تازہ ترین

فصلِ بہار

 اک قیامت کا سماں ہم دیکھتے ہیں بار بار    ہر مکاں سے اُٹھ ہے آج بھی چیخ و پکار  پھر یہاں غم میں گریباں ہو رہے ہیں تار تار   ہو چکی ہیں نور سے محروم آنکھیں بے شمار کیا کروں جذبات میرے ہورہے ہیںبے قرار وادیٔ کشمیر میں پھر آگئی فصلِ بہار رات دن بجتے یہاںہیں درد کے چنگ و رباب   خوف سے لرزاں یہاں ہے موسمِ گُل کا شباب ہر طرف بے چینیاں ہیں ہر طرف ہے اضطراب   ہر قدم پر بے بسی کے ہیں نظارے دستیاب غمزدہ ہیں دل یہاں سب اور آنکھیں اشکبار وادیٔ کشمیر میں پھر آگئی فصلِ بہار آبدیدہ یہ زمیں ہے رو رہا ہے آسماں   اس چمن میں اب خوشی کا ہے نہیں نام ونشاں اُٹھ رہا ہے ہر سلگتے دل سے اب ہر پل دھواں   کہہ رہے ہیں یہ درودیوار غم کی داستاں گھر اُجڑتے ہیں یہاں پر سج رہے ہیں

نغمۂ بیداری

 غفلت کی جوتانی ہے، اُسے پھینک ذرا جاگ آندھی نے گناہوں کی اُجاڑا ہے ترا باغ شعلے غموں کے، مانا کہ آہوں سے بجھ گئے بُجھ جائے گی وہ کیسے جو دل میں لگی ہے آگ رولیتا سدا لالہ اپنے زخمِ جگر پر ہوتا نہ اگر چاند کے چہرے پر سیاہ داغ یہ رات سیاہی کی بھلا اُس کو ڈرائے؟ ہو جس نے خونِ دل سے جلایا ہوا چراغ ڈس لیں نہ قدم جو بھی اُٹھیں جانبِ منزل پھیلائے پھن رستوں میں ہیں بیٹھے ہوس کے ناگ احسان اُس مالک کے فراموش کرکے اَب ناداں بتا تُو موت سے جائے گا کہاں بھاگ   اے مجید وانی احمد نگر، سرینگر،9697334305  

’’مسیحا‘‘

 میرے شہر میں لب کشائی کی سزا موت ہے حالانکہ بے دست وپا ہے شہر کا کوتوال۔ مکان ہیں لیکن مکین محفوظ نہیں لباس میں لیکن جسم کھوکھلے ناتواں۔۔۔ مجبور روح بے چین وبے قرار آسماں کالا زمین سرخ پھول پتے ۔ بے رنگ و بوُ چاند تارے جگنو۔۔ بے نور کوزے میں قید ہے احساس کاسمندر موحوں میں تلاطم طوفان کی آمد آمد لیکن کشتی میں چھید ہی چھید کیا ہوگا کوئی مسیحا جو ہمیں پار لگائیگا۔     امداد ساقیؔ

منقبت

 ذکر کرنا چاہتا ہوں حیدرِؑ کرار کا لائوں میں لہجہ کہاں سے میثمِ تمّار کا   جب جہاں چاہا کیا ذکرِ علیؑ ذکرِ رسولؐ وقت کچھ ہوتا نہیں ہے عشق کے اظہار کا   آج بھی نامِ علیؑ ہے صبحِ مکہ کی دلیل پیلا کاغذ پڑ گیا ہے شام کے اخبار کا   یا علیؑ کہہ کر سفر تنکے پہ ہے جاری مرا دیکھنا ہے زور مجھ کو موت کے منجدھار کا   پھول کھلتے تھے مگر پتھر بھی اب کِھلنے لگے معجزے سے کم نہیں ہنسنا کسی دیوار کا   تین دن تک اس لئے آنکھیں نہ کھولیں گے علیؑ پہلے چہرہ دیکھنا ہے احمدِ مختارؐ کا   کفر سے پوچھے تو کوئی کیوں یہ خم چہرے میں ہے سرخ کس نے کر دیا ہے رنگ یہ رخسار کا   ہے یقیں اک روز ہوگا مجھ پہ بھی اُن کا کرم اے وفاؔ دیکھوں گا روضہ ایک دن سرکار کا   سید بصیر الحسن وفاؔ ن

