تازہ ترین

کھٹوعہ واقعہ بدترین، بھاجپا مجرمین کی پشت پر

     سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ جموں کے کھٹوعہ علاقے میں 8 برس کی کمسن بچی کی عصمت ریزی اور قتل میں مجرموں کو بچانے کیلئے مخلوط سرکار میں شامل بھاجپا پر درپردہ پشت پناہی کررہی ہے۔سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے آبی گذر میں احتجاجی مظاہرین سے براہ راست یا ٹیلی فونک خطاب میں کہا کہ جس واقعہ سے انسانیت شرمسار ہوئی ہے اس میں ملوثین کو بھاجپا بچانے کی کوشش میں ہے۔ سید علی گیلانی سید علی گیلانی نے کہا کہ ایک معصوم بچی کا خون انتہائی بے دردی سے بہایا گیا،جبکہ اس سانحہ نے انسانیت کو شرمسار کیا۔ گیلانی نے آصفہ  کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کے طور پر برآمدہ احتجاجی مظاہرے سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے  فرقہ پرستوں کی جانب سے قاتلوں کے حق میں ریلی نکالنے کی بھی مذمت کی ہے۔ گیلانی نے کہا ’’ وردی پوشوں نے ایک ننھی کلی

مزاحمتی کارکنان کا شہر میں مارچ اور نعرے بازی

 سرینگر// مشترکہ مزاحمتی کارکنوں نے جنسی زیادتی کے بعد قتل کی گئی کھٹوعہ کی معصوم بچی 8سالہ آصفہ کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور آبروریزی و قتل میں ملوث مجرموں کو سزائے موت دینے کا نعرہ  بلند کیا۔لالچوک کے جانب پیش قدمی کے دران پولیس نے لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو ایک درجن مزاحمتی کارکنوں اور لیڈروں کے ہمراہ  احتیاطی حراست میں لیا۔ محمد یاسین ملک کئی مزاحمتی لیڈروں سمیت آبی گزر علاقے میں بعد از دوپہر نمودار ہوئے اور آصفہ  کے قاتلوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔اس موقعہ پر مشترکہ مزاحمتی قیادت میں شامل لیڈرشپ اور حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں سے وابستہ اکائیوں کے کارکنوں  نے بھی شرکت کی۔احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بیئنر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے،جن پر’’ جموں کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے نعرے درج کیں گئے تھے‘‘۔

کشمیر میں سیکورٹی فورسز کو استثنیٰ حاصل

 نئی دہلی // انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے کہا ہے کہ کشمیر میں سیکورٹی فورسز کو ہر قسم کی خلاف ورزیوں پر استثنیٰ حاصل ہے اور ابھی بھی من چاہے ڈھنگ سے پیلٹ کا استعمال ہورہا ہے۔اپنی تازہ سالانی رپورٹ میں ایمنسٹی نے کہا ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کی تذلیل اور انہیں پر خطر قرار دینے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے۔ایمنسٹی نے بھارت میں اظہار رائے پر قدغن لگانے کیلئے قانون کا سہارا لینے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال کو انتہائی تاریک قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق گروپ نے کہا ہے کہ گئو کشی کے معاملے پر غنڈہ گردی اور گائے کا گوشت کھانے پر مار مار کر ہلاک کرنے کے واقعات پورے ملک میں 2017کے دوران ہوئے اور حکومت نے کوئی کارروای نہیں کی۔رپورٹ کے مطابق مرکز میں ہندو قوم پرستجماعت کی حکومت مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کے درجنو

