تازہ ترین

ڈائری کا ایک صفہ

ہوائیں خوشبودار کبھی تھیں اب کے ہو گئیں ہیں زہریلی                     سیاہ ۔۔۔۔۔کثیف     جہاں پرندے کو چونچ مارنی تھی وہاں وہ اپنے پیر ماررہا ہے  جہاں اُسے قے کرنی تھی وہاں وہ چاٹ رہا ہے ُدُھند اور  اگیان دلوں میں آ نکھوں میں لہو میں تیر رہا ہے ساعتیں خوف کی موت ومصائب کی مُردار خور چیلوں کی اک سیاہ آسیب کی زد میں انسان جس نے کہا تھا کبھی میں لے آوُں گا تمہارے لئے ریس کا سرخ گھوڑا دعائیںکرنا۔۔۔کہہ کے وہ چلا گیا ہم نے دعائیں تو کیں مگر کر سکے نہیںچھت میں کو ئی سُوراخ  وہ لوٹ کے تو آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر خالی ہاتھ    رابطہ :مدینہ کالونی۔ ملہ باغ حضرت بل سرینگر فون نمبر9419072053  

نعت

 کہوں میں کہ کیا ہیں محمدؐ محمدؐ بڑے مصطفیٰ ہیں محمدؐ محمدؐ دیا نور کا ہیں محمدؐ محمدؐ ضیائے سما ہیں محمدؐ محمدؐ نظر کر ذرا تُو کلامِ خدا پر ہر اک جا لکھا، ہیں محمدؐ محمدؐ تو ذکرِ بنیؐ کر یہ حق یاد رکھنا کہ حق آشنا ہیں محمدؐ محمدؐ تو جائے گا جنت میں بے شک،مگر ہاں! اگر رہنما ہیں محمدؐ محمدؐ یہ اسلام بھی کہہ رہا ہے ازل سے مری بس بقا ہیں محمدؐ محمدؐ کتابِ الٰہی پڑھو تم بھی جانو کتابِ وفا ہیں محمدؐ محمدؐ چمن زارِ الفت میں ہر ایک گل کی  زباں پر سجا، ہیں محمدؐ محمدؐ نبیؐ کے غلامو لگائو یہ نعرہ کہ سب سے بڑا، ہیں محمدؐ محمدؐ کرم یہ خدا کا ہے شادابؔ تم پر تو محوِ ثنا، ہیں محمدؐ محمدؐ     محمد شفیع شادابؔ پازلپورہ شالیمار سرینگر کشمیر،فون نمبر :9797103435  

نظمیں

رام بن ۔۔۔! دریا چشمے میٹھا پانی ہے یہاں زیتون بھائی چارہ کی یہ دھرتی ضلع پُر سکون کائیل، بدھلو، چیڑیہاں ہے سرسبز دیودار سرد کہاں یہ ہوگی دھرتی اُگتے یاں چنار پوگل کی ہے شان نرالی خوشنما ہے گُول لالہ کے ہیں گُل یہاں پر اور کئی بن پھول ذرے ذرے میں یہاں ہیں قدرت کے وہ کرشمے پہاڑوں کے دامن میں دیکھو گرم اُبلتے چشمے نئے سیاحت کے امکاں ہیں زبن کے سبزہ زار نیل ، مہو اور داگن کے بھی دیکھو اُونچے دھار مالنسر کی جھیل یہاں ہے ناون کے ادوار سروا دار کا استھاپن، یاں ہے شاہ اسرارؒ جیلانیؒ کی رحمت ہے یاں نندریشیؒ کے اَستان گُرو دوارا، مندر، مسجد رام بن کی ہیں شان کشمیری ہے خاص زبان یاں پوگلی اس کی بولی سراجی بھی بولی اس کی رام بنی ہم جھولی علم کا گہوارہ ہے رام بن ادب میں اعلیٰ نام فن کی دنیا میں بھی اس کا اپنا ہی مقام اعماؔ

