تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

(۱) صدقہ فطر کیاہے؟ (۲) اس کی کیا مقدارہے؟ (۳) اور اس کی ادائیگی کا کیا وقت ہے؟ (۴) جواور گندم میںکیا فرق ہے؟                         شوکت احمد   صدقہ فطر،مقداراور وقت ِ ادائیگی   جواب: ایک مسلمان جب شوق و جذبہ سے روزہ رکھتا ہے تو وہ محض اللہ کی رضا کے لئے دن بھر کی بھوک و پیاس برداشت کرتا ہے۔ممکن ہے اس عظیم عمل میں کوئی کمی رہی ہو تو اس کی تلافی ضروری ہے تاکہ روزہ کا عظیم عمل بہتر سے بہتر بن سکے۔ اسی غرض کیلئے صدقہ فطر لازم کیا گیا چنانچہ حدیث میں صدقہ فطر کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ یہ غرباء کیلئے کھانے پینے کا انتظام اور روزے داروں کے لئے روزوں کی نقائص کی تلافی ہے۔ صدقہ فطر کی ادائیگی میں کشمش، کھجور، جو کا آٹا یا اس کا ستو پنیر کی مقدار ایک صاع اور گندم یا اس کے آٹے کے مقدار نصف

بے ہنگم افطار پارٹیاں!

  ماہِ رمضان اللہ کی طرف سے مسلمان عالم کے لئے عظیم تحفہ ہے۔ یہ مہینہ فضیلتوں و برکتوں کا ہی نہیں بلکہ انسانی صحت اور احتساب کا بھی آئینہ ہے ۔ طبی و سائنسی نقطہ نظر سے روزوں سے جو انسانی صحت کو فائدے ہیں اس کو دنیا تسلیم کر رہی ہے اور دینی لحاظ سے روزہ انسان کے کردار و عمل کو صالح اور مضبوط کرتاہے اور ایک محتسب کا رول ادا کرتا ہے ۔ روزے کا مقصد کیا ہے وہ کلامِ الٰہی میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے تاکہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔(القرآن ، سورہ البقرہ،آیت ۱۸۳،کنزالایمان)روزہ کا سب سے بڑا مقصد ہے تقویٰ (اللہ کا خوف رکھنا)۔تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہونے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجھک و شرم معلوم ہواور گناہوں سے بچنے اور نیک باتوں کی طرف اس کی تڑپ پیدا ہواور روزہ کا یہی مقصود ہے کہ انسان کے اندر یہ کیفیت پیدا

صدقہ فطر: فضائل واحکام

رمضان المبارک میں صدقہ فطر کا وجوب جہاں روزہ میں ہونے والے خطا اور غلطیوں اور رمضان کی لغویات اور فضولیات کا مداوا اور علاج ہے، وہیں یہ غریب کی غربت کے خاتمہ اور محتاج کی محتاجگی کے ازالہ کا بھی ایک ذریعہ اور سبب ہے ۔اس کی وجوبیت کی وجہ کو بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ صدقہ فطر اس لئے واجب کیا گیا کہ روزے لغو اور بے حیائی کی باتوں سے پاک ہوجائیں اور مسکینوں کے لئے کھانے کا انتظام ہو (ابوداؤد)۔اس روایت سے پتہ چلا کہ صدقہ فطر کے وجوب کی دو وجوہ ہیں:   ۱ ؍ رزہ کی کوتاہیوں کی تلافی ۲ ؍امت کے مسکینوں کے لئے عیدکے دن کے روزق کا انتظام کے وہ بھی عید کی خوشیوں میں اوروں کے مثل برابر کے شریک ہو ں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رمضان کے آخر میں لوگوں سے فرمایا: تم لوگ اپنے روزے کا صدقہ نکالو اوریہ مقدار رسول اللہ ﷺ نے کھجور ارو جو سے ایک صاع اور گندم سے آ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 اعتکاف کے اہم مسائل    اْجرت پر اعتکاف کرانا س:بعض جگہوں پر کسی اجنبی مسافر کو بستی والے اْجرت پر اعتکاف میں بٹھاتے ہیں کیا اس طرح سے یہ مبارک سنت ادا ہوتی ہے؟   ج:         کسی بھی اعتکاف کرنے والے شخص کو اعتکاف کی اْجرت لینا، اور اْسے اعتکاف کی اجرت دینا دونوں حرام ہیں۔ اس سے نہ تو خود اْس شخص کا اعتکاف ادا ہوگا۔ اور نہ اْس محلہ یا بستی کے لوگوں سے اعتکاف کا حکم ساقط ہوگا۔ اعتکاف سنت کفاریہ ہے۔ جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ کوئی ایک شخص بھی اگر اخلاص سے ، بلاکسی دنیوی لالچ کے محض اللہ کی رضا کیلئے اعتکاف کرے گا تو یہ سنت سب کی طرف سے ادا ہوجائے گی۔ لیکن جب اْجرت لینے دینے کا معاملہ ہوگا تو اس سے اعتکاف کی سنت ، ادا ہونا توکئی گناہ ہونا بھی یقینی ہے اور اس محلہ پر ترک اعتکاف کا وبال بھی لازمی ہے۔   س: فرصت والے بوڑھے بھ