سکولی تعلیم شعبے میں نیا پن لانے کیلئے لائحہ عمل

 جموں//تعلیم کے وزیر سید محمد الطاف بخاری نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران سکولی تعلیم سیکٹرمیں نیاپن لانے کے لئے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی۔میٹنگ میں سکولی تعلیم محکمہ کے سینئر افسران جن میں فاروق احمد شاہ ، ایڈیشنل سیکرٹری مسرت الاسلام ، ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں رویندر سنگھ ، ڈائریکٹر ایس ایس اے  اے آر وار ، ڈائریکٹر رمسا طفیل متو و دیگر سینئر افسران شامل تھے نے سکولوں میں عملے کی ضروریات ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی دینے اور موجودہ سکیم کے تحت ضروریات پوری کرنے کے معاملات پر غور و خوض کیا۔ میٹنگ میں التوا میں پڑے بقایاجات کو پور ا کرنے اور اساتذہ ، ماسٹر وں و دیگر عملے کی تنخواہوں کو ادا کرنے جیسے معاملات زیر بحث آئے۔ وزیر نے محکمہ کے تمام شعبوں کے سربراہوں سے کہا کہ وہ سکولی تعلیم سیکٹر کے روڑ میپ کے فائنل ڈرافٹ کو وزیرا علیٰ کو پیش کرنے سے پہلے اچھی طرح جانچ لیں۔انہوںنے اف

سکمز میں پیٹ سکین مشین کیلئے حکومت نے ہاتھ پھیلائے

 سرینگر // منسٹری آف شماریات اور منصوبہ عمل آوری کی جانب سے ریاستی سرکار کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شیر کشمیر انسٹیچوٹ آف میڈیکل سائنسز میں مرحوم وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی دوسری برسی پر عوام کے نام وقف کئے گئے پیٹ سکین مشین کی تعمیر اور تنصیب کیلئے بھارت کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے  قریب 20ممبران پارلیمنٹ نے اپنی لوکل آئیر ڈیولپمنٹ فنڈ میں سے رقومات واگذار کی  تاہم جموں و کشمیر کے کسی بھی پارلیمنٹ یا اسمبلی ممبرنے پیٹ سکین کیلئے کوئی بھی پیسہ نہیں دیا۔سکمز صورہ میں  12کروڑ روپے کی مالیت کے نصب کئے گئے پیٹ سکین کیلئے جن  اراکین پارلیمنٹ نے رقوم دیں ان میںمحسنا قدوائی نے ایک کروڑ روپے،  کے پرسنارن  نے ایک کروڑ اور ایک کروڑ روپے ایچ کے ہڈا نے اپنے لوکل ائیریا ڈیولپمنٹ فنڈ اور ریکھا گنیشن نے ایک کروڑ روپے ریاستی ح

چیف جسٹس نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کیسوں کی شنوائی کی

 جموں//جموں وکشمیر ریاست کے جوڈیشل کی تاریخ میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیف جسٹس ،جسٹس بدر دُریز احمد نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کیسوں کی شنوائی کی ۔ کارروائی کے دوران ہائی کورٹ کی سرینگر وِنگ کے 11 کیسوں کو چیف جسٹس نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ نپٹایا۔وکلاء جنہوں نے ان کیسوں کی پیروی کی، نے ہائی کورٹ کے اس تاریخی قدم کی ستائش کی ۔  

ڈاکٹر فاروق اور رانا کی اجمیر شریف میں حاضری

 اجمیر // سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اجمیر شریف درگاہ میں جمعرات کو حاضری دی۔انکے ساتھ دیوندر رانا بھی تھے۔ڈاکٹر فاروق نے درگاہ میں زیارت کی اور انہوں نے اس موقعہ پر مزار پر چادر بھی چڑھائی جس پرقرانی آیات لکھی گئی تھیں۔ ڈاکٹر فاروق نے درگاہ پر ملک کے عوام کیلئے امن اور خوشحالی کی دعائیں مانگیں۔  

