تازہ ترین

گھروندے

اس کی زندگی کا سورج اب لب بام آچکا تھا۔وہ آج تھک ہار کر زندگی کے پل بھر کے لمس کو دھیرے دھیرے غیر محسوس رویہّ سے چھوڑ رہا تھا ۔ آخری بار اُس نے اب اپنی تھکی ہوئی آبدیدہ پلکوں کو بڑی مشکل سے اٹھایا تھا۔ تو اُس کا دھیان اب گردشِ ایام پر اب جا رہا تھا، جہاں اس کا بچپن ، لڑکپن اور خاص کر شبّاب کا حسین سا دور اچھلتا ،کودتا اور رقص میں مخمورایک دھندلکا سا رہ گیا تھا، جس کا بس کوئی حسین سا لمس اس کی آنکھوں سے  ٹپ ...ٹپ....کر کے برس رہا تھا۔ شایدسارا، اس کے سرہانے اس کے آخری انفاس کوبڑی کرب سے الوداع کہنے کیلئے بے قرار سی تھی، کو دیکھ کر اس کو کئی کہانیاں یاد آکے رہ گئیںتھیں...... !...وہ بچپن کی شادی ....! ...تصور ازدواج سے پرے، دونوں کا دن بھر گھر سے غائب رہ کر دریا کے کنارے گھنے پیڑوں میں گھروندوں کی آرایش میںغمِ حیات اور دنیا کے ہنگاموں سے ماورا ہوکے بے غم سرمستیاں کرناجب تک سو

درد سے بھر نہ آئے کیوں؟

 آج پہلی بار انتہائی سنجیدگی سے تجھ سے ہم کلام ہوں۔  ویسے تو روزانہ ہی کسی نہ کسی بہانے تم سے کلام کرتا رہتا ہوں۔ چاہے وہ خوشی کا مقام ہو یا پریشانی کا عالم۔ غم دوراں سے دل برداشتہ ہوں یا غم جاناں سے مضطرب۔ہر حال میں تجھے یاد کرتا رہتا ہوں،لیکن آج کچھ عجیب سے الجھن بھرے احساس نے تیری چوکھٹ پر لا کھڑا کر دیا ہے، جس احساس کو میں کوئی نام دینے سے قاصر ہوں۔ تم میری زندگی کے ہر اتار چڑھاؤ سے بخوبی واقف ہو، کیونکہ تم ہی ظاہر و باطن کے گواہ ہو۔  تیرا بہت بہت شکریہ کہ تو نے زائد از نصف صدی پر محیط عرصے سے میرا ساتھ نبھا یا ہے اور اس احسان کا احساس تک نہیں ہونے دیا ہے۔ ہاں! تیرا احساس کبھی کبھی خود بخود شدت سے ہو جاتا ہے۔ مجھے زندگی کا ہر لمحہ بخوبی یاد ہے۔ چاہے وہ مسرتوں سے بھرپور شادی کے لمحات ہوں یا غم و اندوہ میںڈوبے ہوئے وہ لمحے جب والدہ صاحبہ اس دارِ فانی سے چل بسیں۔

کار خیر

 گل محمد نے دین داری اور دنیاداری کو آج سے چالیس برس پہلے اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ جب ان کی ماں حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے پورے خاندان کو روتا بلکتا چھوڑ گئی تھیں۔گل محمد کی عمر تب اٹھارہ برس کی تھی اور وہ بارہویں جماعت کا امتحان پاس کرچکے تھے۔وہ خدا داد صلاحیتوں کے مالک تھے۔انتہائی ذہین؛خوش مزاج وخوش اخلاق؛تین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ان کی کوئی بہن نہیں تھی۔ان کے والد صاحب میونسپل کمیٹی کے چیرمین تھے۔ماں جیسی عظیم نعمت کہ جس کے دل میں اپنی اولاد کے لیے صرف اور صرف محبت رہتی ہے۔آج زمین وآسمان کی حد بندیوں سے کہیں دور آگے نکل گئی تھی۔ ہمیشہ کے لیے اپنی اولاد کے دلوں میں چھوڑ گئی تھی دائمی جدائی کا غم۔ گل محمد نے اپنی آنکھوں گھرسے اپنی ماں کا جنازہ لوگوں کے ہجوم کی صورت میں نکلتے دیکھا تھا۔قبرستان پہنچ کر نمازجنازہ پڑھنے کے بعد جب انھوں نے اپنی ماں کی کھودی ہوئی قبر دیکھی

