تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: آج کل بڑی تعداد میں نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو منہ بولا بھائی بہن وغیرہ جتلا کر فون پر گھنٹوں باتیں کرتے ہیں ۔کیا اس طرح سے کوئی کسی کا بھائی یا بہن بن جاتاہے اور پھر کیا بھائی بہن کی طرح اپنی نجی زندگی کے مسائل شیئر کرنا صحیح ہے ۔ کیا اس طرح سے فون کے ذریعہ یا پھر انٹرنیٹ کے فیس بُک وغیرہ کے ذریعہ غیر محرموں کا آپس میں دوستیاں گانٹھنا شریعت کی رو سے جائز ہے ۔ براہ کرم مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔ عبداللہ شوپیانی  نامحرموں کا موبائل ، انٹرنیٹ اور فیس بُک کے ذریعہ دوستیاں گانٹھنا شیطانی خطرات کا حامل  جواب:- نوجوان لڑکوں او رلڑکیوں کا اس طرح باتیں کرنا سراسر حرام ہے ۔ چاہے موبائل فون کے ذریعہ یا انٹرنیٹ کے ذریعہ یا فیس بُک کے ذریعہ ہو۔ پھر اس پر یہ کہنا کہ یہ میرا منہ بولا بھائی یا بہن ہے ۔ یہ دراصل اپنے جرم پر پردہ ڈالنے اور ایک حرام کو حلال بنانے کی غیر

تعلم الأدعیہ

 میرے ایک دوست ہیں جو برسرملازمت نہیں ہیں، نہ ان کا کوئی خاص ذریعۂ معاش نہیں، مزید یہ کہ وہ کثیر العیال بھی ہیں اوربڑی مشکل سے دوچارہزار کما پاتے ہیں۔ مجھے اکثر اپنی حالت زار بتاتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ان سے بات ہورہی تھی تو میں نے ان سے کہا مجھے یاد دلانا میں ایک دعا بتاؤں گا جس کے وظیفہ سے روزی میں وسعت اور برکت ہوتی ہے۔ میں نے جان بوجھ کر اس وقت انہیں وہ دعا نہیں بتائی تاکہ ان کے شوق اور عاؤں پر ان کے اعتبار کو دیکھ لوں۔کئی ماہ ہوگئے ۔ کئی بار ملاقات بھی ہوئی۔ فون پر بھی بات ہوتی رہتی ہے مگر کبھی انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ کچھ دعاؤں کے وظیفے کا ذکر کررہے تھے۔یہی حالت ہے آج کل عام مسلمانوں کی۔علماء اور حفاظ کرام کو چھوڑ کرامت مسلمہ کی بھاری تعداد بلکہ کہہ لیجیے کہ نوے پنچانوے فیصد لوگ قرآن کریم درست طریقے سے تو پڑھ نہیں سکتے۔ فرائض کی ادائیگی ہو نہیں پاتی تو پھر روز مرہ کی دع

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ یہاں کشمیر کے مسلم معاشرے میں جب کوئی رشتہ منقطع ہو جاتا ہے ، چاہئے وہ طلاق سےیاخلع سے منقطع ہو تو اُن تحائف کے بارے میں سخت اختلاف اور نزاع پیدا ہوتا ہے جو ایک دوسرے کو دیئے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہاں کشمیر میں زوجین کے علاوہ دوسرے رشتہ دار بھی طرح طرح کے تحفے دیتے ہیں۔ اب جب رشتہ ختم ہوجاتا ہے تو خود میاں بیوی نے جو تحفئے دیئے ہوتے ہیں اور جو دوسرے رشتہ داروں نے دیئے ہوتے ہیں اُن کے بارے میں نزاع شروع ہوتا ہے۔ مہر زوجہ کا حق ہے تو اگر رشتہ ختم ہو جائے تو مہرکے متعلق کیا حکم ہے ۔ مہر کے علاوہ جو زیورات وغیرہ ایک دوسرے کو دیئےگئے ہوتے ہیں اُن کے بارے میں کیا حکم ہے۔ اسی طرح زوجین کے شتہ داروں نے ایک دوسرے کو یا ان زوجین کو جو تحفے دیئے ہوتے ہیں ان کے متعلق کیا حکم ہے۔ اس بارے میاں یہاں کی عدالتوں میںبھی اور وویمنز کمیشن (Womens Commission)میں بھی معاملات کے فیصلے ہوتے رہتے ہیں اور محلہ

