تازہ ترین

افسانچے

 چابی     ’’اُف کس قدرشدید سردی ہے‘‘۔۔۔۔آج تو گویا راستہ ہی نہیں کٹ رہا تھا۔اوپر سے گاڑی میں حد سے زیادہ بھیڑ تھی،میں اپنی سانسوں سے ہاتھوں کو گرمی بخش رہا تھا کہ اچانک مجھے oven میں رکھی ہوئی بریانی یاد آئی۔اتنی سردی میں گرم بریانی کا تصور نہایت خوش کن تھا۔گھر جاتے ہی سب سے پہلے گرم پانی سے خوب منہ ہاتھ دھوئوں گا۔پھر بریانی کھائوں گا،اس کے بعدگرم گرم قہوہ بھی پیوں گا۔۔میں بچوں کی طرح سوچ سوچ کر مسکرارہا تھاکہ گاڑی کو اپنے گھر کے دروازے پر رکتاپاکر اترنے لگا۔۔۔۔ ارے ! یہ کیا دروازے پر تو تالا لگا ہوا ہے۔۔۔۔تالے پر نظر پڑتے ہی صبح کو سُنی ہوئی ماں کی ہدایت یاد آنی لگیں۔۔۔۔۔ ’’ اف اللہ  !میں نے چابی رکھی ہی نہیں  ‘‘۔ میں بے بسی سے دروازے کو گھور رہا تھا۔اندر میری پسندیدہ بریانی ،گرم پانی،قہوہ وغی

حصار

وہ لکیروں میں گُم تھی۔۔۔ وہ خوبصورت حسینہ۔ پھول جیسی شرمیلی، گول گول آنکھیں ابروُ کمان جیسی۔۔۔ چاند جیسا چہرہ۔۔۔ سنہرے بال۔۔۔ رسیلے گُلابی ہونٹ۔ غرض میں کینواس پر حسن کا ایک نیا اتہاس رقم کرنا چاہتا تھا۔وہ سمندر کی مانند مغرور تھی۔ سمندر کی طوفانی لہروں سے کھیلنا اُس کا مشغلہ تھا۔ سمندر سے اُس کا گہرا تعلق تھا۔ میری لاکھ گوشش کے باوجود بھی وہ فریم سے باہر نہیں آئی!۔ ’’ میں ایک مُصور ہوں، میری ہر تخلیق حُسن میں ہی پنپتی ہے۔ مُجھے اُس حسینہ کی تلاش ہے جو میرے گراف کی لکیروں میں کہیں قید ہے۔ میں کینواس پر اُس کی مُکتی چاہتا ہوں۔ مُجھے انتظار ہے اُس گھڑی کا، جب وہ شہکار تخلیق کینواس پر اُبھر کر آئے گی اور میرا مشن مکمل ہوگا۔‘‘ میں نے اُس انجان حسینہ سے کہا جو سمندر کے ساحل پر لہروں کو گھور رہی تھی۔۔۔  ’’یہ حُسن میں تیری راہوں پہ قربان کرن

ویران جنگل اورکتا

  وہ بر سوں سے میٹھی نیند کے لئے ترس رہا تھا۔جب بھی اُس کی آنکھ لگ جاتی تو اُس کے اندر سے بھوں بھوں کی جھنکار شروع ہو جاتی اور وہ بستر پر کر وٹیں بدل بدل کر سویرے کا انتظار کرتا رہتا ۔سویرا ہونے کے باوجود بھی وہ تکیے سے ٹیک لگا کر سر تھامے دیر تک سوچتا رہتا کہ نیند آتے ہی اُس کے اندر سے کیوں بھوں بھوں کی جھنکار شروع ہوجاتی ہے۔۔۔۔؟ اُسے تو کبھی کسی کُتے نے کاٹا بھی نہیں ہے تو پھر ۔ ۔۔ ؟ اب وہ کیسے اس حالت سے چھٹکارا پائے۔۔۔۔ ؟ ڈاکٹر لوگ بھی ناکام ہو چکے تھے۔ماہرینِ نفسیات کی ہدایت تھی کہ سونے سے پہلے سوچنا بند کرنا‘سوچنا توبند ہو گیا لیکن بھوں بھوں کی جھنکار جاری رہی۔پیروں فقیروں کے گنڈے تعویز سر پر باندھتے باندھتے وہ تھک چکا تھا۔ دفتر جاتے جاتے بھی اُس کی آنکھوں پر نیند کا خُمار چھایا رہتا تھا اور اُس کی توجہ آوارہ کتوں کی ہڑ بونگ کی طرف چلی جاتی تھی ۔ ناچاہتے ہوئے بھی ا

