تازہ ترین

بزدل

  ’’ یہ محبت کا جنون ہے  فرہاد  ۔۔۔  میری محبت کا جنون ۔ ایسی محبت تمہیں کسی اور سے کہاں ملے گی۔۔۔ کون ہے جو اس طرح سے تیرا راستہ روکے ۔۔۔  تیر ا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر سر راہ اتنا کچھ سوچے کہ بات سوچ کی انتہاتک جا پہنچے۔۔۔ اور وہ کچھ کرگزرے کہ سوچ بھی محوِ سوچ ہوکر سوچتی رہ جائے۔ ‘‘  ’’  ایسی محبت ہمارے یہاں نہیں پنپ سکتی  شیریں۔۔۔ ایسے جنون کی سزا بہت بھیانک ہے یہاں ۔‘‘ یہ دل دہلادینے والی آدھی چیخ تھی ۔ پھر موت کی سی خاموشی چھا گئی ۔ شاید عورت کا منہ سختی کے ساتھ بند کردیا گیا تھا اور باقی آدھی چیخ اس کے گلے میں ہی اٹک کر رہ گئی تھی۔ شیریں سوچ کی وادی سے ہڑ بڑا کر باہر نکلی ۔ اس نے آہستہ سے کھڑکی کے پٹ پر دبائو ڈالا ۔ چھوٹی سی جھری بنا کر باہر دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ چار آدمی کسی

اُردو فکشن کی ملکہ ۔۔۔۔قرۃالعین حیدر

ااس میں شک نہیں کہ اردو فکشن قرہ العین حیدر کے کارناموں کے بغیر ادھورا ہے۔عینی آپا یعنی قرۃ العین کا خاندان نہٹور اترپردیش کا تھا مگر ان کی پیدائش علی گڑھ میں ۲۰ جنوری ۱۹۲۸کو ہوئی۔ایران کی مشہور شاعرہ قرۃ العین طاہر ہ کے نام پر والد سجاد حیدر نے ان کا نام قرہ العین حیدر رکھا۔لکھئنو یونیورسٹی کے ازا بیلا تھوبرن کالج سے گریجویشن کے بعد ۱۹۴۷میں پاکستان اور انگلینڈ رہنے چلی گئیں۔۱۹۶۰میں ہندوستان آگئیں اور پھر ممبئی میں قیام کے بعد آخر تک نوئیڈا میں قیام رہا۔انھوں نے شادی نہیں کی۔ملان کندیر اور گیبرئیل مارکیز ان کے معاصر ین ہیں ،جن سے ان کا موازنہ کیا جاتا ہے اور مانا جاتا ہے کہ ان کا ادب زمان ومکان کی قید سے ماوراہے۔عینی آپا کسی ازم ،تنظیم یا انجمن سے ہر گز وابستہ نہیں رہیں، جن کی در پردہ حمایت انھیں ادبی شناخت دلانے میں معاون ہوتی ،لیکن اس کے باوجود انھوں نے خود کو اس مقام پر فائز کرا

گھائل

شباش بچو، پڑھو’’ یہ سلطان ہے‘‘۔ بچے پھر جوش میں آکر اونچی آواز میں زور زور سے پڑھتے تھے’’ یہ سلطان ہے ‘‘ صرف ایک بچہ ندیم نہیں پڑھتا تھا۔۔۔۔ ندیم جونہی سلطان کا نام سنتا تھا وہ غصے سے لال ہو جاتا تھا۔ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر اور عجیب آواز یں نکالتا تھا اَوِی۔ اَوِی۔ اَتھو۔ بچے ندیم کو دانستہ طور میرے ہی پیر ڈ میں اُکساتے تھے اور ’’ یہ سلطان ہے‘‘ کی رٹ لگا کر ندیم کا غصہ ابھارتے تھے۔ سچ پوچھو تو ندیم نہ کند ذہن تھا اور نہ ہی ضدی اور شرارتی ۔ سارے مضامین کلاس روم میں بڑے دھیان دے کر پڑھتا تھا۔ بس اردو کے پیریڈ میں بھڑک اُٹھتا تھا۔حالانکہ ندیم فطرتاً ایک نتہائی پسند بچہ تھا۔ لنچ بریک میں جب سارے بچے اُدھم مچائے پھرتے تھے وہ سکول کے لان کے کسی کونے میں اکیلا بیٹھتا تھا! ’’ اس کے پیچھے کیام

