تازہ ترین

دورِحاضرہ کی تعریف

 (صرف مطلعوں پر مبنی ایک نظم)   قابلِ تعریف ہی اِس دور کا کردار ہے یہ نمونہ ڈھونڈنا تاریخ میں دشوار ہے شیطنت سے آدمیت برسرِ پیکار ہے آدمیت کی ہی لیکن ہر قدم پر ہار ہے قصرِ ایماں جس طرف بھی دیکھئے مسمار ہے کیونکہ اب عقل و ترقی کی بڑی رفتار ہے خود فروشوں کی بڑی عزت سرِدر بار ہے ہے وہی محروم جو سچا ہے اور خود دار ہے آج تو مادی ترقی کی بڑی رفتار ہے اوراِدھر انسانیت کا مُستقر مِسمار ہے جو زمانہ ساز اِبن الوقت ہے مکّار ہے اب ترقی کا فقط اُس کے گلے میں ہار ہے ہر طرف معبود سب کا زر ہے یا زردار ہے یہ سماجی برتری کا بھی طریقہ ٔکار ہے    موبائل نمبر؛ 7006606571

ہٹے گا گر جو35اے

 ہٹے گا گر جو35 اے  ریاست کا زیاں ہوگا نہیں آئینِ ہِند میں پھِر کہیں اِس کا نِشاں ہوگا یہ کاوِش اور محنت کا صلہ ہے شیخ ؔ صاحب کا زمینِ حبّہؔ میں پیدا کہاں ایسا جواں ہوگا اِسی شِق کی بدولت ہم ہَیں سارے ہِند میں یکتا  اگر یہ ہٹ گئی سمجھو نہ کل پھِر شادماں ہوگا مُقدّر نسلِ نَو کا یُوں رہے گا غیر کے تابع مقیّد دستِ آہن میں یہاں کل کا سماں ہوگا پلٹ کر گر کبھی دیکھو مِیاں تاریخ کے اوراق کہیں تحریر میں شامل ضروری یہ بیاں ہوگا مُبارک شیخؔ صاحب آپ کو آئین کی یہ شِق یہی مد آپ کے سر پر بصورت سائباں ہوگا اُٹھائو اپنا پرچم آپ، ہے آئین کا تحفہ بہت معروف عالم میں اماں ’’ہل‘‘ کا نِشاں ہوگا    صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ رابطہ:  9697524469

اُستاد

ہو گئے ہر طرح برباد ،اجی سنتے ہو بنے بیٹھے ہو خود استاد،اجی سنتے ہو شاعری کرتے رہے بچوں کو دیکھاہی نہیں یوں نکمی ہوئی اولاد،اجی سنتے ہو تم نے تو گھر کو بھی چوپال بنا رکھا ہے روز بڑھ جاتے ہیں افراد،اجی سنتے ہو خالی باتوں سے تو گھر بار چلا کرتا نہیں میرے کس کام کی یہ داد،اجی سنتے ہو شاعری ایسی بلا ہے میاں جس کے ہاتھوں ہوگئے کتنے ہی برباد،اجی سنتے ہو ذکر کب ہوتا ہے پرویز کا اس دنیا میں اب نہ شیریں ہے نہ فرہاد،اجی سنتے ہو کھیلتے نوٹوں میں ہیں آج تمہارے چیلے تم ہو بس نام کے استاد،اجی سنتے ہو آگئیں کتنے ہی چیلوں کی کتابیں چھپ کر کیا چھپی آپ کی روداد،اجی سنتے ہو جو بھی کہنا تھا وہ سب کہہ گئے میرؔ و غالبؔ کیا تمہیں یہ بھی نہیں یاد ،اجی سنتے ہو الٹی سیدھی نہ کرو شاعری اب تو للّٰلہ پیچھے پڑ جائیں گے نقاد،اجی سنتے ہو