آنکھیں

   ’’ دیکھ بیٹی ۔۔۔۔۔۔ ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں تمہاری ہی خوشی کے لئے کر رہے ہیں۔تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ اپنی ضد چھوڑ کر ہماری بات مان لے‘‘ ۔ ماں نے پیار سے اداسی میں ڈوبی نازنین ،جس کی حالت انگور سے کشمش ہو تی جا رہی تھی، کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ’’مما ۔۔۔۔۔۔وہ اس میں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ نازنین،جس کے رگ و ریشے میں ماں کی بات    سے درد کی ایک تیز ٹیس اٹھی ، نے ہمت کرکے کچھ بولنا چاہالیکن آواز جیسے اس کے حلق میں ہی اٹک گئی۔وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں گئی ،اس کی آنکھوں سے تیز تیز قطار در قطار آنسوںگر کر ایسے ٹوٹنے لگے جیسے شبنم کے قطرے چوٹ کھا کھا کر ٹوٹ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ’’ نازنین ۔۔۔۔۔۔ آنسو مت بہا، نازنین ۔۔۔۔۔۔ تمہاری غزالی آنکھوں میں یہ آنسو مجھے بالکل اچھے نہیں لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ موتی جی

کتا

میں حسب معمول صبح سویرے سیر کرنے کو نکلا.دوڑتے دوڑتے پارک میں پہنچا، لیکن آج پارک خالی تھی کیونکہ ہلکی ہلکی بارش اور سردی کی وجہ سے لوگ شاید ابھی لحافوں کے اندر ہی دبکے ہوئے تھے۔ آج میں بالکل تنہا تنہا تھا۔ان تین سالوں میں یہاں بہت سارے لوگوں سے جان پہچان ہوئی..پاس کے انور خان، سامنے والی کالونی کے لہر سنگ،انکے لنگوٹیا یار احمد جان،سشیل کمار اور میری کالونی کے رجب صاحب۔ الگ الگ شکلیں الگ الگ مزاج،لیکن سبھوں کو میری طرح کتوں کا ڈر۔چھڑی کے بغیر کوئی مارننگ واک کے لئے نہیں نکلتا۔میرے ہاتھ میں بھی میرے آنگن کے شہتوت کے پیڑ کی لچک دار چھڑی تھی۔میدان بالکل خالی تھا.اب بارش تیز ہونے لگی،تو میں نے گھر کی طرف واپس جانا مناسب سمجھا۔میں ابھی چلتے چلتے بیچ میدان میں ہی پہنچاتھا کہ میدان کے اندر دو کتے گھس آئے۔وہ ایک دوسرے کو چھیڑ رہے تھے۔کبھی ایک دوسرے کے پیچھے کبھی دوسرا پہلے کے اوپر ، کبھی د

وعدۂ خدا

وہ لائبریری میں میرے روبرو کرسی پر براجمان تھی۔اُس نے آخری مرتبہ میری آنکھوں سے آنکھیں ملائیں۔اب کی بار وہ شاید حتمی فیصلہ لینے والی تھی،اسی لئے شایداتنی گہرائی سے میری آنکھیں پڑھ رہی تھی۔پھر کچھ دیر بعد ہی اُس نے اپنی بادامی آنکھیں بند کرلیں اور یادوں کے گہرے سمندر میں ڈوب گئی۔چند منٹوں کے لئے لائبریری میں سناٹا چھایا رہا اور اور بالآخر مختصر توقف کے بعد اُس نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور ہولے سے اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر اپنا فیصلہ سُنانے لگی۔۔۔فیصلہ میرے حق میں ہی تھا۔۔۔وہ اپنی زندگی کا سفر میرے سامنے بیان کرنے کیلئے راضی ہوچکی تھی۔ اندھیری گھٹاؤں سے روشن شعاؤں تک کا سفر،عشق ِمجازی سے عشق حقیقی کا سفر،نتاشا مہتا سے فاطمہ بننے کا سفر۔۔۔۔۔۔ دل واقعی ایک نرالی بستی ہے۔اس بستی میں کب کوئی آکر آباد ہوجائے،اس بات کا انسان کو علم ہی نہیں ہوتا۔نتاشا اگرچہ یونیورسٹی پہنچنے تک&rsq