منزِل

ہم نے بہت کوشش کی تھی کہ انہیں بازیاب کرالیں پر کامیابی نہ ملی۔ جب وہ چلے گئے تو انہوں نے پیچھے مڑ کربھی نہیں دیکھا ، خوبصورت رشتے کو توڑنے کے لیے رقیبوں نے پہلے سے ہی جال بچھا رکھا تھا۔ وہ رقیبوں کی باتوں میں آنے والے نہ تھے مگر بھروسہ، اعتماد، وشواس تب جواب دے گئے جب وہ ان رقیبوں کی باتیں سننے کے لیے تیار ہوگئے۔ یہ سب دیکھ کر میرا بدحال ہونا لازمی تھا۔ مجھے خوبصورت رشتہ بکھرتا ہوا نظر آنے لگا۔میںاپنی آنکھوں کے سامنے مضبوط رشتے کو کانچ کے ٹکڑوں کی طرح بکھرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ یقین اگرچہ نہیں آرہا تھا۔لیکن رشتہ آہستہ آہستہ زائل ہونے کا احساس توضرور ہو رہا تھا۔مگرحقیقت میں ایسا کچھ نہ تھا بلکہ یہ میری غلط سوچ تھی،ڈر تھااُنہیں کھونے کا اور شاید وہم بھی۔آخر وہ ماضی کی خوبصورت یادیں، حسین پل،مسرت بھر ے لمحات، غم اور خوشی میں ایک ہونے کے خوبصورت احساسات کو کیسے بھول سکتے تھے۔بچپن کے

مرتے ہیں کبھی مرنے سے فنکار بھی سیفیؔ

صحیفہ تونے دل کا آجتک کھولا نہیں سیفیؔ ذرا اس کی زباں سمجھیں ذرا اسکا متن دیکھیں مذکورہ شعر کے پیش نظر جب قاری‘ سیفی ؔ سوپوری کا صحیفہ دل بصورت ’’صحرا صحرا ‘‘کھولتا ہے توواقعی اس کی زبان اور متن میں تخلیقی تجربات کاایک گلستان نظر آتاہے۔یہ شعر ی مجموعہ سیفیؔصاحب کی طویل عمر کا فن کارانہ تجربہ ہے جو زیادہ ترغزلیات اور نظموں پر مشتمل ہے۔ سیفیؔ سوپوری(1922-2017ء)ایک ممتاز استاد‘دانشور‘ادیب‘شاعر اور منتظم کی حیثیت سے جانے جاتے رہے ہیں۔کشمیری زبان کے علاوہ انہیں جہاں اردو‘عربی‘فارسی اور انگریزی زبان پر کامل عبور حاصل تھا وہیں ادبی و دینی علوم‘فلسفہ و تصوف اور قواعد وعروض پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ان ہی خوبیوں کا یہ ثمر ہے کہ ان کے کلام میں فنی و فکری پختگی جگہ جگہ نظر آتی ہے۔  ؎ ہے میرے نام سے سیفیؔ قلم کی

رام رام اللہ اللہ

 سلیم حسب معمول صبح جاگا۔ نہادھو کر سکول کےلئے تیار ہو ا اور دوڑ کر چھت پر جا پہنچا۔ آج چھت پر پہنچنے میں اُس نے پہل کی تھی آج وہ جیت گیا تھا ۔وہ چھت کےا ُسی مخصوص کونے میں کھڑا ہو کر گوپال کو آوازیں لگانے لگا جہاں سے وہ دن میں کم ا کم آٹھ دس دفعہ اُسے پکارتا تھا ۔ جبکہ اسی طور دوسری جانب سے اپنی چھتیںکے کونے سے گوپال اُسے پکارتا تھا۔ دراصل ان دونوں میں اس بات کا مقابلہ رہتا تھا کہ کون صبح پہلےتیار ہو کر چھت پر آتا ہے اور دوسرے کو پُکارتا ہے۔ وہ دونوں پڑوسی تھے۔ اُنکے گھر وں کی چھتیں آپس میں جڑی ہوئی تھیں۔ بیچ میں ہلکی سی تین فٹ اونچی دیوار تھی، جسے یہ دونوں پھاند کر ایک دوسرے کےگھر بلا روک ٹوک آتے جاتے اور غل غپاڑہ مچائے رکھتے تھے۔ سلیم نے گوپال کو پھولی ہوئی سانس میں فٹا فٹ دو تین آوازیں لگا ئیں۔ دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔’’ گوپال غسل خانے میں