دنیشور شرما کی شوپیان آمد

 سرینگر// مرکز کی طرف سے نامزد مذاکراتکار دنیشور شرما نے جمعرات کو مشن کشمیر کی ایک اور اننگ کا آغاز کرتے ہوئے جنوبی ضلع شوپیاں میں کئی وفود سے ملاقات کی۔ دنیشور شرما ٹھیک ایک بجے قصبہ شوپیاں پہنچے اور اسکے بعد انہوں نے سرکٹ ہاوس شوپیاں میں قیام کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دنیشور شرما نے دن بھرضلع کے تقریبا ً18 نمائندہ وفود سے ملاقاتکی اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے وفود سے تبادلہ خیال کیا۔ذرائع کے مطابق عوامی وفود ،جن میں زیادہ تر گوجر بکروال طبقے سے تعلق رکھتے تھے ،نے بنیادی سہولیات ،جن میں بجلی ،پانی اور سڑکوں کی خستہ حالی اور انتظامیہ کی جانب سے انہیں نظر انداز کئے جانے والے مطالبات رکھے ۔معلوم ہوا ہے کہ مرکزی مذاکراتکار سے دیگر وفود کے علاوہ ٹرانسپورٹر،شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے علاوہ جنگجویانہ حملوں میں ہلاک ہوئے پولیس اہلکاروں کے افرا

کنن پوشہ پورہ واقعہ کی چیخیں آج تک خاموش نہ ہوئیں

 سرینگر//سرحدی ضلع کپوارہ کے مضافاتی علاقے کنن پوش پورہ میں 27سال قبل اجتماعی جنسی تشدد کی چیخیں آج تک خاموش نہیں ہوئیں ہیں۔  اس سانحہ میں متاثرہ خواتین کے لئے آج بھی 23فروری 1991کا وہ دن کسی ڈراونے خواب سے کم نہیں ہے۔ متاثرہ خواتین کو جب آج بھی اُن لمحات کی یاد آتی ہے تو انکے رونگھٹے ہی نہیں بلکہ نس نس کھڑے ہو جاتے ہیں اور خشک آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں ۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ 28  برس گزر جانے کے باوجود ابھی تک درجنوں خواتین حصول انصاف کی منتظر ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں خاموش نظر آرہی ہیں ۔ تاریخ کے اس بدترین سانحہ نے جہاں حصول انصاف کے اداروں پر سوالیہ نشان لگا دیا،وہیں سیاست دانوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا ہے ۔ حقوق انسانی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی کہ سرینگر سے لیکر دہلی تک حفاظتی ایجنسیوں اور سیاسی جماعتوں نے کھبی بھی

عسکریت کی طرف مائل ہونے کی وجہ سینٹرل جیل نہیں

 سرینگر //مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے سی آئی ڈی کی سینٹرل جیل سے متعلق رپورٹ مضحکہ خیز، بے ہودانہ اور جھوٹ کا پلندا قرار دیتے ہوئے کہا  ہے کہ ایس ایم ایچ ایس ہسپتال  سے ایک قیدی کے فرار ہوجانے کے بعد سے حکمران،انکی فورسز،ایجنسیز اور پولیس نے سینٹرل جیل میں مقید سیاسی  اور دوسرے اسیروں کو تنگ طلب کرنا شروع کردیا ہے۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ ایک قیدی کے فرار کے فوراً بعد کچھ اخبارات اور بھارت کی جانبدار میڈیا نے بے بنیاد اور متعصبانہ  خبریں شائع کیں جس کے بعد درجنوں اسیروں کو وادی کے باہر جیلوں میں شفٹ کردیا گیا لیکن بچے کچھے اسیروں کو مذید سختی میں مبتلا کردینے کیلئے اب نام نہاد رپورٹیں گھڑنے اور میڈیا کے ذریعے مشتہر کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔اسی قسم کی ایک رپورٹ سی آئی ڈی محکمے کے حوالے سے اخبارات کی زینت بنی

