تازہ ترین

شہہ رگ

موسم کے تیور کچھ اچھے نہیں تھے ،آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے اور ہلکی ہلکی بارشیں بھی ہو رہی تھیں۔ جہاز سے اتر کر وسیم نے ایک لمبی انگڑائی لی او ر کچھ دیر طیران گاہ کے نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے بعد ٹیکسی لے کر فرط نشاط وانبساط میں جھومتے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہوا۔دوران سفر وہ اپنی دھرتی کے بدلے بدلے مناظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔سڑک کے دونوں اطراف میں اونچے اونچے خوب صورت بنگلے ،تجارتی کمپلکس،شو روم اور دیگرنئی کنکریٹ تعمیرات کی بھرمار اور بیچ بیچ میں خالی اراضی کے ٹکڑے بالکل بنجر اور ویران حالت میں ۔۔۔۔۔۔۔ ’’ بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔آج ہماری دھرتی کا منظر ہی بدل گیاہے؟‘‘  اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے مخاطب ہو کر پوچھا۔ ’’ ہاں صاحب۔۔۔۔۔۔ اب وہ پرانا زمانہ نہیںرہا بہت ترقی ہوئی ہے یہاں۔دیکھئے تو کیسی نئی نئی کالونیاں اور شاندار عمارتیں تعمیر

کہانی مختصر کر دی

’’اب میں اِس کہانی کو مختصر کر دینا چاہتا ہوں۔‘‘ دونوں کی اِس مختصر سی ملاقا ت میںمختصر سی گفتگوکا اختتام وہ اِسی جملے سے کرنا چاہتا تھا۔وہ اُسے بچپن سے جانتا تھا،بہت قریب سے جانتا تھا اور اُسے یقین تھا کہ طبیعتاًخاموش رہنے والی سمینہ اِس کے بعد ایک لفظ بھی نہ کہے گی لیکن اُس دن اُس کا اندازہ غلط نکلا۔اُس دن وہ بولی اور کچھ اِس انداز میں بولی کہ چند سال قبل اگر اِس صداقت و خلوص سے اُس نے بات کی ہوتی تو وہ اپنی جان تک اُس پر لٹا دینے کے لئے راضی ہو جاتا۔  ’’ نہیں ۔۔۔تم اِس کہانی کو اِس طرح مختصر نہیں بلکہ ختم کر رہے ہو۔۔۔تم مجھے ختم کر رہے ہو ۔۔۔عدیل!‘‘ اُسے خود پر یقین نہیںآرہاتھا کہ اُس اپنائیت کے ساتھ اسکی زبان سے اپنا نام سنتے اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔کچھ لمحہ بعد عدیل نے خاموشی توڑ کر کہا’’دیکھو! تم

تماشا جاری ہے

دھوپ کھلی ہوئی تھی اور لمحہ بہ لمحہ اس کی تمارت بھی بڑھ رہی تھی۔ لوگ پسینے میں تر بتراس وسیع چٹیل میدان میںجمع ہو رہے تھے جس چاروں طرف دُور دُور تک پہرے بٹھادئیے گئے تھے۔محافظ چاک وچوبند دائیں بائیںنظریں دوڑائے آنے دالوں کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ کوئی شخض مشتبہ حالت میںنظر آتاتو اس کی طرف دوڑ کر اس کی جامہ تلاشی لیتے اور پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد ہی اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دیتے، پھر وہ جاکر سامعین کی صف میں بیٹھ جاتا۔محافظ بڑی جاں فشانی سے ڈیوٹی کر رہے تھے اور بھیڑ بڑھتی جا رہی تھی، نواز خانؔ، جو سامعین کی صف میںموجود تھا‘اپنے ساتھی سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔’’نہ جانے کیوں بادشاہ سلامت نے رعایا کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا ہے۔‘‘’’بھلا میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ بادشاہ سلامت کے دل میں کیا ہے۔‘‘اس کے ساتھی نے جواب میں کہا۔’’خیر

