تازہ ترین

خواتین کی آزادی۔۔۔ دوسرا رُخ

ہمیں علم نہیں کہ خواتین کا عالمی دن، گوبر تھوپنے والی ایک دیہی غریب خاتون نے کیسے منایا ہو گا، البتہ وطن کے پوش علاقے میں یہ مشاہدہ ضرور ہوا جب فراٹے بھرتی ہوئی ایک گاڑی ہمارے قریب سے گزری جس کے کھلے ٹرنک یعنی ڈگی میں تین لڑکیاں ٹانگیں باہر لٹکائے بیٹھی تھیں جب کہ گاڑی کے اندر بیٹھی ہوئی لڑکیاں کھڑکیوں سے باہر لٹک رہی تھیں اور فضا میں بے ہودہ ہلڑ بازی میں مشغول تھیں۔ ان کے بے قابو انداز شباب نے تمام ٹریفک کو اپنی جانب متوجہ کر رکھا تھا۔ لباس ڈینگی مچھر کو کھلے عام چیلنج کر رہا تھا۔ یہ نقشہ مادر پدر آزاد امریکہ میں دیکھنے کو آنکھیں ترس جاتی ہیں۔ ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر امریکہ میں فوری طور پر گاڑی روک کر ٹکٹ دے دیا جاتا ہے لیکن وطن کی یہ بگڑی ہوئی نسلیں ہیں، ان کو کون روک سکتا ہے؟ان بگڑی ہوئی نسلوں کے والدین بھی بگڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ خواتین کا عالمی دن منا رہی تھیں یا مشرقی عور

وحشی سعید جیسا کوئی محب اُردو ہے!!

 دوستوں کا دوست، دشمنوں کا بھی دوست، حاسدوں سے پیار کرنے والا، منافقوں کو پاس بٹھانے والا، صلح و صفائی کا راستہ اختیار کرنے والا، بھرپور محبت سے ملنے والا، نہایت ہی نرم گفتگو کرنے والا، ڈاؤن ٹو ارتھ (down to earth) کوئی شخص اگر سرینگر میں مل جائے تو سمجھئے وہ شخص وحشیؔ سعید ہوگا۔ اس کے علاوہ اُس شخص میں وحشیؔ سعید کودیکھ سکتے ہیں جو اُردو کا پرچم ایک نرالی شان سے لہرا رہا ہو، افسانے تخلیق کر رہا ہو، اُردو کی محفلیں سجا رہا ہو، میٹٹنگیں، نشستیں منعقد کر رہا ہو اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ وہ حکومت کی ناک کے نیچے کر رہا ہو۔اس سے بھی تشفی نہ ہوئی ہو تو اس کے ظاہری رنگ و روپ سے اس کی شناخت کر سکتے ہیں۔ گورا چٹا، کشمیری ناک، چوڑی پیشانی بلکہ پیشانی اور سر تقریباً ایک ہو گئے ہیں۔ سر کے بچے کھچے بال بھی جاتے رہے، سر اور دھڑ کو جوڑنے والی گردن کا نام و نشان نہیں، چہرے پر ایک نورا

گھر آنگن کی چاندنی!

اور الحمدللہ! میرے گھر ایک دن کے وقفہ سے دو دو بہو آگئیں۔ اس مبارک لمحوں سے بہت پہلے بہت سارے اندیشے، وسوسے، پیدا ہوتے رہے کہ بہو (بہوئوں) کے گھر میں قدم رکھنے کے بعد آیا گھر کی رونقیں دوبالا ہوںگی یا کچھ عرصہ بعد گھر ویران ہوںگے۔ اپنے اطراف و اکناف کے ماحول میں عزیز و اقارب کے آئے دن ساس بہو کے جھگڑوں سے متعلق کچھ نہ کچھ سننے میں آتا ہے۔ ویسے خود ایسے آزمائشی مرحلے سے ہم بھی گذر چکے ہیں۔ مہینوں کی تلاش کے بعد چاند سی بہو ڈھونڈی جاتی ہے۔ بڑے ارمانوں کے ساتھ گھر لایا جاتا ہے۔ دودھ سے پیر دھلائے جاتے ہیں‘ پھر ایسا کیا ہوجاتا ہے کہ جس بہو کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں‘ اس کی شکایتیں عام ہوجاتی ہیں۔ جس سے گھر کو آباد کرنے کے خواب دیکھے جاتے ہیں‘ یا تو ساس سسر اسی گھر کو چھوڑ جاتے ہیں یا پھر بہو اپنے میاں کو لے کر اس گھر سے چلی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مصلحت

رشتۂ زن وشو ہر کی معنویت

شریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو اس بات پر متوجہ کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض ادا کرے،اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طریقہ پر انجام دے اور لوگوں کے حقوق کی مکمل ادائیگی کرے۔ شریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کی مکمل طور پر ادائیگی میں دقیقہ نہ کرے، حتیٰ کہ بعض وجوہ سے حقوق العباد کو زیادہ اہتمام سے ادا کرنے کی تعلیمات دی گئیں۔ آج ہم دوسروں کے حقوق تو ادا نہیں کرتے ہیں البتہ اپنے حقوق کا جھنڈا اُٹھائے رہتے ہیں۔ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی کوئی فکر نہیں کرتے ہیں، اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لئے مطالبات کئے جارہے ہیں، تحریکیں چلائی جارہی ہیں، مظاہرے کئے جارہے ہیں، ہڑتالیں کی جارہی ہیں، حقوق کے نام سے انجمنیں اور تنظیمیں بنائی جارہی ہیں۔ لیکن دنیا میں ایسی انجمنیں یا تحریکیں یا کوششیں موجود نہیں  ،جن میں یہ تعلیم دی جائے کہ اپنے فرائض، ا