سوچتاتھا کیا؟ کیا ہوگیا؟

  یونیورسٹی سے بی ۔فارمیسی کرنے کے بعد تینوں دوست اس قدر خوش تھے کہ پھولے نہیں سماء رہے تھے۔شاید اب اُن کو اپنی منزل صاف صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ان میں سے ایک لمبے قد کا تھا جو باتوں سے شریف اور دل سے نرم لگ رہا تھا ۔یہ دونوں اس کو ’راج‘ کے نام سے پکارتے تھے ۔ایک عینک والاپتلا لڑکا تھا، جس کا نام ’رام ‘تھا اور تیسرا لمبی لمبی مونچھوں والا ’شام ‘تھا۔تینوں کی دوستی کافی گہری تھی اور تینوں سول سروس کی تیاری کے بارے میں سوچ رہے تھے ۔اور ایک دوسرے سے گفتگو میں مصروف تھے۔ راج   ...... میں آج بہت خوش ہوں کم سے کم بی ۔فارمیسی ہوہی گیا۔اب تو نوکری پکی ہے۔ شام   ...   ہاں سارے ہندوستان میں خالی ہم تین ہی تو ہیں جنہوں نے بی۔فارمیسی کیا ہے جو نوکری پکی۔!  رام   ....  ہاں یار، لڑکے تو بہت ہیں لہٰذا ہمیں کسی اور ا

مْکھوٹا

اولڈ ایج  ہوم کے ریکریشن ہال کی دیوار پر آویزاں بڑے ایل سی ڈی پر اْس کا بدھا چہرہ صاف دکھائی دیتا تھا ____،،، ہال میں بیٹھی ہوئی بہت ساری بزرگ عورتیں اْس کی تقریر ہمہ تن گوش سْن رہی تھیں ،، شانتی نے اپنی آنکھوں پر نظر کی عینک چڑھائی اور غور سے ایل سی ڈی کو دیکھنے لگی __،،وہ کہہ رہا تھا،، مْنش  کے جیون میں ماں شبد کا مہتو کیا ہے ، یہ بتانے کی کدا آؤشکتا نہیں ہے __پرنتو ، میں یہ کہے بغیر نہیں  رہ سکتا کہ ماں سنسار کا وہ پوتر شبد ہے جس سے انسانی وجْود کا دارو مدار ہے __یہی وہ دیوی ہے جس نے بڑے بڑے رشی مْنیوں اور اوتار وں کو جنم دیا ہے __ بد نصیب ہیں وہ لوگ جن کی مائیں نہیں ہیں اور خوش نصیب  ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر ماؤں کی چھایا موجْود ہے،اْنہیں چاہئے کہ اس موقعے کا لابھ اٹھا کر اپنی ماؤں کی خوب سیوا کریں ____،،، پری جنو!  آپ سوچ رہے ہونگے ،میں

