام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف افسران سے متعلق کوئی بھی ریکارڈ موجود ہیں جو جیلوں کا دورہ کرتے ہیں اور ان دوروں کے مقصد کے حوالے سے بھی کوئی ریکارڈ نہیں رکھاگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ”ڈسٹرکٹ سیشن جج اور متعلقہ حکومتی افسران نے چھ مہینوں کے دوران صرف ایک بار جیل کا دورہ کیا ہے حالانکہ لازمی طور پر قانون کے مطابق اس قسم کے دورہ کرنا جیل مینول کے مطابق ہے اور ان دوروں سے یقینی طور پر جیلوں کی حالت اوردیگر ضروری چیزیں بہتر ہوسکتی ہیں“۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ جیلوں میں طبی،لائبریری سہولیات اور کھیلوں کے علاوہ تفریحی سہولیات بھی فراہم کئے جائیں۔

 


سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    







 
 


©  2010   KashmirUzma.net

طابع وناشر:رشید مخدومی برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ
ایڈیٹر :فیاض احمد کلو،ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر،مقام اشاعت :6پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
 


GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By