تازہ ترین

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

  عشق ِپیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم میں نفس کے لوہے کو عبادت ، اخلاق، عمل، زہد وتقویٰ، توکل ، صبر واستقامت اور انفاق فی سبیل اللہ سے موم کر نے والے محمد بن ادریس الشافعیؒ کی ابتدائی زندگی عسرت وتنگ دستی میں گزری۔ لوگ پوچھتے یہ کیا حالت ہے ؟فرماتے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہیں سنا: ’’دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے ایک غریب شخص یا مسافر ہواور خود کو یہ سمجھتے رہو کہ ایک روز قبر میں جانا ہے‘‘۔ اس حدیث پر غور کریئے تو دنیوی لذات ومکروہات کی خواہش خود ہی جاتی رہتی ہے ، لیکن جب اللہ نے امام شافعیؒ کو دولت ِ دنیا عطاکی تو اپنا مال وزر غریبوں اور محتاجوں پر بے دریغ خرچ کر تے کر تے بہ صد مشکل اپنے مصارف کے لئے ایک چوتھائی چھوڑتے۔ ایک موقع پروقت کے اکابر علماء نے پوچھا حضرت اوروں پر اس قدر کیوں خرچ فرماتے ہیں؟ جواب دیا ہم اتباع ِ سنت کر تے ہیں

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہمارے اس معاشرے میں ہر ُسو فاحشات، منکرات اور دیگرجرائم کا سمان روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ دخترا ن قوم کے حساس طبقے کیلئے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ وقت اور زمانہ اُن سے آگے بڑھنے کیلئے مروجہ تعلیم اور دیگر علوم اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور استفادہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ انکی کے اندرکی فطری صلاحیتوں اور قابلیت میں نکھار آسکے اور اپنے گرد ونواح اور سماج میں اپنا مطلوبہ مقام حاصل کرسکیںلیکن بدقسمتی سے انہیں اپنا ’’ اصلی مقام‘‘ اور عزت اور وقار برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں بہت ساری رکاوٹیں حائل رہتی ہیں۔جن کے  ساتھ اُن کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے وہ باطل نظریات اور مغربی تہذیب سے اس حد تک متاثر ہو چکی ہیں کہ حساس اور دین پسند خواتین کا اس ماحول میں عملاًPrecticallyاس جھنجھٹ سے بچ نکل کر آگے بڑھنا اگرچہ

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!قسط؛57

  تاریخ ِاسلام کا ہر سنہری ورق اصل میں محبت النبی صلی ا للہ علیہ وسلم کا آئینہ دار ہے، ایمان کا راس المال ہے ، نیک عملی کے لئے مہمیز ہے ، ایثار وخدمت کے لئے قوتِ نافذہ ہے ، مومنانہ زندگی کے لئے  سامان ِ آرائش ہے ۔ حُب رسول ؐ ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے ، اس میں تھوڑے سے افراط وتفریط کی آمیزش ہوئی تو یکدم ایمان مشتبہ ، عقائد نادُرست ، اعمال بے نتیجہ اور یقین غارت ہوا ۔کوئی بھی حکیم ِحاذق اس آفت سے خطاکار کونہیںبچاسکتا بجز اس کے کہ خاطی خود اللہ کے حضور اشک اشک ہوکر توبہ و استغفار کرلے ۔ محمد عربی ؐ کی عظمت ِشان اور علویت ِ مقام کی ایک مبرہن دلیل یہ بھی ہے کہ انسان تو انسان عشق ِمحمدی ؐ میں جمادات و نباتات بھی سر شار ہیں ۔ چناںچہ جب آپ ؐ کا وصال ہو ا تو خلیفہ ٔ دوم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حالت ِوجد وشوق میں رورو کر فرمایا : میرے ماں باپ آپ ؐ پر فدا ہوں ، اے اللہ کے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ قران کریم میںحکم ہے کہ استعمال کی چیزیں ایک دوسرے کو دیا کرو۔ آج کل انسان کے پاس قیمتی مشینیں اور آلات ہوتے ہیں۔ جن کے استعمال میں کلی یا جزوی سطح پر تکنیکی تربیت یا تجربہ درکار ہوتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں اگر ان چیزوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو کیا جانا چاہئے تاکہ حکم قران کی عدولی نہ ہو اور نقصان سے بھی چاجاسکے۔ قران وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں؟ احمد کشمیری۔۔۔۔ ٹنگمرگ گھریلو استعمال کی چیزیں.......مانگنے و دینے کی صورتیں اور قرانی و عید   جواب:۔ قران کریم میں ایک جگہ بڑی خرابی کی وعید ویلُ‘ کے لفظ سے بیان کی گئی ہے اور یہ خرابی نمازوں میں سستی کا ہلی غفلت اور اوقات کی پابندی نہ کرنے والوں کے لئے ہے اور ریاکاری کرنے والوں کے لئے ہے اور یہ خرابی اُن لوگوں کے لئے بھی ہے جو ماعون کو روکتے ہیں… سورہ الماعون ماعون کی دو تفسیریں ہیں,ا