سرگوشی

میں اسی خیال سے گھرسے نکلی کہ اب کہاں رہوں گی کیونکہ جنکے ہاں میں رہ رہی تھی وہ ہمارے بہت دورکے چچاتھے ۔انہوں نے  جذبات میں آکر مجھے پناہ تودی تھی مگریہ سب کچھ وقتی تھا۔اس کا اندازہ مجھے اس وقت لگا نے چچاچچی کو سرگوشی کرتے ہوئے سنا تھا۔ کہ اگران کوکسی کام سے شہرسے باہرجاناپڑاتواس لڑکی کاکیاانتظام کریںگے۔ میں بہت فکرمندتھی نہ کھانے کومن کررہاتھا۔ نہ نیندتھی اورنہ سکون ۔ہروقت سوچتی تھی کہ اب آگے کیاہو گا۔میں جوان لڑکی ہوں،کون پناہ دے گا؟بس اللہ سے دعامانگتی تھی کہ میرے پروردگارکوئی معقول چارہ انتظام کر،ورنہ میں کہاں رہوں گی،کہاں بھٹکتی پھروں گی ۔بڑی بے بس اورپریشان حال تھی ۔رات بھر کروٹیں بدل بدل کر نیندکے جھونکے لیتی تھی، جس سے سربھی بھاری رہنے لگاتھا۔بات کرنے کو بھی دل نہیں کررہاتھا۔ساتھ ہی ساتھ یہ بھی احساس تھاکہ چچاوالے توخودلورمڈل (Lower Middle) کلاس سے تعلق رکھتے ہیں اورپھرک

بے سمت قافلے

 کئی ہفتوں تک برستی بارشوں ، شدید ٹھنڈ اورچلچلاتی دھوپ میں ننگے پائوں سمندروں ،صحرائو ں ،جنگلوںاور بیابانوں کے پرُ خطر اور دشوار گزار سفر کے بعدتھکے ماندے قافلے نے رات کی تاریکی میں ایک کھلی جگہ پر،جہاں پہلے ہی کچھ مہاجر لوگ قیام پذیر تھے ، پڑائو ڈال دیا۔تھکاوٹ سے چوراور بھوک پیاس سے نڈھال قافلے والوں،جن میں مرد وزن ،بچے ،بزرگ وجوان شامل تھے ،نے جسموں اور سانسوں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے پاس ہی گزر رہی ندی پر پانی پی لیااور ادھر اُدھر موجود درختوں کے نیچے ننگی گیلی زمین پر بے سدھ بیٹھ گئے کیوں کہ آسمان بادلوں کا نقاب اوڑھے ہوئے تھا اور ہلکی سی بوندا باندی بھی ہو رہی تھی ۔اس بے یار و مدد گار قافلے میں بہت سے لوگ بیمار تھے جب کہ کچھ زندگی کی آخری سانسیں گن رہے تھے ۔قافلے میں شامل خوف سے سہمی ہوئی کمسن شوقی بھی ادھر اُدھر سے پتے جمع کرکے گیلی زمین پر ڈال کر ایک درخت کے ساتھ ٹیک ل

بھنور

گھر والے پیسے کیوں نہیں بھیج رہے ہیں ! اس طرح میرا یونیورسٹی کا داخلہ خطرے میں پڑ سکتا ہے ! پتہ نہیں خیریت سے ہی ہیں وہ سب لوگ  ؟ ویسے کیا ضرورت تھی مجھے ایم بی اے کرنے کی ۔ وہ بھی افریقہ میں۔بزنس سنبھالنے کے لئے پا پا جی نے کون سی ڈگری حاصل کی تھی۔۔۔۔ ارے بھئی پوری دُنیا میں ہماری دستکاری اشیاء کی مانگ تھی اور لوگ ان کی منہ مانگی قیمت ادا کرنے کو تیار ہوجاتے تھے ۔۔۔۔۔ لیکن زمانہ بدل چکا ہے۔  اب ایسے خریدار کہاں جو ہمارے فن کے نمونوں کی قدر کرتے۔ چاروں طرف فریب ہی فریب ہے۔ وقت نے کیوں ایسی پلٹی ماری کہ کھرے اور کھوٹے کی تمیزہی مٹ ہوگئی  ۔۔۔۔۔  اوہ ہو کس اُلجھن میں پھنس گیا میں۔ نہیں !  لگتا ہے پاپا جی ایک زبردست بزنس مین ہیں۔ اُنہیں معلوم ہو چکا ہے کہ اب بزنس کو آگے بڑھانا آسان کام نہیں ہے۔ ہر جگہ کمپٹشن ہے اور کمپٹشن کے اس دور میں ہر ایک فرد