دیپک کنول کے افسانوی مجموعے

ایک ادبی تقریب میں سنیچر کو ہوٹل شہنشاہ سرینگر میںنگینہ انٹر نیشنل اور میزان پبلشرز کی طرف سے معروف قلم کار دیپک کنول کا افسانوں کے مجموعہ پوشہ مال کی رونمائی کی گئی تقریب میں بڑی تعداد میںادیب ،قلمکار اور ادب نواز شامل ہوئے۔ تقریب کی صدارت بزرگ قلمکارفاروق نازکی نے کی جبکہ ایوان صدارت میں محمد زماں آذردہ پروفیسر نرجا مٹو،پروفیسر شفیقہ پروین، وحشی سعید شامل تھے۔ مقررین نے اردو زبان وادب اوردیپک کنول کی ادبی کاوشوں پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی کتاب پر ڈاکٹر مشتاق حیدر کا تحریر کردہ تبصرہ مرزا بشیر احمد شاکر نے پڑھ کر سنایا۔ اس سے پہلے وحشی سعید نے نگینہ اور میزان پبلشرز کی طرف سے مہمانوں کا استقبال کیا  تقریب میں  محمد زماں آذردہ محترمہ پروفیسر نرجا مٹو،محترمہ پروفیسر شفیقہ پروین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا آخر پر ظہور احمد ترمبو کے نگینہ انٹر نیشنل اور میزان پبلشرز کی طرف سے

عید مبارک

   ’’اتحاد میں طاقت ہے۔‘‘ وہ زندگی میںپہلی بارفلسفۂ اتحاد کی معنی خیز کہاوت کے عملی مشاہدے سے اتنا متاثر ہواکہ احساس کی ابھرتی ڈوبتی لہریں دل ودماغ میں دیر تک فکری ارتعاش پیداکرتی رہیں۔ مشاہدہ ہی ایسا حیرت انگیز تھا کہ زندگی بھرکے فلسفۂ اتحادسے متعلق سنی سنائی منبر و محراب اور سیاسی گلیاروں کی شعلہ بار تقریریں راکھ کا ڈھیر محسوس ہوئیں ‘کیونکہ ہر تقریر اتحاد اتحاد کے راگ سے شروع ہوکر بکھراؤ کے زیروبم کا شکارہوجاتی  ۔۔۔۔وجہ۔۔۔۔ اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ۔ وہ جب نیند سے بیدار ہوا تواس کی طبیعت ایک خوش گوار احساس سے سرشار ہوئی کیونکہ وہ دن نہ صرف ا س کے لئے بلکہ پوری قوم کے لئے خوشی کا دن ہوتا ہے بلکہ یوں کہیں کہ یہ تہوارہی ایثار وقربانی کے عملی پیام کا تہوار ہے۔اسی مہینے میں سنت ابراہیمی کے پیش نظرحج و قربانی کے احکامات پر عمل کیا

وحشیؔ سعید کی کہانی ’’ارسطو کی واپسی ‘‘کا تجزیہ

معروف افسانہ نگار وحشی ؔ سعید کا ادبی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے ۔ انہوں نے ناول بھی لکھے اور افسانے بھی ۔ ان کے ادبی سفر میں کئی پڑائو بھی آئے اور ایک پڑائو پر ان کا یہ سفر رُک گیا تھا لیکن بقول شاعر چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی ، ان کے اندر کا ادیب دوبارہ تصنیف و تالیف کی دنیا میں لوٹ آیا۔ حالانکہ تجارت کے میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والے کیلئے پیچھے مڑ کر دیکھنا ناممکن ہوتا ہے لیکن دل میں لگن اور تڑپ ہو تو انگلیاں خود بخود قلم کو تھامنے کیلئے بے قرار ہوجاتی ہیں۔ یہاں تک کہ ادبی شاہ پارے مختلف صورتوں میں کاغذ پر حرفوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔  وحشیؔ سعید نے علامتی افسانے لکھ کر ادبی دنیا میں ایک خاص جگہ بنا لی تھی لیکن ادبی سفر کے دوسرے (موجودہ پڑائو میں ) انہوں نے رومانی افسانے بھی لکھے اور کشمیر کی موجودہ صورتحال کے پیش منظر کے حوالے سے بھی کہانیاں قلمبند