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

                 شوق کے پنچھی کو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میںسوختہ جاں برصغیر کی ایک مشہورہستی نظر آئی۔۔۔ یہ شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ ہیں۔۔۔ والہانہ محبت النبی میںغرق، اسم محمدؐ سے د ہر میں اُجالے کا متمنی ، مدحت ِمحمدی ؐ میں رطب اللسان، اسوہ ٔ حسنہ کا شیدائی ، رحمتہ اللعالمینی کا خوشہ چین ، اتباعِ رسولؐ پر بصد جان فدا، جمالِ پیغمبرؐ کا مصور ، کمالِ دین کا پیام بر، اُمت کی غفلتوں پر دیدہ ٔ تر۔  علامہ کا منہج ومسلک ِعشق رسول ؐکا اجمالی تعارف    ؎  صدقِ خلیل ؑ بھی ہے عشق ، صبر حسینؓ بھی ہے عشق معرکۂ وجود میں بدروحنین بھی ہے عشق  اقبال کو چہار سُو عشق ہی عشق نظرآتاہے   ؎  عشق دم ِجبرئیلؑ ، عشق دلِ مصطفیٰؐ  عشق خدا کا رسولؐ ، عشق خدا کاکلام   دو اہم واقعات علام

شعر کیا ہے؟

فارسی اور اردو میں شعر و شاعری سے متعلق ، عموماًً عربی روایات و نظریات کی ہی پیروی ہوتی رہی۔لیکن ماحول ، معاشرہاور عصری تقاضوں کے تحت نظریہ شعر میں ترمیم و اضافے بھی کئے گئے ۔ ایک عرصہ تک  یہ مانا جاتارہا تھا کہ فارسی میںایران کی آخری درباری زبان ’’پہلوی ‘‘سے قبل ’شعر‘ کا وجود نہیں تھا لیکن عصر حاضر کے مستشرق ثابت کر رہے ہیں کہ قدیم فارسی ،یعنی ’گاتھا‘،اوستا،ژندکی وغیرہ زبانوں میں شعر کے نمونے موجود تھے ۔ اس لئے یہ مفروضہ درست نہیں کہ پہلوی (فارسی )زبان میں ’شعر ‘عرب اور عربی زبان کے اختلاط کے بعد پیدا ہوا ۔بہر حال فارسی میں شاعری کے آغاز و ارتقاکی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں البتہ اتنا اشارہ ضروری ہے کہ فارسی میں نظامی عروضی سمرقندی (چہار مقالہ ۔۵۲۔۵۵۱ھ)رشید الدین وطواط (حدائق السحر فی دقائق الشعر(۶۸۔۵۵۱ھ)امیر عنصر

مشرقِ وسطیٰ : بے ثبات وبے جہت!