سینٹرل جیل کی سیکورٹی صورتحال

 سرینگر//لشکر کمانڈر نوید کے صدر اسپتال سے فرار ہونے کے بعد ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات دلباغ سنگھ نے پہلی بار سینٹرل جیل سرینگر کا دورہ کر کے سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ دلباغ سنگھ نے کہا کہ سیکورٹی اقدمات کو بڑھانے کی ضرورت ہے،اور اس سلسلے میں کارروائی بہت جلد عمل میں لائی جائے گی۔سینٹرل جیل میں نظر بند اور صدر اسپتال سرینگر سے6فروری کو لشکر کمانڈر ابو حنظلہ کے فرار ہونے  اور پولیس کے سی آئی ڈی شعبے کی طرف سے رپورٹ  کے بعد  دلباغ سنگھ نے ریاستی جیلوں کا دورہ اور وہاں پر تعینات سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق اعلیٰ پویس وفورسزافسروں کے ہمراہ یہاں پہنچنے کے بعدڈی جی پی جیل خانہ جات نے سینٹرل جیل سری نگرکے اندردستیاب مختلف طرزکی سہولیات اوریہاں بنیادی ڈھانچے کے بارے میں جانکاری لی ۔انہوں نے جیل کے اندراورباہردستیاب کھلی جگہ ک

ریاست میں فی الحال کوئی نیا ضلع نہیں بنے گا

 جموں //ریاستی سرکار نے کہا  ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں نئے اضلاع کی تشکیل کیلئے سرکار کے پاس کوئی بھی نیا منصوبہ زیر غور نہیں ہے ۔ سرکارکی جانب سے پیش کئے گے اعداد وشمار کے مطابق 2011کی مردم شماری کے تحت ریاست جموں وکشمیر کے 22اضلاع کی کل آبادی 12441302کروڑ ہے اور یہ 22اضلاع 101,388مربع کلو میٹر پر پھیلے ہوئے ہیں ۔سرکار نے بتایا کہ جموں کے 10اضلاع 26,294کشمیر کے 10اضلاع 15948اور لداخ کے 2اضلاع 59146مربع کلو میٹر پر پھیلے ہوئے ہیںجبکہ جموں خطہ کے 10اضلاع کی کل آبادی 2011کی مردم شماری کے تحت 5,278538ہے۔اسی طرح سے کشمیر کے 10اضلاع کی اس مردم شماری کے تحت کل آبادی 6888475 بتائی گئی ہے ۔ لداخ کے 2اضلاع کرگل اور لداخ کی کل آبادی اس مردم شماری کے تحت274289ہے ۔سرکار نے بتایا کہ اس کے پاس کوئی بھی ایسی تجویز زیر غور نہیں کہ نئے اضلاع ریاست میں قائم کئے جائیں ۔سرکار نے  جنوب

نواز شریف پارٹی صدارت کیلئے نااہل قرار

 اسلام آباد// پاکستان میں سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ سنا دیا جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لئے بھی نااہل ہوگئے۔انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس کا متفقہ فیصلہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سنایا۔چیف جسٹس نے کیس کا مختصر فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہ اترنے والا یا نااہل شخص پارٹی صدارت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا۔فیصلے میں نواز شریف کے بطور پارٹی صدر اٹھائے گئے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نواز شریف فیصلے کے بعد جب سے پارٹی صدر بنے تب سے نااہل سمجھے جائیں گے۔عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف کے بطور پارٹی صدر سینیٹ انتخابات کے امیدواروں کی نامزدگی بھی کالعدم ہوگئی اور مسلم لیگ (ن) کے تمام امیدواروں کے ٹکٹ منسوخ ہوگئے۔یو این آئ

شہر میں پھر کریک ڈائون

 سرینگر// شہرکے مضافاتی علاقے بژھ پورہ صورہ میں مبینہ طور پر فورسز اور پولیس کی طرف سے کچھ مکانات کی گھیرہ بندی کے دوران گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی،تاہم پولیس نے گولی چلنے کے واقعہ کو مسترد کیا۔اس دوران مونچھوہ چاڈورہ میں فورسز نے محاصرہ اور تلاشیوں کی کارروائی کی۔ صورہ کے بژھ پورہ علاقے میں فورسز اور پولیس نے بدھ کو کئی مکانات کا  محاصرہ کیا،جبکہ مبینہ طور پر اس دوران گولی چلنے کی آواز بھی سنائی دی۔پولیس نے تاہم بعد میں کہا کہ اس طرح کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ جنگجوئوں کے چھپنے کی اطلاع ملنے کے بعد کچھ مکانات کا گھیرائو کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران تلاشیاں لی گئیں،تاہم جنگجوئوں کے ساتھ کوئی بھی رابطہ نہیں ہوا۔ادھر شہر کے نزدیک  واقع مونچھو چاڑورہ کے مقدم باغ اور باغ مہتاب علاقوں میں بھی بدھ کو فورسز اور پولیس نے محاصرہ کر کے