’’اَفکارِ عُشّاق ؔ‘‘

 اِک نِگاہِ اِلتفات ہم پہ بھی ہو بالمشافہ بات کُچھ ہم سے بھی ہو ہم کو بھاتی ہَے نہیں یہ بے رُخی دو قدم کا ساتھ کُچھ ہم سے بھی ہو ٭٭٭   ہم غریقِ حسرت و حرماں رہے قلبِ مُضطر میں فقط اَرماں رہے صبح دم تاشامِ غم غم دیدہ ہیں نالہ وشیون کہ حرزِ جاں رہے   ٭٭٭ گُلشنِ ہستی کی یہ رعنائیاں پُر شباب و شوخ ہیں پرچھائیاں کیوُں نہ پھِر عُشّاقؔ ہو تشکیلِ شعر اور اِس میں کیوُں نہ ہوں گہرائیاں   ٭٭٭ چشمِ بینا ہو گئی بادہ فروش دے رہی ہے سب کو یہ جامِ شراب کیوں کریں عُشّاقؔ پھِر دامن تہی پی لو پی لو جامِ وحدت بے حساب   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ رابطہ  ـ:  9697524469    

شہ بوترابؑ

  بمنا سبت مولود کعبہ امیر المومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام   آثمؔ یہ فیضِ  رحمتِ رحمتؐ  مآب  ہے لب پر میرے جو مدحِ شہ بوترابؑ ہے ان کے تخیئلات میں کھویا ہوا ہوں میں مولا  کا  یہ کرم، کرمِ بے  حساب ہے ہجرت کی شب تھے بستر سرورؐ پہ مرتضٰی ؑ یہ  انتہائے  عشقِ رسالت مآبؐ ہے بدر و اُحد میں ، قلعۂ خیبر کی  جنگ  میں جس  سمت دیکھئے گا علیؑ کامیاب ہے یہ  انکشاف  آیۂ  تطہیر  سے   ہوا شاہد  علی ؑ کے وصف کی ام الکتاب ہے مانند برق  بدر  میں  تھی  تیغِ حیدری  ٹکڑے علیؑ کی ضرب سے خیبر کا باب ہے کعبہ کے بت  گرانے کا منظر تو دیکھئے حیدرؑ ہیں اور دوش رسالتؐ  مآب ہے بہر  رسولؐ  کیجیے  ا م

محبت

 محبت زندگی کی ابتدا ہے   یہی ہر ابتدا کی انتہا ہے محبت حاصلِ ہر دوسرا ہے    یہی سوزِ دروں کا مُدّعا ہے اسی سے بزمِ عالم پُرضیاہے محبت کی کشش شمس قمر میں   محبت کی خلش قلب و جگر میں محبت کا ثمر ہے ہر شجر میں   اسی کی داستاں ہے چشمِ تر میں یہی علم و عمل کا مُنتہا ہے اسی کے دم کے بُلبل خوشنوا ہے   یہی تو اصل میں گُل کی ادا ہے حقیقت میں یہی صدق و صفا ہے   یہی تو اصل میں گُل کی اداہے یہ جینا ورنہ دوزخ ہی سدا ہے  اِدھر خورشیدِ انور پُرضیا ہے   اُدھر ماہِ مُنّور کیف زا ہے اِدھر یہ زندگی منظر نُما ہے   اُدھر وہ نُور افشاں مہ لِقا ہے محبت کا یہ سارا سلسلہ ہے ہے خوشبو اس کی گلشن میں چمن میں   یہی جلوت گزیں دشت و دمن م