بے نام کہانی کا آخری ورق

اپنے شہر کی کہانی تو ہم صدیوںسے سُنتے آئے ہیں ،پڑھتے آئے ہیں اور لکھتے بھی آئے ہیں لیکن آج اس کہانی کا ایک نیا رُخ، ایک نیا پہلو ،ایک نئے انداز کے ساتھ میرے ذہن میں کروٹیں بدل رہا ہے۔ میری سوچوں میں بدلائو لا رہا ہے۔ شاید اسی لئے میں اپنے آپ کو اپنے وجود سے دور رکھنا چاہتا ہوں۔ اپنی آنکھیں بند کر کے خاموشی کے جنگل میںگم ہونا چاہتا ہوں تاکہ کچھ بھی نہ دیکھ سکوں۔ کچھ بھی نہ سن سکوں کچھ بھی نہ پڑھ سکوں ۔۔۔ پھر سوچتا ہوں بھلا آنکھیں بند کرنے سے کیا دل کی روشنی بُجھ سکتی ہے؟! کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مدتوں چل پھر کر بھی ہم منزل کو چُھو نہیں سکتے اور کبھی منزل خود ہی سفر طے کر کے آواز دیتی ہے! آج کی کہانی کا تعلق نہ تو اس شہر کی رنگا رنگی اور خوبصورتی سے ہے اور نہ ہی سفیدے کے قطاروں میںبکھرے ہوئے راستوں سے ہے۔ نہ تو پہاڑوں کے دامن میں بل کھاتے ہوئے چشموں کے ٹھنڈے یخ پان

بابا اور بیٹی

بابابابا کی رٹ لگائے لڑکی پارک کے مین گیٹ سے تیز تیز قدموں سے باہر جانے کی کوشش کر رہی تھی ۔اپنا داہنا ہاتھ ہلاتے ہوئے  وہ ’’ممی بابا زندہ ہے، ممی با با زندہ ہے‘‘ کہتے ہوئے وہ گیٹ سے نکل کر سڑک کی دوسری طرف غائب ہو گئی۔ یہ مئی کے مہینے کی ایک گرم دوپہر تھی ۔ میں کھانا کھا کر کچھ دیر ٹہلنے کیلئے سامنے والے پارک کی اور چل پڑتا اور اندر ایک دیودار کے پیڑ کے نیچے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اسی اثنا ء میں مجھ سے تھوڑی دور میرے سامنے والے ایک خالی بینچ پر ایک جواں سال لڑکی آکر بیٹھ گئی۔ وہ شکل و صورت سے کسی شریف گھرانے کی لگ رہی تھی۔ کچھ پریشان سی تھی ،بال بکھرے  تھے   لیکن سر پر دوپٹہ تھا، جسے وہ کھبی سر سے سرکا کر گردن کے گرد لپیٹ لیتی اور کبھی اپنے ہاتھوں میں رسی بنا کر لٹکا لیتی تھی۔اس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔لگتا تھا کہ وہ کچھ بڑ بڑا رہی تھی اور اس کی آ