ہائی اور ہائیر سیکنڈری26 فروری سے

 سرینگر//ناظم تعلیم کشمیر ڈاکٹر جی این ایتو نے سرمائی تعطیلات ختم ہونے کے بعد کشمیر ڈیویژن کے تمام سکولوں بشمول پرائمری، مڈل ، ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں کے تدریسی عملے کو23 فروری سے اپنے اپنے متعلقہ سکولوں میں حاضر رہ کر نئے سیشن کے آغاز کے سلسلے میں تیاریاں کرنے کے لئے کہا ہے۔ جبکہ ہائی اور ہائر سیکنڈری سکول  26فروری اور پرائمری و مڈل سطح کے سکول 5 مارچ سے باضابطہ طور کھلیں گے۔اسی دوران ناظم تعلیم کشمیرنے 26فروری اور 5 مارچ کو’’یوم خوش آمدید‘‘ کے طور منائے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے تمام طالب علموں کو محکمے کی طرف سے خوش آمدید کہتے ہوئے اُن کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے تمام سکولوں کے سربراہان اور تدریسی عملے کو ہدایت دی ہے کہ وہ یوم خوش آمدید منائے جانے کے دوران طالب علموں کے ساتھ بھرپور محبت کا اظہار کرتے ہوئ

کپوارہ میں پہاڑدوں پر برف باری

 کپوارہ//محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق کپوارہ کے پہا ڑوں پر تازہ برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں ضلع کے سرحدی علاقوں کو جانے والی شاہرائو ں کو گا ڑیو ں کی آمد و رفت کے لئے بند کیا گیا ۔ بدھ کی صبح سے ہی ضلع میں ہلکی بارشو ںاور بالائی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ شروع ہوا ۔ نستہ ژھن گلی (سادھنا ٹاپ ) پر 6،فرکیاں گلی پر 4اور مژھل کی زیڈ گلی پر 8انچ تازہ باف ریکارڈ کی گئی ۔برف باری کے نتیجے میں چوکی بل کرناہ ،میلیال کیرن اور سر کلی مژھل شاہرائو ں کو گا ڑیو ں کی آ مد ورفت کے لئے بند کیا گیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ خالد جہانگیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ کپوارہ کے سرحدی علاقوں میں بر فانی تودوں کے گر آنے کا خطرہ رہتا ہے اور ان سڑکو ں پر جمع برف باری کے نتیجے میں شاہرائو ں کو گا ڑیو ں کی آ مد و رفت کے لئے بند کیا گیا ۔    

صحافت اورصحافی کا کردار

 سرینگر //کشمیر ایڈیٹرس گلڈ کی ایک ہنگامی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں فوٹو جرنلسٹ کامران یوسف کے چارج شیٹ میں صحافت اور صحافی کے کردار کی وضاحت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کو کوئی حق اور اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ جمہوریت کے چوتھے ستون صحافت اور صحافی کے کردار کی نشاندہی کریں ۔ایڈیٹرس گلڈ کے ترجمان شفاعت کیرا کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر تحقیقاتی ایجنسیاں صحافت اور صحافی کے کردار کی وضاحت کرنے پر اتر آئی ہیں تو پھر ان تمام یونیورسٹیوں کو بند کیا جانا چاہئے جن میں ہزاروں طلباء کو صحافت اور صحافی کے کردار کے مطالب سمجھائے اور سکھائے جاتے ہیں ۔مطلق العنانیت کے ادوار میں ایسا ممکن ہوسکتا ہے کہ سکیورٹی ایجنسیاں صحافت کی من مانی تعریف کریں لیکن جمہوری ملکوں میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی ۔ ایڈیٹرس گلڈ اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ کامران یوسف ایک فری

