تازہ ترین

مُناجات

 تو کریم و کارساز و چارہ ساز تو رحیم و مہرباں بندہ نواز کیوں نہ ہو اس بات پر بندے کو ناز تو ہے اس کا چارہ ساز و کار ساز تیری ہستی ہے نہاں سربستہ راز یاد تیری دل کا مرہم دل نواز لوگ سب ہیں مبتلائے حرص و آز ہے فقط عارف ترا دانائے راز دین و دُنیا کا ہے تُو ہی مدعا تُو حقیقت ما سواء سب ہے مجاز راحتِ جاں، دل کا اطمینان تُو عشق تیرا رُوح کا سوز  و گُداز تیری پہچاں سے ہے افضل آدمی ورنہ اک مٹی کا پُتلا بے جواز باعثِ تسکین تیری یاد ہے بس اسی میں کامیابی کا ہے راز یاد تیری مرہمِ زخمِ جگر فتنۂ دُنیا اگر ہے جاں گُداز دل جو ٹوٹا وہ بنا مسکن ترا تیری نظروں میں ہُوا وہ سرفراز   بشیر احمد بشیرؔ(ابن نشاط) کشتواڑی، موبائل نمبر؛7006606571  

معصوم آصفہ کے نام

 انصاف چاہئے میں آج آزاد ہوں۔۔۔! بشر کے شر سے کیونکہ بشر اب شر بن گیا ہے میں اس شر سے صرف اتنا پوچھتی ہوں کہ ‘ تونے کیوں میری زندگی  مجھ سے چھین لی مذہب کے لئے یا سیاست کے لئے؟ میں نہ تو سیاست جانتی تھی اور نہ ہی مذہب کا کچھ پتہ تھا  میری سیاست اور میرا مذہب  صرف میری زندگی تھی جس کوتم نے بڑی بے رحمی سے  ختم کر دیا میں معصوم اور نافہم معصوم بچی صرف جینا چاہتی تھی لیکن مجھے ماردیا  ’بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ‘جیسے  کھوکھلے نعرہ دینے والو ںنے میں اگرچہ درندوں کی دنیا سے  آزاد ہوگئی مگر میری زخمی روح  ابھی بھی ترستی ہے ماں کی میٹھی لوری کے لئے اور انصاف مانگتی ہے ان انصاف گھروں سے جن کے پاسبان آج کالے لباس میں انصاف

قطعات

 وردِ زباں نے پایا شریعت کا سلسلہ آنکھوں میں بس گیا ہےطریقت کا سلسلہ ساقی نبیؐ ہیں بانٹتے ہیں جامِ معرفت اپنا  لیا ہے دل نے حقیقت کا سلسلہ   انؐ سے ہی چل پڑا ہے سخاوت کا سلسلہ انؐ ہی کی دسترس میں شفاعت کا سلسلہ جن کے چلن سے ہم کو ملی راہِ مستقیم راحت کا سلسلہ ہے طراوت کا سلسلہ   اُلفت کا راستی کا اخوّت کا سلسلہ آقاے دو جہانؐ ہیں رحمت کا سلسلہ عرشِ بریں پہ رب کے جو مہمان بن گئے رفعت کا سلسلہ ہیں وہؐ عظمت کا سلسلہ   اللہ کے فرمان سے مدحت کا سلسلہ آیاتِ درسِ فیضِ تلاوت کا سلسلہ قائم ہے جس پہ حرفِ زماں ظرفِ کائنات اے ذوالمنن ہے آپکیؐ سنّت کا  سلسلہ     علی شیدّا  ( نجدہ ون) نپورہ اسلام آباد کشمیر موبائل نمبر؛9419045087

