تازہ ترین

عو رت اسلام کی آغوش میں!

 تہذیب نے اب تک عورت کو کتنے ہی زاویوں سے دیکھنے کی سعی کی ہے اور  سچ تو یہی ہے کہ انسان عورت کی حقیقت سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔ مگر جب انسان عورت کی حقیقی ذات کو اس کی پاکیزہ سیرت اور فطرت کی روشنی میں کھوجتا ہے تو عورت صدیقہ   نظر آتی ہے، وہ حواؑ اور مریم  ؑکا روپ دھار لیتی ہے اور سارہ  ؑ،خدیجہؓ اور فاطمہ ؓبن کر انسانیت کے لیے سینکڑوں اسباق سیکھنے کے لیے چھوڑ جاتی ہے۔ یہ دراصل عورت ذات کا مرتبۂ کمال ہے جہاں عورت عین اپنی فطرت اور قانونِ قدرت کے مطابق اعلیٰ کردار کا نمونہ پیش کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ کتابِ ماضی کو جب پلٹا جاتاہے تو دنیا کی مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں عورت کے ساتھ روا رکھے جارہے غلط رویے اور ظالمانہ سلوک کو دیکھ کر دل ملول ہوتا ہے۔یہ باطل وناکارہ تہذیبیں عورت ذات کو مختلف زمانوں میں مشکلات و مصائب میں مبتلا کرنے کا باعث بنی ہیں۔  د

کم سِن دلہنیں بےحمیت سماج!

اعداد و شمار کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا اور شمالی علاقہ جات میں کم عمری کی شادی کا تناسب 29فی صد ، پنجاب 20فی صد، بلوچستان 22فی صد اور سندھ میں سب سے زیادہ یعنی 33فی صد تک ہے، یہاں تک کہ کم عمر لڑکیوں کی شادی عمر رسیدہ مردوں کے ساتھ ہونا بھی عام ہے۔کم سِنی کی شادی کے خلاف قوانین پاس ہونے کے باوجود عملی طور پر عورت کی حالت نہیں بدل پائی، وہ آج بھی انصاف کی منتظر ہے۔ برطانوی حکومت اپنے ملک میں موجود جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن میں کم عمری کی شادی روکنے کے لیے قانون سازی پر غور کررہی ہے، جب کہ پاکستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کو پہلے ہی غیر قانونی قرار دیا جاچکا ہے، تاہم اس پر عمل درآمد ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ چھوٹی بچیوں کی شادیاں پاکستان کے دیہی علاقوں میں ایک روایت بنتی جا رہی ہے۔ خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی نجی تنظیم وائٹ ربن کمپئن کے چیف ایگزیکٹیو آفیس