تازہ ترین

عید

عید کی آمد آمد تھی اور لوگ باگ زور و شور سے عید کی تیاریوں میں مصروف تھے۔گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر کر صبح صبح ہی ریشما نے بھی بازار کا رخ کیا۔ اس کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی دروازے پر دستک ہوئی ۔عرشی جو گھر میں اب اکیلی تھی ،نے دروازہ کھولا توباہر موجودبرقعہ پوش خاتون نے اس کو بے ساختہ گلے لگایا،کئی بار اس کا ماتھا چوما اور چاولوں سے بھرا تھیلا جو وہ ساتھ لائی تھی اٹھا کر عرشی کے ساتھ ہی اندر داخل ہوگئی۔ ’’ بیٹی۔۔۔۔۔۔تمہاری امی کہاں ہے؟‘‘ ’’وہ بازار گئی ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ کون ہو؟‘‘ ’’تمہاری آنٹی ہوں نا، کئی بار جو یہاں آئی ہوں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ ’’ لیکن امی کہتی ہیں کہ میری کوئی آنٹی نہیں ہے ‘‘۔ عرشی نے اس کی بات کاٹ کر معصومانہ لہجے میں کہاتو وہ یکا بکا ہو کر رہ گئی۔ &rsq

اخلاق کا جادو

 شہر سے دور گاؤں میں ایک چھوٹے سے گھر میں ایک بزرگ رہتے تھے جو مذہبی عقائد،خوش اطوار ، اخلاق وعادات سے لبریز شخصیت کے مالک تھے۔ان کا ہر عمل ہر فرد کے لئے ایک دعوت تھاغرض انکے شب وروز عبادت و ریاضت کا مجموعہ ہوا کرتے تھے۔  گاؤں کی فضا میں مکمل سناٹا چھایا ہوا تھا۔چانداپنی روشنی کا دیا لئے ہوئے پورے گاؤں کی زمین پر چاندی کی چادر ڈھانپ رہا تھا اور بادلوں کی اٹکھیلیاںاس چادر پر اپنے تاثرات بکھیررہی تھی۔ قدرت کا یہ نظارہ دیکھتے ہی بنتا تھا۔   سامنے مکان کا دروازہ پوری طرح سے کھلا ہوا تھا گویا وہ کسی کا منتظر تھااور کسی بھی راہ گیر کو اپنی طرف راغب کرسکتاتھا۔ مکان سے نکلتی ہوئی ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی روشنی چاندنی رات میں بھلی معلوم ہورہی تھی۔آ دھی رات کے قریب ایک شخص کا گزر اس طرف ہوا۔خوبصورت ماحول سے یہ شخض بھی راہ چلتے اسکی طرف متوجہ ہوگیا۔ اسکا دل بھی اس مکان

تعمیرِ مسجد کے لئے۔۔۔

لڑکی کی شادی کیلئے سامان  و غیرہ خریدنے کے لئے کو ئی روپیہ پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ سخت پریشان تھااورکو ئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ وہ اِس لئے بھی پریشان تھا کہ بڑی مشکل سے غریب لڑکی کے لئے کوئی لڑکا اور اُس کے والدین شادی کے لئے  راضی ہو گئے تھے۔ وہ اکثر دیکھتا تھا کہ درس گاہوں کے سفیر حضرات چندہ اکھٹا کرنے کے لئے جگہ جگہ پھر کرتے ہیں۔تعمیر ِ مسجد ۔درس گاہ اور مسجدکے لئے اضافی کمرے تعمیر کرنے کے لئے لوگوں سے چند مانگتے ہیں اور لوگ بڑھ بڑھ کر دیتے ہیں۔ کافی سوچ بچار کے بعد اُس نے فیصلہ کیا کیوں نہ وہ بھی مسجد شریف کے نام لوگوں کے سامنے دامن پھیلانے اور چندہ جمع کرے۔ چنانچہ وہ ’تعمیر ِ مسجد تعمیر ِ مسجد‘۔۔۔ کی صدا دیتا گیا۔کسی نے پانچ  تو کسی نے دس اور کسی نے پچاس روپے دیئے۔دِن میں جتنے روپے جمع ہوئے اُس نے اُن سے دُلہن کے لئے ایک سوٹ سِلوایا۔دوسرے روز ا