اُٹھ جائو

 ہے فضا سوگوار، اُٹھ جاؤ میرےدل کے قرار، اُٹھ جاؤ آج کی تیری اس جدائی سے جارہی ہے بہار، اُٹھ جاؤ کھول آنکھیں میں تیری ہی ماں ہوں  سن لےمیری پکار، اُٹھ جاؤ تجھ کو مہندی لگاؤں گی پہلے میرےراجہ کمار،اُٹھ جاؤ راہ تکتی ہے تیری چھوٹی بہن اس لئے ایک بار،اُٹھ جاؤ تجھ کو کس طرح ہم نے پالاتھا سب ہوا تار تار، اُٹھ جاؤ دیکھ یہ تیرا دوست آیا ہے یہ بھی ہے اشکبار، اُٹھ جاؤ تیرے ہی آسرے کا والد بھی کر رہا انتظار، اُٹھ جاؤ جو بھی چاہو وہ مانگ سکتے ہو ہے تجھے اختیار، اُٹھ جاؤ تیرا جانا یہ اس قدر بیٹے کچھ نہیں سازگار، اُٹھ جاؤ کب تلک سو بھی جاؤ گےلوگو اب نہیں جیت ہار، اُٹھ جاؤ اشتیاقؔ آخرش یہ گِن لے گا ایک، دو، تین، چار، اُٹھ جاؤ   اشتیاقؔ کاشمیری آرونی اسلام آباد،ر

سلام بحضور مولائے کائنات علی ابن ابی طالب ؑ

   شاہِ مرداں شیرِ یزداں فاتحِ خیبر سلام خاصۂ داور سلام اے عزم ِ پیغمبرؐ سلام اے علیٔ مرتضیٰؑ اے قاسم ِکو ثر سلام  اے بہارِ پنجتنؑ اے غنچۂ سرورؐ سلام ’لا  فتیٰ  الا  علی  لا سیف  الا  ذ و لفقار‘ اس عظیم المرتبت اعزازِ اعلیٰ پر سلام آپ کی شانِ سخاوت ہے عیاں قرآن سے آپ کے صبر و رضا پر ہے جہاں ششدر، سلام آپ ہیں مولودِ کعبہ آپ با ب العلم ہیں اے خطیبِ بزم اور اے رزم کے حیدر ؑسلام کہکشانِ مصطفیؐ کے تابشِ انور سلام پڑھ رہے ہیں آپ پر سب انجم و اختر سلام سوئے آثم ؔ بھی برائے پنجتنؑ ہو اِک نظر اے میرے مشکل کُشا اے نائب ِسرور ؐ سلام کاش حرمین و نجّف و کربلا کا ہو سفر  اور پڑھے آثم ؔ ہر اک دربارِ اطہر پر سلام   بشیر آثم کشمیری باغبان پورہ، لعل با

نظمیں

خوابِ شیریں کبھی پاس آیا نہیں   سُخنِ عمدہ کا واقعی دفینہ ہوں میں، ذہنِ کم تر نے اب تک کُچھ دکھایا نہیں جائے حیرت کہ اب بھی مقفّل ہیں در، ہاتھ اپنے ابھی کُچھ بھی آیا نہیں قصرِ صورت بھی عُریاں بدن ہو گیا، عصرِ حاضر نے اِس کی رِدا نوچ لی ایسا منظر ہے ماتھے پہ جھُرّیوں کا اب، جو تھا دیکھا کبھی ہم نے بھالا نہیں یاد رکھنے کا جذبہ نہ ہی جوش ہے، کِتنا ظالم ہے دِل اور سِتم کوش ہے حافظہ تو مگر اب بھی شاداب ہے، ہم نے ماضی کو اپنے بھلایا نہیں کتنے ویراں خیالوں کا مدفن ہے دل، جوئے یاداشت اِس کی روانی میں ہے اپنا ماضی ابھی تک اسے یاد ہے، فرق یادوں کا پیری میں آیا نہیں میری صحبت میں آکر ذرا سیکھ لو، شب کو بیدار کیسے رہا جائے ہے چشم رہتی ہے محوِ سُخن رات بھر، خوابِ شیریں کبھی پاس آیا نہیں گو فضائے ذہن میں ہے آلودگی، کوئی خواہش رکھے اِس کو پھر