کشمیر میں اسلام

مورخینکے ایک طبقہ کے مطابق کشمیر میں دعوت دین کا آغاز عہد نبویؐ میں اس وقت سے ہوگیا جب آپؐ کے صحابہؓ  میں سے کچھ لوگ اس سرزمین میں تبلیغ کی غرض سے تشریف آور ہوئے اور یہاں کے حاکم ویندات  Venadutt سے ملاقات کرکے اس کے سامنے اسلام کا تعارف پیش کیا، پھر کچھ عرصہ یہاں قیام کے بعدچین کا سفرکیا اور شاہراہِ ریشم  Silk Routeکے ذریعہ واپس عرب روانہ ہوگئے۔ یہ وہی زمانہ تھا جب جنوبی ہندکالی کٹ کے حاکم   Cheruman Perumal نے رسول اﷲ ﷺکی زیارت کیلئے مدینہ کا سفر کیا اور آپﷺ کی سیرت وکردار سے متاثر ہوکر اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا۔کچھ مؤرخین کا ماننا ہے کہ محمد بن قاسم نے جب ۷۱۱ ھــ  میں سند ہ پر حملہ کیا اوریہاں کے حاکم راجہ داہر کو قتل کردیا توکچھ عرصہ اپنی فوج کے ساتھ یہاں قیام کیا۔ چنانچہ اسی عرصہ میں یہاں دعوت دین کا آغاز کیا اور کئی مساجداور عبادت گاہیں بھی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال :۔ رمضان المبارک میں صدقہ فطر ادا کیا جاتا ہے ۔ہمار اسوال ہے کہ صدقہ فطر کی از کم مقدار اور زیادہ سے زیادہ مقدار کتنی ہے۔ دور نبوت میں صدقہ فطر ادا کرنے کےلئے کن چیزوں کو بنیاد بنایا جاتا تھا اور آج کن چیزوں کو بنیاد بنایا جاسکتاہے؟۔ ہلال احمد ۔۔چھانہ پورہ سرینگر صدقہ فطر۔۔۔۔۔۔شرعی توجیہہ جواب:۔ صدقہ فطر کے متعلق احادیث میں ہے کہ جو، کھجور، کشمش ایک صاع دیا جائے۔ صاع دورِ رسالت میں ایک پیمانہ تھا جس سے اناج کیل کرکے لیا دیا جاتا تھا ۔کیل کرنا یعنی کسی پیمانے میں کوئی چیز بھر کر دینا۔ جیسے آج کل دودھ لیٹر کے حساب سے دیا جاتا ہے ، کہلاتا ہے تو اوپر کی اشیاء ایک ساع صدقہ فطر تھا ۔پھر عہد صحابہ میں جب گندم کے استعمال کی کثر ہوگئی تو صدقہ فطر کےلئے طے ہو اکہ اگر کوئی گندم یا اُس کا آٹا دینا چاہئے تو نصف صاع دے اور اگر کوئی شخص جو، کھجوریا کشمش دے تو پورا ایک صاع د