پاکیزہ حقیقت

  برسہا برس کا دراز عرصہ تو ہو ہی چکا ہے ہمیں آپس میں بات چیت بھی کئے ہوئے۔ اُن دنوں ایک ایک کرکے تمہارے سبھی دوست تم سے دور ہوتے چلے گئے۔ تم سب کے ہوتے ہوئے بھی تنہا رہ گئے۔ اس کے باوجود تمہیں قطعی پرواہ نہیں تھی کہ تمہاری زندگی میں کون آرہا ہے اور کون جارہاہے۔ تم پر تو فقط جائز و ناجائز طریقوں سے اپنی آمدنی بڑھانے کا جنون سوار تھا۔ تم نے ابھی روپے کی ہلکی سی جھلک ہی دیکھی تھی کہ تم کس قدر مغرور، بدزبان، بداخلاق و بدچلن ہوگئے، تمہیں یاد ہی ہوگا۔ تم دولت کے نشے میں اس قدر غرق ہوتے چلے گئے کہ تمہیں احساس تک نہ ہوا کہ کب یہ بدعتیں تمہاری فطرت میں سرائیت کرکے لہو کی طرح تمہارے وجود و حواس میں دوڑنے لگیں۔ تمہیں لگنے لگا کہ سبھی تمہاری ترقی سے جلتے ہیں۔ تم سب سے افضل ہوگئے ہو لہٰذا تم دوسروں سے کنی کاٹنے لگے۔ تمہارا روکھا پن روزبروز بڑھتا گیا اور ایک دن تمہیں مکمل طور پر دوستی ک

غربت

 آج اتوار کا دن تھا۔ تعطیل تھی۔ انور حسین کی بیوی صبح سے اپنے خانساماں کے ساتھ کچن میں مصروف تھی۔ کُکر سیٹیاں دے رہا تھا۔ طرح طرح کی مرغن غذاؤں کی خوشبو گھر میں رقص کررہی تھی۔ انور حسین بھی اپنے دفتر کے ضروری کام لے کر صبح سے اپنے ڈرائینگ روم میں بیٹھے کام کررہے تھے۔کھانے کا وقت ہوا تو بیوی نے ڈائننگ ہال کے خوب صورت اور قیمتی ڈائننگ ٹیبل پر انواع اقسام کے کھانوں کو اس طرح سجادیا تھا جیسے واقعی آج کوئی خاص دن ہے۔ کوئی تقریب ہے یا عید ہے۔ انور حسین کوکھانے کے لیے آواز دی۔ وہ بھی بھوکے تھے۔ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے اور خوشی خوشی کھانا کھانے لگے۔ کھانا کھاتے کھاتے اچانک رک گئے۔ان کی کہنیاں ٹیبل سے لگی ہوئی تھیں۔ ہاتھ میں لقمہ تھا جو منہ سے دوچار سنٹی میٹر کے فاصلے پر اس طرح رک گیا تھا جیسے کہ وہ منہ کے اندر داخل ہونا نہیں چاہتا۔انور حسین کسی سوچ میں غرق ہوگئے تھے۔ کیا ہوا؟ کیوں رک گئے

کہانی …ایک رات کی

وہ اجنبی لڑ کی میرے کمرے میں ناک کرنے کے بغیر ہی گُھس آئی۔ ہوٹل…ایس ایس ایس کمرہ نمبر…3 گلی…مٹیا محل جامعہ مسجد دِلی   پرانی دِلی میں یہی میرا ایڈرس تھا۔ اُس وقت بھی میں سوچ کے کینواس پر کہانی رقم کررہا تھا۔ رات کے قریب بارہ بج چکے تھے۔ رات تاریک اور خنک تھی۔ ستارے آسمان پر مُسکرا رہے تھے۔ وہ اجنبی لڑکی ناک کرنے کے بغیر ہی میں کمرے میں گھس آئی۔ اُس کی زندگی مفلسی کے قبا کی مانند تھی، جس پر ہر گھڑی کے پیوند لگے ہوئے تھے! وہ زبردستی میرے پلنگ پر بیٹھ گئی بنا کچھ کہے وہ مجھے گھور گھور کر دیکھتی رہی۔ میں چونک پڑا… ہمارے درمیان ایک خلیج حائل تھی! ’’ارے! کون ہو تم!؟‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا اُس نے اپنا چہرہ اپنے دونوں گٹھنوں کے اُوپر رکھ لیا۔ جیسے گلاب کے پھول جھانک رہے ہوں۔ ’’تم اجا