’’قصّہ گو‘‘

تارے کی دُم کو دیکھ کر قصّہ گو نے آسمان کی فصیلوں کی اور نگاہ دوڑائی ۔تاروں کی جگمگ سے رات کا آسماں شامیانے کی مانند سج رہا تھا۔دور دور تک ستاروں نے الگ الگ ٹولیا ں بنائی ہوئیں تھیں اور ہرٹولی اپنی صدیوں کی تاریخ لئے تاریک فضا میں بے نشاں ہونے کے لئے پیر رہی تھی۔آسمان سے سرد اور موہوم ہوائیں قصّہ گو کے کانوں میں کچھ پیغام لے کرآتی تھیں، جس کی وجہ سے وہ سنجیدگی کاایک ایک زینہ عبور کرکے نیا عزم ِسفر باندھتے ہوئے نشان ِپا کو معدوم کر کے آگے بڑھتا چلا جارہا تھا۔فکر کی اس غوطہ زنی میں روشنی کے نیزے قصّہ گو کی آنکھوں میں طرح طرح کے انسانی سانچے بنا دیتے تھے ۔روشنی کے یہ سانچے کبھی کبھی انسانوں کی شکلیں اختیار کر رہے تھے۔روشنی کے ان نیزں میںقصّہ گو کو کوئی شخص دھیرے دھیرے آسماں کے زینے اترتا دکھائی دیا  ۔جب وہ اُس کے قریب آ پہنچا تو تارے پہ سوار شخص کی آوازیں ہواؤں کے دوش پر قص

افسانچے

راستے کا پتھر  شہر کے مصروف ترین راستے کے بیچوں بیچ تقریبا بیس من وزنی پتھر دیکھ کر راہ گیر حیران ہو کر رہ گئے۔ اس کو ہٹانے کی سوچ ہی رہے تھے کہ راستے کے کنارے پر لگے بورڈ پر نظر پڑی ـ"جو کوئی بھی اس پتھر کو ہٹانے کی کوشش کر ے گا اُس کو راجہ کے حکم کے مطابق ایک ما ہ قید مشقت جھیلانا پڑلے گی۔ سبھوں کو سانپ سونگھ گیااور نو دو گیارہ ہوگئے۔ راستے کی ایک طرف گہری ندی اور دوسری طرف ایک اونچا ٹیلاتھا۔ راہگیر یا تو ندی کے بیچ میں سے یا ٹیلے کے اوپر سے گذرتے تھے ۔ دونوں صورتوں میںتکلیف اُٹھانی پڑتی تھی۔ بچوں ، عورتوں اور بزرگوں کا ہی حال بُرا تھا۔ ایک مزدور کا وہاں سے روزانہ گذر ہوتا تھا۔ اُس رہا نہ گیا۔ اُس کا دل پسیجا اور اُس نے قید کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس پتھر کو ہٹانے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ اس طرح کئی دنوں کی محنت کے بعدوہ اس پتھر کو ہٹانے میں کامیاب ہوا۔ پتھر ہٹانے کی دیر تھی

