تازہ ترین

بھاجپا نے میدان مار لیا مگر کیسے؟

ہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام جس کے پردوں میںنہیں جُز از نوا ئے قیصری (اقبال) سیاسیات ہند میں ان دنوں پانچ ریاستی اسمبلیوں اُترپردیش، پنجاب ، اُتراکھنڈ ، گوآ اور منی پور کے انتخابات اور انتخابی نتائج زیر بحث ہیں۔گزشتہ کئی ماہ سے ان ریاستوں میں انتخابی سرگرمیاں جاری تھیں۔ متعلقہ انتخابی پارٹیوں نے اپنی کامیابی کے لئے سب کچھ دائو پر لگارکھاتھا۔اس عرصہ میں سارا میڈیا ٹیلی ویژن، ریڈیو، اخبارات اور دیگر ذرائع نشر واشاعت اسی جانب متوجہ تھے۔ عوام بھی اپنے تمام عوامی مسائل ،تکلیفات ، مشکلات ، اور مصائب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لٹیرے طبقوں کی ترجمان انتخابی پارٹیوں کے کھیل میں مستفرق رہے۔ا ب جب کہ نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ ان نتایج پر تبصروں اور رائے زینوں کا سلسلہ شدومد سے جاری ہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی اور اس ترجمان میڈیا ان انتخابات میں بھاجپا کی زبردست  کامیابی، نریندرمودی

دو پارلیمانی نشستوں پر الیکشن

ان حالات میں کہ جب گذشتہ سال کی عوامی مزاحمت کے دوران سرکاری فورسز کی طاقت سے کچلے جاچکے لوگ ابھی درد سے کراہ ہی رہے ہیں اننت ناگ اور سرینگر کے پارلیمانی حلقوں میں انتخابات کا بگل بجادیا گیا ہے۔جہاں عمر عبداللہ، اور ان کے حلیف ،لوگوں کو اس بات کیلئے آمادہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ وہ ان انتخابات میں محبوبہ مفتی کو شکست دیکر بہت بڑا کارنامہ انجام دے سکتے ہیں وہاں حریت اور اس کی سہ نفری قیادت حسب سابقہ کشمیریوںکو شہیدوں اور دوسری قربانیوں کا واسطہ دیکر انتخابات سے دور رہنے کی اپیلیں کرنے میں پیچھے نہیں ہیں۔عام کشمیری ،جو کہ ہمالیہ جتنی قربانیوں کا وارث ہے، نجی محفلوں میںہر بار کی عوامی تحریک کے بعدتمام نظریات کے لیڈروں کو گالیاں دینے کی اپنی عادت پر قائم ہے۔افسوسناک حیرت اور بد قسمتی کی بات ہے کہ ہمارے یہاں ہرشخص کو غداریا ایجنٹ کہنا جیسے ہمارے مزاج میں رچ بس گیا ہے ۔اس بات میں اگ

یوپی انتخابات کے سیاسی مضمرات

۱۱ ؍ مارچ ۲۰۱۷ء کی شام کو سراج اورنگ آبادی کہ یہ مصرعہ بہت یاد آیا ’’ چلی سمت غیب سے اک ہوا کہ چمن سرور کا جل گیا ‘چمن میں بادصرصر چلی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ زندہ قومیں مسائل اور مشکلات سے دوچار ہوتی ہیں، اور انھیں سے ان کی قوت اورزندگی کا اظہار ہوتا ہے، انھیں سے ان کے اندر مدافعانہ قوت کی نشو ونما ہوتی ہے، جو لوگ سخت سردی یا سخت گر می کے موسم میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں، ان کی جسمانی قوت مدافعت زیادہ بہتر ہوتی ہے۔افراد کی طرف قومیں بھی مخالفت کی آندھیوں کے درمیان رہ کر خود کو زیادہ طاقتور اور ناقابل تسخیر اور حوصلوں سے معمور بنالیتی ہے، ان کے لئے سخت اور جاں گسل حالات قدرت کی طرف سے انعام ہوتے ہیں، رسول اللہ ؐ نے اور صحابہ کرامؓ نے مکی دور میں بہت سی پریشانیاں برداشت کیں، لیکن مشکلات کے خاردار صحرا میں وہ ثابت قدم رہے، یہی نصیحت اقبال نے کی ہے  ؎  کان

شاعر مشرق کشمیرکاز کا پیام بر

کشمیر کی تاریخ کے مختلف ادوار مطالعہ کئی ایسے نام نظروں کے سامنے آتے ہیں جنہوں نے کشمیری قوم کی فلاح و صلاح عزت و قار اور ترقی و آزادی کے لئے ایک بڑا حصہ ادا کیا ہے، تاریخ کی انہی شخصیات میں سے کشمیر سے لاہور میں شعرو و ادب اور فکر و فلسفہ کی دنیا کا ایک معروف نام شاعری مشرق علامہ اقبال ؒ کا ہے، جنہیں اپنے کشمیری الا صل ہونے پر فخر و انبساط حاصل تھا۔ چنانچہ ایک موقعہ پر انہوں نے اپنے وجود کو تین حصوں میں تقسیم کر کے ایک خوبصورت تکون ترتیب دیا ہے فرماتے ہیں کہ میرا جسم خیابانِ کشمیر کا ایک پھول ہے اس جسم میں جہاں تک اس کے اہم ترین عضو دل کا تعلق ہے وہ حجاز یعنی جناب رسول مقبول صلی ا للہ علیہ وسلم کی  پاک سر زمین کے ساتھ وابستہ ہے اور جہاں تک زبان کا سوال ہے وہ ایران کی اہم علمی شہر شیراز کے ساتھ پیو ستہ ہے۔ چنانچہ اقبال ؒ عہد نامہ لاہور سے عہد نامہ امرتسر تک تاریخ کا پورا مطالعہ