دارالعلوم دیوبند

۱۸۵۷ء کی ہزیمت کے بعد جب مدرسہ غازی الدین (موجودہ قدیم دلی کالج) کے دو فضلاء یعنی مولانا قاسم نانوتویؒ اور سرسید احمد خان مرحوم نے دو الگ الگ اداروں یعنی دارالعلوم دیوبند اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی نیو رکھی تو بظاہر دونوں اداروں کا بنیادی مقصد تقریباً ایک جیساتھا یعنی مسلمانوں کو ہر ہر طرح کی بالخصوص تعلیمی پسماندگی سے باہر نکالنا۔البتہ دونوں کے طریق ہائے کار اور ترجیحات میں فرق تھا لیکن جس طرح علی گڑھ کی دینی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ٹھیک اسی طرح دارالعلوم دیوبند کی لسانی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ بلاشبہ قیامِ دارالعلوم کا مقصد مسلمانوں کے بکھرے ہوئے شیرازہ کو یکجا کرنا تھا لیکن دارالعلوم کا دائرۂ کار بہت وسیع و کشادہ ہے۔اس نے دینی علوم کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ قومی و ملی اور ادبی و لسانی شعبوں میں بھی ایسے ایسے نمایاں کارنامے انجام دئے جس کے لئے یہ اتن

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

   سوال : نمازظہر میں فرض سے پہلے چار رکعت سنت مُوکدہ ادا کرنے ہوتے ہیں۔ جوکہ ضروری ہے مطابق سنت سوال یہ ہے کہ کیا امام سنت کے یہ چار رکعت ادا کئے بغیر فرض پڑھاسکتا ہے۔ حدیث کی روشنی میں حوالہ دیکر آگاہ فرمائیں۔ اگر سنت ادا کئے بغیر کبھی کبھی فرض پڑھایاہوگا۔ تو وہ نماز پوری ہوگئی ہے۔ یا دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے ؟ غلام محمد بٹ  نماذ ظہر کی سنتیںا جواب: اگر امام نے فرض سے پہلے کی سنتیں ادا کی ہو تو اس کیلئے دوصورتیں ہیں یا تو مقتدی حضرات انتظار کریں۔ امام چار سنت ادا کرکے فرض کی امامت کرے گا۔اگر مقتدیوں کو پانچ منٹ کا انتظار مشکل ہو تو پھر امام کیلئے جائز ہے کہ وہ فرض نماز ادا کرائے۔ بعد میں چار رکعت سنت ادا کریگا۔ لیکن اس کو مستقلی معمول نہ بنایاجائے اس لئے یہ خلاف ترتیب ہے۔ سوال: جو روپیہ بنک سے بطور قرضہ ( Loan) لیا جاتا ہے جس پر بنک Intrestلیتا ہے کیا

علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاریؒ

 انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر کے اہتمام سے سوپور (1)کی سرزمین پر اجتماع ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ میدان میں لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ ڈائس پر علمائِ کرام موجود تھے جنہوں نے اپنی تقریروں سے دلوں کو گرما دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے جب علماء لوگوں کو اللہ کی بندگی کی طرف دعوت دیتے تھے۔ دلوں کو عشقِ مصطفی ا سے منور کرتے تھے۔ عامۃ المسلمین کو اللہ و رسول ا کی اطاعت کرنے پر اُبھارتے تھے، اتحاد و اتفاق کا درس دیتے تھے اوردلوں کو جوڑنے کا کام انجام دیتے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کے دور میں یہ چیزیں عنقا ہیں۔ تبلیغ کے نام پر لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا اور بدگمان کر دیا جاتا ہے۔ توحید کے نام پر انبیائِ علیہم السلام و اولیائِ کرام رحمہم اللہ کی توہین کی جاتی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ا کی طرف بلانے کے بجائے ہمارے ’’علماء‘‘ اپنی تنظیموں کی طرف بلاتے ہیں۔ لوگو