 مترجم : محمد ابراہیم خان مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میںسال۲۰۱۱ء اور ۲۱۰۲ء کے دوران عوامی بیداری کی لہر اْٹھی جسے عرب بہاریہ کا نام دیا گیا۔ تیونس سے شروع ہونے والا یہ پُرجوش سلسلہ مصر، لیبیا اور مراکش تک پہنچا۔ تیونس کے بعد سب سے زیادہ مصر متاثر ہوا، جہاں لوگ بڑے پیمانے پر تبدیلی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک سال سے بھی زائد مدت تک پورے ملک میں افراتفری کی کیفیت رہی۔ حسنی مبارک کا طویل اقتدار ختم ہوا اور انتخابات کے نتیجے میں اخوان المسلمون کی ہم خیال جماعت فریڈم اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کامیاب ہوکر اُبھرگئی۔ محمد مرسی مصری قوم صدر منتخب ہوئے مگر بہت جلد پھر یہ ہوا کہ سیاسی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مصر کی منظم فوج نے عوام کی رائے پر شب خون مارا، مرسی کی منتخب حکومت کو ختم کرکے جنرل السیسی کی کٹھ پتلی حکومت قائم، محمد مرسی کو گرفتار کرکے ان پرغداری اور قتل و غارت کا مقدمہ چلایا ۔ یہ

حاجی ا لحرمین سے

اللہ اکبر ۔۔۔۔وہ کون سا گھر ہے آپ کی نگاہیں جس کی دیوار وں کی بلا ئیں لے کر پلٹی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں آپ کا جسم بھی طواف میں تھا اور آپ کا دل بھی ۔۔۔۔۔۔دنیا کے بت کدوں میں کل بھی وہ پہلا گھر تھا خدا کا اور آج بھی ہے۔ دو چار صدیوں کی بات نہیں بلکہ دنیا کا سب سے پہلا عبادت خانہ بنی آدم میں کسی کے حافظے میں اس وقت کی یادیں محفوظ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!! اس طویل عرصے میں بے حساب مندر تعمیر ہوئے ،لا تعداد گرجے آباد ہوئے ‘ کیسے کیسے انقلابات سے یہ زمین آشنا ہوئی، کیسی کیسی بلندیاں پستیاں ہوئیں ‘ کون کون سی تہذیبیں اُبھریں اور مٹیں ۔۔۔۔چاہے مصر وبابل ہوں یا روم و ایران لیکن عرب کے ریگستانوں میں چٹانوں اور پہاڑوں کے وسط میں سیاہ غلاف میں لپٹی یہ عمارت جس کو رب نے ’’اپنا گھر ‘‘ کہا ،اس کو زمانے کاکو ئی طوفان ، کوئی انقلاب ، کوئی زلزلہ اپنی جگہ سے نہ ہلا سکا ۔۔۔

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

    شوق کا پنچھی محبت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار شمع ِرسالت مآبؐ کے ا یک ا ور پروانے کی ہست وبود کو اپنی مشتاقانہ نگاہوں سے دیکھ رہاہے۔ یہ سر سید احمدخان ہیں۔۔۔قلبی آرزو یہ ہے کہ مسلمان کے ایک ہاتھ میں فلسفہ ہو ، دوسرے ہاتھ میں سائنس ہو اور سر پہ کلمہ طیبہ کا تاج ہو۔۔۔ ہندی مسلمانوں کا محسن ، قوم کی ناخواندگی کو علم و آگہی کے نور سے بدل دینے والامرد ِ دُرویش، دانش ِحاضر سے ملت کے احیاء نو کا مخلص داعی ۔۔۔ اُن کے نہاں خانہ ٔ قلب میں واحد تڑ پ کہ مسلمانانِ وطن کے تن ِمردہ میں کیسے جان ڈالی جائے، یہی ایک دُھن ہر لمحہ ذہن پر سوار ہے، یہی متاعِ فقیر ہے، یہی روز وشب کا وظیفہ ٔ حیات ۔ سر سید تاڑ رہے ہیں کہ 1857ء کے مابعدانگریز سامراج کے زیر تسلط مسلمانان ِ وطن زندگی کے دھارے سے بالکل الگ تھلگ پڑے ہیں ، نہ ان کا کوئی وقار ہے نہ کوئی ا عتبار، معتوب بھی ہیں مقہور بھی ہیں

