پرنٹ کریں | Close Window
  ادب نامہ
جموں و کشمیر میں اردو افسانے کا سفر .... ۲


 ریاست میں ”اردو افسانے کا سفر “کو میں نے چار ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ ہر دور میں اردو افسانہ کی تشکیل و تعمیر اور مزاج و منہاج میں جورجحانات و میلانات محرک بنے ہیں ان کو مدنظر رکھ کرہی اردو افسانہ کے خد وخال سامنے لانے کی کوشش کی ہے

 دورِ اوّل ....(۱۹۳۰ تا ۱۹۵۵)

دور دوئم ....(۱۹۵۵ تا )۱۹۷۵

دور سوم ....(۱۹۷۵ تا ۲۰۰۰)

 دورِ چہارم .... (۲۰۰۰ تاحال)

پہلا دور....(۱۹۳۰ تا ۱۹۵۵)

اس میں شک نہیں کہ ابتداءمیں یہاں افسانے روایتی اوررومانی انداز میں لکھے جانے لگے۔ہم ان افسانہ نگاروں کو فراموش نہیں کرسکتے جنہوں نے اس ابتدائی دور میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس سے بعد میں آنے والوں کے لئے راہ ہموار ہوگئی ۔اگرچہ ان روایتی افسانہ نگاروں نے کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا لیکن ماحول کو سازگار بنانے میں انہوںنے اہم رول ادا کیا۔ان میں تیرتھ کاشمیری (چندراولی، اندھی ماں ،تلاش ِحق ) ،پنڈت دینا ناتھ واریکو المعروف شاہد کاشمیری (ملاپ،بکھان،ایجاد،انتقام)،پنڈت شیام لال ایمہ(عیار ڈاکو، غربت ، لوآپ اپنے دام میں صیاد آگیا ) ،پنڈگنگا دھر بھٹ دیہاتی کاشمیری (جوتا ،میری پیاری)،شیام لال کبو(حرمانِ نصیب،غربت،اوشا)،دینا ناتھ عارض (دل کی تڑپ)،گوپی ناتھ مٹو(خونی ) ،پنڈت منوہر کاک (قربانی )،پنڈت شمبو ناتھ جی کول (محبت)، پنڈت وید لا ل گیرو( حرماں نصیبِ شانتا)،پنڈت سومناتھ جی (عجب چور ) ، پرتھوی ناتھ کول(کنیا آشرم )،شری بت رعناوری (بھولا پیار) اور شریمتی سوہن رانی وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔بقول سروری شریمتی سوہن رانی اس دور کی خواتین افسانہ نگار و ں میں نمائندہ تھیں۔

متذکرہ بالاافسانہ نگاروں کی کوششوں سے ایک ایسی کھیپ سامنے آئی جنہوں نے آگے چل کر افسانہ کی تاریخ رقم کی اس سلسلے میں سروری یوں لکھتے ہیں ؛

۱۹۳۰ اور ۱۹۴۰ کے درمیان،کشمیر میں کئی اچھے افسانہ نگار منظر عام پر آئے اور یہ صنف اتنی مقبول ہوئی تھی کہ اکثر ذوق رکھنے والے قابل ِ مطالعہ افسانے آسانی کے ساتھ لکھ لیتے تھے ۔ ( کشمیر میں اردو ....جلد دوئم ،صفحہ نمبر )۴۵۷

ریاست میں جب افسانہ کی آمد شروع ہوئی تو یہاں تخلیق کاروں کے سامنے زندگی کے نجی مسائل کے ساتھ ساتھ شخصی راج کے ظلم و ستم کی روداد بھی قلم بند کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ،جیسے ان کو احساس ہوگیا تھا کہ تخلیق کارپر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانے کی عکاسی بھی کرے ۔اسی لئے تخلیق کار کے ذاتی رنج و غم کی کوئی وقعت نہیں رہی ۔ڈاکٹر برج پریمی پردیسی کا ذکر کرتے وقت اس دور کی عکاسی یوں کرتے ہیں :۔

یہ وہی دور تھا جب ڈوگرہ شاہی کا جبر واستبداد کشمیر ی عوام کی جڑوں کو کھوکھلا کر چکا تھا ۔وہ غلام در غلام زندگی بسر کرتے ہوئے چلے آرہے تھے اور اب مزید بے بسی ،لاچاری اور غربت میں پسے جارہے تھے ۔پردیسی کا ذاتی رنج و ملال اجتماعی رنج و غم کا حصہ بن گیا ۔ملک پر چاروں طرف جاگیر دارانہ اور چک دارانہ نظام کے خونین پنجے پیوست ہوچکے تھے ۔ چک داری نظام کے تحت زمین داروں اور چک داروں کااستحصال نوکر شاہی ،رشوت خوری ،ناخواندگی اور اقتصادی نابرابری کا دور دورہ تھا ۔“ (پریم ناتھ پردیسی ....عہد ،شخص اور فنکار ،مرتبہ ڈاکٹر پریمی رومانی ،صفحہ نمبر ۴۰،سنہ ۲۰۰۹)