خوں رُلاتا ہے صحن ِچمن سیریا

 تونے پہنا ہے خونیں کفن سیریا عدل و انصاف ہے یاں دفن سیریا تیرے سینے پہ گرتی ہیں یہ بجلیاں تھر تھراتے ہیں کوہ و دَمن سیریا تیرے گلشن کے گل ہائے تر کیا ہوئے کیا  ہوئے  وہ سرو  و  سمن  سیریا  وہ جو مالی تھے گل چیں وہیںبن گئے دندنا تے ہیں زاغ و زغن سیریا تیرے بیٹوں کی لاشیں ہیں بکھری ہوئیں کیسے دیکھیں یہ کٹتے بدن سیریا  کتنی ماؤں سے نورِ نظر چھن گئے رورہیں بیٹیا ں اور بہن سیریا  اْمتِ مسلمہ کیوں لٹی کیوں پٹی کہہ گئے ہیں نبی ؐبس ’’وَھَن ‘‘سیریا آگ و آہن کی بارش کو روکے کوئی  خوں رُلاتا ہے صحن ِچمن سیریا تونے چھینا بشارتؔ کا قلبی سکوں جبر کے ہاتھ میںتْو رہن سیریا  9419080306

نعت

 میں رکھتا ہوں دل میں ولائے محمدؐ مری جاں فدا ہے برائے محمدؐ نہیں کچھ ہے دل میں سوائے محمدؐ یہ حق جانتا ہے خدائے محمدؐ حسیں خواب آیا تھا کل رات مجھ کو محبت سے چُومے تھے پائے محمدؐ وہ دل باغِ جنت سے کچھ کم نہیںہے کہ لاریب جس میں سمائے محمدؐ وفا کی قسم یہ وفا کہہ رہی ہے وفا بس وفا ہے وفائے محمدؐ یہ الفاظ اور یہ شعورِ سخن بھی فقط باخدا ہے عطائے محمدؐ کلامِ الہی پڑھا تو یہ سمجھا بقا دین کی ہے بقائے محمدؐ محبت کی دنیا میں شادابؔ ہر دم یوں ہی کرتے رہنا ثنائے محمدؐ   محمدشفیع شادابؔ پازل پورہ شالیمارسرینگر کشمیر رابطہ؛ 9797103435  

’’ اے تنہائی‘‘

 راہ و رسم کی باتیں  فقط لفظوں کی بازی گری تھی  وحشت بھری یادیں  دل دہلانے والی تھیں  تھک ہار کر مایوسی نے نڈھال کر دیا تھا  آنکھوں کے سوتے جب خشک ہوچکے تھے                                میرے قدموں کی آہٹ                                    دھیمی ہوچکی تھی اپنی منزل سے بھی آگے نکل جانے کے راستے  جب مسدود ہو چکے تھے تب تو نے ہی ’’اے تنہائی‘‘ آرزو کی کرن لائی تھی اور بس میری روح میں حلول ہو کر  مجھے سکون بخشاتھا     صابر شبیربڈگامی ریسریچ اسکالرشعبۂ اُردو کشمیر یونیورسٹی فون ن

دُعا

 مولاکوئی تدبیر کر اس خواب کی تعبیر کر جنت کو بے نظیر کر کشمیر کو کشمیر کر   عزت انّا بحال کر چہروں کو پھر گُلال کر شہروں کو پُر جمال کر احساس کے کینواس پہ مجتیں تحریر کر کشمیر پھر کشمیر کر   اُجڑے یہ بام و درنہ ہوں بے روح اب منظر نہ ہوں ماتم کناں یہ گھر نہ ہوں شمشیر کو تسخیر کر کشمیر پھر کشمیر کر   امن و سکون قائم رہے مہرو وفا باہم رہے گلزار ہر اک راہ کر گلپوش یہ دائم رہے مولا مرے کر اب کرم اس زہر کو اکسیر کر کشمیر کو کشمیر کر کشمیر پھر کشمیر کر   رابطہ؛ پونچھ،8493881999  