باپ

کما کر اپنے بچوں کے لیے جو باپ لاتا تھا وہ خود فاقے سے ہوتا اور بچوں کو کھلاتا تھا   نہ چلنے کی کبھی جب ضد کیا کرتے تھے یہ بچے  تو پھر مضبوط کاندھوں پر انہیں اپنے بٹھاتا تھا   کھلونے، عید پر کپڑے نئے، جوتے نئے لاتا  تقاضے اہلِ خانہ کے وہ لکھ کر لے کے جاتا تھا    کبھی میوہ، کبھی مشروب یا ماکول لے آتا کبھی خالی نہیں لوٹا اگر بازار جاتا تھا    تھکا ہارا ہوا جب لوٹتا تھا شام کو یہ گھر  محبت سے بھری آغوش میں ان کو چُھپاتا تھا   وہ جب تشریف رکھتا حلقہ زن ہوتے سبھی بچے بڑی پدرانہ شفقت سے ادب ان کو سکھاتا تھا   وہ جب بستر میں گھس جاتے بُلا لاتے تھے بابا کو یہ بابا پیار سے ان کو کوئی لوری سناتا تھا   بڑے جب ہوگئے بچے بدل کر رہ گیا سب کچھ  وہ

نعتیں

پھیلائی ہر طرف ہے عنایت کی روشنی انسانیت کی اور محبت کی روشنی   آنے سے ان کے دُور جہالت بھی ہوگئی ہاں بیٹیوں کو مل گئی عزت کی روشنی   جھولی کبھی پھیلا کے تم دیکھو مرے عزیز آقا کے در سے ملتی ہے رحمت کی روشنی   ہے ان کا کیا مقام، خدا جانتا ہے بس ان میں ہی تو چھپی ہے حقیقت کی روشنی   ان کو بساؤ دل میں ذرا تم اے غمزدو پھر دیکھنا ہمیشہ مسرت کی روشنی   میدانِ حشر کا کبھی بسملؔ نہ غم تو کر اُس دن تو پائے گا تُو شفاعت کی روشنی   سید بسمل ؔمرتضٰی شانگس اننت ناگ کشمیر طالب علم:ڈگری کالج اترسو شانگس موبائل نمبر؛9596411285      نعت لئے وہ نورکا اک انقلاب آیا ہے  جہاں میں بن کے وہ اک آفتاب آیا ہے ہے جس میں راہ ہدایت کی ہر کسی کے لئے 

دورِ حاضر

صرف مطلعوں پر مبنی ایک نظم   آج ننگا حُسن ہی تہذیب کا شہکار ہے آبرو انسان کی رسوا سرِ بازار ہے   دھاندلی اب ہر حکومت کا ہی کاروبار ہے قوم کی ہر دور میں جس پر کہ یہ پھٹکار ہے   اب سفارش اور رشوت سے ہی بیڑا پار ہے قابلیت اور خوبی آج کل بیکار ہے   کنبہ پرور اور راشی ہے جو عہدیدار ہے ظلم و حق تلفی کی جس کے ہاتھ میں تلوار ہے   جو بڑھا کر بال کرتا فُقر کا اظہارہے اس کو در پردہ سیہ کاری سے بھی کب عار ہے   ہے زمانہ اُس کا جو عیّار و بدکردار ہے اب شریفوں کے لئے جینا بہت دشوار ہے   کیا بشیرِؔ بے نوا تجھ کو بھی کچھ آزار ہے کیونکہ اب نقد و نظر ہی تیرا کار روبار ہے   بشیر احمد بشیرؔ(ابن نشاطؔ) کشتواڑی موبائل نمبر؛7006606571  

غزلیات

فیصلہ ہے کہ ترے دل میں ٹھہرنا ہے مجھے اور اک  درد کے عالم سے گزرنا ہے مجھے   رات کیا جانے ابھی کام ہے کتنا باقی شام کو ڈوبنا ہے صبح اُبھرنا ہے مجھے    ایک طوفاں سے ہے مجھ کو بھی پرانی رنجش یہ اگر وہ ہے تو پانی میں اُترنا ہے مجھے   میرا کمرہ ، میری راتیں، میری نیندیں ہیں مگر میرے ہی خواب ڈراتے ہیں تو ڈرنا ہے مجھے   ان کی نظروں میں اگر رہنا ہے پھولوں کی طرح روز  خوشبوؤں کی مانند بکھرنا ہے مجھے   جب سے قسطوں میں ہی ملنے لگیں سانسیں بلراجؔ روز جینے کے لیے روز ہی مرنا ہے مجھے  بلراج ؔبخشی ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)  Mob: 09419339303 email: balrajbakshi1@gmail.com     اظفر کاشف پوکھریروی  بی ایڈ