۔۷ا ؍رمضان المبارک

حضرت میرواعظ کشمیر مولانا محمد یوسف شاہ مرحوم، میر واعظ علامہ رسول شاہ ثانیؒ(جوبانی انجمن نصرۃ الاسلام کے دوسرے فرزند تھے) جو۱۳۱۳ھ شعبان المعظم کو  تاریخی میرواعظ منزل سرینگر میںپیدا ہوئے۔ اپنی تعلیم کا آغاز اپنے نامور والد ،محسن قوم، سرسید کشمیر علامہ رسول شاہ صاحب ؒ سے کیا اور والد محترم اور عم مکرم کی نگرانی میں ابتدائی تعلیم کی تکمیل کی۔ خاندان کے ان بزرگوں کے علاوہ تفسیر و حدیث، فقہ ، اصول فقہ، صرف و نحو، معانی و بلاغت، منطق و فلسفہ اور تاریخ و ادب کی بہت سی کتابیں کشمیر کے نامور عالم دین مرحوم مولانا محمد حسین شاہ صاحبؒ وفائی سے پڑھیں۔ آپ ؒ کشمیر کے پہلے میر واعظ ہیں جو مزید حصول علم اور تکمیل فنون کیلئے کشمیر سے باہر تشریف لے گئے اور ازہر ہنددارالعلوم دیوبند میں شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ اسیر مالٹا اور امام العصرمحدث کبیر علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ  کے علاوہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال نمبر1۔ ہمارے یہاں لوگ رمضان المبارک میں زکوٰۃ ،صدقات ادا کرتے ہیں اور اس سب کی بناء پروہ اپنے آپ کو اجر کا مستحق سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں چند ضروری اور اہم مسائل کا حل فرما دیں تاکہ امت مسلمہ کی یہ مالی امداد انکے اوپر لازم زکوٰۃ و صدقات ان کیلئے ذریعہ نجات بن سکے۔ (۱) زکوٰۃ کے لازم ہونے کیلئے سونے کا کیا نصاب ہے؟ (۲) زکوٰۃ کے لازم ہونے کیلئے چاندی کا کیا نصاب ہے؟ (۳) سونے اور چاندی کے علاوہ دیگر اموال کا نصاب کیا ہے اور ان پر زکوٰۃ کے لازم ہونے کیلئے کیا کیا شرائط ہیں؟ (۴) زکوٰۃ کا مصرف کیا ہے( یعنی زکوٰۃ کن مدوں پر خرچ کی جائے)؟ (۵) کیا زکوٰۃ تعمیرات( چاہئے مسجد کی تعمیر ہو یا درسگاہ کی تعمیر ہو یا کسی فلاحی ادارے کی تعمیر ہو یا سڑک وغیرہ کی) میں خرچ کرنا جائز ہے ؟ سوال نمبر2 کیا اہل مدارس کا چندہ جمع کرنے کیلئے سفیر رکھنا درست ہے۔ اگر ہے تو اسکی کیا حی