افسانچے

اداکار فلم ’’خون‘‘ کی شوٹنگ ہورہی تھی۔ سین کچھ اس طرح تھا… ایک پارک میں خوشی کا ماحول ہے، بچے، بوڑھے، جوان، مرد و زن اِدھر اُدھر گھوم رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنی دنیا میں گم ہے، ہر کوئی لطف اندوز ہورہاہے۔ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوتا ہے اور چاروں طرف لاشیں بکھر جاتی ہیں۔ کچھ لوگ زندہ بچ جاتے ہیں۔ ان میں ایکٹر ونود کمار بھی شامل ہے۔ وہ زخمی ہوا ہے مگر ہوش میں ہے۔ اُسے چاروں طرف دیکھ کر گٹھنوں کے بل بیٹھ کر کچھ ڈائیلاگ بولنے ہیں۔ فلم کے ڈائریکٹر نے یونٹ کے سبھی کارکنوں اور ایکسٹرا اداکاروں کو سین کے بارے میں ہدایت دی اور ونود کمار کو خصوصی طور پر سمجھایا کہ ڈائیلاگ کس طرح بولے… لائیٹس کیمرہ… اب سب کچھ تیار ہے۔ ایک سپاٹ بوائے نے کاغذ کا پرزہ ونود کمار کے ہاتھ میں تھما دیا کیوں کہ اُس کا فون آف تھا۔ ونود کمار نے کاغذ کا پرزہ کھولا او

افسانچے

روٹی قومی تہوار کی آمد پر لوگ نہ جانے کیوں ضرورت سے زیادہ خوش ہو رہے تھے ، ایک دوسرے کے گلے لگ رہے تھے، یہاں  تک کہ مٹھائیاں بھی بانٹ رہے تھے مگر میرے لئے کیسے یہ خاص دن ہوتا ؟ جب کہ اس دن کی مناسبت نے میرے لئے  اور بھی مشکلیں بڑھا دی تھیں۔ میں کب سے انتظار میں تھا کوئی مجھے کام کے لئے آواز دے تاکہ میرے گھر میں شام کا  چراغ جلے اور میرے عیال کو ایک وقت کی روٹی نصیب ہو جائے۔   برما ’’اس فلم کا کیا نام ہے؟ ‘‘ جلتے ہوئے گھر اور جھلستے ہوئے لوگ دیکھ کر میری چھوٹی سی بیٹی نے پوچھا ۔ میں لاجواب تھا۔ میں نے بات کو ٹالنا چاہا، پر بیٹی نے اصرار کیا۔ ’’بولو نا  پاپا؟‘‘  میرے ہونٹ تھرتھرارہے تھے، میں دل ہی دل میں انسانیت پر فاتحہ پڑھ رہا تھا۔مجھے افسوس تھا کہ انسان اتنی حد تک 

منتہائے فکر دوسراآن لائن عالمی طرحی مشاعرہ

رپورٹ   سائنس وٹکنالوجی کے زیر اثر پوری دنیا کے سیاسی ، سماجی، معاشی، معاشرتی، علمی ، ادبی وثقافتی ماحول میں زبر دست تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ انفارمیشن ٹکنالوجی سیکٹر میں انقلاب کی وجہ سے دنیا ایک کوزے میں سما گئی ہے۔ کرۂ ارض ایک گاؤں میں تبدیل ہوگیا ہے۔دنیا جہان سے رابطہ آسان ترین ہوگیا ہے۔سوشل میڈیا نے کہرام مچادیا ہے۔ علم وادب پر ارسٹوکریٹک طبقے کی اجارہ داری ختم ہوگئی ہے۔سارا علم مانو کمپیوٹر کے عظیم الشان نیٹ  NETمیں محیط ومحصور ہوگیا ہے۔علامہ گوگل نے سب کو اپنا شاگرد بنالیا ہے۔ فیس بک پرہر ادنیٰ واعلیٰ اور ہر کس وناکس اپنی بات کہہ رہا ہے۔اپنا پیغام پوسٹ کررہا ہے۔ ٹویٹر پر ٹویٹ کررہا ہے۔ واٹس اپ پر مفت میں دنیا بھر سے رابطہ کررہا ہے۔ ویڈیو اور آڈیو پیغامات سے افادے واستفادے کا بازار گرم ہوگیا ہے۔ آج کی اس تبدیلی کے زمانے میں علم وادب اور فکر وفن بھی کسی سے پیچ