نظمیں

    نظم ہیں ذاتی مفادات و اپنی انا کو جو ملکی وقومی مفادات کہتے   دغا دے کے یوں ملک اور قوم کو وہ حکومت سے اپنی چمٹ کر ہیں رہتے   ہے لوگوں کی یہ سادگی یا حماقت ہیں چُنتے انہیں جن کا ہیں ظلم سہتے   دغا مکرو بددیانتی کی سیاست وہ طوفاں ہے جس میں ہیں سب لوگ بہتے   لُٹیرے جو ہر بار ہوتے ہیں ثابت چنائوں میں ہم اُن کو ہیں چنتے رہتے   بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاط) کشتواڑی کشتواڑ جموں و کشمیر موبائل نمبر؛ 9018487470     نذرِ غالبؔ   ہوتی جو نہ تکمیلِ تمنا کوئی دن اور کرلیتے کسی طور گذارا کوئی دن اور   گر آج بھی آتے نہ، تو کیا آتی قیامت ہم دیکھتے ٹک آپ کا رستہ کوئی دن اور   نادان ہو! رسوائی کی جلدی تھی بھلا کیا کر

آہ ِ فراموشاں

 ہمیں اے حضرت یزداں گرفتِ وہم وغم سے دے خلاصی  جذبہ ِ توحید کو وسعت فراہم کر دلوں کو عشقِ آنحضرت ﷺ سے کر لبریز  تیری دنیا کے ہم بھولے ہوئے بھٹکے ہوئے بندے پریشاں حال رہتے ہیں۔ ہماری ہی زمیں کو لوگ تو فردوس کہتے ہیں مگر اس رشکِ جنت کے مکیں ہر دم تڑپتے ہیں  سدا بے حال وبے پرسان رہتے ہیں  لہو آدم کی رگ رگ کا  ندی نالے چُراتے ہیں چُراکر خوب بہتے ہیں۔ لرزتی ہے زمیں اور آسماں آنسو بہاتاہے دوپٹہ ماں کا بیٹے کے لہو کا رنگ اُڑاتا ہے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔   دکھادے اک نیا موسم نئی رونق نئی دنیا جہاں پر زندگی کا بول بالا ہو جہاں پر نور کی بارش ہو رحمت کا اُجالا ہو جہاں عزت ہو، حرمت ہو مودت اور محبت ہو جہاں اولاد آدم سرخرو ہو شادماں ہو اور موسم کی ستم رانی سے ب

بہ یادِآغا سید محمد فضل اللہ

قرب و جوارمیں تھا یہی ذکرِ خاص و عام دنیائے ہست وبود ہے اک عارضی مقام اک شور تھا کہ چلدیا علماء کا افتخار  بڈگام کی فضائوں سے رخصت ہوئی بہار  مداحِ اہلِ بیتؑ تھا عالی و قار تھا  وہ عاشقوں کا شاہ شہِ روزگار تھا  ہمراہ جنازے کے اک جمِ غفیر تھا  ہاں  شاملِِ نماز صغیر و کبیر تھا  گویا ہوا کے دوش پر تھا ابرِ مشکبار احباب اشکبار تھے مداح سوگوار محبوب ؐ حق کاآہ! ثنا خواں نہیں رہا   وہ حق شناس حاصلِِ دوراں نہیں رہا  اے افتخارِ بزم شریعت تجھے سلام  اے منفرد خطیب و خطابت تجھے سلام   اے راہِ معرفت کے نگہبان الوداع   اے رہنما و داعیٔ قرآن الوداع  اے افتخارِ حُبّ شریعت تجھے سلام اے افتخارِ فکرِ قیادت تجھے سلام&nbs

آصفہ

۔ 8سالہ معصومہ جو جنسی تشدد کا شکار ہوکر قتل ہوئی کیسی حالت تیری آصفہ ہوگئی کتنی ظالم یہ دنیا ، اے خُدا ہو گئی کیسے دہشت کو تونے سہا چھوٹئے ساری دنیا ہے خنجر زدہ چھوٹئے کتنی غمگین ساری فضاء ہوگئی کیسی حالت تیری آصفہ ہوگئی میں یہ سوچوں کہ کیسے وہ انسان تھے؟ وہ درندے تھے، وحشی تھے، حیوان تھے! دل سے انسانیت کیوں ہوا ہوگئی کیسی حالت تیری آصفہ ہوگئی داغ غم کا دلوں سے مٹے کس طرح ہر طرف ہے اندھیرا ہٹے کس طرح ابو، امی کی تُو اب سزا ہوگئی کیسی حالت تیری آصفہ ہوگئی کس طرح ظالموں کو کرے گا مُعاف ربِ انصاف کا تو یہ ہے انعطاف کیوں کہوں رائگاں یہ دُعا ہوگئی کیسی حالت تیری آصفہ ہوگئی یا الہ اور اب کوئی آصفہ نہ ہو یہ جو قانون ہے ایسے اندھا نہ ہوا بات کہنی سحرؔ تھی، ادا ہوگئی کیسی حالت تیری آصفہ ہوگئی