زاہد مختار کا افسانہ پہلاچہرہ

عام طور پرعلامتی افسانوں میں کردار کے داخلی کرب اور خارجی انتشار کا تصادم ظاہر کیا جاتا ہے۔یہ نفسیاتی کشمکش کاایک ایسافن کارانہ اظہار ہوتا ہے جس میں وجودی کرب ‘ احتساب یاداخلی بحران کے پیش نظر انسان یا کردار کے ذہنی مسائل یا تناؤ کو تخلیق کا حصہ بنایا جاتا ہے۔افسانہ علامتی ہو یا تجریدی‘ اس کے متن میں الفاظ کے لغوی ‘ظاہری اورمنطقی معنی کے علاوہ کئی اور معنی بھی پوشیدہ ہوتے ہیں جو افسانے کی مجموعی فضا کو سمجھنے سے ہی قاری کے سامنے کھل جاتے ہیں لیکن اس قسم کی فضا سازی کاپورا انکشاف قاری کے لئے سخت ذہنی چیلنج کے مترادف ہوتا ہے۔اردو میں اس قسم کی صورت حال انتظار حسین ‘خالدہ اصغر‘انور سجاد ‘منشا یاد‘غلام الثقلین ‘عبدالصمد‘سلام بن رزاق‘ دیوندرا سرا‘بلراج مینرا ‘ سریندر پرکاش‘کمار پاشی ‘احمد ہمیش ‘مظہرال

قلم کار

میرا نام اکرم شہباز ہے ۔ وہی شہباز جسے بر صغیر کا بڑا قلم کار مانا جاتا ہے ۔ وہی شہباز جس نے چھوٹی عمر میں ہی نام کمایا ۔ میں وہی شہباز ہوں جس سے ملنے کی لوگ تمنا کرتے ہیں ۔ اگر میں حاصل شدہ انعامات کی گنتی کروں تو شائد آپ دنگ رہ جائینگے میں دو درجن کتابوں کا مصنف ہوں ۔ جن میں تین کتابیں ایسی بھی ہیں جن کی بدولت میں کروڑ پتی بنا ۔ میں نے مضامین لکھے، افسانے لکھے اور انشائیے بھی، جو بہت مقبول ہوئے۔میں نے شعرو شاعری میں بھی کوشش کی تھی لیکن کامیاب نہیں ہو پایا ۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب میں لکھ لکھ کے اپنی ڈائری بھرا کرتا تھا ۔ ایک دن میں نے ایک مقامی اخبار کے لیے کچھ لکھنا چاہا ۔ میں چاہتا تھا کہ میرا نام بھی اخباروں میں آجائے۔ اس کے لیے میں نے ایک اچھی تحریر کا انتخاب کرنا چاہا ۔ میں نے اپنی تمام تحریریں چھان لیں ۔ اور کافی کوشش کے بعد افسانہ ’لکیر‘  منتخب کیا اور مقامی

زندگی کے رنگ

وہ بچپن سے تنہا تھی۔ ساتوں رنگت، پست قد اور موٹے موٹے خد و خال۔ البتہ آنکھیں اس کی بہت خوبصورت تھیں، جن میں دنیا بھر کی معصومیت تھی۔وہ گھر میں چار بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ اسکی تینوں بہنیں بہت خوبصورت تھیں جسکی وجہ سے وہ ہمیشہ گھر اور باہر ہر جگہ توجہ کا مرکز بنتیں تھیں۔ کبھی کبھی وہ اپنے ہی گھر میں مذاق اور طنز کا نشانہ بنتی۔ جب بھی اس کا ذکر ہوتا تو اس کی بہنیں ہمیشہ ناک چڑھا کر بولتیں کہ پتہ نہیں کس پر گئی ہے، جیسے ہمارے خاندان سے ہے ہی نہیں۔ یا ماں نے کہیں سے اٹھا کے لایا ہو۔ طنز کے تیر سہہ سہہ کر اس کے دل پر کیا بیتی تھی یہ وہی جانتی تھی۔  اس کی بہنیں اس سے نفرت نہیں کرتی تھیں لیکن اسے اپنی بہنوں سے وہ اپناپن اور پیار بھی نہ ملا جس کی وہ حقدار تھی۔ اس کی شکل و صورت کی وجہ سے اس کی ہم عمر لڑکیاں بھی اس سے دور دور ہی رہتی تھیں،جس کی وجہ سے اس کی کوئی دوست بھی نہ بن پائی۔

