تازہ ترین

مفلس کی عید

  احساسِ آرزو ۓ بہاراں نہ پوچھئے دل میں نہاں ہے آتش سوزاں نہ پوچھئے عید آئی اور عید کا سامان نہ پوچھئے مفلس کی داستاں کسی عنواں نہ پوچھئے ہے آج وہ بہ حالِ پریشاں نہ پوچھئے روزے تو ختم ہو گئے باصد غم و ملال اب عید آئی اور وہ ہونےلگا نڈھال بچوں کا بھی خیال ہے اپنا بھی ہے خیال دامن ہے چاک بال پریشان غیر حال کچھ داستانِ چاک گریباں نہ پوچھئے منہ میں نہیں زباں جو کچھ حالِ دل کہے غیرت کا اقتضا ہے کہ خاموش ہی رہے آنکھوں سے موج اشک جو بہتی ہے تو بہے ہے سر پہ ایک ہاتھ تو اک ہاتھ دل پہ ہے افلاس کا یہ منظر عریاں نہ پوچھئے دل میں لیے ہوئے ہوسِ عیش بے شمار اور زیب تن کیے ہوئے ملبوس زر نگار منعم ادھر رواں ہے بصد شان و افتخار ہیں اس طرف نشاط کے اسباب آشکار اور یہ ادھر ہے گر یہ بہ داماں نہ پوچھئے منعم کو دیک

الوداع اے ماہ رمضان الوداع ​

  الوداع اے ماہ ِرمضان الوداع بہترین غمگساراں الوداع  تجھ میں اُترا آخری پیغام حق ​ تو ہی تھا شایانِ قرآں الوداع​ ان دنوں تھا بحر رحمت جوش پر​ اے زبانِ عفو عصیان الوداع ​ الفراق اے ہم نشین ِصائمین​ مونسِ شب زندہ داراں الوداع​ آشکارا تجھ پہ تھا سب راز دل ​ پردہ دارِ دردِ پنہاں الوداع​ تجھ سے تھیں وابستہ اُمیدیں تمام ​ دافعِ صدیاس و حرماں الوداع​ قید تنہائی کی رونق تجھ سے تھی ​ اے شریکِ بزمِ ِزنداں الوداع​ غنچہ ہائے دل شگفتہ تجھ سے تھے ​ اے بہار باغِ ایماں الوداع​  دور کردی تو نے ظلمت قیدکی​ تجھ سے ہر شب تھا چراغاں الوداع​ ہوتے ہیں اب رخصت افطار و سحر​ میزبا نی ہائے مہماں الوداع​ سونپنا تھا تجھ کو زادِ آخرت​ ہو سکا پرکچھ نہ ساماں الوداع​ کاروانِ خیروبرکت چل دیا ​ رہ گئے سب دل می

نعتیں

نعتِ اقدس   پھولوں نے بات چھیڑ دی  عالی مقام کی خوشبو  جو آئی ذکر میں  خیرُالاََ نام کی   منظر ہیں عطر بیز زمان و مکان کے محفل سجائی رب نے درودو سلام کی   تکتی ہے کس ادا سے مجھے شب یہ سانولی صورت  بسی ہے آنکھ میں ماہِ تمام کی   ہونٹوں پہ اہتمام ہے جس تشنگی کا یہ  وہ منتظر ہے ساقی کوثر کے جام کی   آنسو ہیں باندھے رختِ سفر سوئے کربلا یاد آئی ابرِ دل کو پیاسے اِمام کی   اک لا  مِثال فرطِ حضوری کا بانکپن اک شب جو عرش و فرش سجی احترام کی   شیداؔ شعورِ چشم کا ہدیہ یہ نعت پاک آقاؐ قبول کیجئے ادنیٰ غلام کی   علی شیدّا ؔ نجدہ ون نپورہ اسلام آباد کشمیر  فون نمبر9419045087       اصحابِؓ ج