مسئلہ کشمیر میں اب چین کا سنجیدہ کرداربھی شامل

 سرینگر// ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اب صرف بھارت اور پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ چین بھی ایک بہت بڑا عنصر ہے۔ ریاستی سرکار کے ترجمان اور وزیر تعمیرات نعیم اخترنے کہا کہ چین نے جیش محمد سربراہ مولانا مسعود اظہر کو’’گود لیا ہے‘‘ اور اقوام متحدہ میں مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے پر چین کے بار بار ویٹو کرنے کے پیچھے کوئی ٹھوس وجہ ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔نعیم اخترنے ایک انٹرویو کے دوران کہا’’مسئلہ کشمیر اب صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان جھگڑے تک ہی محدود نہیں ہے!اس میں ایک اور بڑا عنصر بھی شامل ہے ، یہ اکیلا پاکستان نہیں ہے بلکہ چین بھی ہے، جنرل(بپن راوت) نے کہا ہے کہ فوج دونوں محاذوں پر لڑنے کیلئے تیار ہے لیکن اب صرف دو ہی محاذ نہیں ہیں، اب یہ صرف ایک محاذ ہے جو ہر طرف سے گھرا ہوا ہے، بھوٹان سے ارونا چل پردیش اور لداخ، وادی سے ج

حکومت ہند بیان کی وضاحت کرے:عمر

  سرینگر //سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کارگزار صدر عمر عبداللہ نے نئی دلی سے چین کے کشمیر میں عمل دخل سے متعلق وزیر تعمیرات کے بیان پر وضاحت طلب کی ہے ۔عمر عبداللہ نے ریاستی وزیر تعمیرات کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ محبوبہ مفتی کی قیادت والی سرکار کے ایک سینئر وزیر نے کس بناء پر مسئلہ کشمیر میں چین کی مداخلت سے متعلق بیان دیا۔اس سلسلے میںعمر عبداللہ نے وزیر موصوف کا بیان سامنے آنے کے بعد ٹویٹ کرتے ہوئے کہا’’چین نے جموں کشمیر میں سرگرم دہشت گرد تنظیم جیش محمد کو گود لیا ہے،وزیر اعلیٰ کے قریبی معتمد کے اس تاثر کو سرکش بے خودی سمجھ کرمسترد نہیں کیا جاسکتا، حکومت ہند کو اس بیان کی بنیاد کی وضاحت کرنی چاہئے‘‘۔  

ملازمین کیلئے بڑی راحت

 جموں// ریاستی حکومت نے ملازمین کو ایک بڑی راحت دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ فنڈ دفاتر اور دیگر فنڈ دفاتر کی طرف سے حتمی جی پی فنڈ نکالنے کے حوالے سے سٹیلمنٹ کے قوانین میں نرمی کی ہے۔اس حوالے سے اعلان  وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب اے درابو نے پچھلے ماہ ریاستی قانون ساز یہ میں بجٹ تقریر کے دوران کیا تھا۔ڈاکٹر درابو کے اس اعلان کے تناظر میں آج محکمہ خزانہ نے باضابطہ طور سے ایک حکمنامہ جاری کیا۔پرنسپل سیکرٹری فائنانس نوین کمار چودھری کی طرف سے جاری کئے گئے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ حتمی جی پی فنڈ نکالنے کے لئے ملازمین کو اب پچھلے پانچ برسوں کے ڈیبٹ اور کریڈٹ سٹیمنٹس جمع کرنے ہوں گے جس میں ملازمین کی طرف سے جمع کی گئی رقم اور ادائیگیوں کی ریفنڈیبل اور نان ریفنڈیبل تفصیلات کی عکاسی کی گئی ہو۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ جہاں ڈی ڈی او کے پاس اس مدت کی جانکاری کسی وجہ سے فوری طور سے دستیاب نہ ہوگی اس صورت