سُوئے حرم

  چلے ہیں شوق سے سب خوش نصیب سُوئے حرم لبوں پہ کلمہ، دلوں میں میں ہے آرزوئے حرم! کوئی ہے رُوبہ حرم کوئی رُوبروئے حرم ہے اہلِ حق کے لئے راہِ خلد کُوئے حرم! یہیں گناہ کے سب داغ دھبے دُھلتے ہیں شفا اثر ہے یہ آبِ حیاتِ جُوئے حرم! فضا ہے وجد میں ’’لبیک‘‘کی صدائوں سے بہشتِ گوش و نظر ہے یہ گفتگوئے حرم! ’’وہاں وہاں ‘‘ پہ کِھلے باغ مہر و اُلفت کے  ’’جہاں جہاں‘‘ سے بھی گزری ہے مُشک بُوئے حرم! ہم اِس کے واسطے جانوں پہ کھیل جائیں گے ہمیں عزیز ہے جانوں سے آبروئے حرم گُناہ گار تو زائرِ ؔساکون ہے یا رب؟ دکھا پھر اپنے کرم سے اِسے بھی کُوئے حرم!   ماسٹر عبدالجبار، زائر ؔبھدرواہی جموں وکشمیر، ضلع ڈوڈہ

کشمیر

 کشمیر تیرے روپ کے صدقے کہ تیرے پاس مدّت کے بعد آیا ہوں لیکن بہت اُداس گزرے ہوئے دنوں کی نظر کو تلاش ہے پانی کے بیچ پھولوں کے گھر کی تلاش ہے آخر ترے حسین نظارے کہاں گئے ڈل پر جو تیرتے تھے شکارے کہاں گئے وہ باغ شالیمار کی نکہت کہاں گئی تیرے نسیم باغ کی نُزہت کہاں گئی اب بھی تری زمین پر اونچے چنار ہیں لیکن ہوائے خنجرِ غم کے شکار ہیں موسم کے لوک گیت بھی ناپید ہوگئے نغماتِ انبساط کہاں جانے کھوگئے تیرے چمن میں پہلی سی رعنائیاں نہیں جہلم کے تیز دھارے میں انگڑائیاں نہیں جنت نشان تجھ میں کوئی خُو نہیں رہی کھیتوں میں زعفران کی خوشبو نہیں رہی بازارِ لالچوک میں رونق نہیں ہے اب دیوار و در میں خوف کی دیوی مکیں ہے اب تفریح کی شراب ترے جام میں نہیں کوئی چہل پہل ہی پہلگام ہی نہیں ہے برف غم کی آگ سے بے نور و بے قرار

حج کرانے مجھ کو لے جائیں مہکتے راستے

چاہتی ہوں مجھ کو مل جائیں مہکتے راستے حج کرانے مجھ کو لے جائیں مہکتے راستے   چاہتی ہوں میں کہ راس آئیں مہکتے راستے یوں ہی مہکیں اور مہکائیں مہکتے راستے   کاش مجھ کو بھی ملے اذنِ حضوری کی نوید میری آنکھوں میں بھی لہرائیں مہکتے راستے   میں یہ سمجھوں اضطراب شوق ہے محو طواف کوہ و صحرا میں بل کھائیں جو مہکتے راستے   ہے اجازت اپنے آقا کی ردائے نور میں چاہتے جتنے پاؤں پھیلائیں مہکتے راستے   میں بھی مکہ و مدینہ کی فضائیں دیکھ لوں پیار سے مجھ کو بھی اپنائیں مہکتے راستے   جامۂ احرام پہنوں میں بعد عجز و نیاز پھر اڑا کر لے جائیں مہکتے راستے   چھوڑ دیں سیماؔ ہمیں کچھ دن ہمارے حال پر جب در اقدس پر پہنچائیں مہکتے راستے        