عصر

 کاشانۂ افرنگ کے فانوس ہیں ساحر اے بندۂ مشرق تری مٹی ہے ابھی نم گرجائے جو اسمیں تو پھر گرتا ہی رہیگا کیا قعرِ مذلت ہے یہ مغرب کا زیروبم راس آئیگی تجھ کو نہ یہ تہذیب معاصر ہے تیرے خیالوں کی نمو کیلئےیہ سَم باشندۂ مشرق کو ہے سردی ہی مناسب جچتا نہیں تیرے لئے گرمی کا یہ موسم تقلید زمانے کی روش کی نہیں اچھی بہتر ہے تری ذات کو اسلاف کا پرچم آئے گا ترا دور اس تاریک جہاں میں عاجز نہ پریشان ہو ، کچھ دیر ذرا تھم   تسنیم الرحمان حامیؔ متعلم کشمیر یونیورسٹی شعبۂ انجینیرنگ 9419666642 hamitasneem@gmail.com    

’’مٹی کی صدا ‘‘

تمہیں کچھ یاد ہے اک دن ! سبھی رشتوں کو ٹھوکر مار کر نکلے تھے تم گھر سے کئی اُمید کے ٹکڑے کُچل کر پاؤں کے نیچے کسی کا پیار ٹُھکرا کر شہر کو لوٹ آئے تھے کئی جذبات پگڈنڈی پہ بیٹھے آج تک یونہی تُمہی کو یاد کرتے ہیں ، تمہاری راہ تکتے ہیں تمہارے گاؤں کی خوشبو ، تمہارے کھیت کی مٹی نہ جانے کیوں ترستی ہے تمہیں اک بار چھونے کو کبھی اپنے بزرگوں کا تمہیں احساس ہوتا ہے جنہیں تم چھوڑ آئے ہو تڑپنے کے لئے تنہا جو اُنگلی تھام کر چلنا تمہیں اک دن سکھاتے تھے تمہاری آہ  پر  کتنے  ہی جانے دُکھ اُٹھاتے تھے وہی جھُریوں بھرے چہرے تمہیں آواز دیتے ہیں صُبح سے شام تک ہاتھوں میں اپنے لے کے موبائل ترستے کان ہیں اُن کے کبھی تم کال کر بیٹھو مگر تم کو کہاں فُر صت کہ سونے کے جزیرے سے پلٹ کر اُس طرف دیکھو!  جہاں بچپن گُزارا ت

رنگِ حنا

 اِک عروسِ نَو کو جب مُمتاز کرتی ہے حِنا تب کنواری پِنڈلیوں پر ناز کرتی ہے حِنا   جب حدِ بالیدہ پن میں ماہ رُخ آئے کوئی تب دِلِ اغیار کو بھی شاذ کرتی ہے حِنا   پوُچھ لیتی ہَیں وہ اکثر عالمِ خِلوت کا حال پھِر حیا آمیز کُچھ انداز کرتی ہے حِنا   خوفِ رُسوائی کا جب ہوتا ہے باہم احتمال تب اِشاروں میں کبھی پرواز کرتی ہے حِنا   عِشق کی دیوانگی برحق ہے لیکن پھِر حیا کیف و کم اِظہار سے کُچھ باز کرتی ہے حِنا   ناشناسا سے اگر ہو جائے گاہے گُفتگو ہم سفر کو پھِر گہے ناراض کرتی ہے حِنا   یاد آتے ہیں مُجھے عُشّاق اپنے ماہ و سال اب کہاں پیری میں ہم کو شاذ کرتی ہے حِنا    صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ رابطہ  ـ:  9697524469  

