تازہ ترین

’’مٹی کی صدا ‘‘

تمہیں کچھ یاد ہے اک دن ! سبھی رشتوں کو ٹھوکر مار کر نکلے تھے تم گھر سے کئی اُمید کے ٹکڑے کُچل کر پاؤں کے نیچے کسی کا پیار ٹُھکرا کر شہر کو لوٹ آئے تھے کئی جذبات پگڈنڈی پہ بیٹھے آج تک یونہی تُمہی کو یاد کرتے ہیں ، تمہاری راہ تکتے ہیں تمہارے گاؤں کی خوشبو ، تمہارے کھیت کی مٹی نہ جانے کیوں ترستی ہے تمہیں اک بار چھونے کو کبھی اپنے بزرگوں کا تمہیں احساس ہوتا ہے جنہیں تم چھوڑ آئے ہو تڑپنے کے لئے تنہا جو اُنگلی تھام کر چلنا تمہیں اک دن سکھاتے تھے تمہاری آہ  پر  کتنے  ہی جانے دُکھ اُٹھاتے تھے وہی جھُریوں بھرے چہرے تمہیں آواز دیتے ہیں صُبح سے شام تک ہاتھوں میں اپنے لے کے موبائل ترستے کان ہیں اُن کے کبھی تم کال کر بیٹھو مگر تم کو کہاں فُر صت کہ سونے کے جزیرے سے پلٹ کر اُس طرف دیکھو!  جہاں بچپن گُزارا ت

رنگِ حنا

 اِک عروسِ نَو کو جب مُمتاز کرتی ہے حِنا تب کنواری پِنڈلیوں پر ناز کرتی ہے حِنا   جب حدِ بالیدہ پن میں ماہ رُخ آئے کوئی تب دِلِ اغیار کو بھی شاذ کرتی ہے حِنا   پوُچھ لیتی ہَیں وہ اکثر عالمِ خِلوت کا حال پھِر حیا آمیز کُچھ انداز کرتی ہے حِنا   خوفِ رُسوائی کا جب ہوتا ہے باہم احتمال تب اِشاروں میں کبھی پرواز کرتی ہے حِنا   عِشق کی دیوانگی برحق ہے لیکن پھِر حیا کیف و کم اِظہار سے کُچھ باز کرتی ہے حِنا   ناشناسا سے اگر ہو جائے گاہے گُفتگو ہم سفر کو پھِر گہے ناراض کرتی ہے حِنا   یاد آتے ہیں مُجھے عُشّاق اپنے ماہ و سال اب کہاں پیری میں ہم کو شاذ کرتی ہے حِنا    صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ رابطہ  ـ:  9697524469  

ہولی کے بعد

 (قطعات: بیادِ جون ایلیا)) پانی صابُن سے لڑ رہی ہو کیا اپنا چہرہ رگڑ رہی ہو کیا رنگ میں نے مَلے جو گالوں پر ہنس کے اُن سے جھگڑ رہی ہو کیا ٭ دیکھتی ہو اِنہیں تُم ایسے کیا صاف دھونے سے نہیں ہوتے کیا تھک گئی ہو چھُڑا چھُڑا کے اِنہیں رنگ میرے ہیں اِتنے پکّے کیا ٭ بِھیڑ میں سکھیوں کی ہو تنہا کیا چھا گیا تم پہ رنگ میرا کیا مَیں ہی مَیں آتا ہُوں نظر تمکو حال اب ہو گیا ہے ایسا کیا ٭ آئینے کے ہو تُم مُقابِل کیا اب دھڑکتا ہے آنکھوں میں دِل کیا رنگ میں نے لگائے جو اُن کا چھُوٹنا ہو گیا ہے مُشکِل کیا ٭ میری چاہت نے تُم کو گھیرا کیا ذہن و دِل میں اُگا سویرا کیا مُسکراتی ہو دیکھ کر اِس کو چھُو گیا دِل کو رنگ میرا کیا ٭ چاند بَن کر نِکل رہی ہو کیا بھِیگے کپڑے بدل رہی ہو کیا رنگ میرے

دستک

 مرے بابا! ترے در پہ کوئی بیٹھا، پکارو تو بھکاری ہے، سوالی ہے، فدائی ہے کوئی اپنا جسے تم جانتے پہنچاتے ہو۔ اُس کو برسوں سے کھلایا ہے، پلایا ہے، اُسے نازوں سے پالا ہے اُسے سردی جولگتی تھی تری بانہوں میں آتا تھا اُسے گرمی جو لگتی تھی تری چھائوں میں رہتا تھا کھلونے پہ کسی بچے کی ضد کر بیٹھتا تھا جب کبھی پہلو بدلتے تھے، کبھی لازم سمجھتے تھے صدائیں اب بھی دیتا ہے کوئی سنتا نہیں اُس کی کوئی تو فرق بھی ہوگا کسی اپنے پرائے میں   ہاں! اُس کی بیوی بچے ہیں اور اُن کا بھی فریضہ ہے اُسے اُن کا بھی ذمہ ہے اطاعت بھی تری لازم  وہ نادم ہے، وہ خادم ہے، وہ مجبوری میں جیتا ہے پکارو نا! اُسے بابا کہ ضد اتنی نہیں اچھی    کرالہ ٹینگ سوپور،موبائل نمبر:8493014235  

امدادو راحت کاری پر بھی گرفت!

 جنت بے نظیر کشمیر میں رہنے والے لوگوں میں لاکھ کمیاں ، خامیاں ، کوتاہیاں سہی ، مگر ایک چیز میں شاید ہی دنیا کی کوئی قوم اس کی ہم سری کا دعویٰ کر سکتی ہے، وہ یہ کہ اس کے رگ  ریشے میں انسانی ہمدردی کا بے پناہ جذبہ  موجود ہے ۔ دوسال پہلے سیلاب کے دوران اور اب وادی میں جاری مزاحمتی تحریک کے آغاز سے ہی وادی میں بالخصوص جہاں ہر علاقے میں دل درد مندرکھنے والے عوام نے اقتصادی ابتری کے شکار اپنے گردوپیش میں رہنے والے مفلوک الحال بھائیوں کی امداد و نصرت کا بیڑہ اُٹھایا وہاں جو رو ظلم کے ان کرب ناک ایام سے گذرتے ہوئے کئی مقتدر فلاحی تنظیموں اور NGO's نے مختلف ہسپتالوں بالخصوص سرینگر کے صدر ہسپتال میںامدادی کیمپ لگا کر مریضوں ، مجروحین اور ان کے تیمار داروں کی بہر نوع خدمت کا بیڑہ اُٹھایا ۔کسی نے خوردونوش کا بندوبست کیا اور کوئی مشروبات وغیرہ کے کام میں جٹارہا، سب سے زیادہ اہم