گنڈولہ اور گُڑیا

 نصف شب تک وہ بستر پر کروٹیں بدل بدل کر گنڈولہ کی سواری کے خواب دیکھتا رہا۔یہ خواب وہ کئی برسوں سے دل میں سجائے بیٹھا تھا۔آنکھ لگتے ہی اس نے خود کو گنڈولہ کی سواری کا مزہ لیتے ہوئے پایا۔اب اس کا  یہ خواب پورا ہونے جارہا تھا کیونکہ کل اسکول کے طلبہ گلمرگ کی سیر کو جارہے تھے‘چونکہ اب کشمیر میں گلمرگ اور گنڈولہ جیسے ہم نام بن چکے ہیںکیونکہ جو بھی گلمرگ کی سیر کرنے جاتا ہے تو اس کی سوچ پر گنڈولہ کی سواری کا چسکا ضرور چھایا رہتا ہے۔سویرا ہوتے ہی ماں نے اسے جگا یا ۔باتھ روم سے فراغت کے بعدناشتہ ختم کرنے کے ساتھ ہی وہ پکنک کی تیاری میں جٹ گیا۔ماں نے ٹفن اور واٹر بوتل کے ساتھ بیگ اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے سو روپے کا نوٹ بھی دے دیا۔ وہ جونہی گھر سے باہر نکلا تو پیچھے سے چھوٹی بہن کی توتلی آواز آئی کہ’’ بھیا گھڑیا ضرور لانا۔‘‘بہن کی توتلی آواز سن کر و

’’میائوں‘‘

 میرے گھر کے کشادہ صحن میں اِدھر اُدھر سے قسم قسم کے جانور وں اور پرندوں کا آنا جانا سال کے سال لگا ہی رہتا ہے۔ میں نے اپنے چار کنال کے صحن کو ایک بھر پور گھنے جنگل کا نمونہ جو بنا رکھا ہے۔ خصوصاً گلی محلے کے آورہ کتوں سے بچتی بچاتی آوارہ بلیوں کی تو یہ محفوظ ترین پناہ گاہ ہے۔ صحن کے چاروں طرف سات فٹ اونچی چہار دیواری ہے، جسے عبور کرنا کتوں کے لئے ممکن نہیں۔ بہرکیف بلیوں نے کہیں نہ کہیں سے اندر باہر کے راستے ضرور بنا رکھے ہیں۔ موسموں کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ طرح طرح کے انوکھے انوکھے رنگ برنگے و بیحد دلکش پرندوں کا یہاں چہچہانا و بسیرا کرنا مجھے انتہائی اچھا لگتا ہے۔ بھیڑ بھاڑ والے اس شہر میں پُرسکون ماحول سے لبریز صحن ہوبہو جنت کی تصویر ہے۔ محلے بھر کی نظریں اس ہرے بھرے صحن پر ٹکی رہتی ہیں۔ لوگ مجھے تعریفی نگاہوں سے تک تک کے میرے شوق کی داد دیتے ہیں۔ رواں سال موسم گرما میں نہ

غلام

’’ واہ ۔۔۔۔۔۔واہ۔۔۔۔۔۔ سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی گئی‘‘۔ ’’میں نے شاہد کے پاس کرسی پر بیٹھتے ہوئے پھبتی کتے ہوئے کہا‘‘۔ ’’کیوں بھائی کیا ہوا؟‘‘ ’’یار یہ داڑھی کس خوشی میں بڑھائی ہے‘‘ ۔ ’’ ارے یار ۔۔۔۔۔۔اپنا کیا ہے ،آڈر آیا اور رکھ لی‘‘۔ ’’کیوں باس کا آڈر ہے کیا؟‘‘ ’’باس کون ہوتا ہے یار۔۔۔۔۔۔‘‘۔ ’’پھر کس کا؟‘‘ ’’مجھ پر حکم اسی کا چلتا ہے جس کا میں غلام ہوں‘‘۔ اس نے اپنے مخصوس فنکارانہ انداز میں مسکرا کرچہرے پر سلیقے سے سجی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔ ’’تو تو پندرہ دن کی چھٹی پر گیا ہے ادھر کیسے آنا ہ