سب کی ماں

بوڑھی بہاراں؛ بیاسی سال کی ہوچکی تھی۔زندگی  کی بیاسی بہاریں دیکھنے کے بعد بھی اس کے حواس خمسہ میں ضعف کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔البتہ لاٹھی ٹیکنے کی عادی تھی اور کہا کرتی تھی کہ آدمی شہر کا ہو یا دیہات کا اسے گھر سے باہر نکلتے وقت ہاتھ میں لاٹھی ضرور رکھنی چاہیے۔کیونکہ کیا معلوم کب کہاں کوئی بندر،کتا،بھینسہ، بیل،گھوڑا یا کوئی اور جانور حملہ آور ہوجائے۔اس کے چہرے کی جھریوں کی جھالر یہ عیاں کررہی تھی کہ وہ زندگی کے کئی نشیب وفراز دیکھ چکی ہے۔دو بیٹے اور دو بیٹیوں کی ماں تھی۔اس کا   رفیق حیات اپنا حق رفاقت ادا کرکے بہت پہلے دنیا سے چل بسا تھا۔دونوں بیٹے وفادار بھی تھے اور خوشحال بھی۔اس کے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں تک کی شادیاں ہوچکی تھیں۔اس کی آنکھوں نے اپنے قصبے کے راج محل کی زیب وزینت دیکھی تھی۔ راجکماروں کے پالنوں کو جھلایا تھا۔اپنے ملک کے بٹوارے کی خبر سن کر آ

نعت شریف

 حبیبِ کبریا جانِ حرم ہیں جان امت ہیں وہ روحِ زندگی ہیں اور وجہ خیر وبرکت ہیں وہ بن کر رحمۃٌ للعالمیں آئے ہیں دنیا میں وہ عفو و در گذر کی شان ہیں وہ جانِ رحمت ہیں انھی کی ذات سے سب کو ملا سرّ طمانینت محمد مصطفی وجہِ سکوں وجہِ سعادت ہیں اطاعت فرض ہے ان کی ہر اک حالت میں امت پر کہ وہ تو مرجع اسلام ہیں قرآن و سنت ہیں محبت اور ہمدردی اخوت اور صلہ رحمی    انھی کے دم سے زندہ ہے وہیں اس کی علامت ہیں ہمیں جو نسبتِ خیر الوری حاصل ہوئی اے شمسؔ اسی نسبت کے صدقے آج ہم سب خیرِ امت ہیں ﷺ ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ باد شاہ یونیورسٹی راجوری  

مدحت مصطفیٰ ؐ

مجھ سے جو رابطہ نبیؐ کا ہے میں خدا کا خدا نبیؐ کا ہے   ایک معبود ایک ہی مصحف ایک ہی راستہ نبیؐ کا ہے   ہونٹ بھیگے ہوئے ہیں خوشبو میں جابہ جا تذکرہ نبیؐ کا ہے   چاند بن کر چمک رہا ہے جو ہو نہ ہو نقشِ پا نبیؐ کا ہے   بخشوائیں گے سب گناہوں کو حشر میں آسرا نبیؐ کا ہے   عرش پر خود خدا نے دی دعوت واہ کیا مرتبہ نبیؐ کا ہے   کفِ اقدس پہ بول اُٹھے کنکر یہ بھی اک معجزہ نبیؐ کا ہے   میں خدا کو تلاش کرتا ہوں پاس میرے پتا نبیؐ کا ہے   ہمدم کاشمیری موبائل نمبر؛7780937221, 9797135705   اِدھر مدحتِ مصطفیؐ  ہو رہی  ہے اُدھر رحمتِ کبریا  ہو  رہی  ہے   بشیرؔ اشکِ غم سے وضو ہورہا ہے نماز ِ محبت  ادا 

نوحہ لکھا چنار کا

 لکھوں! تو کس کا لکھوں؟ اِس کا لکھوں  یا پھر اْسکا لکھوں اْسکا... جس نے اسے بویا یا اُس کا  جو اس کے سائے میں سستایا تھا یا اْسکا جس نے اِسکو سینچا یا پھر اْسکا جس نے  اِسکو … دھیرے دھیرے اہستہ آہستہ چپکے سے قتل کیا کہ... کہ سب کو خبر تھی پر کسی کو پتہ بھی نہ چلا اِس کے قتل ہونے کا یا پھر اِسکو روز دیکھنے والوں کی بصارت و بصیرت... دونوں قتل ہو چکے تھے… نوحہ لکھوں تو کس کا لکھوں لکھنا چاہتا ہوں میں۔۔۔۔ نوحہ اِس چنار کے خونِ ناحق پر      رفیق مسعودی موبائل نمبر؛9650866744  