اور بھی غم ہیں

آج وہ پھر اپنے بابا کے سامنے کھڑی تھی۔ بھیگی ہوئی گُم سُم، پریشان اور بد حال سی۔ مانو سارے جہاں کا درد چہرے پر سمٹ آیا ہو۔ نا اُمیدی اور ناکامیوں کے گہرے اور گھنے سیاہ سائے اُس کے خوبصورت چہرے پر ترشح تھے اور آنکھوں میں ویرانی سی چھائی ہوئی تھی۔ پھر سسرال والوں کا قہر اُس پر ٹوٹا تھا اور پھر ڈرا دھمکا کر اور اذیتیں دے کر اُسے میکے روانہ کیا گیا تھا۔ ایک نئی کہانی کے ساتھ، ایک نئے تقاضے کے ساتھ اِس بار وہ تیس ہزار کی رقم کا مطالبہ کر رہے تھے اور حسبِ روائیت رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں سنگین تنائج بھگتنے کی دھمکی بھی دے رہے تھے۔ وہ منکر ہوکر ڈٹ بھی گئی تھی۔ مگر اُنہوں نے پھر اُسے بڑی بے رحمی سے مارا تھا۔ دھکے مار کر اُسے گھر سے باہر نکالا تھا اور سر شام برستی بارش میں میکے روانہ کیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ بابا کے پاس اب سوائے دُعائوں کے کچھ بھی نہ تھا۔ وہ پہلے ہی اپنا سب کچھ اُس پر

جھمکا

رضیہ تب بہت چھوٹی تھی جب اس کے پھوپھی زاد بھائی کی شادی ہوئی تھی۔ اس کی پھوپھی بھی اسی کے محلے میں رہتی تھی۔ رضیہ کے ابا اور ان کی بہن کے درمیان بہت پہلے ایک جائداد کے معاملےپر جھگڑا ہوا تھا، جس کی وجہ سے دونوں گھرانوں کے درمیان ناراضگی چل رہی تھی۔ اسی دوران رضیہ کے پھوپھی زاد کی  شادی ہوئی۔ ناراضگی کی وجہ سے رضیہ کے گھر والوں نے شادی میں شمولیت نہیں کی۔لیکن رضیہ ایک لاابالی پگلی سی چھوٹی سی لڑکی تھی ۔ ولیمے کے دن اپنے گھر والوں سے پوچھے بغیر اپنے محلے کی چھوٹی چھوٹی سہیلیوں کے ساتھ دلہن دیکھنے گئی۔ رضیہ نے دلہن کو دیکھا۔ دلہن کے سر پر سنہری کناری والا لال دوپٹہ اور کانوں میں سونے کے لمبے لمبے ڈبل جھمکے ( جھمکے کے اندر جھمکہ) تھے،جو دلہن کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہے تھے۔ رضیہ کو دلہن بہت پیاری لگی اور اس سے بھی زیادہ پیارے اسے دلہن کے ڈبل جھمکے لگے۔ اس معصوم کے ذہن میں یہ

افسانچے

مرد نئی نویلی دُلہن بے قراری سے دولہے کا انتظار کررہی تھی۔ وہ کمرے میں آیا اور دُلہن کے پاس جانے کی بجائے کونے میں رکھے ہوئے صوفے پر بیٹھ کر سگریٹ کے دھویں سے کھیلنے لگا۔ وہ بہت پریشان تھا، اِس لئے ایک سگریٹ بجھاتا تو دوسرا سلگالیتا۔ کمرہ دھویں سے بھر گیا۔ دُلہن کا دم گھٹنے لگا، وہ سمجھ گئی کہ اُسے کسی طوفان کا سامنا ہے۔ وہ پلنگ سے اُٹھی اور دھیرے دھیرے چلتی ہوئی دُلہے کے پاس آگئی۔ ’’کیا بات ہے؟ آپ بہت پریشان لگ رہے ہیں،کہیں یہ شادی آپ کی مرضی کے خلاف تو نہیں ہوئی ہے؟‘‘ دلہن نے دھیرے دھیرے کہا۔ ’’دولہے نے آدھا سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے ایک لمبی سانس لیکر کہا ’’مجھے افسوس ہے کہ میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتا ہوں، میں کسی اور سے پیار کرتا ہوں۔ میری شادی میری مرضی کیخلاف ہوئی ہے۔‘‘ ’’کون ہے وہ