ماہ رمضاں

 پھر پیام حق سنانے ماہ رمضاں آگیا  راستہ رب کا دکھانے ماہ رمضاں آگیا    آگ دوزخ کی بجھانے ماہ رمضان آگیا  باغ جنت کے سجانے ماہ رمضاں آگیا    کوئی روزہ ہم بھی کھولیں شہر آقا میں کہیں  خواب آنکھوں میں بسانے ماہ رمضاں آگیا    نیکیوں کا آگیا موسم ' کھلے دل کے گلاب  درد و غم دل سے مٹانے ماہ رمضاں آگیا    فکر دنیا میں مسلماں کھو گئے ہیں ہر طرف  روز و شب قرآں سنانے ماہ رمضاں آگیا    لوٹ آئی پھر سے رونق مسجدوں میں ہر طرف  خانقاہوں میں بلانے ماہ رمضاں آگیا    کھل نہیں پائے دریچے سال بھر فردوس کے  بند دروازے کُھلانے ماہ رمضاں آگیا    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل ،سرینگر کشمیر

نعت

نہیں ہے آپ بن کوئی سہارا یا رسول اللہ  یہ آنکھیں ڈھونڈتی ہیں پھر نظارا یا رسول اللہ  اندھیروں میں بھٹکتا ہوں فقط یہ آرزو لے کر کہ روشن ہو میری قسمت کا تارا یا رسول اللہ سنا ہے آپ کے در سے کوئی خالی نہیں جاتا مجھے کچھ بھیک میں دے دو خدارا یا رسول اللہ سکوتِ شب مجھے تنہا سمجھ کر گھیر لیتا ہے نہیں ہوتا اکیلے میں گذارا یا رسول اللہ مجھے اپنے مقدر پر بڑا ہی فخر ہوتا ہے نہیں ہے آپ سے کوئی پیّارا یا رسول اللہ منوّر ہو گئیں تاریکیاں سارے زمانے کی یہ کس نے چاند دھرتی پہ اُتارا یا رسول اللہ مدینے کی گلی میں جا کے مجھکو چین آئے گا وہیں ہو گا مرے زخموں کا چارہ یا رسول اللہ    سردار جاوید خان رابطہ؛ مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9697440404

اے وادیٔ کشمیر

 دنیاہے اب بھی وادیٔ کشپ کی دیوانی   جھیلوں کا چلن ہے وہاں جہلمؔ کی روانی لیکن فضائے وقت کا بدلا مزاج ہے ‘     چلتی نہیں ہے اب کے واںکچھ باد ِسُہانی نالاں ہیں وہاں اور پیر ہے دلگیر   اے وادیٔ کشمیر اے وادیٔ کشمیر  ہر چند تُجھے آپ ہے قُدرت نے سنوارا     بخشا ہے اِس پہ کوہِ سُلماں کا منارا غلطاں ہیں تیری کوکھ میں جھیلوں کے مناظر    دستِ یزل نے تُجھ کو ہے شیشے میں اُتارا بدلی ہے تیری آج یہ تصویر و تقدیر     اے وادیٔ کشمیر اے وادیٔ کشمیر اب کے کوئی سیاح بھی کشمیر نہ آیا    دیکھا جو اُس نے ڈل میں ہے آسیب کا سایہ کِشتِ کشپ کا بس یہی ماحول دیکھ کر     محفوظ اپنے آپ کو اُس نے نہیں پایا بیٹھا ہے لبِ ڈل پہ