سانسوں کا اگلا موسم

کہ بس چلے آؤ زندگی کا بوجھ اتار کر دروازے پہ دستک دینی پڑتی ھے موت کو پانے کے لئے زندگی  صرف کرنی پڑتی ھے پائی پائی چکانا پڑتا ھے  قرض کا احسان... زندگی سانسوں کو تھکا دینے کے در پے رہتی ھے خزاں کی زردی رنگوں میں زنگ گھولتی رہتی ہے  تم شاخیں پتے اور ثمر تیاگ دیتے ہو نئے موسم کی آرزو میں آرزوئیں انتظار کو ہرا دیتی ہیں جب تک نئے موسم کا انتظار بوڑھا ہوجاتا ھے بڑھاپا آنکھوں میں اْترتے ہی آہٹیں ٹوٹنے لگتی ہیں بوجھ بھاری ہے گھنگرو سہہ نہیں پاتے.. سفر سمٹ جاتا ھے نشان دھند میں کھو نے لگتا ہے ہارمونیم کی مدھرتا خاموشی  کی منوں مٹّی تلے دب جاتی ھے ہلکی ہلکی ہوائیں پرندوں کے پنکھوں میں ٹھہر جاتی ہیں گھونسلے میں پڑے تنکوں کے اندر پرانی سانسوں کی عبارت دہک اٹھتی ھے دیوداروں پہ پھیلا دھواں پگل

کشمیر کو بچائیں

کشمیر جل رہا ہے کشمیر کو بچائیں آمل کے بیٹھو سارے اس آگ کو بُجھائیں دیکھو جوان کیسے قُربان ہورہے ہیں  بچے بلک رہے ہیں ، انکوذرا سُلائیں کشتی پھنسی ہوئی ہے ساگر کے درمیاں میں جو بھی روکاوٹیں ہوں مل کے انہیں ہٹائیں کیسی مسخ ہوئی ہے تصویرِ ارضِ جنت اپنے لہو سے، اُٹھ کر اسکو ذرا نکھاریں مد ہوش جو ہوئے ہیں ، غفلت میں جو پڑے ہیں  آواز دے کے اُ نکو ،اب نیند سے جگائیں سر کو جھکا کے رکھنا، چپکے سے درد سہنا دن وہ گزر گئے ہیں، دُنیا کو ہم دکھائیں پھوٹی ہیں صبحِ نو کی کرنیں اُفق پہ دیکھو پیغامِ شادمانی سب کو ذرا سنائیں سُنتی جو آئی زہراؔ، صدیوں سے جس چمن کی اُٹھو وطن کے پیارو وہ انجمن سجائیں   زُہرا ؔء جبین بجبہاڑ، اسلام آباد،موبائل نمبر؛9797966285  

بہ یادِ سید محمد ناظم

میں کیسے لکھوں؟ کیسا ملا؟ درد جگر کا! اس روحِ فسردہ پہ لگا گھاوہے گہرا کیا دل پہ گزرتی ہے بتائوں میں تجھے کیا آنکھوں سے رواں اشک ہیں یا خون کا دریا رحلت کی خبر تھی کہ تھا بھونچال کا جھٹکا میرے لیئے تو جیسے قیامت ہوئی برپا فانی ہے یہ دنیا یہاں ہر اک کو ہے مرنا لیکن میں بتائوں تجھے کیا مجھ کو ہے بھرنا  وہ تیری شفقّت ، وہ رفاقت وہ سنبھالا تھا جیسے شب تار میں بھی دن کا اُجالا گلہائے تبسم کا لبوں پر تھا بسیرا اک علم کا ساگر تھا ہر گفتار تمہارا مقصد تھا زندگی کے باغِ حق کو سجانا  باطل کے آگے سر کو جھکا کے نہیں رکھنا  وحدت و رسالت ہی تھا ایمان تمہارا قرآن اور سنت پہ عمل دل کا سہارا صفات ترے نیک، تھا اللہ کا پیارا  دل میں ہمیشہ مؤجزن تھا اسکا وظیفہ اقلیمِ ربط و ضبط وایماں کا شہنشاہ دنیا کی لغزشن