ادب کیا ہے؟

یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ’’ادب‘‘کیا ہے ؟ لیکن اس کا جواب دینے سے پہلے اگر میںآپ سے یہ سوال کروں کہ ’’زندگی‘‘ کیا ہے آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا ؟اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جو جواب بھی آپ دیں گے۔ وہ جامع نہیں ہوگا ۔ اس میں صرف وہ زاویہ ہوگا، جس سے خود آپ نے زندگی کو دیکھا ہے یا دیکھ رہے ہیں ۔ ضروری نہیں ہے کہ دوسرا بھی اس سے اتفاق کرے یا آپ کے جواب سے مطمئن ہو جائے۔ یہ سوال بھی کہ ادب کیا ہے ؟ اسی نوعیت کاہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ خود ادب بھی ’’زندگی‘‘ کے اظہار کا نام ہے ۔ ادب چونکہ لفظوں کی ترتیب و تنظیم سے وجود میں آتا ہے اور ان لفظوں میں جذبہ و فکر بھی شامل ہوتے ہیں ۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کی لفظوں کے ذریعے جذبے ، احساس یا فکر و خیال کے اظہار کو ادب کہتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی تعریف ہے جس میں کم و بیش ہر وہ با

دوسری سیڑھی

 پانچ سالوں پر محیط ایک طویل عرصہ غریب الوطنی میں گزارنے کے بعدبالآخرڈاکٹر طاہر مجید کااپنے وطن ہو آنے کا دیرینہ خواب حقیقت میں تبدیل ہو گیا،خلافِ توقع اُس کی چھٹی منظور ہوگئی۔یہ خبر پاتے ہی اسے اس مقام کی ہر شئے ہیچ اور بے معنی نظر آنے لگی تھی اور انتظار کے آخری پل کاٹنا بے حد دشوارگزار ثابت ہو نے لگا۔۔۔۔۔۔ اپنے گاؤں کے کھیتوں کی سوندھی مہک کا تصورابھی سے بے قرار کئے دے رہا تھا۔اس کے برعکس گاؤں جانے کا سن کر غزالہ کی روح فنا ہوگئی۔ اُف !وہ غیر مہذب ماحول ،ناخواندہ و پچھڑے لوگوں کے درمیان وقت کیسے گزرے گا ! ننھے اظہر کو بہلانانہ جانے کس قدر مشکل ثابت ہوگا۔اس کی دانست میں خواہ مخواہ چھٹیوں کا ستیاناس ہو کر رہ گیاتھا۔ ڈاکٹر طاہر شکاگوکے ایک اسپتال میں صدر شعبہ کے عہدے پر فائز تھا۔ڈاکٹر غزالہ بھی اُسی اسپتال کے دوسرے شعبے میں تعینات تھی۔ ایک اونچاعہدہ ،کامیاب و بے حداعلیٰ ط

چیل چنار اور چُوزے

      نیلوفرتھکن اور انتشار کے بعد نیندکی وادی میں چلی گئی تھی ۔نصف شب کے وقت ’’  ہُول ہُول‘‘ کی خوفناک ا ٓواز سن کر  نیند سے بیدار ہوگئی۔ گاوں کی ساری عورتیںایک ساتھ’’  ہُول ہُول ‘ ‘  چلا رہی تھیں ۔ شاید چنار سے چیل پھر اُتر آئی تھی اور آنگن میں ننھے ننھے مرغی کے چوزوں پر جھپٹ پڑی تھی ۔۔۔ نیلوفر کی روح کانپ اٹھی ۔ ۔  ’’ ہُول ہُول‘‘ کی آوازیں تیز ہوتی ہوئیں  نیلوفرکی سماعت سے ٹکرا رہی تھیں۔وہ خوف زدہ ہوکر ایک دم  بستر چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔  ۔ پڑوس میں عورتوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں آرہی تھیں،  ساتھ میںمردوں کی دبی دبی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں ۔ کمرے میں گھپ اندھیرا تھا ۔ وہ عامر اور اسلم کے لئے پریشان ہورہی تھی۔ اس نے ماچس کی تیلی جلائی۔ غ