انتظار اور سہی

موسم سرما نے میرے گائوں کے حُسن میں ایک بار پھر چار چاند لگائے دئے تھے ۔ برف کی ہلکی سی چادرنے ہر شے کو ڈھانپ لیا تھا اور اُس پر دھوپ کی سنہری کرنیں اُس منظر کو مزیدخوش گوار بنا رہی تھیں۔ ٹرین سے اُتر تے ہی اپنے بھاری بھرکم بیگ اُٹھاکراپنے گھر کی کا رُخ کرنے لگی ۔ایسا محسوس ہو رہاتھا جیسے یہ دل فریب سماں قدرت نے میرے ہی استقبال کے لئے باندھاتھا ۔ تین سال کے بعد میں گریجویشن مکمل کر کے خوشی خوشی اپنے گھر لوٹ رہی تھی۔راستے میںحاجی غلام محمد کے گھر کے سامنے سے گزر ی تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ گائوں کے لوگ جوق در جوق اُن کے گھر میں داخل ہورہے تھے۔اپنی بیس سالہ زندگی کے ہر دور میں، میں نے اِس گھر کوویرانیوں اور اداسیوں کے سائے میں لیٹا ہوا پایا تھا۔پھر آج اِس گھر میں یہ بہار کیسے آئی تھی ؟یا یہ کوئی ماتم داری تھی؟یا پھر میں ہی کوئی خواب دیکھ رہی تھی ؟ کیا اِن کے یہاں کوئی مر گیا ہے؟ش

شہرآشوب

وہ انوکھا شہر تھا… اُس شہر کے ہر گلی کوچے اور فُٹ پاتھ پر چہرے ہی چہرے بِکتے تھے۔ قسم قسم کے چہرے دکانوں میں بڑے بڑے شلفوں پر سجے ہوئے تھے۔ شہر کے بڑے بازار میں دن بھر چہرے خریدنے والوں کا رش لگا رہتا تھا! خریدار اپنے من پسند کے چہرے خریدتے تھے۔ کوئی خریدار ایک، کوئی دو اور کوئی صاحب استطاعت سے تین، چار یا پانچ چہرے بھی خرید تھا… دراصل اُس شہر کا ہر باشندہ نقلی چہرہ لگا کر گھومتا پھرتا تھا۔ وہ شہر کچھ کربناک منظر پیش کررہا تھا اور گلیاں سُنسان تھیں، سڑکوں پر موت کا رقص جاری تھا۔ حق، سچ، حیا، امانت، فرض، اصول اور انسانیت جیسے الفاظ مہمل بن گئے تھے! لوگ ایک دوسرے کو ٹھگتے تھے۔شہرکے بچے اور جوان ذہنی انتشار میں مبتلا تھے۔! ایک دن یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ چہروں کے دام آسمان چھولیں گا۔ دُکانداروں نے چہرے ڈمپ کردیئے، نتیجتاًچہروں کی بلیک مارکیٹنگ شروع ہوئ

آتما

دن بھر پورے جگ کو تمازت فراہم کرنے کے بعد سورج اب تھک کر اندھیرے کے آنچل میں پناہ لے چکا تھا۔موسم نے بھی کروٹ بدلی اور اب بوندا باندی ہورہی تھی۔شہزاد برق رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا۔جس راستے پہ شہزاد کی گاڑی رواں دواں تھی،وہ بالکل سنسان تھا۔دور دور تک کسی شئے کا نام و نشان نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔انسان ،گاڑیاں،شورشرابا۔۔۔کچھ بھی نہیں۔دور دور تک فقط اندھیرے کا راج تھا۔شہزاد کو اس سُنسان سڑک پہ گاڑی چلاتے ہوئے ایک عجیب سی وحشت ہورہی تھی۔’’رات کے اس پہر مجھے دفتر سے نہیں نکلنا چاہیے تھا۔کون سی قیامت برپا ہوتی جو میں ایک رات اپنے اہلخانہ سے دور رہتا۔‘‘اُ س نے من ہی من میں خود کو کوسا۔’’مگر نہیں میں کیسے اپنے بیوی بچوں سے دور رہ سکتا ہوں۔۔۔اور میری پیاری بچی،میری پیاری بیٹی،میری پیاری گڑیا،دِیا رانی۔۔۔میں کیسے رات گزارتا اُس کے بغیر‘‘۔اچانک فون ک