جنتِ ارضی کی جنت

(جھیل ڈل ؔمیں رہنے والی پانچ سالہ جنت ؔاِن دنوں کڑاکے کی سردی میں ڈل کی صفائی کی مہم میںجٹی نظر آرہی ہے۔ وہ اپنی چھوٹی سی ناؤ میں ڈل کے پانی کو اُس آلودگی سے پاک کرنے کی مہم میں محو ہے جو ماحول کے تئیں ہماری اجتماعی بے حسی اور عاقبت نا اندیشی کی وجہ سے آبِ زلال کے اس بیش بہا ذخیرے میں پیدا ہوئی ہے۔جنت کی اس معصومانہ لگن، شوق اور جذبے سے متاثر ہو کر میں آزاد نظم کی شکل میں یہ چند اشعار قلم بند کرکے اس  باشعور دختر کشمیر کی نذر کرتا ہوں۔خیالؔ)   ڈل کی روپہلی لہروں پر ہے چھوٹی سی اک ناؤ میںبیٹھی پانچ سال کی جنتؔ اپنے ننھے  مُنے  ہاتھوں سے جھیل کے آلودہ پانی کو آئینے کی اُجلی صورت دیتی ہے اور پھر گا گا کر کہتی ہے: گدلے ڈل کو دھو دھو کر نہلاؤںگی اور دوبارہ اس کو آبِ زلال بناؤںگی میں ہوں جنت یہ ڈل میری جنت ہے ڈل ہی می

نعت

رُوئے نبیؐ پہ قطرہ بہ قطرہ وُضو کے پُھول  اے عشِق رب یہی ہیں تری آبرو کے پُھول آیات سے مہکتی احادیثِ آنحضورؐ گویا کہ ہیں کھلے چَمنِ گفتگو کے پُھول عزمِ حسینؑ، فقرِ علیؑ ،صبرِ فاطمہؑ  باغِ رسولؐ میں ہیں سبھی رنگ و بوْ کے پْھول خود منزلِ ہدایتِ اْمّت پْکار اْٹھی نقشِ قدم ہیں راہ میں یا جسْتجو کے پْھول مکّے مدینے میں تو پسینہ بہایا تھا  طائف کے پتھروں پہ بکھیرے لہو کے پْھول وہ آئینہ ہیں آئینئہ حق کے سامنے  پْرنور و پْر کشش ہیں بہت رْوبرو کے پْھول برسا رہا ہوں اشک، عقیدت کے فیض سے  شاداب ہیں اسی سے مری آرزو کے پْھول تکتا ہوں اْن کے در کو تصّور میں اور پھر  چْنتا ہوں چشمِ شوق سے لا تقنطو کے پْھول   ڈاکٹر سید شبیبؔ رضوی اندرون کاٹھی دروازہ  رعناواری سرینگر،موبائل نمبر؛990

کرم فرمائیاں

 خوب صورت وادیاں گل پوش زمینیں شہر ہائے آرزو امید کےگائوں دوستوں کی ہی نوازش کے طفیل بن گئے ہیں سر بہ سر زبان بندی جیسی طرح طرح کی پابندیوں اور دیگر بندشوں کی  ایسی آماجگاہیں کہ جہاں آواز پا نہ بانگِ جرس صدائے ساز نہ نوائے سروش نغمۂ زندگی نہ سرورِ حیات سرور تخیل نہ زمنرِ مۂ خیال مثالِ شہرِ خموشاں مُہر بہ لب ویران کوچہ و بازار شکستہ درو دیوار گل شُدہ شمعیں منجمد آبشار یخ بستہ آتشِ چنار رشکِ زمہریر برودتیں ہزار چمن چمن عیاں عجیب برگ وبار عجیب برگ وبار محمد یوسف مشہورؔؔ۔۔۔کپواڑہ کشمیر 9906624123  