افسانچے

آنے دو جانے دو دیہات کی ایک کچی اور تنگ سڑک پہ مسافروں سے کھچا کھچ بھری بس ہچکولے کھاتی ہوئی اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں تھی۔ جتنے لوگ بس کے اندر تھے اتنے ہی بس کے اوپر سوار تھے۔اچانک دوسری جانب سے اشیائے خوردنی سے لدا ٹرک بس کے بالکل قریب آکے رک گیا ۔بس والے ڈرائیور کو مجبورا" ٹرک والے ڈرائیور کو راستہ دینے کے لیے بس رورس (REVERSE)کرنا پڑی۔کنڈیکٹر بس سے نیچے اترا اور اس نے بس والے ڈرائیور کو بس رورس کرنے کے لیے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے زور زور سے کہنا شروع کیا          "آنے دو-----آنےدو----آنے دو"         بس چڑھائی سے اترائی کی طرف آہستہ آہستہ کھسکنے لگی۔ کنڈیکٹر نے لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد پھر زورزور سے کہنا شروع کیا        "آنے دو--آنےدو---آنےدو"    

دھچکا

 ’’شازیہ بیٹا چائے میں چینی ذرا کم ڈالنا، زیادہ ہو تو شُوگر بڑجاتی ہے ۔ ــ"وہ اپنی ساس کے لیے چائے بنا رہی تھی جب اُس کی ساس نے اپنے کمرے سے آوازدے کر کہا۔ ''جی امی ''اُس نے قدرے اُکتا کر کہا تھا۔ تنگ آچکی تھی وہ پرہیزی کھانے پکا پکا کر ۔ اب تو وہ اکثر سوچتی تھی پتا نہیں کب جان چھوٹے گی ساس صاحبہ سے ۔ اُس کی شادی کو پانچ سال ہو گئے تھے۔ سسر تو اُس کی شادی سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے، چار ننندیں تھیں، جنکی شادیاں ہو چکی تھیں ۔ افتاب اکلوتے بیٹے تھے سو بیمار ماں کی عیادت کے لئے اُس کی کوئی نہ کوئی ننند ٹپکتی رہتی اور اب تو وہ چاہتی تھی کہ بیمار ساس سے جلد سے جلد نجات مل جائے۔ ''امی میں ذرا بازار جا رہی ہوں بچوں کی کچھ چیزیں لینی ہیں ، ابھی گیاراں بجے ہیں میں بچوں کے سکول سے آنے سے پہلے آجاوں گئی ‘‘۔ شازیہ نے چائے اپنی ساس کو تھ

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

یہ دس نبوی کا زمانہ ہے ۔سراپارحمت پیغمبر اسلام صلی ا للہ علیہ وسلم طائف کے غم و اندوہ اور یاس و نومیدی کے اندھیاروں میں بھی امید ِفردا کا سورج اپنے دامن ِ یقین میں سمیٹے ایک نئے محاذ پر اپنا دعوتی کام شروع کر چکے ہیں ۔اس محاذ کی معلومات آںحضور ؐ کو بذریعہ وحی دی جارہی ہے کہ خاطر جمع رکھئے آپ ؐ کی تبلیغ واشاعت ِدین جنات پر موثر ہوچکی ہے۔یہ اب انسانوں کی ہی نہیں بلکہ جنّو ں کی بھی دنیا ہے جس میں اسلام کے ماننے والے پیدا ہورہے ہیں ۔ اس اطلاع میں محمد عربیؐ کے لئے بیک وقت تسلیت اور تہنیت کا پیغام چھپا ہوا ہے۔روایات میں آیا ہے کہ آپؐ وادی ٔ نخلہ میں نماز فجر یا عشاء میں تلاوتِ قرآن میں مشغول ہیں کہ اُدھر سے موسویؑ شریعت ماننے والے جنوں کا گزر ہورہا ہے ۔ یہ آپ ؐ سے تلاوت با حلاوت سماعت کر رہے ہیں ۔ ( ملاحظہ ہو سورۂ الاحقاف )۔ قبل ازیں بازارِ عکاظ میں بھی سالوں قبل جنوں کا آپ ؐ سے آم

کر نسی کر یک ڈاؤن!