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:- ہر سال ماہ فروری یا مارچ میں میں ملازمین انکم ٹیکس سے متاثر ہوتے ہیں او رطرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ حکومت نے اس میں مختلف اقسام کی چھوٹ دے رکھی ہے بشرطیکہ درج ذیل مدوں میں کچھ خرچ کیا گیا ہو ۔ جی پی فنڈ، لائف انشورنس ، ہائوسنگ لون ، صرف دو بچوں کی اسکولی ٹیوشن فیس ،بینک یا ڈاکخانہ پالیسی۔ کچھ رقم کی چھوٹ مہلک و خطرناک بیماریوں کے خرچے وخواتین ملازم کے میک اَپ خرچہ پر دی گئی ہے۔ بہت سارے ملازم انکم ٹیکس سے بچنے کے لئے مندرجہ ذیل راستے اختیار کرتے ہیں۔ (ا)۔کسی سودی لائف انشورنس ادارے یا بینک، ڈاکخانہ میں مطلوبہ رقم جمع کرواتے ہیں۔ (۲)۔کچھ نا م نہاد فلاحی اداروں میں معمولی رقم جمع کرکے بڑی رقوم کی جعلی رسیدیں حاصل کرکے انکم ٹیکس سے چھوٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ (۳)۔برادری کے ناطے یا تھوڑی بہت رقم دے کر نقلی میڈیکل رپورٹیں حاصل کرکے انکم ٹیکس

اُم الخبائث!

 وادی ٔ کشمیر کے بارے میں یہ حد درجہ تشویش ناک اطلاعات گشت کررہی ہیں کہ یہاں شامت اعمال سے شراب نوشی اور شراب فروشی کا گراف بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ ام الخبائث کے بارے میں یہ منحوس خبریں ہمیں کیا کیا چیتا ؤنیاں دے رہی ہیں، کوئی حساس دل ، بااخلاق اور شائستہ ذہن ہی اُس فہم و کا ادراک کر سکتا ہے۔ اس بارے میں دستیاب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ برس شراب کی 15 ؍لاکھ 33؍ ہزار شراب کی بوتلیں فروخت ہوچکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ برسوں کے مقابلے میں شراب نوشی میں 30؍ فی صد کا اِضافہ ریکارڈ درج کیا گیا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ لداخ میں شراب نوشی کے گناہ ِ کبیرمیں واضح طور کمی نظر آرہی ہے جو واقعی ایک خوش آئندہ امر ہے جب کہ وادی میں حالت اس کے برعکس ہے۔ مقامی ماہرین نفسیات بتاتے ہیں کہ اس کر یہہ الصورت نشہ بازی میں بہت سارے بچوں او رزیادہ تعداد میں نوجوان ملوث ہیں۔ رونگٹھے کھڑے کرنے

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ

نبی برحق ،سرور ِ کائنات ،فخر موجودات حضرت محمد مصطفیٰ صلی ا للہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’میرے صحابی ستاروں کی طرح ہیں ،اگر ان کی پیروی کروگے تو منزل ِہدایت کو پہنچو گے۔‘‘بلاشبہ یہ صحابی ایمان کی بلندیوں پر ستاروں کی طرح چمکے اور اُفق اسلام پر آفتاب کی طرح تاباں دکھائی دئے۔حضرت ابو بکر ؓ کا شمار بھی انہی آفتاب ہائے ہدایت میں ہوتا ہے،جن کی صنوفشانی ہمیشہ دلوں کو منور کرتی رہے گی اور جن کی چمک دمک سے رہتی دنیا تک اسلام کا بول بالا رہے گا ۔آپ ؓ کا نام عبداللہ اور کنیت ابو بکر تھی۔والد کا نام عثمان بن عامر تھا جو شرفائے مکہ میں سے تھے۔اسلام کے بارے میںاُن کے خیالات بھی اچھے نہ تھے البتہ فتح مکہ کے ساتھ ہی وہ اپنے بیٹے صدیقؓ کے ساتھ دربار رسالت ؐ میں حاضر ہوکر اسلام میں داخل ہوگئے ۔حضرت ابو بکر ؓ کی والدہ کانام سلمیٰ تھا اور کنیت اُم الخیر ،اُن کی والدہ کے خاندان