آہ !مولانا غلام نبی وانی رحمتہ اللہ علیہ

شہر خاص نوہٹہ کے ہنگامہ خیزاور گنجان آبادی والے تاریخی محلے میں رہنے والے پُر جوش داعیٔ حق، سرگرم عالم دین، مخلص وبے ریا مُدرس اور توحید وسنت کی اشاعت کے لئے ہمہ تن وقف مولانا غلام نبی وانی صاحب حال ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اناللہ ونا الیہ راجعون۔ ان کی ہمہ پہلو شخصیت کی کئی ایک جہتیں ہیں جن کی پرتیں کھولئے تو ایک انسان آپ کی نگاہوں کے سامنے نمودار ہوگا جسے اللہ تعالیٰ نے حق وصداقت کی مشعل برداری کی توفیق سے مالا مال کر دیا تھا۔ اسی مناسبت سے مدرسہ  ٔمحمدیہ نامی ایک چھوٹا سا جز وقتی مدرسہ مولانا کی مساعیٔ جمیلہ کی زندہ وجاوید مثال  ہے ۔ یہ مدرسہ شہر خاص سری نگر کے دل میں مولانا غلام نبی وانی رحم اللہ (متوفی مئی2018ء) نے 1981ء میں ان پُر آشوب حالات میں قائم کیا تھا جب سری نگر میں خالص قرآن و سنت کی دعوت اس قدر عام نہ تھی جس قدر یہ آج متعارف ہے۔ یہ مدرسہ مولانا موصوف نے

مولانا غلام نبی وانی کا یادگار خط

  مورخہ: 28 اکتوبر 1996ء از مقام: سنٹرل جیل وارانسی (یو۔ پی) از طرف: اسیر زندان غلام نبی وانی عفی عنہ عزیز القدر جناب معید الظفرصاحب سلمہ اللہ تعالی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جس اللہ نے بندہ کو پیدا کیا، وہی حقیقی معبود ہے، جس رب کے سوا کسی کے آگے سجدہ کرنا حرام ہے ،وہی رب حقیقی مسجود ہے، جس معبود کے سوا تمام معبود باطل اور طاغوت ہیں، وہی حقیقی مقصود ہے، وہی لا شریک ذات ہے ،جس کا نہ زمین میں، نہ آسمان میں، نہ ملائکہ میں، نہ انبیاء ؑ میں، نہ اولیاء میں، نہ انسانوں میں، نہ جنوں میں، نہ زندوں میں اور نہ مردوں میں کوئی شریک ہے۔ تمام تعریفیں اسی کیلئے ہیں۔ بعدہ بے شمار درود وسلام میرے مرشد کامل، رہبر اعظم، سرور انبیاء ، ختم الرسل، جناب احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے کلام میں حلاوت ہے، جن کے پیام میں راحت ہے، جن کی اطاعت میں فلاح ِدارین ہے،

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال:۱-ماہ مبارک کا نزول ہوتے ہی مسلمان مرد وزن نوافل نمازوں کا بھرپور اہتمام کرتے ہیں۔کیا ہم نوافل نمازوں کے بجائے قضاء￿  شدہ نمازیں نہیں پڑھ سکتے ؟ اور جب دیکھا جائے تو ہزار میں سے ایک فرد ایسا ہوگا جس نے واقعی دس سال کی عمر سے نماز پنجگانہ پابندی کے ادا کی ہو۔ سوال:۲-اکثر مشاہدے میں آیاہے کہ اس بابرکت مہینے میں لوگ اذان فجر سے پہلے نوافل کے علاوہ نماز تہجد بھی پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں جب کہ ان میں سے اکثریت ایسے حضرات کی ہوتی ہے جو غیر رمضان میں نماز فجر کیا نماز عشاء￿  کے لئے بھی مسجد میں نہیں آتے۔  برائے کرم آپ بتائیں کہ مسلسل نماز تہجد اداکرنے سے یا کوئی بھی نفلی کام مسلسل کرنے سے ہم پر فرض تو نہیں بنتا۔ اگر بنتاہے تو کتنے دنوں تک کوئی بھی نفلی امر اپنانے سے وہ عمل ہم پر فرص بن جاتاہے ؟ سوال :۳-کیا روزے داروں کی وہ شخص ،جو خود روزہ دار نہ ہ