واپسی

  دیا رام کو اپنے گہرے دوست رمیش بھاردواج کی شادی میں اس بات کی  بہت خوشی ہوئی تھی کہ بھاردواج نے جہیز لینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔اس کے اس غیر متوقع فیصلے پر لڑکی والے حیران رہ گئے تھے اور رمیش بھاردواج کے والدین کے چہروں پہ مایوسی چھا گئی تھی۔رمیش بھاردواج نے لڑکی والوں کو سب کے سامنے کہہ دیا تھا    "مجھے جہیز نہیں چاہئے۔  میں آپ کی لڑکی سے شادی کررہا ہوں؛ جہیز سے نہیں" دیارام کو اپنے دوست کی شادی پہ بڑی تھکان اور کوفت سی محسوس ہوئی تھی کیونکہ رات بھر شادی کا جشن چلتا رہا تھا۔ اس نے  دلہے اور دلہن کو پنڈت جی کے منتروں کے اُچارن کے مطابق اذدواجی رشتے میں بندھتا دیکھا تھا۔تب اسے اس بات کا احساس ہوا تھاکہ شادی مریاداوں کا انت ہے۔ رمیش بھاردواج کی شادی کو ابھی پندرہ ہی دن ہوئے تھے کہ ایک دن دیارام کو یہ مایوس کن خبر سننے کو ملی کہ

خواب اور آنسو

 میت بیڈ پر دراز پڑی ہوئی تھی۔ اس کا رنگ پیلا ، گال پچکے ہوئے اور ہونٹ زرد تھے۔ اس کی دونوں آنکھیں اندر کی طرف دھنسی ہوئی نیم واتھیں۔ گردن ایک طرف کو جھکی ہوئی تھی۔ ناک سے تھوڑی سی رطوبت خارج ہورہی تھی۔ بائیں آنکھ سے ایک آنسو ڈھلک کرموتی کی طرح اُس کے گال پر اٹکا ہوا تھا۔ اُس کا جسم سفید کپڑے سے  ڈھکا ہوا تھا اور میں کھڑا کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔ میری حالت ایک لاچار جسم کی سی تھی۔ میری زبان اور ہونٹ خشک تھے اور آنکھوں سے لگاتار  آنسوئوں کی جھڑی لگی ہوئی تھی، جنہیں پونچھنے کی مجھ میں ہمت نہ تھی۔ میں اُسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔ مگر وہ مجھے۔۔۔۔ اس کمرے میں  کافی لوگ جمع تھے۔ عورتیں بھی اور مرد بھی۔ کچھ اس کے پلنگ کے ارد گرد کھڑے اور کچھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اپنے اور پرائے سب زاروقطار رو رہے تھے۔ کچھ اس کے اوصاف حمیدہ اور اخلاق بیان کر رہے تھے۔ میں یہ سب کچھ دیکھ

جہیز

  وہ دفتر میں ابھی داخل بھی نہیں ہوئی تھی کہ چپراسی فائلوں کا انبار اُس کے سامنے پڑی میز پر رکھ کر چلا گیا۔اُس نے کرسی سے ٹیک لگا کر ایک فائل ہاتھ میں اُٹھایا اور اُس کا سرسری جائزہ لے کر اُسے بند کردیا اور واپس میز پر رکھ دیا۔تبھی اُس کی نظر میز پر اُلٹی پڑی چھوٹی سی تختی سے جا ٹکرائی۔اُس نے تختی کو سیدھا کیا تو اُس پر لکھے الفاظ واضح ہوگئے،’ایس ایس پی پریا شرما‘۔اُسے دفتر آئے ابھی آدھا گھنٹا ہی ہوچکا تھا جب چپراسی نے باہر سے آواز دی ،’’May I come in mam‘‘۔ ’’ہاں آجاو‘‘۔اُس نے دروازے کی طرف نگاہیں مرکوز کرتے ہوئے جواب دیا۔ ’’میم !کوئی لیڈی آپ سے ملنا چاہتی ہیں‘‘۔چپراسی نے اندر داخل ہوتے ہی اُسے اطلاع دی۔ ’’کس سلسلے میں؟‘‘ ’’میم!اُس کی بی