نعت

 آقاء ہیں مدینہ میں،بلائیں تو عجب کیا بگڑی ہے مری، بات بنائیں تو عجب کیا مانا کہ ہمیں زادِسفر کچھ بھی نہیں ہے آسان سفر آپ ؐ بنائیں تو عجب کیا پلکوں پہ کیا  جن کے لئے ہم نے چراغاں اس بار وہی ؐخواب میں آئیں تو عجب کیا مخلوقِ خدا جنکی پناہوں میں ہے محفوظ کملی میں ہمیں بھی وہؐ چھپائیں تو عجب کیا اک نظرِ کرم ہو تو سنور جاے مقدّر ٹل جائیں زمانے کی بلائیں تو عجب کیا ہاں جنکے اشارے پہ ہوا چاند بھی ٹکڑے سورج کو ذرا اور سُلائیں تو عجب کیا ہاں! ساقیٔ کوثر وہ مقّرر جو ہوئے ہیں محشر میں مری پیاس بجھائیں تو عجب کیا اْس ذاتِ مقدّسؐ سے تعلق ہے جو شیدّاؔ آنسو بھی ترے نعت سنائیں تو عجب کیا    نجدہ ون نیپورہ اسلام آباد کشمیر موبائل نمبر؛9419045087  

نظمیں

دسمبر پھر آئیگا! دسمبر تو گیاہے اَور دسمبر پھر سے آئے گا کسے معلوم ہے لیکن پرندے آج ہیںموجود جواِس جھنڈ میں اَگلے دسمبر میں بھی سب ہوں گے دسمبر پھر سے آئے گا مگر کِس کو یقیں ہے اِس دسمبر میں ہوائوں نے تِرے آنچل کو چھو کر کی ہیں جو سرگوشیاں مُجھ سے وہ تیرے قرب کی خوشبو لیے آئیں گی پھر سے  ہر دسمبر میں تجھے سمجھائوں کیسے؟ اَور ہاں، تُجھ کو نئے آراستہ رَستے نئے موسم مُبارک ہوں دسمبر سے دسمبر تک کی اِک اِک رُت مُبارک ہو!   محمد تسلیم مُنتظِرؔ محلہ دَلپتیاں، جموں۔  موبائل نمبر؛9906082989     دورِ حاضر جھوٹ بدچلنی و رشوت کا گرم بازار ہے بُغض و بدخواہی حسد اب عقل کا معیار ہے جیت اب اُس کی ہے جو چالاک اور مکّار ہے آج نالائق وہی ہے جو دیانتدار ہے ا

نظمیں

بہ آمدِسال نو بہ روئے زماں پھر جمال آگیا ہے نیا سال لے کے سوال آگیا ہے زمین پھر وہی ہے، وہی پھر زمن ہے بسا ہر جگہ اب یہاں اہر من ہے   وہی دشت و صحرا و کوہ و دمن ہے گھرا آندھیوں میں یہ اُجڑا چمن ہے کہ شیشے میں اِس کے یہ بال آگیا ہے زمانے میں قحط الرجال آگیا ہے مسلط ہر اک سمت دردِ کہن ہے اُجاڑے ہے انساں چمن پہ چمن ہے   فلسطین و لبنان، ویراں یمن ہے گلاب اور نرگس نہ ہی یا سمن ہے یہ کیا درد بن کر مثال آگیا ہے ہر اِک شے کو دیکھو زوال آگیا ہے کہیں پر نہ آدم کوئی خوش بصر ہے مگر شور اس کا بڑا بحرو بر ہے   ہے کج سوچ اسکی بڑا کم نظر ہے کہ انساں ہی انساں بہت معتبر ہے میسر اسے کیا کمال آگیا ہے کرامت لئے بے مثال آگیا ہے ابھی لوگ کچھ کچھ ہیں تابش سخن یاں انہی سے ہیں قائم زمین