پردہ اُٹھ رہا ہے

فضلو لوہار اور نندو نائی دونوں جھجر شہر کے جنوب میں ساتھ ساتھ کے دو محلوں میں رہتے تھے۔ دونوں لنگوٹیا یار تھے۔ نہ صرف ہم عصر تھے بلکہ تقریباً ہم عُمر بھی۔ فضلو لوہار یعنی فضل دین گو خاندانی لوہار تھا لیکن اپنے پیشے سے کوسوں دور۔ دراصل اُس کے باپ کرم دین نے اپنے خاندانی پیشے سے بغاوت کرکے محلے میں کرانے کی ایک چھوٹی دوکان کھولی تھی جو فضلو کے کاروبار سنبھالنے کے بعد اب خاصی بڑی دوکار بن چکی تھی۔ اس کاروبار کی تبدیلی کے باوجود کرم دین، کرما لوہار اور فضل دین، فضلو لوہار کے نام سے پورے علاقے میں مشہور تھے۔ کئی بار تو لوگ غلطی سے لوہاری کے کام کے لئے بھی فضلو کی دوکان پہ آجاتے تھے۔ فضلو نہایت خوش اخلاق اور باتمیز انسان تھا اور یہ بھی ایک وجہ تھی کہ اُس کی دوکان علاقے بھر میں مشہور تھی۔ نندو نائی یعنی نند کمار کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔ وہ ایک خاندانی طور تو نائی تھا لیکن پیشے کے اعتب

افسانچے

  نیا نام جب بھی اسکی کوئی نئی تخلیق کسی رسالے یا کسی اخبار میں چھپ جاتی تو.اسکے چاہنے والے اسکو فون پہ مبارک باد دیتے..سینکڑوں فون کالز رسیو کرنا پڑتی تھیں..ایس، ایم ،ایس ..مسیجز کی بھر مار ہوتی۔پورے ہفتہ قارئین دل کھول کر مبارک بادی کے پیغامات بھیجتے رہتے تھے..اب اسکے مداح لاکھوں میں تھے..ہر طرف شازیہ ترنم کے چرچے تھے.فیس بک پہ جب بھی اسکی کوئی کہانی پوسٹ ہوتی..تو لوگ دیوانے ہوجاتے تھے..واہ واہ.کی صدائیں گونجتی رہتی تھیں.. پھر وہ شام کو جیون ساتھی سے یوں کہتے "دنیا کتنی عجیب ہے ..پوری زن مرید ... ایک سال پہلے تک اپنے اپنے نام یوسف پرواز کے نام سے لکھتا ،تو کوئی پڑھتا کیا ،شاید نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا میری تخلیق کو.اب جعلی نام مطلب شازیہ کے نام سے لکھتا ہوں تو ...لوگ میری کہانی میں موجود فل اسٹاپ کو بھی غور سے پڑھتے ہیں.اور تم جب میری مدد کرتی ہو ..فون کا