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ درج زیل سوالا ت کے جوابات عنایت فرمائیں؟ (۱) اخبارات میں قرآن شریف کی آیات نقل کرنا کیسا ہے ۔12مارچ کے ایک مقامی روزنامہ میں ایک اچھا مضمون شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ آیت عربی متن کے ساتھ نقل کی گئی ہے جس کا ترجمہ یہ لکھا ہے۔ اے ایمان والو اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان اور پتھروں ہونگے۔ اس پوری آیت کی عربی عبارت درج ہوئی۔یہی اخبار ردی میں ڈالا جائے گا تو لازماً قرآنی آیت کی توہین ہوگی۔ ابھی کچھ دنوں پہلے کسی کے موت کی خبر دی گئی۔ ا س میں قرآن کی آیت بھی نقل کی گئی، جس کا ترجمہ یہ ہے، ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ اخبار تمباکو والے کے پاس تھا اور اس نے تمباکو کی پڑیا بنائی۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے وہ تحریر فرمائیں؟ ایک شہری اخبارات میں قرآنی آیات اور احادیث کا ترجمہ شائع کرنے کی ضرورت   جواب:۔ اہل علم و ا

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں! قسط۔۔۔54

  مکتبتہ المکہ صفا مروہ کے متصل باب السلام کے سا تھ ہے جہاںرسول اکر م صلی ا للہ علیہ وسلم کا آبائی دولت خانہ موجود ہے جو آپ ؐ کی جائے ولادت ہے۔ ( واللہ اعلم ) عوام وخواص میں یہی مشہور ہے کہ یہ وہ مقدس ومتبرک مقام ہے جہاں پیغمبراسلام صلعم نے بی بی آمنہ کے بطن مبارک سے جنم پالیا۔ چشم ِ تصور میں لایئے وہ گھڑی کتنی بابرکت اور کتنی عظمت والی تھی جب اس مولد پاک میں آپؐ کے انفاسِ مبارک سے اس کے درویوار معطر ومطہر ہوئے۔آپؐ کا ظہور قدسی انسانی دنیا پر ربِ کریم کا دائمی عطیہ ہے۔ یہ کیا کم ہے کہ خدا ئے متعال نے اس حجرے کو یہ لاثانی و لافانی زینت بخشی کہ رسول لولاکؐ یہاں جلوہ گر ہوئے۔ اللہ نے اس عطر بیز جلوہ گاہ میں نور سرمدیؐ کا استقبال کرا نے کے لئے کرۂ ارض کو بہت بہت انتظارکروایا، بزمِ عالم سجائی، رونق ِجہاں بڑھائی، آتش کدہ ٔ کفر و الحاد کو بجھا دیا ، خم خانہ شرک و بدعت کوڈھا دیا، چ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

     سوال: گم شدہ یا گری پڑی چیز اٹھانا لقطہ کہلاتا ہے ، اس کے شرعی احکام مختصراً بیان فرمائیں؟ ارشد خان رعناواری سرینگر گمشدہ چیز اٹھانے کے متعلق شرعی احکام جواب:۔شریعت اسلامیہ میں لقطہ گری پڑی چیز کو حفاظت کی نیت سے اُٹھانا اور مالک تک پہنچانے &  Full Story    سوال: گم شدہ یا گری پڑی چیز اٹھانا لقطہ کہلاتا ہے ، اس کے شرعی احکام مختصراً بیان فرمائیں؟ ارشد خان رعناواری سرینگر گمشدہ چیز اٹھانے کے متعلق شرعی احکام جواب:۔شریعت اسلامیہ میں لقطہ گری پڑی چیز کو حفاظت کی نیت سے اُٹھانا اور مالک تک پہنچانے  نیت کرنے کا نام ہے۔ حدیث میں اس کے متعلق واضح ارشادات بیان کئے گئے ہیں ۔مثلاً ایک حدیث یہ ہے ۔ حضرت ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک تھیلی ملی اس میں سو دینار تھے( ایک دنیار تقریباً ایک پائونڈ ) میں ح