ہولی کے بعد

 (قطعات: بیادِ جون ایلیا)) پانی صابُن سے لڑ رہی ہو کیا اپنا چہرہ رگڑ رہی ہو کیا رنگ میں نے مَلے جو گالوں پر ہنس کے اُن سے جھگڑ رہی ہو کیا ٭ دیکھتی ہو اِنہیں تُم ایسے کیا صاف دھونے سے نہیں ہوتے کیا تھک گئی ہو چھُڑا چھُڑا کے اِنہیں رنگ میرے ہیں اِتنے پکّے کیا ٭ بِھیڑ میں سکھیوں کی ہو تنہا کیا چھا گیا تم پہ رنگ میرا کیا مَیں ہی مَیں آتا ہُوں نظر تمکو حال اب ہو گیا ہے ایسا کیا ٭ آئینے کے ہو تُم مُقابِل کیا اب دھڑکتا ہے آنکھوں میں دِل کیا رنگ میں نے لگائے جو اُن کا چھُوٹنا ہو گیا ہے مُشکِل کیا ٭ میری چاہت نے تُم کو گھیرا کیا ذہن و دِل میں اُگا سویرا کیا مُسکراتی ہو دیکھ کر اِس کو چھُو گیا دِل کو رنگ میرا کیا ٭ چاند بَن کر نِکل رہی ہو کیا بھِیگے کپڑے بدل رہی ہو کیا رنگ میرے

دستک

 مرے بابا! ترے در پہ کوئی بیٹھا، پکارو تو بھکاری ہے، سوالی ہے، فدائی ہے کوئی اپنا جسے تم جانتے پہنچاتے ہو۔ اُس کو برسوں سے کھلایا ہے، پلایا ہے، اُسے نازوں سے پالا ہے اُسے سردی جولگتی تھی تری بانہوں میں آتا تھا اُسے گرمی جو لگتی تھی تری چھائوں میں رہتا تھا کھلونے پہ کسی بچے کی ضد کر بیٹھتا تھا جب کبھی پہلو بدلتے تھے، کبھی لازم سمجھتے تھے صدائیں اب بھی دیتا ہے کوئی سنتا نہیں اُس کی کوئی تو فرق بھی ہوگا کسی اپنے پرائے میں   ہاں! اُس کی بیوی بچے ہیں اور اُن کا بھی فریضہ ہے اُسے اُن کا بھی ذمہ ہے اطاعت بھی تری لازم  وہ نادم ہے، وہ خادم ہے، وہ مجبوری میں جیتا ہے پکارو نا! اُسے بابا کہ ضد اتنی نہیں اچھی    کرالہ ٹینگ سوپور،موبائل نمبر:8493014235  

امدادو راحت کاری پر بھی گرفت!

 جنت بے نظیر کشمیر میں رہنے والے لوگوں میں لاکھ کمیاں ، خامیاں ، کوتاہیاں سہی ، مگر ایک چیز میں شاید ہی دنیا کی کوئی قوم اس کی ہم سری کا دعویٰ کر سکتی ہے، وہ یہ کہ اس کے رگ  ریشے میں انسانی ہمدردی کا بے پناہ جذبہ  موجود ہے ۔ دوسال پہلے سیلاب کے دوران اور اب وادی میں جاری مزاحمتی تحریک کے آغاز سے ہی وادی میں بالخصوص جہاں ہر علاقے میں دل درد مندرکھنے والے عوام نے اقتصادی ابتری کے شکار اپنے گردوپیش میں رہنے والے مفلوک الحال بھائیوں کی امداد و نصرت کا بیڑہ اُٹھایا وہاں جو رو ظلم کے ان کرب ناک ایام سے گذرتے ہوئے کئی مقتدر فلاحی تنظیموں اور NGO's نے مختلف ہسپتالوں بالخصوص سرینگر کے صدر ہسپتال میںامدادی کیمپ لگا کر مریضوں ، مجروحین اور ان کے تیمار داروں کی بہر نوع خدمت کا بیڑہ اُٹھایا ۔کسی نے خوردونوش کا بندوبست کیا اور کوئی مشروبات وغیرہ کے کام میں جٹارہا، سب سے زیادہ اہم