حوا کی بیٹی اسلام کی لاڈلی

غلام و باندی کے حقوق کے سلسلہ میں آپؐ کی فکرمندی کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اس دارفانی سے رخصت ہوتے وقت جو آخری کلام آپؐ کی زبان مبارک پر تھا وہ نماز کی حفاظت اور غلام و باندی کے حقوق کی حفاظت کے ہی متعلق تھا۔ حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ کی آخری بات (انتقال کے وقت) یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا ، نماز کا خیال رکھنا اور جو تمھاری ملکیت میں (غلام اور باندی) ہیں ان کے معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا‘‘۔ ( سنن ابو دائود، کتاب الأَدَب)۔ گویا کہ آپؐ کی آخری وصیت امت کو نماز اور باندی و غلام کے حقوق کی حفاظت کے سلسلہ میں ہی رہی۔   عورت بصورت بیوہ؍مطلقہ:   بیوہ عورتوں کو سماج میں بدنصیب، منحوس اور حقیر تصور کیا جاتارہا ہے حالانکہ ان کی بیوگی میں ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا، قدرت کی طرف سے وہ خود ایک بڑی آزمائش کا شکار ہوتی ہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  روزوں کے متفرق مسائل سوالات (۱) گردوں میں پتھری ہو تو کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۲) روزوں کے بدلے فدیہ کس فرد پر لاگو ہوتا ہے؟ (۳) معدے میں تیزابیت(Acidity)ہو جس کی وجہ سے دل میں جلن محسوس ہوتی ہے( Heart Burn) کیا اس صورتحال میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۴) جسم کے اندرونی حصہ میں السر (ulser)ہے، جس کی وجہ سے(Black Motion)ہوتی ہے ، کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۵) جو ماں بچے کو دودھپلاتی ہو روزوں کے متعلق ان کو شریعت کیا حکم اور کیا گنجائش دیتی ہے؟ (۶) کیا ہم روزوں کے درمیان اندام نہانی میں وہ دوائی رکھ سکتے ہیں جس کا مقصد لیکویریا کا علاج ہوسکتا۔ (۷) استھما کی بیماری میں Inhaler کا استعمال کرنے سے روزہ متاثر ہوتا ہے؟ (۸) کیا روزوں میں دریا میں تیرنے کی اجازت ہے؟ (۹) حاملہ عورت روزہ رکھ سکتی ہے یا نہیں؟ (۱۰) تمباکو نوشی ختم کرنے کے لئے رمضان بہترین مو

حوا کی بیٹی اسلام کی لاڈلی

 اگر عورتوں کو طلاق کا آزادانہ اختیار دیا گیا ہوتا تو آج کے دور کی بہت سی رذیل قسم کی عورتیں نکاح کو تجارت ہی بنالیتیں۔ ان کی نگاہیں مہر اور شوہر کے دوسرے اموال پر ہوتیں اور جب یہ چیزیں اس کے قابو میں آجاتیں تو وہ شوہر کو طلاق دے کر چل دیتیں۔ اس لئے اصولاً یہ بات درست سمجھی گئی کہ جس نے مال خرچ کئے ہوں اسے ہی طلاق کا آزادانہ حق ہو۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ عورتیں بنسبت مردوں کے وقتی تاثرات سے جلد مغلوب ہو جاتی ہیں، اس لئے اس میں ایک طرح کی حفاظت بھی ہے کہ کہیں وقتی تاثرات رشتوں کے انقطاع کا سبب نہ بن جائیں۔ دوسری طرف مردوں کو طلاق کا آزادانہ اختیار تو دیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی اس پر ناپسندیدگی بھی ظاہر کردی گئی ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے‘‘۔ (سُنن ابی دائود ، کتابُ الطَّلاق،