متاعِ زیست؟

سوچ کے سانچوں میں فکرِ شعر اب ڈھلتی کہاں طبع ہے سنگلاخ صورت سوچ پھِر پلتی کہاں   جانتا ہے دورِ غالبؔ کو مِرا ذہنِ بلیغ حسرتاً اِس دور میں شمعِ سُخن جلتی کہاں   شعر گوئی سے وہ باور اور شاعر با مزاج ڈھونڈنے سے اُن کی پائے خاک اب مِلتی کہاں   صحبتِ آزادؔ و عابدؔ کا کبھی حاصل تھا فیض عصرِ نو‘ میں حسرتاً اب وہ فضا مِلتی کہاں   بے سبب دِل کو دلاسا کِس لِئے دیتے ہو یار دار کی اِن ہانڈیوں میں دال اب پکتی کہاں   ہو سکے تو کر لو عُشّاقؔ اب بھی کوئی کارِنیک بعدِ مُردن یہ متاعِ زیست پھِر مِلتی کہاں   عشاقؔ کشتواڑی  صدر انجمن ترقی اُردو (ہند) شاخ کشتواڑ فون نمبر9697524469     اب رونے دے۔۔ باتوں سے مجھے تم کتنی مدت  بہلانے  کی ترکیب کروگے ؟

اُستاد

 استاد تیر ے دم سے رونق جہاں کی ہے تیری بقا سے عظمت پیروجواں کی ہے تیری ہی دستگاہ نے ہے آدمی سنوار انسانیت کو تو نے ہر دم دیا سہار تونے ہی بحروبر کے اسرار سارے کھولے تونے ہی کہکشاں میں انسان کو اتارا تیری ہر ایک کوشش اونچی اڑان کی ہے   استاد تیر ے دم سے رونق جہان کی ہے   علم و ادب کے مرکز تونے ہی تو سجائے صحرائوں میں ہزاروں تونے ہی گُل کھلائے رازِ حیات تو نے اقوام کو بتائے ڈوبے ہوے سفینے ساحل سے جا لگائے آقاؐنے تیری عظمت خودہی بیان کی ہے   استاد تیر ے دم سے رونق جہان کی ہے   اللہ نے تجھ کو بخشی ہے شانِ امتیازی تو انبیاء کا وارث ہندی ہے یا حجازی ہوں کتب آسمانی یا فلسفہ یونانی استاد ہی کے ہاتھوں سب کی ہے سرفرازی تفسیر تجھ سے باقی کون و مکان کی ہے    استاد

نظمیں

زمیں پہ دو دو ہلال دیکھوں فلک پہ واحد ہلال ہے اِک، مَیں جِس کا حُسن و جمال دیکھوُں مگر ہَے قُدرت کا مُعجزہ یہ، زمیں پہ دو دو ہِلال دیکھوُں مَیں توڑ لائوں فلک سے تارے، نہیں یہ میری ہَے دسترس میں مگر اِجازت نظر کو ہَے یہ، مَیں اِن کا جی بھر جمال دیکھوُں سیارگاں کی زمیں الگ ہَے، مکاں الگ، واں مکیٖں الگ ہَیں مَیں ڈو‘ب جائوں طلب میں اِن کی، یہی مَیں اَپنا کمال دیکھوُں ثباتِ حاصِل نہ ہَے کِسی کو، جہاں کی ہر شے ہَے آنی جانی مگر جو منظر بدید ہَے اَب، مَیں اُس کا حُسنِ کمال دیکھوُں بوقتِ پیٖری خیال آیا، چلو حرم میں قیام کر لیں تلاشِ راحت میں واں جو پہُنچے، وہاں بھی دنیا سا حال دیکھوُں یہ آزمائش نہیں تو کیا ہَے، جو نبض تھم تھم کے چل رہی ہَے کبھی یہ سوچُوں کہ مر گیا ہوُں، کبھی کہ سانسیں بحال دیکھوُں  فِگار سر کے وُجُود پر اب، علیل