۔100لفظوں کی کہانیاں

پیارا کتا ٹیلی فون کی رِنگ سے ڈاکٹر وکاس جین کا گھر گونج اٹھا۔ اداس چہرا لیے ڈاکٹر صاحب نے فون ریسیو کیا تو دوسری جانب سے آواز آئی: ’’ہیلو ڈاکٹر صاحب! میں ’راشٹر ماتا رانی پدماوتی وردھ آشرم‘ سے بات کر رہا ہوں۔ اخبار میں اشتہار دیکھ کر معلوم ہوا کہ آپ کا پیارا کتا دو روز سے لاپتہ ہے۔ دراصل آپ کا کتا ہمارے آشرم آ گیا ہے۔ وہ آپ کی ’ماں‘ کے ساتھ کھانا کھاتا ہے اور سوتا ہے ۔ ان کے ساتھ دن بھر کھیلتا رہتا ہے! آپ یہاں آئیں اور اپنا ’کتا‘ واپس لے جائیں۔ شکریہ!‘‘ باباسیٹھ کا چبوترا باباسیٹھ کے چبوترے پر اکثر لوگ رات کو جمع ہوتے اور گپ شپ کیا کرتے تھے۔  کئی دنوں سے سیٹھ نے محسوس کیا کہ نعیم چاچا روز دیر رات تک خاموش بیٹھتے اور باقیوں کی باتیں سنتے رہتے۔ آج سیٹھ نے پوچھا: ’’نعیم میا

میرا کام تیرے نام

منّور چتر ویدی مظلومؔ کی پُروقار شخصیت نئی اور پُرانی نسل کے لوگوں کے لیے پُل کی حیثیت رکھتی ہے ۔پُرانے طرز کے لوگ اور ان کے ہمعصر ان کی صداقت پسندی،خوش مزاجی،صبر وتحمل ،گوشہ نشینی اور ذہا نت کو دیکھ کے خوش ہوتے ہیں اور نئی پود ان سے صرف فائدہ اٹھاتی ہے ۔وہ دیہات کے پُر سکون ماحول میں پلے بڑھے ہیں اور شہر کی چکا چوند میں تعلیم وتربیت  اور ملازمت  کے سلسلے میں زندگی کا بیشتر حصہ گزار چکے ہیں ۔وہ زندگی کی ستّربہاریں دیکھ چکے ہیں لیکن تندرست وتوانا ہیں ۔ان کی صحت کا راز ان کی اچھی عادتوں میں مضمر ہے ۔تین بھائیوں میں وہ سب سے زیادہ شریف اور ذہین ہیں ۔ان کی کوئی بہن نہیں ہے ۔والدین سیدھے سادے اور عمر رسیدہ ہیں ۔منّور چتر ویدی مظلومؔ کے ابا معمولی درزی تھے۔اور وہ خودایک ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر کی پوسٹ سے کافی عرصہ پہلے سبکدوش ہوچکے ہیں۔علم وادب کا شوق ان میں جنون کی سی صورت اختیار

گھر واپسی

نہ جانے کتنے برس بیت گئے کہ اس کی آہ و زاری رنگ لائی۔اس کے ناراض آقا نے اس کی طرف توجہ فرمائی اورعفو ودر گزر سے کام لیتے ہوئے اسے واپس اپنے عالی شان ٹھکانے میںلوٹنے کی حامی بھرلی ۔ اپنے آقا کی نظر کرم سے اس کے سارے زخم بھر گئے ،سارا درد کافور ہوا اور وہ خوش ہو کر اپنے مالک کا شکریہ ادا کرنے میں منہمک ہو گیا۔ اپنے ازلی دشمن کے بہکاوے میں آکر بابا اور اس کی ہمسفراپنے بہت ہی محسن آقاسے نا فرمانی کے مرتکب ٹھہرے تھے۔آقا نے سخت ناراض ہو کرانہیں اپنے عالی شان ٹھکانے ،جہاں نہ کوئی غم تھا نہ کوئی اندیشہ اور نہ ہی معاش کی فکر،بلکہ بغیر کسی پریشانی کے عیش و عشرت کی تمام سہولیات موجود تھیں،سے نکال کر ایسی جگہ پھینک دیا تھا جو کسی بھی لحاظ سے ان کے رہنے کے قابل نہیں تھی۔ہر سو ویرانی ہی ویرانی تھی،قدم قدم پر آلام ومصائب ‘غم اور پریشانیاں تھیں۔اپنے ان نازک مزاج لاڑلوں کے ساتھ ساتھ آ