لیجیے جناب! ایک ہی جھٹکے میں ہندوستان کو تمام مسائل سے نجات مل گئی۔ اب ملک میں ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ ہے نوٹ بدلنے اور جمع کرنے کا۔ یہ عارضی مسئلہ اس لیے پیدا ہوا ہے کہ حکومت نے بد عنوانی اور کالے دھن پر ایک بھرپور وار کر دیا ہے۔ ایک ایسا وار جو بلیک منی جمع کرنے والوں کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوگا اور ملک سے کالے دھن کا صفایا ہو گائے گا۔ اس ملک کا ہر سنجیدہ اور ایماندار شہری بدعنوانی اور کالے دھن کے خلاف ہے۔ اس سلسلے میں وہ حکومت کے ساتھ ہے اور اس کے کسی بھی قدم کا حامی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۲۰۱۴ء کے پارلیمانی انتخابات میں جب بی جے پی اور بالخصوص نریندر مودی نے کرپشن اور بلیک منی کو اپنا انتخابی ایشو بنایا تو عوام نے کھل کر ووٹ دیا اور بی جے پی زبردست اکثریت کے ساتھ برسراقتدار آئی۔ نریندر مودی نے عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ غیر ممالک میں جمع کالا دھن بہت جلد واپس لایا جائے گا اور اتنا پی

چھوٹی چھوٹی با تیں

  آپ کیلا ………جی ہاںکیلا… کیلا یعنی بنانا(Banana)۔ ٹھہرئیے میں کیلے پر آپ کو ایک چٹکلہ سناتا ہوں۔ چٹکلہ گپ بھی ہوتا ہے اور گپ جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ جھوٹ بولنا گناہ ہے مگر یہ چٹکلہ مبنی بر حقیقت ہے۔ میرے سکول کے ایک استاد مرحوم سید اکبر جے پوری نے ا یک بار کلاس میں سنایا کہ سادگی اور شرافت کے زمانے میں جب تعلیم ابھی عام نہیں ہوئی تھی ،آٹھویں پاس مرد و زن محکمہ تعلیم میں بحیثیت اساتذہ بھرتی کئے جاتے تھے ،یہ انہی دنوں کی بات ہے مگر آج کل آپ دیکھ رہے ہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان گائوں میں کھیتیوں کی سیر آبی کرتے ہیں اور شہروں میں سڑکوں یا فٹ پاتھوں پر چار پائی ڈال کر ریڈی میڈ نئے پرانے کپڑے ، جنہیں عرف عام میں بنگلہ دیشی مال کہتے ہیں، بیچتے نظر آتے ہیں۔ پاپی پیٹ کے لئے کچھ بھی تو ’’بہر حیا ت چاہئے‘‘ ۔کم تردرجے کی نوکری بھی

رخصتی

رات بھر بے چینی سے کروٹیں بدلتے رہنے کے بعد سرلا دیوی صبح پو پھٹنے سے پہلے ہی بستر چھوڑ کر اٹھی اور مُنہ ہاتھ دھو نے کے بعد پوجا والے کمرے میں جا کر بھگوان سے پراتھنا کرتے ہوئے گڑ گڑانے لگی۔اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں گر کر اس کے پلو میں جذب ہونے لگے۔پوجا سے فارغ ہو کر وہ جوں ہی کچن میں آئی تو اسی لمحے احسان احمد بھی اندر داخل ہوگیا۔خیر و عافیت دریافت کرنے کے بعد احسان احمد نے لکشمی کی شادی کی تیاریوں کے بارے میں بات چھیڑی توسرلا دیوی کی آنکھیں بھر آئیں جب کہ لکشمی لاج کے مارے دوسرے کمرے میں جا کر سوچ وفکر کے اتھاہ سمندر میں کھو گئی ۔سرلا دیوی نے احسان احمد کو تفصیل سے ساری داستان سنائی تو اس کے دل میں درد کی ایک ٹیس اُٹھی۔وہ ہاتھ ملتے ہوئے سخت اُداسی کی حالت میں وہاں سے نکلااور کچھ سوچ کر پڑوسی بٹو سنگھ کے گھر کی طرف گیا۔      سرلا دیوی کا گھرانہ پچھلے کئی ہفتو