لیکن جوں ہی ریاست میں ترقی پسند تحریک کی لہر پہنچ گئی ۔تو ہر طرف اسی روجحا ن کی آبیاری ہونے لگی۔یہاں کے ادیبوں کا شعور بیدار ہوا اوروہ روایتی اور رومانی موضوعات کے ساتھ ساتھ باقی مسائل پر بھی سوچنے لگے ۔اورانہوں نے باقاعدہ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر سماجی نابرابری ،سیاسی استحصال ،لاچاری و مفلسی اور طبقاتی کشمکش جیسے موضوعات کی عکاسی شروع کردی ۔و ادی میں ترقی پسند مصنّفین کی بنیاد کیا پڑ گئی کہ لکھنے والوںکاایک کارواں سامنے آیا۔ نور شاہ انجمن ترقی پسند مصنّفین کا واردِ کشمیر ہونے پر لکھتے ہیں:

 وادی میں انجمن ترقی پسند مصنّفین کی بنیاد ۱۹۴۶ ءمیں رکھی گئی ۔ اس میں اردو میں لکھنے والے کم و پیش سبھی ادیب اور شاعر شامل ہوئے ۔اس انجمن کی کارکردگیوں میں ایک اہم سرگرمی اس کی ہفتہ وار مجلسوں کا انعقاد تھا ،جو ہر جمعہ کو ہوا کرتی تھیں ۔ان محفلوںمیں چھوٹے بڑے سبھی ادیب اور شاعر اپنی تخلیقات پیش کرتے تھے جن پر جوش و خروش اور دیانت داری سے بحث ہوا کرتی تھی ۔“ ( انتخاب اردو ادب.... مرتبہ نورشاہ،صفحہ نمبر ۷،سنہ ۱۹۷۳) 

گرچہ بعض لوگ ترقی پسند ادب کو پروپگنڈہ سے تعبیر کرتے ہیں اور اس کو فروعی اور مصنوعی کہہ کر نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن ریاست میں اردو زبان وادب کے ارتقاءمیں ترقی پسند تحریک کے رول کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اسی تحریک کی بدولت عوام میں شخصی راج کے خلاف ایک زور دار مہم کا آغاز بھی ہوا۔

اس دور میں جن افسانہ نگاروں نے باقاعدہ ایک کاروں کی شکل اختیار کی ۔ان میں پریم ناتھ پردیسی،قدرت اللہ شہاب،رامانند ساگر،پریم ناتھ در،کشمیری لال ذاکر، محمودہاشمی،ٹھاکرپونچھی،نرسنگھ د اس نرگس،کنول نین پرواز، کوثر سیمابی ،موہن یاور،جگدیش کنول ،سومناتھ زتشی قابل ذکر ہیں۔جبکہ ڈاکٹر گوری شنکرکے خاندان نے اردو افسانے کی ترو یج میں خاصا رول ادا کیا ،جن میں کرشن چندر ،مہندر ناتھ اور سرلا دیوی کے نام آج بھی لئے جاتے ہیں۔

بد قسمتی دیکھئے کہ ابھی افسانہ کے بیج سے کونپلیں نکلنے شروع ہوگئیں تھیں کہ تقسیم کاسانحہ پیش آیا ۔جس سے پورے برصغیر میں اتھل پتھل شروع ہوئی اور زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ۔ اس سانحہ کے اثرات براہ راست ہماری ریاست پر بھی پڑ گئے ۔ یہاں کے حالات بھی دگر گوں ہوگئے ،ہر طرف افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔سیاسی اور سماجی سطح پر بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اور جو لکھنے والوں کا کاروں سامنے آگیا تھا وہ بھی دیکھتے دیکھتے بکھر گیا۔ادیبوں کی ایک بڑی کھیپ پاکستان ہجرت کرگئی۔جن میں قدرت اللہ شہاب ، کوثرسیمابی،کیف اسرائیلی،محمد عمر نورالہی،طالب گورگانی،عزیز گاش وغیرہ قابل ذکرہیں۔اور بعض افسانہ نگار تلاش معاش کے سلسلے میں بیرون ریاست چلے گئے جن میں ٹھاکرپونچھی،پریم ناتھ در،کشمیری لال ذاکر ،کنول نین پرواز،رامانند ساگر قابل ذکر ہیں۔ جو ادیب وشعراءیہاں رہے وہ کلچرل فرنٹ کے بینر تلے جمع ہونے شروع ہوگئے جن میںزیادہ تر وہی ادیب تھے جو ترقی پسند تحریک سے متاثر تھے ۔بقول نورشاہ :