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 خانہ دامادی شرعاً درست…تاہم تمام امور پہلے طے ہوں س:۱- زید کا نکاح بحیثیت خانہ داماد کے ایک مقررہ مدت سات سال کے بکر کی لڑکی کے ساتھ اس شرط پر کیا جاتاہے کہ زید بکر کے گھر میں تامدتِ مذکورہ خدمت خانگی انجام دیتا رہے گا ۔اس دوران زید کے ذریعہ سے جتنی آمدنی حاصل کی جاتی ہے اس میں سے بعد گزرنے مدتِ مقررہ کے زید کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتاہے بلکہ اس پوری آمدنی سے بکر کے اہل وعیال کی کفالت ہوجاتی ہے اور زید سے سات سال کی خدمت لے کر اپنی زوجہ کے ہمراہ خالی ہاتھ اپنے گھرلوٹایا جاتاہے ۔ س:۲-خانہ دامادی کی اس صورت میں لڑکی کا مہر اس کے والد کے گھر سے نکالا جاتاہے جب کہ بکر کے گھر کی جائیداد سے زید کا کوئی حصہ نہیں ہوتاہے ۔ہونا یہ چاہئے تھاکہ لڑکی کا مہر اس کے خاوند یعنی زید کے گھر سے نکال لیا جاتا لیکن یہاں معاملہ الٹا نظر آتاہے ۔مسئلے سے جڑے دیگر پہلوئوں کا جواب اس طرح مط

بانیٔ انجمن نصرۃ الاسلام

 فطرت کا قانون اور ایک آفاقی و ابدی اصول ہے جس کے تحت کوئی بھی فرد اور قوم یکساں حالات میں نہیں رہتے بلکہ نشیب و فراز، اتار چڑھائو اور عروج و زوال فطرت کے ضابطے ہیں جس سے فرار اور انکار ممکن نہیں۔ مجموعی طور پر انیسویں صدی عیسوی اسلام اور ملت اسلامیہ کیلئے انتہائی تاریک، مایوس کن، ابتلاء اور آزمائش کا دور تھا۔ ریاست جموںوکشمیر میں خاص کر یہ دور نا امیدی اور بیچارگی کا دور تھا۔ عام لوگ اَن پڑھ اور ناخواندہ  تھے، غربت کے مارے تھے اور بدترین استحصال کی چکی میں پس رہے تھے۔ بنیادی ضرورتوں اور سہولتوں سے محروم تھے اورغلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ ایک طرف ڈوگرہ حکمرانوں کے شخصی راج اور ظلم و استبداد نے کشمیر کو ظلمت کدہ بنا رکھا تھا اور لوگوں سے بیگار لیا جاتا تھا، غلامی ، مجبوری، محرومی، مفلسی اورلا علمی کا دور دورہ تھا ۔ ووسری طرف سامراجی قوتیں عالم اسلام پر یورشیں کر رہی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: ساس، بہو کے درمیان اچھے تعلقات قائم کرنے کے لئے شرعی حدود اور ہدایات کیا ہیں۔ دونوں کو کن کن باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے اور کن باتوں سے بچنا چاہئے؟ جنید احمد ساس، بہو کے خوشگوار تعلقات کی بنیاد۔۔۔   جواب:ساس اور بہو کا رشتہ بہت اہم بھی ہے۔نازک بھی اور بہت سے بہتر یا بد تر احوال پیداہونے کا قوی سبب بھی ہے۔ کتنے ہی گھر سب کچھ ہونے کے باوجود تباہ حال ہیں اور وجہ صرف ساس بہوکے اختلافات اور نزاعات ہیں۔ اور کتنے ہی گھروں کے مرد ظلم کرنے کا جرم کرتے ہیں۔ اور وجہ ساس بہو کے سطحی اور چھوٹی باتوں کے جھگڑے۔ مرد کبھی بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتا اور وجہ اسکی ماں ہوتی ہے۔ اور کبھی ماں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے اور اس کا سبب اُس کی بیوی ہوتی ہے۔ اس لئے ذیل میں ساس اور بہو دونوں کے لئے اہم ہدایت درج ہیں۔… پہلے ساس کیلئے ہدایات ملاحظہ ہوں۔ (۱) ساس اپن