نعتیں

نعت شمس کے سینے میں آئی جب سے صورت آپؐ کی ذہن ودل کے زاویوں میں آئی برکت آپؐ کی چہرۂ انور کی تابانی پہ ہوں انجم فدا چاند کو بھی ہے ملی شکل و شباہت آپؐ کی آپ کی الفت کے جذبوں کی کسک جب سے ملی ہوگئی ہے نقش میرے دل میں سیرت آپؐ کی آپ کو حاصل ہوئی ختمِ رسالت کی سند آشکارا ہے دوعالم میں نبوت آپؐ کی جس کے دفتر میں نہ ہوگا شرک وبدعت کا عمل حشر میں حاصل اسے ہوگی شفاعت آپؐ کی فاضلِ درسِ حرا ہیں علم وفن کی منتہا چاکری کرتی ہے علم وفن کی دولت آپؐ کی شمسؔ کے دل میں بھرا ہے آپ کی الفت کا نور اور من میں ہے بسی خوشبوئے رحمت آپؐ کی   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی/ اردو/ اسلامک اسٹڈیز ، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری 9086180380      نعتِ رسول ؐ محترم ٭ سنائیں کس کو اب اپنی حقیقت

نعت

 آپ کا ذکر مبارک اور حکایت آپؐ کی ہے زباں میری مگر توصیف ومدحت آپؐ کی آپؐ دنیا کے لیے ہیں سب سے اچھے راہبر مشعلِ راہ ہدیٰ ہے پوری سیرت آپؐ کی آپؐ ہی ختم نبوت کے علمبردار ہیں سارے نبیوں کا خلاصہ ہے نبوت آپؐ کی اس کو ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کا لقب حاصل ہوا جس نے دیکھی حا لتِ ایماں میں صورت آپؐ کی جب بروزِ حشر ہوگا نفسی نفسی کا سماں پوری امت کے لیے ہوگی شفاعت آپؐ کی آپؐ پر قربان ہوجائیں سبھی شاعر ادیب دیکھ لیں جو آپؐ کی باتیں بلاغت آپؐ کی دشمنوں کے سخت نرغے میں بھی گھبرائے نہیں سارے عالم میں ہے لاثانی شجاعت آپؐ کی دیکھنا چاہو اگر اے شمسؔ دستورِ حیات پڑھ کے قرآں دیکھ لو سچی شریعت آپؐ کی   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی/ اردو/ اسلامک اسٹڈیز ، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری 90861

مدحتِ قرآں

 زباں چُپ ہو تو ایماں بولتا ہے کہ یوں اندر کا انسان بولتا ہے وہی مقصد ، وہی شیریں بیانی حدیثوں میں بھی قرآں بولتا ہے میں قرآں کھول کر جب دیکھتا ہوں نگاہوں میں چراغاں بولتا ہے یہ آیاتِ الٰہی کی صَفیں ہیں کہ سَطروں میں دَبستاں بولتا ہے سبھی لفظوں میں معنی آفرینی سبھی نقطوں میں امکاں بولتا ہے کروں کیسے میں تشریح ِمطالب مُفسّر ہو کے حیراں بولتا ہے سبھی رَطبُ الِلّسَاں قران کے ہیں نہ سمجھو بس مسلماں بولتا ہے ’’نہیں‘‘ کہتا ہے غیراللہ پر وہ کہوں اللہ تو ’’ہاں‘‘ بولتا ہے   سیدشبیب رضویؔ کاٹھی دروازہ رعناواری سرینگر 9906685395

رمضانِ مبارک

 بیدار ہوئی ملت رمضانِ مبارک میں  شیطان ہوا رخصت رمضانِ مبارک میں    شکوہ نہ حبیبوں سے نفرت نہ رقیبوں سے  لگتی ہے زمیں جنت رمضانِ مبارک میں    اذکار کی مجلس ہے برکات کی بارش ہے  نصرت کی ہر اک ساعت رمضانِ مبارک میں    آباد ہے دنیا بھی ،آباد ہے عقبیٰ بھی  مومن کی ملی صحبت رمضانِ مبارک میں    رحمت ہے جہاں دیکھوں ،برکت ہے جہاں دیکھوں  ایسی ہے مری حالت رمضانِ مبارک میں    تقویٰ کے گلابوں کی ایمان کے پھولوں کی  ہر سو ہے یہاں نکہت رمضانِ مبارک میں   توحید کی مشعل سے روشن ہے یہاں گھر گھر  ایمان کی شہرت ہے رمضان مبارک میں  اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر  رابطہ 9906540315  &nbs