نزع سے پہلے ۔۔۔

بیٹے ! کہاںجارہے ہو ۔والد نے بیٹے سے پوچھا دفتراورکہاں ۔آپ روزیہی سوال کرتے ہیں۔کتنی دفعہ کہاکہ دفترجارہاہوں ۔دفترجارہاہوں ۔ہزاربار کہا کہ جب میں گھرسے نِکلوں توپیچھے سے آواز نہ دیاکریں، یہ بدشگونی ہوتی ہے ۔بنتے کام بگڑجاتے ہیں مگرآپ کوکون سمجھائے۔ آپ مانتے ہی نہیں ۔آپ توایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ کہاں جارہے ہو؟ کیوں جارہے ہو؟ کیاکام ہے ؟کب آئوگے ؟۔تنگ کردیا ہے آپ نے ۔بیٹے نے تڑاخ سے جواب دے کر باپ کا منہ توڑ دیا۔  پرسوں بھی آپ نے یہی کیا ۔میں سری نگر کسی کام سے جارہاتھا اورآپ نے پیچھے سے آواز دی ۔کہاں جارہے ہو؟ ۔میں نے جان بوجھ کراس کاجواب نہیں دیا کیوں کہ مجھے یقین تھاکہ ضرورکچھ انہونی ہوگی۔نجمہ نے بھی اُسی وقت کہاتھا کہ آج احتیاط کرنا اِس بُڈھے نے پھرپیچھے سے آواز دی۔پھروہی ہوا جس کامجھے ڈرتھا۔ ہمارے جہازکاٹائر رن وے پرہی پھٹ گیا ۔ہم بال بال بچ گئے ۔خُداکیلئے

سبیل

 ’’ چل میرے گھوڑے ٹک ٹک ٹک ۔ امی  راکا کو باہر لے چلو نا ۔ مجھے اس کی سواری کرنی ہے ‘‘  چھوٹا عامر طویلے میں بندھے گھوڑے پر بیٹھا اپنی ماں سارہ سے اپنی خواہش کا اظہار کررہا تھا۔   ’’ نہیں عامر بیٹا ابھی کیسے باہر جاسکتے ہیں۔ باہر تو سارا بند پڑا ہے۔‘‘ گھوڑے کے سامنے گھاس ڈال رہی سارہ نے بڑے پیار سے عامر کو گھوڑے  کی پیٹھ سے اتارتے ہوئے کہا۔ یہ تھوڑی ہی گھاس بچی تھی جو وہ آخری بار گھوڑے کو کھلا رہی تھی۔ اس کے بعد ان کے پاس ایک تنکابھی نہیں بچا تھا جو وہ آج شام گھوڑے کو کھلا دیتیں    سرتاج کے دل میں مایوسی اور آنکھوں میں اداسیاں ڈیرہ ڈال چکی تھیں۔ وہ اپنی ماں ،اپنی بیوی سارہ اور بچوں سے آنکھیں چرارہا تھا۔ غربت کی منحوس دیوی اس کے گھر میں ڈھیرہ ڈال چکی تھی ۔ یہ اسے ڈر کر بھاگ گیا ہوتا اگر ا

یہاں اور وہاں

’’بیٹے۔۔۔اک بار میری بات مان لے، کامیاب رہے گا۔میرے چار بیٹوں میںتو سب سے زیادہ ضدی ہے۔ضدی آدمی اکثر پریشان رہتاہے۔اب کی بار یہ تمہارا تیرہواں انٹرویو ہے۔یہ رشی ، منیوںاور پیغمبروں کا زمانہ نہیں ہے بلکہ آج کل کے دور میںتو ہرچیز اور ہر معاملہ بازاری ہو گیا ہے۔تو کئی برسوںسے اپنی ذہانت،محنت، صلاحیت اورقابلیت کی بنیاد پر اپنا مقام ومرتبہ حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن ہر بار رشوت اور سفارش سے نالائق قسم کے لوگ اونچے عہدوں پہ فائز ہوجاتے ہیںلہذا اس بار میری بات مان لیــ‘‘ عادل کے ماتھے پہ اپنے باپ قمرالدین کی باتیں سن کرشکنیں سی ابھرآئیں۔باپ کے ادب واحترام کا خیال رکھتے ہوئے وہ بولا  ’’پاپا۔۔۔کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔مجھے اللہ پہ کامل بھروسہ ہے کہ ایک دن ضرورمجھے میرا حق اللہ دلا دے گا کیونکہ اللہ کے ہاں د