مولاناعامرعثمانیؒ کی تحقیق

  ’’تفہیم القرآن‘ ‘نے مسلم دنیاکے ایک وسیع ترعلم دوست اور قرآنی علوم کے رمز شناس طبقے کو خاصا متاثر کیا ہے۔ ا س ارود تفسیر نے نہ صرف جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بلکہ مدارس عربیہ کے فارغین کے ذہنوں کو بھی کھولا اور انہیں وسعت فکر و نظر سے روشناس کیا ہے۔ مغرب اور مغربی تہذیب سے مرعوب اور مستشرقین کی دسیسہ کاریوں کے شکار لوگوں کی مرعوبیت کو نہ صرف ختم کیا اور اعداء کے مکرو فریب کا پردہ چاک کیا ہے بلکہ انہیں اقدامی پوزیشن میں کھڑا کیا ہے۔ وہ کتابِ الٰہی جو صرف علماء کے ہاتھوں میں تھی اور جسے عوام محض تبرک اور ثواب کیلئے پڑھاکرتے تھے، مولانا مودودی ؒ نے سادہ اور سہل ممتنع زبان میں ’’تفہیم القرآن‘‘ کی تالیف کرکے اسے عوام کے ہاتھوں میں پہنچا دیا اور انہیں اس قابل بنادیا کہ اس کتاب کے مدعا اور مفہوم کو کسی حد تک سمجھ سکے۔  کوئی

نماز کے بعد ذکرو اذکار

 فرض نمازوں سے فراغت کے بعد تکبیر (اللہ اکبر)، تحمید (الحمد للہ) ، تسبیح (سبحان اللہ)، تہلیل (خصوصاً چوتھا کلمہ)، استغفار، آیت الکرسی، معوذتین، سورہ اخلاص اور چند دیگر اذکار و ادعیہ کا نبی کریمﷺ کی بتائی ہوئی خاص مقداروں میں اہتمام کرنا۔ بڑی فضیلت والا عمل ہے۔ہمارے دیار میں بہت سے اللہ والے لوگ ان اذکار مسنونہ کا خوب اہتمام کرتے ہیں جو یقیناً ایک اچھی اور قابل تعریف بات ہے۔ البتہ ہمیں سب سے پہلے ذکر وازکار کے سلسلہ میں قرآنی ہدایات اورسنت نبوی ؐ کو دیکھنا چاہیے کہ یہی ہمارے اولین مرجع ہیں۔اللہ رب العزت نے نماز کے سلسلہ میں (جسے اپنی یادکے لئے قائم کرنے کا حکم دیا ہے) فرمایا: (ترجمہ) : ’’نہ تو تو اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھ اور نہ بالکل پوشیدہ بلکہ اس کے درمیان کا راستہ تلاش کرلے‘‘۔ (بنی اسرائیل : ۱۱۰)۔ اسی طرح ذکر کے سلسلہ میں ارشاد باری ہے: (ترجمہ):

اسلام اور کامیابی

 زمانہ بہت بدل گیا ہے۔گزرے دور کے تقاضے کچھ اور تھے اور عصر رواں کے مطالبے کچھ اورہیں۔ اب سفر کیلئے گھوڑوں اونٹوں کی بجائے سپر سانک جہاز اور تلوار کی بجائے خطرناک قسم کے ایٹمی ہتھیار میدان میں آگئے ہیں،بغیر پائلٹ کے میزائل برسانے والے ڈرون آگئے ہیں لیکن سچائیاں غیر متبدل ہوتی ہیں ، حقائق اَٹل ہوتے ہیں ، اقدارِ حیات میں کوئی پھیر بدل نہیں ہوتا ۔ عہد ِرفتہ کی طرح اس وقت بھی عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے نہ ایٹمی ہتھیاروں کی حاجت ہے نہ میزائلوںکی ضرورت ۔عدل تو ایک درخت کے نیچے ننگی زمین پر بیٹھ کر بھی کیا جا سکتا ہے۔ انصاف کے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے کسی جدید کمپیوٹر یا کسی ایسے آلے کی بھی ضرورت نہیں ۔ ایفائے عہد، صدق مقالی اور حق نوازی قوموں کی دیانت اور غیرت کی پہچان ہے اور سچ بولنے کیلئے کسی ایسے سا ئنسی جدید آلات اور ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں ہوتی،یہ تو انسانوں کے بیدار ضمیرکا ل