قطعات

 پہلا رشتہ جان کر بھی بنتے ہو انجان کیوں دور یہ موبائل و ٹی وی کا ہے   آدم و حوا سے کیا ثابت نہیں سب سے پہلا رشتہ بس بیوی کا ہے   صدقہ یہ سمجھ میں کسی کے آتا نہیں مولوی ٹھیک سے بتاتا نہیں   ہر بلا سے بچاتا ہے صدقہ کیوں یہ بیوی سے پھر بچاتا نہیں   ڈنڈا ہمارے دیش میں ہر پارٹی کا جھنڈا ہے ہر ایک نیتا کا اپنا الگ ایجینڈا ہے   سوال ایک یہی پوچھتا ہوں تم سب سے تمھیں خبر ہے یہ جھنڈے میں کس کا ڈندا ہے   جنت کل رات میں نے دیکھا ہے یارو عجیب خواب سونا بھی جس نے چین سے دشوار کر دیا   بیوی کو اپنی دیکھ کے حوروں کی بھیڑ میں جنت میں میں نے جانے سے انکار کر دیا    بانی علامہ قیصر اکیڈمی،علی گڑھ آباد مارکیٹ دودھ پور علی گڑھ موبائل:9897

نظمیں

قطعات اُڑی ہیں دھجیاں شرم و حیا کی نئی تہذیب کی جلوہ گری سے   یہ روشن دور مغرب کو مبارک ہم اندھے ہوگئے اس روشنی سے   خودنمائی کی عام دعوت ہے ہر بُرائی کی عام دعوت ہے   منہ چھپانے لگی ہے شرم و حیاء بے حیائی کی عام دعوت ہے   مغربی تہذیب سب پر چھا گئی حق پرستوں کو بھی اب یہ بھا گئی   آہ! اب یہ خوش نُما رنگین بَلا رقص کرکے سب گھروں میں آگئی   ہم ترقی کرکے ننگے ہوگئے بچے بالے گھر کے ننگے ہوگئے   جیتے جی مرتے رہے مغرب پہ ہم اور آخر مرکے ننگے ہوگئے   ماسٹر عبدالجبار گنائی موبائل نمبر؛ 8082669144   منحرف ہو جاؤں گی دل حزیں نالہ فضا میں دیکھئے گونجا کہیں غالباً پھِر سے کوئی ماں ہے کہیں محوِ فُغاں دور اُس سے اُس کا شاید ہو گی

نعت

زِندگی تیری امانت ہے محمّدؐ میرے سربسر تیری رفاقت ہے محمّدؐ میرے نوُر آنکھوں کو میرے دِل کو اُجا لا بخشا ایک تنویرِ بسارت ہے محمّدؐ میرے نوُرِ وحدت کے اُجالوں سے نِکھاری دُنیا حق یہی ہے یہ حقیقت  ہے محمّدؐ میرے دولتِ عِلم و ہُنر سے جو نوازا مُجھ کو ہے کرم تیرا عنایت ہے محمّد میرے سر بلندی جو مِلی تیرے غُلاموں کو یہاں تیرے صدقے ہی یہ رحمت ہے محمّدؐ میرے خواہشِ قلب و نظر ہے کہ مدینہ دیکھوں یہ میرا ذوقِ زیارت ہے محمّدؐ میرے تیری اُمّت کو بھروسہ ہے شفاعت پہ تری تیرے ہی نام کی برکت ہے محمّدؐ میرے توُ نبَیؐ نوُرِ الٰہی، میں ہوں طالبؔ تیرا تیری رحمت ہے، عنایت ہے محمّدؐ میرے    شام طالبؔ   صدر ادبی کُنج جے اینڈ کے جموں  فون نمبر :  9596611599 / 9419787665