دَردکا دریا

بُوڑھی اَماں بار بار مجھ سے وہی کہانی سنانے کا تقاضا کرتی تھی جو میں اس کو کئی بار سُنا چُکا تھا۔۔۔ اب وہ کہانی سُناتے سُناتے میں اُکتا گیا تھا۔۔۔ وہی کردار ! وہی پُلاٹ! وہی الفاظ! وہی کہانی! وہی افسانویت! وہی دَرد۔۔۔! ’I Should not repeat my self‘ میں نے خود سے کہا۔ بوڑھی اماں ! تمہیں اس کہانی میں کیا ملتا ہے؟ کیوں بار بار ایک ہی کہانی سُنانے کا تقاضا کرتی ہو؟ میں نے ایک دن اُس بوڑھی اماں سے پوچھا۔ ’’بیٹا! یہ کہانی میرے اندر جو ارتقاش پیدا کرتی ہے اس سے مجھے غمِ زندگی کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ میں کہانی میں سموجاتی ہوں۔ یہاں تک کہ میں خود ایک کہانی بن جاتی ہوں! کہانی ایک بوڑھی اماں کی۔۔۔! جس میں کردار مرمر کر جینا سکھا تا ہے۔۔۔جو سسِکیوں میں راہ نجات ڈھونڈتی ہے! لیکن بوڑھی اماں پھر بھی آس نہیں چھوڑتی ہے۔ وہ زندگی سے کُلیتاََ نہیں بھاگتی ہے۔

بویا ہوا پَل

لمبی سفید داڑھی ،سر پر گول سفید ٹوپی،جسم پر سبز رنگ کا خان سوٹ ، اْس کے ذہن پر چھائے ہوئے خوف میں بتدریج اضافے کا سسب بن رہے تھے ،وہ اپنے خزاں رسیدہ لبوّں پر مصنوعی مْسکراہٹ بکھیر کر بیگم ارو دو جوان بیٹیوں کو اس خوف کا احساس نہیں ہونے دیتا تھا لیکن اندر سے وہ ہمت ہار چْکا تھا اور کسی انجانے خطرے کا سامنا کرنے کے لئے خود کو تیار کر رہا تھا __،، وہ بیگم کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا ،اور اْس گھڑی کو کوس رہا تھا جب وہ گھر سے اس منحوس سفر کے لئے نکلے تھے __ یہ بھی بیگم کی ہی ضد تھی کہ پھوپھی کو اکلوتے بھتیجے کی شادی میں نہ دیکھ کر لوگ طرح طرح کے طعنے دے کر بھائی جان کی ناک میں دم کر دیں گے __بڑی بہن ہونے کے ناطے ان کے تئیں میری بھی تو کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں ، میں انھیں کیسے فراموش کر دوں ۔ طویل تقریر سْننے کے بعد حاجی صاحب نے مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق بیگم کے آگے سرینڈر کردیا ،

علم و ادب کا بحربیکراں…پیرفیسر شاد

سسٹم سے بے زار اور گھسی پٹی روایات کو توڑنے کا عزم رکھنے والا پروفیسر غلام محمد شادؔ 6؍اگست 2017کو اس دنیا سے رخصت ہو کر اپنے ہزاروں چاہنے والے قلم کاروں اورشاعروںکو مایوس کر گیا ہے۔ موت کے بلاوے پر کسی کی کچھ نہیں چلتی۔ مزاج میں اکثر بغاوت اور تندی سے اگرچہ ان کا حلقۂ احباب ناراض نہیں ہوتا تھا لیکن اس بڑی دنیا میں راہ چلتے لوگ کسی بھی بڑے آدمی کی تندی مزاج یا کلام کی کڑواہٹ کو کیونکر پسند کرتے ہیں؟ پروفیسر شادؔ بجبہاڑہ کی اس مردم خیز بستی میں ایسے چراغ تھے جس کی روشنی سے ان کا اڑوس پڑوس ہمیشہ فیض یاب رہاہے۔ ڈگری کالج اننت ناگ میں تاریخ کے استاد ہونے کے باوجود کالج کی ہر اسٹریم کے طالب علم ان کے ارد گرد نظر آتے تھے۔ مرحوم پروفیسر شوریدہ کاشمیری کے ہم خیال و ہم سفر بھی رہے۔ ایک بار کسی صاحب نے شادؔ صاحب کی کالج طلباء میں مقبولیت کے بارے میں پوچھا جس کے جواب میں شوریدہ صاحب نے یہ کہا