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال:۔ کشمیر میں بہت ساری خواتین نماز پڑھتی ہیں مگر بلا عذر بیٹھ کر پڑھتی ہے ۔بیماری کی وجہ سے مرد حضرات و خواتین بیٹھ کر نماز پڑھیں، تو اس کا مسئلہ اپنی جگہ ہے ۔ مگر ہم نے ایسی بہت ساری خواتین کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا ہے، جو صحت مند اور تندرست ہوتی ہیں اور سارے کام کھڑے ہو کر کر پاتی ہیں۔ چلنا پھرنا سب کچھ آرام سے ہوتا ہے مگر نماز پڑھنی ہو تو بیٹھ کر پڑھتی ہیں ۔اس نماز کا کیا حکم ہے؟ جمیل الرحمٰن ہندوارہ بلاوجہ بیٹھ کر نماز پڑھنا جواب:۔نماز میں جو امور فرض ہیں اُن میں سے ایک اہم امر قیام بھی ہے۔ اگر کسی نے بلا عذر قیام چھوڑ دیا۔ مثلاً بیٹھ کر نما زپڑھی تو وہ نماز ادا نہ ہوگی۔ اگر کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ پائے تو اُسے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ چنانچہ جناب رسول اکرم ﷺ نے اس پورے عرصہ میں بیٹھ کر نماز ادا فرمائی جب وہ گھوڑے پر درخت سے ٹکرانے کی بنا

ایک بزرگ ایک فاتح

طاقت‘شہرت ‘دولت اور اقتدار جب نشہ بن کر گندم کھا نے والے انسان کی رَگوں میںدوڑناشروع کرتا ہے توہواکا یہ جھونکا انسان کوفرعونیت میںمبتلا کرنا شروع کردیتا ہے ۔یہی نشہ ہندوئوں کے راجہ پر تھوی راج کو بھی لگ چکاتھا‘ غزنی کے سپہ سالار شہاب الدین غوری کو شکست کیا دی اُبلنا شروع کر دیا ‘ اقتدار کے نشے نے اُسے اندھاکر دیا ۔آنجہانی ماں نے جو نصیحت کی تھی کہ ایک مردِ درویش یہاں آئے گاتو اُس سے لڑنے سے گریز کر نا وہ غیر معمو لی انسان ہو گا جس کے ساتھ غیر مر ئی قوتیں بھی ہو نگیں اُس سے چھیڑ خانی نہ کر نا لیکن پر تھوی راج طاقت اوراقتدار کے نشے میں پے در پے اُس درویش باکمال کو تنگ کر رہا تھا ۔طا قت کے نشے میں جب ہندو راجہ نے درویش کے قریبی ساتھیوں پر ظلم و ستم شروع کیا تو حضرت خواجہ جی ؒ کاپیمانہ صبر چھلک پڑا‘ رنگ جلال آنکھوں میں لہرایا،حالت ِجذب میں فرمایامیں نے پرتھ

یتیم ویسیر اسلام کے لاڈلے

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے، اس میں معاشرے کے ہر فرد کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔ اللہ پاک نے کسی کو بے یار ومددگار نہیں چھوڑا۔ہر ایک کے لیے ایسے اسباب و ذرائع مہیا کردیے ہیں کہ وہ آسانی کے ساتھ اللہ کی زمین پر رہ کر اپنی زندگی کے دن گزار سکے۔ یتیم ونادار اور لاوارث بچوں کے بھی معاشرتی حقوق ہیں۔ ان کی مکمل کفالت ان کے حقوق کی پاس داری ہے اور اس سے منہ موڑلینا ان کے حقوق کی پامالی ہے۔ یتیم کے حقوق پر اسلام نے بہت زور دیا ہے۔ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں تیئس مختلف مواقع پر یتیم کا ذکر کیا گیا ہے جن میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک، اُن کے اموال کی حفاظت اور اُن کی نگہداشت کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اور اُن پر ظلم و زیادتی کرنے والے، ان کے حقوق و مال غصب کرنے والے کے لیے وعیدبیان کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :یتیم کا مال ناحق کھانا کبیرہ گناہ اور سخت حرام ہے۔