منقبت

 جلال کبریا تم ہو جمالِ مصطفیؐ تم ہو شہنشاہِ ولایت اے علیٔ مرتضٰیؑ تم ہو تم ہی مولود کعبہ ، قبلۂ ا ہلِ صفا تم ہو نشانِ اہل حق ہو ناشرِ دین ہدیٰ تم ہو    چراغِ ہاشمی ہو مشعلِِ خیرالوریٰؐ تم ہو ضیائے پنجتنؑ ہو، شوہرِ خیر النساء تم ہو رضائے حق تعالیٰ ہیں محمد مصطفیؐ جیسے !! میرے مولاؑ اسی صورت رضائے مصطفیؐ تم ہو بھلا وہ کس طرح گھبرائے دنیا کے حوادث سے وہ جس پہ مہرباں تم ہو، وہ جس کا آسرا تم ہو شجاعت اور سخاوت بس تمہی پر ناز کرتی ہے کہیں شیرِ خدا تم ہو، کہیں بحرِ سخا تم ہو امام الانبیاؐ ہیں بالیقیں سرکار دو عالمؐ امام لااولیا اور اہل حق کے پیشوا تم ہو گرا کے بامِ کعبہ سے بتوںکو کر دیا ظاہر خلیلی عزم کے وارث ہو، دیں کے رہنما تم ہو تمہاری شان میں ’ من کنت مولا‘ کی حدیث آئی میرے مولاؑ، میرے آقا،

نظمیں

برف دِل میری شاعری میں برف کا ذِکر کئی سوالوں کو جنم دیتا رہا ہے یاد ہے، ایک روز تم نے کہا تھا میں بتاؤں، برف تمھیں کیوں اَچھی لگتی ہے اِس لیے کہ میں تمھیں اَچھی لگتی ہوں سچ ہے جب کوئی اَچھا لگتا ہے  اُس کے شہر کا موسم، چرند و پرند مِٹی، پتھر اَور لوگ سب اَچھے لگتے ہیں تم نے یہ بھی کہا تھا موسم بدلنے پر برف اَپنا رُوپ اَور مسکن بدل لیتی ہے وقت بھی کیا شے ہے اَب کسی سے کہہ بھی نہیں پا رہا ہوں برف مجھے اَچھی نہیں لگتی!   محمد تسلیم مُنتظِرؔ محلہ دَلپتیاں، جموں موبائل نمبر؛9906082989     کام آنا سیکھ دلوں میں گھر بنانا سیکھ سبھی کے کام آنا سیکھ جو روٹھے ہیں تیرے اپنے انہیں پھر سے منانا سیکھ ذرا لوگوں کے عیبوں کو اچھالو مت! چھپانا سیکھ غموں کے لاکھ

مفلس کی عید

  احساسِ آرزو ۓ بہاراں نہ پوچھئے دل میں نہاں ہے آتش سوزاں نہ پوچھئے عید آئی اور عید کا سامان نہ پوچھئے مفلس کی داستاں کسی عنواں نہ پوچھئے ہے آج وہ بہ حالِ پریشاں نہ پوچھئے روزے تو ختم ہو گئے باصد غم و ملال اب عید آئی اور وہ ہونےلگا نڈھال بچوں کا بھی خیال ہے اپنا بھی ہے خیال دامن ہے چاک بال پریشان غیر حال کچھ داستانِ چاک گریباں نہ پوچھئے منہ میں نہیں زباں جو کچھ حالِ دل کہے غیرت کا اقتضا ہے کہ خاموش ہی رہے آنکھوں سے موج اشک جو بہتی ہے تو بہے ہے سر پہ ایک ہاتھ تو اک ہاتھ دل پہ ہے افلاس کا یہ منظر عریاں نہ پوچھئے دل میں لیے ہوئے ہوسِ عیش بے شمار اور زیب تن کیے ہوئے ملبوس زر نگار منعم ادھر رواں ہے بصد شان و افتخار ہیں اس طرف نشاط کے اسباب آشکار اور یہ ادھر ہے گر یہ بہ داماں نہ پوچھئے منعم کو دیک