منزل

اس دن جب شہر میں میٹنگ ختم ہونے کے بعد میںگھر لوٹ رہاتھا تو کافی دیر ہوچکی تھی۔ شام کے اندھیرے گہرے ہوگئے تھے لوگ گھروں میں داخل ہوچکے تھے ۔اکثر گھروں میں چراغ بجھائے گئے تھے ۔کسی کسی گھر سے دھندلی سی روشنی باہر آرہی تھی اور کہیں کہیں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں زندگی کا احساس دلا رہی تھیں۔ میں سڑک پر اکیلا ہی جا رہاتھا ۔تنہائی کا احساس شدت سے ہو رہا تھا اور میرے دل میں گھبراہٹ  سی پیدا ہوگئی تھی۔میں تیز تیز قدم اٹھا رہا تھا تاکہ جلدی سے گھر پہنچ جاؤں ۔اور وہ چیخیں میرے کانوں میں بھی گونجنے لگیں۔وہ ہیبت ناک  ڈراونی آوازیں مجھے خوف زدہ کر رہی تھیں ۔میری دھڑکنیں تیزہوگئیں ،سانس پھولنے لگی اور مجھے اپنے آس پاس کسی کی موجودگی کا احسا س ہورہا تھا مگر کوئی دکھائی نہ رہا تھا۔میں تیز دوڑ لگا ناچاہتا تھا لیکن میرے قدم بوجھل ہوچکے تھے اورمجھے لگ رہا تھا کہ ابھی آکروہ میرا بھی گلا گ

ادراک

آج بیگم صاحبہ کچھ زیادہ ہی تیز ہو رہی تھی ایک دم سے مجھ پر برس پڑے کہ ’’تو تم نے فیصلہ کر لیا ہے دوسری شادی کرنے کا؟ ‘‘ میں منہ سے کچھ بول نہ سکا صرف سر ہلا کر ہاں کا اشارہ کر دیا اور ویسے بھی میں نے موقع کی نزاکت کو پھانپ لیا تھا کہ یہاں پر بولنا زخم پر نمک چھیڑکنے جیسا ہے ۔لیکن دوسرے ہی لمحے بیگم صاحبہ ہتھیار ڈالتے ہوئے اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے گویا ہوئی کہ ’’آخر مجھ میں کیا کمی تھی جو تم نے اس قدر بڑا فیصلہ کیا ؟ میں اس بار بھی خاموش ہی رہا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا ، میری بت نما خاموشی نے میری بیگم کو اور بھی پریشان کردیا ۔بولنے لگی میرے رہتے ہوئے تمہیں دوسری شادی کی کیا حاجت پڑی ؟ کیا تمہاری ضرورتیں مجھ سے پوری نہیں ہوتی ہیں ؟ میں کوئی بانجھ عورت بھی تو نہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے دو دو بچے ہیں۔کچھ لوگ بیٹے کے لئے دوسری شادی کرتے ہی