۱۹۴۷ کے اواخراور ۱۹۴۸ کے اوئل میں کشمیر وادی میں ایک تمدنی محاذ یعنی کلچرل فرنٹ کی بنیاد رکھی گئی ۔اس محاذ میں سب سے پہلے جن لوگوں نے شمولیت کی وہ یہی ترقی پسند ادیب اور شاعر تھے،یہ وہ زمانہ تھا جب نیم برصغیر تقسیم ہوچکا تھا ۔دو نئی مملکتیں وجود میں آچکی تھیں ۔ مہاجرین کا مسئلہ نہایت ہی خطرناک صورت اختیار کرچکا تھا اور ادھر اپنے کشمیر پر حملہ ہوچکا تھا ۔مختصر یہ کہ ایک عجیب طرح کی افراتفری ،طوالف الملوکی اور خوف و ہراس کا دور دورہ تھا ۔ اس پس منظر میں تمدنی محاذ یعنی کلچرل فرنٹ کا وجو د میں آنا اور ترقی پسند مصنّفین کا اس میں رضا کارانہ طور پر شامل ہونا ریاست کی ادبی تحریک میں ایک سنہری باب کا درجہ رکھتا ہے ۔

: انتخاب اردو ادب.... مرتبہ نورشاہ،صفحہ نمبر ۷،سنہ ۱۹۷۳

سانحہ تقسیم کے ساتھ ہی سے ہر طرف فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا جس سے ریاستی ادیب بھی متاثر ہوئے ۔جب بھی فسادات کے حوالے سے اُردو کے کہنہ مشق افسانہ نگاروں کے شاہکار افسانوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو وہاںٹھاکر پونچھی کا” بلورخان “اور پریم ناتھ درکا ”آخ تھو“بھی شمار کیا جاتا ہے ۔پریم ناتھ در کا افسانہ ” آخ تھو “ پر معروف نقادممتاز شیریں رقمطراز ہیں :

 پریم ناتھ در کا افسانہ ”آخ تھو“ ایک اظہاری کیفیت ہے جو خارجی حقیقت ہی کا ایک عکس ہے۔و ہ عکس جو فنکار کا احساس دیکھتا ہے ۔ جہاں انسان انسان کا گوشت پکار کرکھاتا ہے ۔درمیان میں اسے اپنی دنیا کی تصویریں بھی دکھائی دیتی رہتی ہیں اوریہ زیادہ غلیظ ، کریہہ اور گھناونی نظر آتی ہے ۔پریم ناتھ در افسانے میں انتہائی گھناونے پن اور کراہیت کا احساس بدرجہ اتم لے آنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ یہ سارا افسانہ ہی مجسم طنز ہے ۔انسان کی بربریت پر کئی افسانوں میں طنز کی گئی ہے لیکن اس کا جواب نہیں “۔ ؛ بحوالہ ”فسادات اور ہمارے افسانے“.... ممتاز شریں ،ذہن جدید جلد۴،شمارہ۱۴ صفحہ نمبر ۱۸

غرض اس دور کا افسانہ جہاں رومانی اورروایتی موضوعات سے دامن چھڑاکر ڈوگرہ دور کی نقاب کشائی کرتاہے تووہاں کشمیریوں کے بھائی چارے کی بھی مثال پیش کرتا ہے ۔ ساتھ ہی سانحہ تقسیم کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ فسادات کو بھی ہدف ملامت بنانے سے نہیں کتراتا ہے ۔ اگرچہ اس دور میں تخلیق کاروں کے لئے وسا ئل اور رسائل دنو ں ناپید تھے پھر بھی مقامی اخباروں کی بدولت یہاں ایک ایسی فضا قائم ہوگئی جس سے تخلیق کاروں کی پیاس کسی حد تک بجھ جاتی۔ ان اخباروں میں رنبیر ،ہمدرد ،وتستا ،چاند ، مارٹنڈ ، خدمت قابل ذکر ہیں ۔

 

02 September 2014
Copyright © 2007 - Kashmir Uzma