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال :۔ گناہ کبیر ہ کسے کہتے ہیں اسکی معافی کی کیا صورت ہے کسی ایسی کتاب کا نام بتائے جن میں گناہ کبیر کی ساری تعداد موجود ہو۔ اگر ایسی کوئی کتاب فی الحال دستیاب نہ ہو تو آپ خود گناہ کبیر کی مکمل تعداد تحریر فرما کر پوری امت مسلمہ پر اور خاص کر ہم اہل کشمیر پر احسان فرمائیے۔  محمد ادریس بٹ    گناہ کبیرہ  جواب :۔ قرآن و حدیث میں جن کاموں کو سختی سے منع کیا گیا ہے یا جن کاموں پر اللہ کے غضب یا جہنم کی وعید سنائی گئی ہے وہ کام گناہ کبیرہ کہلاتے ہیں۔ ان گناہوں کی تعداد مختلف علمائے امت نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختلف بیان فرمائی ہیں۔ اس کی مختلف علمی وجوہات ہیں جن کی بنا پر یہ تعداد بیان کرنے میں رائیںمختلف ہوئیں۔ اہم گناہ کبیرہ کے متعلق سب کا اتفاق ہے۔ علامہ شمس الدین ذہبی ؒنے اپنی مشہور کتاب الکبائر اور علامہ ابن نجم مصریؒ نے گناہ ِ کبی

عورت کی آبرو

 کسی قوم کی تہذیب و تمدن اور ترقّی کا حال معلوم کرنا ہوتو دیکھو اس کے معاشرے میں عورت کا درجہ کیا ہے ؟بہترین طور قوم کو جانچنے پرکھنے کا معیار یہی ہے ۔جس زمانے میں اللہ کے رسول محمد رسول  ﷺ  اللہ کا پیغام پہنچاننے کیلئے مبعوث ہوئے عورت ساری دنیا میں محکوم تھی ،وہ بہت سے قانونی حقوق سے محروم تھی ، لڑکیوں کو زندہ دفن کردینے کے ساتھ زنا کاری پر بے حیائی کے ساتھ عمل تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیمات ، تزکیہ اور وہدایات کے ذریعہ جواللہ کی جانب سے آپ نے انسانیت کو پہنچائیں ،ان عیوب ونقائص کا یکسر خاتمہ کر دیا۔خداوند تعالیٰ کی بارگاہ میں عورت اور مرد مساوی سطح پر ہیں نیکو کاری کے معاملے میں بھی اور اس کی جزا اور انعام کے معاملہ میں بھی قرآن حکیم میں اسی پر بار بار زور دیا گیا ۔جو شخص کوئی نیک کام کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطِ کہ صاحبِ ایمان ہو اس شخص کو (دنیا) میں اس کے اچھ

سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم

  آج ہمارے معاشرے میں بے شمار برائیاں رائج ہوچکی ہیں۔ظلم و تشدد عام ہو چکا ہے۔ بڑے چھوٹوں پہ شفقت کرنا بھول گئے ہیں، چھوٹے بڑوں کا ادب ترک کرچکے ہیں۔لڑائی جھگڑے ہمارے معاشرے کا شیوہ بن چکا ہے۔بھائی بھائی کا دشمن بنا ہوا ہے۔کہیں باپ بیٹے کو گھر سے بے گھر کررہا ہے تو کہیں نئی لائف پارٹنر پہ فریفتہ بیٹا اپنے والدین کو انہیں کی جائداد سے بے دخل کررہا ہے۔  الغرض ہر چہار جانب سے گناہوں کی تاریکیاں پھیل رہی ہیں۔ ہر شخص غلط کا ری کے لئے ہر لمحہ تیار بہ رہتا ہے۔عفو ودر گذر کا پیغام اسلام ہمارے معاشرے سے معدوم ہوچکا ہے۔گویا ہماری سوسائٹی عرب کی وہ تاریخ دہرا رہی ہے جب اہل عرب بات بات پہ تلوار میان سے باہر کرلیتے تھے۔چھوٹی سی بات پہ ایک دوسرے کے خون کے ایسے پیاسے ہوتے کہ جنگ کا سلسلہ کئی کئی پشتوں تک جاری رہتا۔فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں یہ جنگ دو قبیلوں کے مابین ہوتی تھی، اور ہمارے یہاں ب

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال: ٹریفک نظام ابتر عوام کیلئے وبال جان بن گیا ہے۔ اس وجہ سے لوگ مختلف مشکلات جھیل رہے ہیں۔ اسلام اس ضمن میںکیا رہنمائی کرتا ہے۔ مفصل بیان کریں؟ اعجاز احمد ٹریفک نظام کی ابتری۔۔۔ ذمہ داریاں سمجھنے کی ضرورت جواب: ٹریفک کے نظم و ضبط درہم برہم ہونے کے باعث جو مشکلات پیدا ہورہی ہیں اور ہر اگلے روز یہ فزوں تر ہونے کے خدشات ہیں اُن کی وجوہات اور شرعی اصولوں کے مطابق اُس کے تدارک کی تدابیر درج ذیل ہیں۔ (۱) یہاں کی سڑکیں نصف صدی پہلے کے رورکی ہیں جب کہ ٹریفک بہت کم تھا اُس وقت اکا دُکا گاڑیاں ہی ہوتی تھیں اس وقت کی ضرورت کے مطابق سڑکوں کی وسعت رکھی گئی تھی۔ اب آج اُس سے ہزار گنا ٹریفک بڑھ گیا ہے ۔ اسلئے سڑکوں کی ناکافی وسعت ٹریفک نظام کی ابتری کا ایک سبب ہے جو بالکل واضح ہے۔ (۲) ٹریفک قوانین اور ضوابط بنائے گئے ہیں اُن کی پابندی جیسی ہونی چاہئے ،ویسی بالکل نہیں ہو

معاشی ترقی کے نئے امکانات

مدارس اسلامیہ سے فارغ علماء سماج کی تبدیلی اور ان میں بہتری کیلئے کن نئے محاذوں میں اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں، یہ ایک اہم سوال ہے جس پر سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کرکے ایک مفید اور مثبت و مؤثر لائحہ عمل پید ا کرنے کی ضرورت ہے۔ عموماً دیکھا یہ جاتا ہے کہ مدارس سے عا  لمیت اور فضلیت کے بعد یہ نوجوان مسجد و منبر سے اپنے آپ کو وابستہ کرتے ہیں، کچھ آگے بڑھ کر مکتب اور مدرسہ قائم کرکے اپنا کام آگے بڑھاتے ہیں ۔اس وجہ سے قال اللہ اور قال رسولؐ کی گونج ہماری سوسائٹی میں سناد یتی ہے۔ ان میں سے چند افتاء کا کورس کرکے فتاویٰ کے مسند پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ مفتی اور قاضی بند کر وراثت او ر وصیت کے مسائل، نکاح و طلاق اور فسخ کے معاملات میں اُمت کی رہنمائی کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کو بلادِ عرب کے جامعات میں داخلہ مل جاتا ہے اور واپس آکر وہ مبعوثین کی حیثیت سے کام کرتے ہیں ۔ ان میں سے چند ایک مترجم