میر ی رہگذر

 تیرا وجود ہے ایک نشتر ہرے زخم تھے  میرے جسم   پر میں نے چن لیا تجھے اس قدر  میر ی رہگذر میری جستجو مری آرزو تجھے سوچنا تجھے چاہنا میرا ہر خیال میری ہر نظر کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی تخت نشیں کبھی دربدر میر ی رہگذر میر ی رہگذر مرا واسطہ ہے تجھ سے قریب کا تو جو راستہ ہے میرے نصیب کا ترے تغافل کا کوئی گِلہ نہیں تیرے ناز میرے سر انکھ پر میر ی رہگذر تو میری نہیں تو نہیں سہی تیری آرزو کا مرے چارسو ہے بچھا موت تک کا سفر کسی بہانے ہی سہی   ہوئی مری زندگی تو تیری نذر میری رہگذر میری رہگذر۔۔۔۔۔۔۔!!!    فداؔ حسین رابطہ؛گوری اننت ناگ،9906764712

نعت رسولﷺ

 میری جانب بھی ہو اک نگاہِ کرم اے شفیع الوریٰ خاتم الانبیاءؐ میری جانب بھی ہو اک نگاہِ کرم، اے شفیع الوریٰ خاتم الانبیاء آپؐ نورِ ازل، آپؐ شمعِ حرم، آ پ ؐ شمس الضحیٰ، خاتم الانبیاء آپؐ ہیں حق نگر، آپؐ ہیں حق رساں، سدرۃ المنتہیٰ، آپؐ کے زیر پا آپؐ ہیں مظہر ذاتِ رب العلی رہبرِ حق نما، خاتم الانبیاء آپؐ فخرِعجم، آپ ؐ شانِ عرب، آپ ؐ  فضلِ اَتم، آپ رحمت لقب سرور ذی حشم، شاہِ والا نسب، مرتضیٰ ، مجتبیٰ، خاتم الانبیاء آپؐ ہیں وجۂ تخلیق کون و مکاں، آپؐ کے دم سے ہی یہ زمیں آسماں آپؐ ہیں بے نشانی کا بین نشاں، اے شہِؐ دوسرا، خاتم الانبیاء اے فصیح البیاں، اے بلیغ اللساں، اے وحیدا لزماں، ماورائے گماں آپؐ کا نور ہے از کراں تا کراں، شاہد کبریا، خاتم الانبیاء مرسلِ مرسلاں، سرورِ عرشیاں، ہادی انس و جاں، مقبل مقبلاں آپؐ کی ذا

نظمیں

  اُمید ہے  دریچے میں منتظر ہے کوئی شوخ یہ آس دل میں  لئے کہ شاید روٹھنے والا لوٹے گھر کو اپنے جلدی اور میرے اس آنگن کی مٹّی میں نرم ملائم ہاتھوں سے دو بوند پانی کے ڈال دے اور خوشبوئوں سے مہکا دے اس بنجر آنگن کو اک پھول پیارا سا کھلا کے اور آباد کرے مری دنیا اُمید ہے    ایف آزادؔ دلنوی دلنہ بارہمولہ موبائل نمبر:-9906484847   ہمارا معاشرہ ہوجائے کاش آنکھ کا تارا معاشرہ اُجڑا ہوا ہے آج ہمارا معاشرہ انسانیت کا خون ہوا جا رہا ہے آج بادِ خزاں کی زد میں ہے سارا معاشرہ آلودگی سے پاک ہو،اونچا رہے مقام چمکے فلک پر مثلِ ستارا معاشرہ بیٹی اٹھے بھی کیسے بیچارے غریب کی تم  نے جہیز دے کے بگاڑا معاشرہ رہبر ملانہ کوئی بھی اصلاح کے ل

نعتِ رسولؐ

 وہ محبوبؐ خدا وہ نا خدائے بحر و بر آئے  امام المرسلیںؐ وہ دو جہاں کے تاجور آئے  یہاں آئے، وہاں آئے، ادھر آئے، اُدھر آئے وہ یکسر نور تھے جس سمت بھی دیکھا نظر آئے جہاں پر جبر تھا، ظلم و ستم تھا اور اندھیرا تھا بشارت خیر کی لیکر وہاں خیرالبشرؐ آئے برائے اُمتِ عاصی میرے مولاؐ میرے سرورؐ کبھی محشر، کبھی کوثر، کبھی میزان پر آئے عطا کی ہے انہیں کو دین کامل کی سند حق نے یوں آنے کو تو عالم میں بہت پیغامبر آئے شب تاریک میں پیہم بھٹکتے تھے جہاں والے پیامِ صبح لے کر آپؐ بہ وقت سحر آئے اسے اعجازِ شانِ رحمتہً اللعٰلمیںؐ کہییٔ میرے آقاؐ سر عرش بریں بھی دیکھ کر آئے میں سمجھوں قابل صد رشک اپنی زندگانی کو زباں پر گر میرے صلِ علیٰ آٹھوں پہر آئے ہیں اے آثمؔ گروہِ انبیاء میں اک شہِ بطحہٰؐ شبِ معراج جو خلد