ملن

وہ  چڑیوں کی چہچہاہٹ کے شور سے علی الصباح گہری نیند سے بیدار ہوا۔ جنگل کے سبزہ پر اور اونچے درخت کے نیچے وہ سونے کا عادی ہوچکا تھا۔  شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح حد نظر تک چمک رہے تھے۔ اس نے ادھر ادھر دیکھکر پھر آنکھیں بند کی ں۔ آج پھر اس نے وہی خواب دیکھا تھا ۔ وہ دلکش فضاؤں میں پرواز کررہا ہے۔ آسمان سرخ نقوش سے منقش ہے اور ہر طرف اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ وہ کچھ دیر انہیں سوچوں میں گم رہا کہ اچانک اسے بہن کی شادی کا پیغام یاد آیا ۔ ثریا نے اپنے اکلوتے بھائی سے التجا کی تھی کہ اسکی شادی میں ضرور شریک ہو اور اسکی رخصتی کرے ۔  ساحل نے جنگل میں بہہ رہی ندی پر وضو کرکے نماز پڑھی اور ثریا سے ملنے چل پڑا۔ ادھر دلہن بنی ثریا بہت مغموم  اپنے بھائی کی منتظر تھی۔ اسے ماضی کی تلخ  یادیں ستا رہی تھیں،  جن کے انجام سے اسکا بھائی باغی ہونے پر مجبور ہوا

کالے دیووں کی واپسی

وہ گہری کھائی سے نکل کر جونہی پہاڑ کی بلند چوٹی پرپہنچاتو دھوپ بڑھنے کے ساتھ ساتھ پگھلتے گلیشرکی طرح یخ بستہ وجود بھی رفتہ رفتہ پگھلنے لگا۔ تھوڑی دیر تک حواس بحال ہوتے ہی بے قرار آنکھیں گہری کھائی کے پگھلتے گلیشر کو تکنے لگیں۔پانی کے بہاؤکی طرح جیسے اس کی منجمدیاداشت بھی بہنے لگی اور وہ ماضی کو یاد کرنے لگا لیکن اسے ابھی کچھ یاد نہیں آرہا تھا حتیٰ کہ وہ اس گلیشر میں کتنے دنوں‘ برسوں یا صدیوں تک پڑا رہا۔اس کی سوچ ابھی ان ہی گھتیوں کو سلجھانے میں الجھی ہوئی تھی کہ کہیں سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں۔اسے احساس ہوا کہ شاید اب پہاڑ پر بھی بستی بس گئی ہے لیکن اس کا شک جلد ہی دور ہوا کیونکہ وہ جب کھڑا ہوکر گردوپیش کاجائزہ لینے لگا تو دور دور تک کہیں پر کسی بستی کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔وہ سوچنے لگا کہ پھر کتوں کے بھونکنے کی آوازیں کہاں سے آرہی ہیں ؟وہ ابھی یہی سوچ رہا تھ

افسانچے

عُریاں فاصلے   ’’ بھائی تو اس آفت کا مارا تھا ہی ا ب بہن کو بھی چسکا لگ گیا ہے ۔۔۔۔خدایا تو ہی کچھ ہدایت دے ان نامعقولوں کو ‘‘  نالاں نالاں سی یہ آواز رسوئی سے آئی تھی۔ ’’دیکھو تو۔۔۔۔کیسے پتھر بنے بیٹھے ہیں۔مجال ہے جوآپس میں بھی کوئی بات کر لیں ‘‘رسوئی سے ملحق  لِونگ ایریا سے فوراً تائیدی ردعمل آیا۔ لِوِنگ ایریا میں تقریباًآ ٓمنے سامنے  بیٹھے  دونوں بہن بھائی ایک دوسرے سے لاتعلق  چیٹنگ میں یوں منہمک تھے جیسے آس پاس اور کوئی موجود نہ ہو۔ معروف کی دوستی نفیسہ نامی لڑکی سے تھی جب کہ عافیہ کسی ساحل سے پینگیں بڑھارہی تھی۔ بات آگے بڑھی تو اپنا اپناایڈریس ایکسچینج کیا گیا، مشغولیت کے بارے میں باتیں ہوئیںاور پسند نا پسند کا ذکر چھڑا۔ ساحل کے ایڈرس میں اپنے ہی شہر کا نام دیکھ کر عافیہ کچھ ج