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال:۔ ہمارے علاقے میں مختلف جگہوں پر مسلمان کے مرنے کے بعد اُس کی قبر پر ’’اذان‘‘ دی جاتی ہے ۔ کیا اس کی کوئی سند ہے؟ کیا یہ چیز شرعاً مسلمانوں کےلئے جائز ہے۔ اگر جائز ہے تو وضاحت کریں اور اگر ناجائز ہے تو کیا قرآن و حدیث کے لحاظ سے ایسا کرنے والا گنہگار ہے؟ براہ کرم مفصل جواب دیجئے؟ ایم ۔ ایس ۔ نائیک سابقہ زیڈ ای او کولگام تدفین کے بعد اذان پڑھنے کا عمل بدعت جواب:۔ عبادت کے قبیل سے تمام وہ اعمال جو اجر وثواب کا سبب بنتے ہیں وہ تمام اعمال صرف اللہ اور اُس کے رسول اللہ ﷺ   نے مقرر فرمائے ہیں۔ اُن اعمال میں حذف و اضافہ کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے۔ اگر کسی نے اپنی طرف سے کوئی ایسا عمل مقرر کیا جو صرف نبی علیہ السلام کے مقرر کرنے کا تھا تو وہ عمل بدعت قرار پائے گا۔ مثلاً کسی شخص نے نماز ، اذان، تلاوت یا کسی تسبیح و تہلیل کے کلمات میں

فکری قیادت ندارد

 بر صغیر میں فکر اسلامی کے آسمان پرمولانا مودودی اورمولانا ابو الحسن علی ندوی دو روشن ستاروں کے نام ہیں ان دونوں کے درمیان فکری مماثلتیں ہیں ، دونوں عالم اسلام کی دینی تحریک الاخوان المسلمون کے مداح اور قدرشناس ہیں،دونوں اسلام کو ایک مکمل نظام حیات سمجھنے والے ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ مولانا مودودی شریعت کی ظاہری شکل اور نظام پرزیادہ فوکس ڈالتے ہیں اور مولانا علی میاں ایمانی اور داخلی کیفیات پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ مولانا مودودی کے مقابلہ میں مولانا علی میاں کا قلم خاص طور پر تاریخ میں اختلافات کے خارزار سے ان کا قلم اس طرح گذرتا ہے جیسے کوئی پل صراط پر سے کامیاب گذرے ۔مولانا علی میاں کا یہ کمال دیکھنا ہو تو اسے’’ المرتضیٰ ‘‘پڑھنی چا ہئے جو مشاجرات صحابہ ؓ  کا عہد ہے اور جس میں صحابہؓ کے اختلافات کا بیان ہے یا ’’حیات عبد الحی‘‘ پڑ

رسومات کا علاج۔۔۔ اسلامی اصلاحات

   دور جاہلیت کی ایک رسم یہ تھی کہ عورتیں اپنا خمار (اوڑھنی / ڈوپٹہ) سر پر ڈال کر اس کے دونوں پلّے پشت پر لٹکا لیتی تھیں۔ اس طرح سینہ کی ہیئت نمایاں رہتی تھی۔یہ گویا حُسن کا مظاہرہ تھا، کیونکہ بدن کی خلقی زیبائش میں سب سے زیادہ نمایاں چیز سینے کا اُبھار ہے۔اس لئے قرآنِ پاک نے اس کے تستر کے لئے خاص طور پر تاکیدی حکم نازل فرمایا۔قرآن پاک نے حکم دیا کہ عورتیں اپنی اوڑھنی کو سر پر سے لاکر گریبان پر ڈالے رہا کریں تاکہ اس طرح کان، گردن، گلا اور سینہ پوری طرح مستور رہے۔ اس میں تین نکات ہیں:  (اول یہ) کہ گلا اور سینہ تو قمیص یا فراق وغیرہ سے تو پہلے ہی سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے لیکن پھر بھی اس کے اوپر ایک اور لمبا چوڑا کپڑا (جسے اوڑھنی یا ڈوپٹہ وغیرہ کہا جاتا ہے) ڈالے اور پھیلائے رکھنے کا حکم شریعت ِ اسلامیہ میں اس لئے ہے تاکہ سینے کی ہیئت اور ابھار بالکل بھی نمایاں نہ ہ