افسانچے

ڈاکٹر الیاس اب بین الاقوامی شہرت کا مالک تھا۔ آج وہ ایک ہال میں سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں لیکچر دے رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا  ۔  ۔  ۔ ’’سگریٹ میں تین ہزار سے زائد زہریلے اجزاء موجود ہیں۔ سگریٹ نوشی کرنے والا خود کشی کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ پر ظلم ڈھاتا ہے ۔ ۔ ‘‘ سننے والے تالیاں بجارہے تھے۔ اُس کی تقریر کا حاضرین پر ایسا اثر ہوا کہ 99 فیصد نے سگریٹ نوشی ترک کرنے کا اِرادہ کرلیا۔ ہال سے باہر نکل کر وہ اپنے پرائیویٹ کمرے میں داخل ہوا۔ چپراسی نے کافی کا مگ میز پر رکھ دیا اور جانے کے لئے مُڑا ہی تھا کہ ڈاکٹر الیاس نے اُس کی طرف دیکھا اور کہا  ۔  ۔  ۔  ’’تمہارے پاس ماچس ہے‘‘  

بھول

آج وہ اٹلی میں ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات ، علاج اور پیچیدگیوں اور علاج پر لیکچر دے رہا تھا۔ مختلف ممالک سے ماہرین ِطب اُس کا لیکچر سننے آئے تھے۔پانچ برسوں میں اُس نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر ہرش وردھن اُس کا نام تھا اور اب دنیا کے سبھی ڈاکٹر اس کا نام عزت سے لیتے تھے اور اُس کی تحقیقات سے استفادہ کرتے تھے۔ آج بھی ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور وہ ہائی بلڈ پریشر کی پیچیدگیوں کے بارے میں ہر سوال کا جواب بڑی باریکی سے دے رہا تھا۔ حاضرین تالیاں بجا رہے تھے۔ اچانک ڈاکٹر ہرش وردھن چکرا گیا اور دھڑام سے فرش پر گر پڑا۔اُسے پھٹاپھٹ ہسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں نے جانچ کرکے دیکھا کہ ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے اُس کے دماغ میں خون کی ایک نس پھٹ گئی تھی۔ وہ پچھلے دوبرسوں سے اپنا بلڈ پریشر چیک کروانا بھول گیا تھا۔   کل اور آج صمدمیر نے کانگڑی میں سے چمٹی سے

خوشیوں کا جنازہ

وہ پی۔ ایچ ۔ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد نیٹ اور سیٹ کے امتحان میںبھی اول آچکی تھی۔ اس کی قابلیت اور ذہانت کے چرچے ہر سو ہورہے تھے اس پر طرہ یہ کہ وہ بہت زیادہ خوبصورت بھی تھی۔ کوئی کہتا یہ چاند جیسی ہے کوئی اسے گلاب صورت کہتا ہے۔غرض ہر ایک  اپنے اپنے انداز سے فریحا کی خوبصورتی کی تعریفیں کر تا رہتا۔ وہ یونیورسٹی میں بھی  اپنی قابلیت کا لوہا منوا چکی تھی۔ وہاں منعقد ہونے والی ہرایک تقریب میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتی اور ہر بار کسی نہ کسی اعزاز سے نوازی جاتی۔رحمان صاحب کو بھی قوی امید تھی کہ اس کی بیٹی بہت جلدپروفیسر ہو جائے گی کیونکہ تعلیمی اعتبار سے فریحاؔ اوروں سے آگے تھی ۔ وہ بیشتر اوقات من ہی من میں سوچتے رہتے کہ’’میری لخت جگر اب ماشاء اللہ سیانی ہو گئی ہے ہر معاملے میں اچھے اچھے مشورے دیتی رہتی ہے او ر خداکے فضل سے اب جوان بھی ہوگئی ہے میں انشاء اللہ اس کی شادی