مکڑی کا قتل

  احساس ہے کیا؟  تہہ دارسوچ میںفکر کے دھاگوںسے بنا مکڑی کاجالا۔اورمکڑی؟  دھاگوں کی الجھتی گرہیں سلجھانے اور سلجھی گرہوں کو الجھانے کا ہنر۔  جو کبھی احساس کو جگانے کا کام کرجاتی ہے اور کبھی اسے گہری خاموشیوں کے سپرد کرکے میٹھی نیند سلادیتی ہے ۔  ہنرنچوڑ ہے۔ سوچ،  فکر اور احساس کی تکمیل کا۔  ہنرسے فعل لازم ہے اور جو فعل سرذد ہوجاتا ہے،  اُسی کی سرزنش ہوتی ہے یا ستائش  ۔     مکڑی جب الجھائو اور سلجھائو کی الجھن میں پھنس جاتی ہے  وہ دھاگے بُننا بھول جاتی ہے ۔  ہنرکے تخلیقی پرزوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ وہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ تخلیقی عمل رک جائے تو سوچ منجمد ہوجاتی ہے ۔ سوچ کا منبع  توعقل ہے  اور عقل کے سوتے خشک ہوجاتے ہیں۔  میں اس الجھن اور سلجھن کی چکی کے دو پاٹوں میں پِس رہا تھا۔ میرا احساس شاید مرچ

افسانچے

 چابی     ’’اُف کس قدرشدید سردی ہے‘‘۔۔۔۔آج تو گویا راستہ ہی نہیں کٹ رہا تھا۔اوپر سے گاڑی میں حد سے زیادہ بھیڑ تھی،میں اپنی سانسوں سے ہاتھوں کو گرمی بخش رہا تھا کہ اچانک مجھے oven میں رکھی ہوئی بریانی یاد آئی۔اتنی سردی میں گرم بریانی کا تصور نہایت خوش کن تھا۔گھر جاتے ہی سب سے پہلے گرم پانی سے خوب منہ ہاتھ دھوئوں گا۔پھر بریانی کھائوں گا،اس کے بعدگرم گرم قہوہ بھی پیوں گا۔۔میں بچوں کی طرح سوچ سوچ کر مسکرارہا تھاکہ گاڑی کو اپنے گھر کے دروازے پر رکتاپاکر اترنے لگا۔۔۔۔ ارے ! یہ کیا دروازے پر تو تالا لگا ہوا ہے۔۔۔۔تالے پر نظر پڑتے ہی صبح کو سُنی ہوئی ماں کی ہدایت یاد آنی لگیں۔۔۔۔۔ ’’ اف اللہ  !میں نے چابی رکھی ہی نہیں  ‘‘۔ میں بے بسی سے دروازے کو گھور رہا تھا۔اندر میری پسندیدہ بریانی ،گرم پانی،قہوہ وغی

حصار

وہ لکیروں میں گُم تھی۔۔۔ وہ خوبصورت حسینہ۔ پھول جیسی شرمیلی، گول گول آنکھیں ابروُ کمان جیسی۔۔۔ چاند جیسا چہرہ۔۔۔ سنہرے بال۔۔۔ رسیلے گُلابی ہونٹ۔ غرض میں کینواس پر حسن کا ایک نیا اتہاس رقم کرنا چاہتا تھا۔وہ سمندر کی مانند مغرور تھی۔ سمندر کی طوفانی لہروں سے کھیلنا اُس کا مشغلہ تھا۔ سمندر سے اُس کا گہرا تعلق تھا۔ میری لاکھ گوشش کے باوجود بھی وہ فریم سے باہر نہیں آئی!۔ ’’ میں ایک مُصور ہوں، میری ہر تخلیق حُسن میں ہی پنپتی ہے۔ مُجھے اُس حسینہ کی تلاش ہے جو میرے گراف کی لکیروں میں کہیں قید ہے۔ میں کینواس پر اُس کی مُکتی چاہتا ہوں۔ مُجھے انتظار ہے اُس گھڑی کا، جب وہ شہکار تخلیق کینواس پر اُبھر کر آئے گی اور میرا مشن مکمل ہوگا۔‘‘ میں نے اُس انجان حسینہ سے کہا جو سمندر کے ساحل پر لہروں کو گھور رہی تھی۔۔۔  ’’یہ حُسن میں تیری راہوں پہ قربان کرن