نظمیں

 اندر کی آواز  جو تیرا قرض ہے مجھ پر اٹھایا جا نہیں سکتا قدم لرزاں ، جہت نا آشنا، وحشت مگر مرا عزم ِ  جواں ہے ہم سفر اور میں امنگوں، چاہتوں کی ایک گٹھڑی کو لئے سر پر بڑھا ہی جا رہاہوں، پر گلی کے موڑ پر جو سانس لینے کو ہوں رک جاتا  تو یکسر اک  نیا منظر ابھرتا ہے تری خوشبو سنور کر جب  مری آنکھوں کے پردے سے منعکس ہونے لگتی ہے تو میری پتلیاں مجھ کو،افق سے پار ، اُس جانب نجانے کس نگر میں چھوڑ دیتی ہیں جہاں نہ ـ ’’تو ‘‘ کا ہے قصہ جہاں نہ  ’ میں ‘‘کی باتیں ہیں جہاں بے چارگی کے موسموں سے پھل اترتے ہیں جہاں وحشت ہی وحشت ہے عجب سکتہ سا طاری ہے زبانیں سب کی جیسے کاٹ ڈالی ہوں مگر اک روشنی سی ہے کہ جس کو دیکھ کر میںنے جسارت کی می

نظم

لَو لاک نیاز جَیراجپُوری لَو لَاک لَما خَلقتُ اَلافَلاک   آپؐ ہیں رحمت لِّلعالمیں کہتا ہے خُود اللہ پاک                      لَو لَاک لَما خَلقتُ اَلافَلاک   ریگزار بھی آپؐ کی آمد سے ہوگئے سب لالہ زار خزاں کے موسم میں بھی نُمایاں ہُوا یقینِ فصلِ بَہار بنجر خُشک زمیں لہرائی پہن اوڑھ سَرسبز پوشاک                         لَو لَاک لَما خَلقتُ اَلافَلاک   آپؐ کا اُسوہ آپؐ کی سیرت نہیں ہے کوئی جِس کی مِثال آپؐ کا ثانی ، آپؐ کے جیسا کوئی نہیں ماضی تا حال آپؐ کو ربِّ العالمین نے بخشا وہ اَدب و اِدراک                  لَو لَاک لَم

شہر آشوب…؟

 یہ شہرِ خموشاں ہے …! دور دور تک تربتوں کے کھیت کھیتوں میں ان گنت خودرو سوسن کے پودے خود اپنے آپ کی کاشت کرتے رہتے ہیں پودوں میں سرخ پتے ہیں جن پہ گہرے داغ ہیں محبوب کے تِل کی طرح ہر داغ ہرا ہرا تازہ تازہ سا لگتا ہے کہیں کہیں گہرے گھاؤ ہیں جن میں اندھی گولیاں اور بینا چھرے ابدی نیند سمیٹے ہوئے ہیں مہکتے سوسن کے پھولوں سے اُٹھی تازہ لہو کی خوشبوئیں  شہرِ خموشاں کی فضائیں مہکائے رکھتی ہیں پوہ پھٹتے ہی پودوں کو پرندوں کی چہک جگا دیتی ہے ابابیلیں رقص کرتی ہیں چھوٹے چھوٹے کنکروں کے ساتھ  ریت کے زرّوں کی پازیبیں  باندھ کر سلگتی ریت کے دہکتے سینے پر اوس چہرے دھو دیتی ہے بادِ صبا شب گزیدہ اشک پونچھتی ہے سورج کی شعائیں شب کی سیاہی چوس لیتی ہیں کرب کا موسم دْکھ کا ناشتا کرواتا ہے