نعت

دلکشی گفتار میں چہرے پہ رعنائی بہت چاند کو دیکھا تو مجھ کو انؐ کی یاد آئی بہت   روشنی شمس و قمر کی آپ سے ہے مستعار آپ کے چہرے کی ضوء تاروں نے ہے پائی بہت   آج کل صبح ومسا لکھتا ہوں میں نعت نبی اس وظیفے سے مرے دل میں ہے برنائی بہت   گر دلِ مومن میں انؐ کے عشق کی خوشبو نہیں حشر میں یہ بات ہوگی وجہ رسوائی بہت   اے خدا دنیا کو حبِّ مصطفی کی دے ضیاء دہر میں ہے کفر وباطل کی گھٹا چھائی بہت   جن پہ اصحابِ محمدؐ جان کرتے تھے نثار شمسؔ بھی اے دوستو ان کا ہے شیدائی بہت   ڈاکٹر شمس کمال انجم بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری  

’چھوٹیئے‘

 (کٹھوعہ کے دلدوز واقع کے پس منظر میں)   مجھے بس ’’چھوٹیئے‘‘کے خون کی روداد  لکھنے دو ہوئی ہے کس طرح تذلیل اور برباد لکھنے دو   تیری معصومیت پہ رحم نہ آیا جنہیں پل بھر وہ کافر ہیں انہیں ابلیس کی اولاد لکھنے دو   ہوس میں روندھ دیتے ہیں یہ اپنی بہن بیٹی کو مجھے تم آج نہ روکو انہیں جلاد لکھنے دو   کہاں منصف، کہاں انصاف کی تم بات کرتے ہو نہیں ہے کوئی مسلم دیش میں آزاد لکھنے دو   نبیؐ کے جو نہ ہو پائے وہ میرے یار کیا ہونگے کہ مجبوری کے باعث ہوں یہاں آباد لکھنے دو   تمہارا خون اک دن ’’چھوٹیئے‘‘یہ دن دکھائے گا نہیں ہو گا کوئی ظالم یہاں آباد لکھنے دو   سردار جاوید خان مہنڈر، پونچھ رابطہ؛ 9697440404

نعت

 جچا کلی کا گریباں نہ پُھول کا دامن ملاجو ہم کو ہمارے رسولؐ کا دامن   دلِ عدو کو بھی مَہکا دیا محبت سے گُلاب نے نہیں چھوڑا ببول کا دامن   جہاں نکھر گیا فیضانِ کُلِِ رحمت سے کہ جیسے صاف ہو بارش سے دھول کا دامن   ہٹا قدم نہ رہِ مُستقیم سے اُن کا چُھٹا نہ ہاتھ سے حق کے اصول کا دامن   یہ کہکشاں کی رِدا پر ٹکے ستارے نہیں سجا ہے کفشِ محمدؐ کی دھول کا دامن   دلوںمیں ڈال دیا لاَ اِلٰہ اِلاّ اللہ اگرچہ تنگ تھا جذب وقبول کا دامن   اُنہوں نے بھر دیا علم و عمل کی دولت سے کہ خالی خالی تھا قومِ جہول کا دامن   سوانبیؐ کے،دُرِ مغفرت سے محشر میں بھرے گا کون شبیبِِؔ ملول کا دامن   ڈاکٹر شبیب ؔرضوی کاٹھی دروازہ، سرینگر9906685395