بازیچہ ٔ اطفال ہے کشمیر مرے آگے

 بازیچہ ٔ اطفال ہے دنیا میرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے ہم تو اہل کشمیر ہیں اور دنیا ہمارے لئے ٹنل سے سادھنا ٹاپ تک سمٹ گئی ہے ۔یہ اور بات کہ کہنے کو تو دھرتی کے جنت میں رہتے ہیں۔جنت میں رہتے ہیں شاید اسیلئے ہمیں زندہ تصور نہیں کیا جاتا  کہ چلو جنت کے لالچ میں مار ہی دو۔ لیکن زرا غور سے دیکھو تو پتہ چلے گا کہ ہم تو بازیچہء اطفال کے باسی ہیں ۔ہم کیا ہماری وقعت کیا ،ہماری حیثیت کو  تو باسی سمجھا جاتا ہے ۔اور چونکہ بازیچہء اطفال میں قیام پذیر ہیں اسلئے ہمیں کھلونوں سے بہلایا گیا ہے۔جھوٹے وعدوں سے ٹرخایا گیا ہے۔ہلکی تھپکیوں سے نہیں بلکہ تیز تھپڑوں سے سہلایا گیا ہے۔خون ناحق میں نہلایا گیا ہے۔کھلی سانسوں کے لئے ترسایا گیا ہے۔ہمیں تو یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ آپ تو عوام ہیں اور  سرداری آپ کا حق ہے۔اور ہم ہیں کہ کہنے والوں کے دام فریب میں آتے گئے ا

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

 نوٹ:اللہ کا بے شمار شکر وثنا ء کہ آج مجھے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں حج ڈائری کی پچاسویں قسط لکھنے کی توفیق مل رہی ہے۔مجھے اس بات کاعجز وانکساری کے ساتھ اعتراف ہے کہ مجھ ایسے علم ِدین سے بے بہرہ اورعمل سے تہی دامن ایک کم مایہ شخص نے اس کام کا بیڑہ اُٹھایا جو آج تک ملت کے بر گزیدہ علمائے کرام اور اہل ِدانش نے بخوبی سر انجام دیا ہے ۔ میں کوئی عالم دین ہوں نہ اسلامیات یاعربی کی کوئی شدھ بدھ ہے ، بجز اس کے کہ اسلام کے وسیع ترین موضوع پر اردو اور انگریزی کی چند ایک کتابوں کا مطالعہ کیاہے۔ یہی کچھ متاعِ فقیر ہے۔ میں نے ابتداء ً عمرہ وحج یاداشتوں پر قلم اٹھاتے ہوئے اسے دوپانچ قسطوں میں سمیٹنے کا سوچا تھا مگر جوں جوں آگے بڑھا پیغمبر اسلام صلی اللہ کی سیرت ِمقدس کے تاب ناک مکّی اوراق میرے سامنے کھلتے رہے اور میں نے قارئین ِکرام تک انہیں پہنچانے کا نیک ارادہ کرلیاتاکہ مکہ کے دورِ کشمکش ا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال:۔ نکاح کی غرض سے لڑکے اور لڑکی کی طرف سے جو ’’ وکیل‘‘ اور شاہد مقرر کئے جاتے ہیں اُن پر لڑکی اور لڑکے سے کس قسم کے سوالات پوچھنے فرض ہیں اور کن الفاظ میں پوچھ تاچھ کی جاسکتی ہے؟ سوال:۔ ہمارے امام صاحب نماز میں الحمد شریف میں( غیر المغضوب علیہم ولا الضالین) کے بجائے ( ظا) کی آواز کرکے پڑھتا ہیں ہمارے یہاں لوگ زیادہ تر ’’ ضا‘ کا استعمال کرتے ہیں اس لئے امام صاحب( ضا) کے  بدلے میں(ظ) کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے مقتدی کے دل دکھی ہوجاتے ہیں۔اب امام صاحب سے کئی بار کہا گیا لیکن وہ زیادہ ہی اظہار کرنے لگے مہربانی کرکے تفصیل سے ہمیں شریعت اور سنت کے حوالے سے سمجھائے؟ شبیر احمد لون نکاح خوانی سے قبل وکیل اور گواہوں سے پوچھنے کی چند باتیں جواب:۔ نکاح میںلڑکے یا لڑکی کی طرف سے جو وکیل ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے یہ معلوم ک