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :-آج شعبان کا مہینہ چل رہاہے۔ شعبان میں شب برات ایک اہم دن ہے۔ اس شب کے بارے میں کیا فضیلت ہے۔ اس بارے میں حدیثوں میں کیا بتایا گیا ہے۔ یہ احادیث کس درجہ کی ہیں۔ اس شب میں کیا کیا عمل کرنا چاہئے ؟ امت مسلمہ کاطریقہ عمل اس بارے میں کیا ہے ؟ ماسٹر محمدیعقوب  شب برات کی فضیلت اور اہمیت جواب:-شب برات کو احادث میں لیل من نصف شعبان یعنی ماہِ شعبان کی درمیانی شب کہاجاتاہے۔اس کی فضیلت کے متعلق بہت ساری احادیث ہیں۔جن میں سے چند یہ ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل ؓبیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جل شانہ شعبان کی پندرھویں رات میں اپنی مخلوق کی طرف خصوصی توجہ فرماتے ہیں۔ پھر اپنی تمام مخلوق (انسانوں)کی مغفرت فرماتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے شخص کے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ یہ حدیث کتاب السن ، صحیح ابن حیان ، مواردالظمٰان، شعب الایمان البیہقی،

معذوروں کے حقوق

 انسان کو خالق کائنات نے دنیا میں اشرف المخلوقات بناکر بھیجا۔ اسے قوت گویائی بھی عطا کی اور قوت سماعت بھی عطا کی ،قوت بصارت عطا کی تو دماغ کو نظام اعصاب کا مرکز بنایا۔ارشاد ِربانی ہے:ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔(سورۃ التین)سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد ہے:اور یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی‘‘۔ خالقِ کائنات نے نفس انسانی کو بہت عزت و تکریم اور احترام و احتشام سے نوازا ہے۔دینِ اسلام ہمیں انسانیت کی تکریم کا جو درس دیتا ہے، وہ رنگ و نسل اور مذہب وملت کی تفریق سے پاک ہے۔ انسان کا احترام اُس کے رنگ، اُس کی نسل، خاندان یا مذہب کے باعث نہیں، بلکہ انسانیت کا احترام اس کے انسان ہونے کے باعث ہے۔ نبی مکرم ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع میں انسانیت کو جو عزت اور وقار عطا کیا گیا ہے، وہ دنیا کا کوئی بھی دستور نہیں دے سکتا۔ آپﷺ نے فرمایا:اے بنی نوع انسان! تمہا

آدم و ابلیس کے دوکردار

اللہ نے آدم کو خلق کرکے ابلیس کو حکم دیا کہ وہ اسے سجدہ کرے۔ اس نے آدمؑ کو حقیر اور خود کو افضل کہہ کر انکارکردیا۔ اللہ نے اسے شیطان قرار دے دیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ’’میں تیرے اس انسان کو گمراہ کرکے دکھاؤں گا۔‘‘منظر بدلا۔ ابلیس نے پہلا معرکہ مار لیا، آدمؑ کو حوا کے ذریعے جنت سے نکلوانے میں کامیاب ہوگیا، دونوں اب دنیا میں آگئے۔ ابلیس جو کہ اب شیطان بن چکا تھا، پوری قوت سے آدم کے مقابل آگیا۔ جنگ شروع ہوگئی۔ شیطان تیز اور مکار تھا، انسان کی کمزوریوں سے بھی واقف تھا، اس کے پاس اسے زیر کرنے کے لیے تمام ہتھیار بھی موجود تھے۔ لہٰذا اس نے پے درپے وار کرنا شروع کئے۔اللہ نے آدم کی مدد کے لیے اسے ہدایات و پیغامات بھجوانے شروع کیے، شیطان کے حربوں سے بھی آگاہ کیا مگر شیطان انسان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ایک ایک کرکے سب کو تیزی سے قابو کرنے لگا اور چند کے سوا سب