الوداع اے ماہ رمضان الوداع ​

  الوداع اے ماہ ِرمضان الوداع بہترین غمگساراں الوداع  تجھ میں اُترا آخری پیغام حق ​ تو ہی تھا شایانِ قرآں الوداع​ ان دنوں تھا بحر رحمت جوش پر​ اے زبانِ عفو عصیان الوداع ​ الفراق اے ہم نشین ِصائمین​ مونسِ شب زندہ داراں الوداع​ آشکارا تجھ پہ تھا سب راز دل ​ پردہ دارِ دردِ پنہاں الوداع​ تجھ سے تھیں وابستہ اُمیدیں تمام ​ دافعِ صدیاس و حرماں الوداع​ قید تنہائی کی رونق تجھ سے تھی ​ اے شریکِ بزمِ ِزنداں الوداع​ غنچہ ہائے دل شگفتہ تجھ سے تھے ​ اے بہار باغِ ایماں الوداع​  دور کردی تو نے ظلمت قیدکی​ تجھ سے ہر شب تھا چراغاں الوداع​ ہوتے ہیں اب رخصت افطار و سحر​ میزبا نی ہائے مہماں الوداع​ سونپنا تھا تجھ کو زادِ آخرت​ ہو سکا پرکچھ نہ ساماں الوداع​ کاروانِ خیروبرکت چل دیا ​ رہ گئے سب دل می

نعتیں

نعتِ اقدس   پھولوں نے بات چھیڑ دی  عالی مقام کی خوشبو  جو آئی ذکر میں  خیرُالاََ نام کی   منظر ہیں عطر بیز زمان و مکان کے محفل سجائی رب نے درودو سلام کی   تکتی ہے کس ادا سے مجھے شب یہ سانولی صورت  بسی ہے آنکھ میں ماہِ تمام کی   ہونٹوں پہ اہتمام ہے جس تشنگی کا یہ  وہ منتظر ہے ساقی کوثر کے جام کی   آنسو ہیں باندھے رختِ سفر سوئے کربلا یاد آئی ابرِ دل کو پیاسے اِمام کی   اک لا  مِثال فرطِ حضوری کا بانکپن اک شب جو عرش و فرش سجی احترام کی   شیداؔ شعورِ چشم کا ہدیہ یہ نعت پاک آقاؐ قبول کیجئے ادنیٰ غلام کی   علی شیدّا ؔ نجدہ ون نپورہ اسلام آباد کشمیر  فون نمبر9419045087       اصحابِؓ ج

ماہ رمضاں

 پھر پیام حق سنانے ماہ رمضاں آگیا  راستہ رب کا دکھانے ماہ رمضاں آگیا    آگ دوزخ کی بجھانے ماہ رمضان آگیا  باغ جنت کے سجانے ماہ رمضاں آگیا    کوئی روزہ ہم بھی کھولیں شہر آقا میں کہیں  خواب آنکھوں میں بسانے ماہ رمضاں آگیا    نیکیوں کا آگیا موسم ' کھلے دل کے گلاب  درد و غم دل سے مٹانے ماہ رمضاں آگیا    فکر دنیا میں مسلماں کھو گئے ہیں ہر طرف  روز و شب قرآں سنانے ماہ رمضاں آگیا    لوٹ آئی پھر سے رونق مسجدوں میں ہر طرف  خانقاہوں میں بلانے ماہ رمضاں آگیا    کھل نہیں پائے دریچے سال بھر فردوس کے  بند دروازے کُھلانے ماہ رمضاں آگیا    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل ،سرینگر کشمیر

نعت

نہیں ہے آپ بن کوئی سہارا یا رسول اللہ  یہ آنکھیں ڈھونڈتی ہیں پھر نظارا یا رسول اللہ  اندھیروں میں بھٹکتا ہوں فقط یہ آرزو لے کر کہ روشن ہو میری قسمت کا تارا یا رسول اللہ سنا ہے آپ کے در سے کوئی خالی نہیں جاتا مجھے کچھ بھیک میں دے دو خدارا یا رسول اللہ سکوتِ شب مجھے تنہا سمجھ کر گھیر لیتا ہے نہیں ہوتا اکیلے میں گذارا یا رسول اللہ مجھے اپنے مقدر پر بڑا ہی فخر ہوتا ہے نہیں ہے آپ سے کوئی پیّارا یا رسول اللہ منوّر ہو گئیں تاریکیاں سارے زمانے کی یہ کس نے چاند دھرتی پہ اُتارا یا رسول اللہ مدینے کی گلی میں جا کے مجھکو چین آئے گا وہیں ہو گا مرے زخموں کا چارہ یا رسول اللہ    سردار جاوید خان رابطہ؛ مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9697440404