نظمیں

نظم خوشی بھی چاند جیسی ہے  کبھی آدھی کبھی پوری کبھی دکھتی نہیں ہے یہ میں غم کی بات جو چھیڑوں تو غم یہ آسماں سا ہے ہمیشہ سر پہ رہتا ہے  ستارے دکھ کی قسمیں ہیں  کہ جو لاکھوں کروڑوں ہیں زمیں یہ زندگی سی ہے جو گردش میں ہمیشہ ہے  یہ دل شمع کے جیسا ہے کہ جس کی لو ہے دھڑکن سی  وفا شاہین جیسی ہے نظر کم ہی یہ آتی ہے   واحد بھدرواہی رابطہ ؛8082024906     مَیںاقبالؔ کو  سر بہ سر دیکھتا ہُوں میں جب اپنا ادبی سفر دیکھتا ہُوں تصوّر میں ہمراہ نفر دیکھتا ہُوں ہُوئی متحرک جب سے ہے چشمِ بینا مَیں اقبالؔ کو سر بہ سر دیکھتا ہُوں علامہؔ ہے شعرا میں اقلیم صو‘رت گراں اُس کا شعری سفر دیکھتا ہُوں پڑھا جب سے حافظؔ و رومیؔ کو مَیں نے مَیں خود کو تصوّف کا گھر دی

’’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو‘‘

 میں حوّا کی بیٹی ہوں مریم، سیتا، سارہ ہوں پاروتی، ساوتری ہوں لل، لکھشمی، شیلا ہوں مجھ کو راون کے چیلوں اور راکھشسوں، شیطانوں نے مانوتا کے برندابن سے پاپوں کی لنکا میں لایا دن دہاڑے بھگوان کے گھرمیں بھولی بھالی مورتیوں اور دیوی دیوتائوں کے آگے ننگا کرکے ترسایا ہے یعنی ساری انسانیت کی عزت، عفت، عصمت لوٹی دین دھرم کو شرمایا ہے گوتم بُدھ کی جنم بھومی میں ہِنسا کی گھٹنا ہے گھٹائی یوں مجھ کو مجبور کیا ہے کہ چلّا چلّا کر مانگتی ہوں ’’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو‘‘   محمد یوسف مشہورؔ کپوارہ،موبائل نمبر؛9906624123  

’’ گم کردہ راہ‘‘

 لغزش ہوگئی تھی کہ گندم کے دانے نے بہکایا برائی کا ایک قطرہ اب تو دریا بن گیا ہے میرے مولا تم نے سبھی خطائیں تو بخشی ہیں پھر اک لمحے کی بھول پر میں نے کیوں صدیوں کی سزا پائی! کہیں میری یہ نادانی تیری ذاتِ پنہاں کے لئے آشکار ہونے کا باعث تو نہ بنی ہاں میں نے واپس لوٹنے کا وعدہ کیا لیکن کیا کروں کہ منزل سے ہی بھٹک گیا اِک بار میرے قدم خلد سے کیا نکلے! پھر یوں ہوا کہ لوٹ جانے کا راستہ نہیں ملا   صابرؔ شبیربڈگامی ریسریچ اسکالرشعبۂ اُردو کشمیر یونیورسٹی Email:darshabir36037@gmail.com   فون نمبر؛9596101499     

نظمیں

      ہیں بیٹھے خوار گرمی میں فضائے پُر تمازت کی لِئے دستارگرمی میں بڑی مُدّت سے بیٹھے ہیں بہُت لاچارگرمی میں یہ سامانِ اذیّت کی فراوانی ارے توبہ بلکتے شیر خواروں پہ اماں یہ مارگرمی میں کہ بحرِ زیست کا اب کے طلاطم خیز منظر ہے نہ زیبِ تن ہے کُرتا اب، نہ ہی شلوارگرمی میں مزاجِ وقت کا اپنا وطیرہ بے بضاعت ہے کہیں سردی کے متلاشی ہیں بیٹھے خوارگرمی میں الٰہی محوِ حیرت ہوں تِری اس کبریائی پر ہے کوئی قصرِ شاہی میں کوئی نادارگرمی میں دفینے برق پاروں کے چنابؔ و رودِ جہلمؔ ہیں نکالو یہ متاع ان سے مِری سرکارگرمی میں کبھی عُشّاقؔ ممکن تھا ملن مہ وش سے گلیوں میں نظر آتا نہیں اب کے کوئی گُلنارگرمی میں   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ رابطہ  ـ:  9697524469 &