آقائے دوجہاں ﷺ

 روایات میں آیاہے کہ شاہِ یمن تبع حمیری نے ارض مقدس حجاز کی طرف لشکر کشی کی۔ حجاز کی شام گلفام ابھی آخری پیغمبر صلی ا للہ علیہ وسلم کے دیدارسے محروم تھی۔ شاہِ یمن نے ملک گیری کی ہوس میں خانۂ کعبہ کا محاصرہ کیا۔ اسے فتح کی امید تھی لیکن شانِ قدرت دیکھئے وہ اپنے عزم میں نامراد رہا اور فتح کا منتظر، اہل ِدانش نے اُسے سمجھایا کہ یہ خانۂ خدا ہے باز آ۔ آخر وہ تائب ہو کر سوئے طیبہ(قدیم نام یثرب) چل دیا۔ ساتھ اس کا لشکر جرار تھا۔ فصیل شہر کے قریب اس نے ڈیرہ ڈالا۔ آس و امید لگائے تاک میں رہا، لیکن تمام تدبیریں ناکام ہوئیں، وہ اُلجھنوں میں پریشاں تھا کہ مہینوں بیت گئے، نہ رسد کا انتظام نہ فتح کا پیغام۔ اس نے سوچاکہ کیا کیاجائے۔ حیرت و استعجاب میں غرق تھا کہ اس کی نگاہ کھجور کی گٹھلیوں کے ڈھیر پر پڑی، اس کے دریافت پر اہل لشکر نے کہا کہ روزانہ مدینہ کی فصیل سے کھجوروں کے تھیلے ہماری جا

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

پیغمبر اسلام صلی ا للہ علیہ وسلم مکہ معظمہ کا ہمہ وقت امتحان خلوص استقامت ، ایثار توکل کی تمام تر بلندیاں اور رفعتیں چھوتے ہوئے کامیابی سے دیتے ہیں، طائف کی کڑی آزمائش کا سامنا لا مثال عزم وحوصلے سے کر تے ہیں، تب جاکر ملاء اعلیٰ کی سیاحت میں لقاء اللہ کا وہ اعزازِ فضیلت محبوبیت پاتے ہیں جو اولین وآخرین میں صرف اور صرف آپ ؐ کے لئے مخصوص ہے۔ آپ ؐ ایک ارمغان ِاحسان وسرور یا اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک ۔۔۔ نماز۔۔۔ کو اُمت کے واسطے خدائی ڈا لی لاکر فرماتے ہیں کہ نماز مومن کی معراج ہے ، یعنی مومن کے لئے دن میںاپنی تمام شرائط کے ساتھ پنج وقتہ نماز کا اہتمام لقاء اللہ کے پانچ مواقع عطاکرتا ہے ۔ مکہ میں امتحان کا پہلا پر چہ اب اپنے اختتام کو آیا چاہتاہے ، اب ربِ کریم آپ ؐ کے دست ِ حق پرست میں دوسرا پرچہ تھما دیتاہے۔ یہ پر چہ بالفعل مسلمانوں کے لئے ایک کڑی آزمائش ہے اور بے نیاز اللہ کو دیکھنا ی