سیلفی

گریجویشن کا آخری سال تھا۔ ادیبہ زندگی کے اس مقام پر کچھ زیادہ ہی شوخ اور بیباک ہوئی جا رہی تھی۔ ویسے ادیبہ کی بیباکی نے اصل میں شوخی کو بھی پیچھے چھوڑ دیاتھا۔آج ایجوکیشنل ٹور کا آخری دن تھا۔ ادیبہ کے کالج کا گروپ رائے گڑھ کے قلعے پر موجود تھا۔ ادیبہ اور خیام ہمیشہ کی طرح سب سے پیچھے چل رہے تھے۔ خیام خوبصورت ، دبلا پتلا لیکن تندرست نوجوان تھا۔ ادیبہ ناگپور کے سنترہ ایکسپورٹرکی اکلوتی لڑکی ہے۔ خیام کے ہمراہ چلتے چلتے ادیبہ قلعے کے ایک خوبصورت محراب کو دیکھ وہیں رک گئی۔  "خیام ذرا ٹھہر جاؤ، مجھے ایک سیلفی لینی ہے۔" محراب کو دیکھتے ہوئے ادیبہ نے کہا اور نظریں بنا محراب سے ہٹائے ہاتھوں کے اشارے سے موبائل مانگتی ہے۔ "ادیبہ، ادیبہ! کتنی مرتبہ میں نے سمجھایا کہ یہ سب مت کیا کرو۔۔۔ مگر تم ہو کہ نہیں مانتی۔۔۔! ماننے کا جذبہ پیدا کرو ادیبہ۔۔۔ نہیں تو کم از کم گ

چنگاریاں

فریدہ تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے اپنے بیٹے منیر کے سرہانے بیٹھی اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔اس کے سوکھے ہوئے ہونٹ کپکپا رہے تھے، چہرے پر ایک تحریر سیاہ حروف میں نمایاںتھی۔ اس کی نگاہیں کھڑکی سے باہر کالے بادلوں سے بھرے آسمان پر تھمی ہوئی تھیں۔        منیر بستر پر پڑا درد سے کراہ رہا تھا۔اس کی دونوں آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور چہرے پر چیچک کے سے تازہ داغ تھے، جو اس بے رحم دیو کے منہ سے نکلی ہوئی چنگاریوں سے اس کے چہرے پر لگےتھے۔ اچانک فلک شگاف آوازوں کی گونج ان دونوں کی سماعت سے ٹکرا گئی۔فریدہ سہم کر کھڑی ہوگئی اور کھڑکیاں بند کرنے لگی۔ "امی شائد وہ آگئی"منیر نے معصوم سی آواز میں کہا۔ "نہیں بیٹا ابھی نہیں آئی لیکن وہ آئے گی ضرور"۔یہ کہہ کر فریدہ خاموش ہوئی۔ منیر اس دن کے انتظار میں تھا کہ وہ سنے کہ پری اس شہر میں پ

نجات

 کاش میں اسے پہچان پاتا اور میری اُلجھن سلجھ جاتی۔ انسانوں کی دیو ہیکل بھیڑ رواں دواں تھی۔ سب اپنی اپنی رفتا ر میں اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر ہل رہے تھے جیسے سب کسی بڑی مشین کے پُرزے ہوں۔ وہ اس تمام بھیڑکا حصہ ہونے کے باوجود بھی الگ تھا۔اس کے بڑھتے قدم تب چلتے چلتے رُک گئے جب اُسکی نظر بازار کی ایک بند دوکان کے شیٹر پر چسپاں ایک اشتہار پر پڑی جس کے اُوپر موٹے حروف میںلکھا تھا۔’’ اطلاع گمشدگی‘‘ ایک عام قسم کی لکھی ہوئی عبارت کے ساتھ اوپر ایک تصویر بھی چھپی ہوئی تھی عبارت کچھ یوں تھی۔ اشتہار میں چھپی تصویر ایک لاپتہ شخص کی ہے، جو چند روز قبل گھر سے کام پر نکلا تھا پر واپس نہ لوٹا۔ ہم پہلے ہی ریڈیو،ٹیلی ویژن اور اخبارت کے ذریعے اطلاع عام دے چکے ہیں اور اب بذریعہ اشتہارات بھی عوام کو مطلع کرتے ہیں کہ  اگر کسی کو اِس گمشدہ شخص کے بارے میں کوئ