مقتولہ کے نام

خوں چکاں ہے تیری داستاں آصفہ  دیدہ گریاں ، زمیں آسماں آصفہ  ساری دنیا پہ چھایا ہے رنج و الم  ماہ و خورشید ، ماتم کناں آصفہ  شرم ساری بھی ہے،اشک باری بھی ہے خشک و تر ، محو ِآہ و فغاں آصفہ  تیرے ماں باپ اب یاں اکیلے نہیں اْن کے ہمراہ ہیں پیر و جواں آصفہ  اْن کی آہوں سے پتھر بھی شق ہوگئے  رو رہے والدین ، بیٹیاں آصفہ  جن درندوں نے مارا ، گھسیٹا تجھے  تھوکتی ہے اُنہیں ہر زباں آصفہ  جرم کے پردہ داروں کی کیا گت بنی  اُن سے نالاں مکین  و مکاں آصفہ شر م ساری ہے اُس کو بھی ، بعد مدت کہا  وہ جو خاموش تھا حکمران آصفہ  تیر ی چیخیں، تڑپنا ،وہ آہ و بکاء  جائے گا نا کبھی رائیگاں آصفہ  دبدبہ ہار جائے گا جیتے گا حق  کہہ رہا ہے زماں

منقبت

 وہ علم بردار وہ کوہِ وفا شیرِ جری مظہرِ شیرِ خدا قندیلِ برجِ ہاشمی کربلا کا قافلہ سالار ہمت کا دھنی فوجِ باطل میں تھی جس کے دبدبے سے کھلبلی مَشک جس نے نہر پر تیروں کی بارش میں بھری مشک بھی وہ بن گئی تاریخ جو اطفال کی جس کے آگے سر بہ خم تھی سر کشوں کی سر کشی جس کی ٹھوکر میں تھی تاج و سلطنت کی برتری ہاں وہی عباسؑ بازوئے حسینؐ ابنِ علی ؑ جس کے خوں کا ذکر ہے پیہم بعنوانِ جلی گلشنِ زہرا ؑ پہ کی جس نے نچھاور زندگی جس کے دل پہ ضرب تھی آلِ عبا ؑ کی تشنگی جس کے چہرے سے عیاں تھی حوصلوں کی پختگی وہ جری عباسؑ جس سے تھی عدو میں تھر تھری ہاں وہی جاںباز شیدائے حسینؑ ابنِ علیؑ یعنی شرحِ لا تخف عکسِ جلال حیدریؑ آہ وہ بازو بریدہ وہ شجاعت کا دھنی جس کی اے آثمؔ بہت مشہور ہے زندہ دلی  اے علم بردار ہو  تیری  شجا

مُناجات

 تو کریم و کارساز و چارہ ساز تو رحیم و مہرباں بندہ نواز کیوں نہ ہو اس بات پر بندے کو ناز تو ہے اس کا چارہ ساز و کار ساز تیری ہستی ہے نہاں سربستہ راز یاد تیری دل کا مرہم دل نواز لوگ سب ہیں مبتلائے حرص و آز ہے فقط عارف ترا دانائے راز دین و دُنیا کا ہے تُو ہی مدعا تُو حقیقت ما سواء سب ہے مجاز راحتِ جاں، دل کا اطمینان تُو عشق تیرا رُوح کا سوز  و گُداز تیری پہچاں سے ہے افضل آدمی ورنہ اک مٹی کا پُتلا بے جواز باعثِ تسکین تیری یاد ہے بس اسی میں کامیابی کا ہے راز یاد تیری مرہمِ زخمِ جگر فتنۂ دُنیا اگر ہے جاں گُداز دل جو ٹوٹا وہ بنا مسکن ترا تیری نظروں میں ہُوا وہ سرفراز   بشیر احمد بشیرؔ(ابن نشاط) کشتواڑی، موبائل نمبر؛7006606571