تاجو قصائی

 پچھلی ٹانگوں کو باندھ کر رسی کی گانٹھ اگلی ٹانگ میں پھنسا دی، اس کا دوسرا بل دوسری ٹانگ کے گرد لپیٹ کر رسی پچھلی ٹانگوں کی بیچ  سے گذار کر جو  اسے کس کے کھینچا، تو ٹانگین سکڑگئیں ۔۔ گرن نیچے کی طرف جھکنے لگی۔ ۔ ۔ رسی کواور کھینچا تو گٹھنے ٹیک دیئے۔۔۔  پھر ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ بھینسا چت۔۔۔  تاجو نے جلدی جلدی رسی کو ایک ہاتھ میں لیکر دُم ٹانگوں میں پھنساکے اپنے گھٹنے بھینسے کی پیٹھ پر دبا دیئے۔ جب تک جبار قصائی نے گردن موڑ کر نرخرا کاٹ دیا ۔۔۔  بررررر کر کے خون کا پھوارہ نکلا۔ یہ وقت ہوتا ہے جب گردن کٹے  بھینسے میں دس ہارس پاور سے بھی زیادہ طاقت آجاتی ہے۔ اور کھینچ کر بھاگنے کی کوشش میں پکڑنے والے کوگھسیٹ کر مار بھی سکتا ہے۔ تاجو ایک مشاق قصابن کی طرح رسی کھنچ کر زمین پر بیٹھ گئی اور اپنے دونوں پائوں بھینسے کی پشت پر دبا دیئے۔ جبار قصائی نے چھری نرخر

گائے

 سورج ڈھلنے جارہا تھااور آسمان پر کالے کالے بادل جمع ہورہے تھے جن میں شفق کی سرخ لکیر دھندلی پڑگئی تھی۔ بارش ہونے کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے کہ ابھی بجلی کوندنا شروع کرے گی ،بادل گرجینگے اورآسماں سے بارش کا نزول ہو گا ۔سبھوں کے گاے بیل گھر لوٹ چکے تھے لیکن خدا بخش پریشان تھا کہ دن تو ڈھل گیا ہے مگر گاے ابھی تک لوٹ کے نہیں آئی۔روز سہ پہر ڈھلتے ہی تو گھر آیا کرتی تھی، نہ جانے آج کہاں غائب ہوگئی۔وہ بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھا کرموسم کا جائزہ لے رہاتھا ۔دل میں وسوسوں نے گھر کر لیااور پریشانی کے آثار چہرے پر ظاہر ہونے لگے ۔کچھ دیر آنگن میں ادھر ادھرٹہلتا رہا اور پھر بیوی کو پکارنا شروع کیا:ــ ’’ارے سنتی ہو‘‘ ’’سعادت کی ماں‘‘ ’’کہاں پاتال پہنچ جاتی ہو ‘‘ اندر سے آواز آئی’’

سات نمبر کا پاپوش

انوپ دت اور سہیل اختر گہرے دوست بھی ہیں اور ہم پیشہ بھی۔دونوں سماجی فلاح وبہبود محکمے میں تیسرے درجے کے ملازم ہیں۔گھر سے یہ دونوں ہر روز ایک لوکل بس میں سوار ہوکر تقریباً چالیس کلو میٹر کی دوری  پر ڈیوٹی دینے جاتے ہیں۔بس میں مرد ،عورتیں ،بوڑھے،جوان اور بچّے ہر طرح کے لوگ سوار ہوتے ہیں۔انوپ دت میں ایک عجیب عادت یہ ہے کہ وہ صنف نازک کے ساتھ سیٹ پہ نہیں بیٹھتے ۔انھیں چاہے گھنٹوں کھڑے کھڑے کیو ں نہ رہنا پڑے لیکن کسی عورت کے ساتھ سیٹ پہ بیٹھنا وہ معیوب سمجھتے ہیں ۔بس میں کسی عورت کے ساتھ والی سیٹ خالی پڑی رہے ،انوپ دت اس پہ ہرگز نہیں بیٹھیں گے۔یہاں تک کہ اگر وہ بیٹھے ہوں اور کوئی عورت آکر ان کے ساتھ خالی سیٹ پہ بیٹھ جائے  تو وہ فوراً اپنی سیٹ چھوڑ کرکھڑے ہوجائیں گے۔ایک روز ان کے گہرے دوست سہیل اختر نے ان سے پوچھا ’’یار انوپ۔۔میں تجھے کئی دن سے دیکھ رہا ہوں کہ تو ک