مذاکرہ

میں نے سورج کے گرد آج پورے پچاس چکر مکمل کئے۔ ماں کی کوکھ سے تصورات کے سمندر تک کا سفر میرے لئے بہت ہی کٹھن تھا۔ تصورات کے سمندر میں مجھے پہلی بار بوڑھے آسمان کے ساتھ مذاکراہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ میں نے بوڑھے آسمان سے کچھ سوالات پوچھے جن کے جواب اُس نے بہت ہی خوش اسلوبی سے دئے۔! راوی: حضور آپ کی عمر کتنی ہوگی؟ بوڑھا آسمان: کم و بیش 22 ارب سال۔ راوی: جناب اس لمبی عمر میں آپ نے کیا کچھ دیکھا؟ بوڑھا آسمان: بہت کچھ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل! ، یاجوج ماجوج کا ظلم، ذوالقرنین کا عدل، نمرود کی جھوٹی خُدائی، فرعون کی گمراہی، اَبرھ اور اُس کے فوج پر اَبابیلوں کی یلغار، قیصر و کسریٰ کا عروج و زوال اور ۔۔۔ بہت کچھ۔ راوی: جناب! کوئی متاثر کُن واقعہ سنائیے۔ بوڑھا آسمان: ضرور۔ جب آخری پیغمبر نبیؐ برحق کے پایۂ نازنین میرے سینے پر پڑے! راوی: آپ کب مسرت محسوس ک

مذاکرہ

میں نے سورج کے گرد آج پورے پچاس چکر مکمل کئے۔ ماں کی کوکھ سے تصورات کے سمندر تک کا سفر میرے لئے بہت ہی کٹھن تھا۔ تصورات کے سمندر میں مجھے پہلی بار بوڑھے آسمان کے ساتھ مذاکراہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ میں نے بوڑھے آسمان سے کچھ سوالات پوچھے جن کے جواب اُس نے بہت ہی خوش اسلوبی سے دئے۔! راوی: حضور آپ کی عمر کتنی ہوگی؟ بوڑھا آسمان: کم و بیش 22 ارب سال۔ راوی: جناب اس لمبی عمر میں آپ نے کیا کچھ دیکھا؟ بوڑھا آسمان: بہت کچھ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل! ، یاجوج ماجوج کا ظلم، ذوالقرنین کا عدل، نمرود کی جھوٹی خُدائی، فرعون کی گمراہی، اَبرھ اور اُس کے فوج پر اَبابیلوں کی یلغار، قیصر و کسریٰ کا عروج و زوال اور ۔۔۔ بہت کچھ۔ راوی: جناب! کوئی متاثر کُن واقعہ سنائیے۔ بوڑھا آسمان: ضرور۔ جب آخری پیغمبر نبیؐ برحق کے پایۂ نازنین میرے سینے پر پڑے! راوی: آپ کب مسرت محسوس ک

عید

  بازاروںمیں عید کی رونق لوٹ آ ئی تھی ۔دکانداروں نے اپنی اپنی دکانیں سجا رکھی تھیں ۔کپڑوں کی دکانیں ،مٹھائی کی دکانیں ،اور کھلونوں کی دکانیں اپنی سجاوٹ سے لوگوںکی بھیڑ کو اپنی طرف کھینچ رہی تھیں۔لوگ طرح طرح کی چیزیں خرید خرید کر گھر لے جا رہے تھے ۔اکثر  والدین اپنے بچوں کے لئے انواع و اقسام کے کپڑے اور کھلونے خریدنے میں مصروف دکھائی دے رہے تھے ۔ہر طرف  چندہ جمع کرنے والے لائوڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں کو صدقہ و ذکوٰت دینے کے لئے ابھار رہے تھے ۔وہ عید کے اس مقدس دن پر غرباء ،مساکین اور یتیموں کو یاد رکھنے کی تلقین کر رہے تھے ۔ اسکول میں استانی صاحبہ بھی بچوں کوعید کے تہوار کے متعلق جانکاری دے رہی تھی اور سات سالہ لڑکا عاصم میڈم کے سامنے بیٹھ کر اس کی باتیں انہماک سے سن رہا تھا۔میڈم نے بچوں کو  بہت سی باتیں بتائیں مگر عاصم کو ان میںسے چند ہی باتیں یاد رہیں ۔