تازہ ترین

غـزلــیات

 اُڑان کا جو سلیقہ نظر میں رکھتا ہے  وہ آسمان کو بھی بال و پر میں رکھتا ہے مقابلے کا  ہُنر تاکہ وہ  بُھلا نہ  سکے  ہمیشہ اپنا سفینہ بھنور میں رکھتا ہے اُسے خیال ہے کتنا بھٹکنے والوں کا چراغِ نقشِ قدم رہگزر میں رکھتا ہے نگاہ بھر کے زمانے کو دیکھنے کے لئے  زمانے بھر کو وہ اپنے اثر میں رکھتا ہے گُماں نہیں ہے کسی اور کی ستائش کا  یقیں وہ اپنے ہی عیب و ہُنر میں رکھتا ہجوم ِ رنج سے وہ مانگتا ہے تنہائی  بنائے صبر و سکوں شور و شر میں رکھتا ہے مآلِ شوق میں پاتا ہے آبلہ پائی  قدم جو پہلے پہل اس سفر میں رکھتا ہے جھکی ہی جاتی ہے پیشانی احترام کے ساتھ  یہ کون شخص ہے کیا سنگِ در میں رکھتا ہے   ڈاکٹر سید شبیب رضوی اندرون کاٹھی دروازہ رعنا واری سرینگر 9906885395 &n

عبادت

وہ دونوں سگے بھائی تھے۔ دونوں کی عمر میں دو سال کا فرق تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے تھے اورانگشت شہادت وابہام کی طرح بچپن سے ساتھ ساتھ رہتے آئے تھے ۔ان کا معمول تھا کہ جمعہ کے دن وہ امور خانہ داری سے فراغت کے بعد تیار ہوتے اور اپنے گاؤں سے بیس کلو میٹر دور واقع شہر کی جامع مسجد میں جاکر نماز جمعہ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ۔بڑے کا نام نظام الدین اور چھوٹے کا نجم الدین تھا۔ دونوں کی شکل وشباہت میں واضح فرق تھا۔ بڑے کا رنگ سانولاتھا اور سنتی ریش مبارک خضاب سے آراستہ تھی ۔ چہرہ کتابی تھا اور امتداد زمانہ کے اثرات سے آراستہ ۔ چھوٹے کا رنگ گورا، داڑھی سفید اور چہرہ قدرے گول اور متبسم ۔دونوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا بہت مشکل تھا کہ دونوں سگے بھائی ہیں۔ان کی شکلوں میں واضح فرق کی وجہ سے زیادہ تر لوگ سمجھتے تھے کہ دونوں بڑے گہرے دوست یا زیادہ سے زیادہ چچا زاد ہیں۔ صرف چند لوگوں

غزلیات

غزل چوٹ اپنوںسے دل پہ کھائی ہے میرے مولا تری دہائی ہے   زندگی بھر کے جو یہ ہیں احسان آخرش اُن سے مار کھائی ہے   دل جو دنیا سے بھر گیا میرا دلبر باکی یہ دلر بائی ہے   حاصلِ شوق کچھ نہیں پایا جان تک دائو پر لگائی ہے   کیا کروں کچھ سمجھ نہیںپاتا آگے خندق تو پیچھے کھائی ہے   خانہ ویران خاک ہے یہ عشق شمعِ دل برق سے جلائی ہے   بے کلی بے سبب نہیں ہوتی ہے کوئی جس سے لو لگائی ہے   آگئے ہیں وہ پوچھنے کو مزاج کچھ تو غیرت بھی کام آئی ہے   بیٹھنے کو کہوں تو کیسے کہوں نہ چٹائی نہ چار پائی ہے   سلطان الحق شہیدی   رابطہ:-  ست بونی ، لعل بازار ،سری نگر موبائل نمبر :  9596307605       نظر

غزل

 عجب ہے مرے شہر کی دستان    ہے لتھڑا  ہوا خوں میں یہ گلستان گھر ہے، نہ راہ ہے نہ کوئی پڑوس     بھڑکے ہے تاریکی میں پاسباں ظلمت کی شب ہے، گھٹا چھائی ہے   گلے میں اٹک کر رہی ہے زباں لبوںں پر معلق ہے آوازِحق   توسینوں پہ ہیں گولیوں کے نشاں عزادار خلقِِ خدا چار سُو   ہر اک اور کربل کا دیکھو سماں  بہائے نہ اقبالؔ کیوں اشکِ خوں    ہے ہر زرہ وادی کا برقِ تپاں      

نذر عرش صہبائی

ہوگیا ہے باغ صحرائی بہت ہم بھی بھولے ہیں وہ لیلائی بہت  زندگی بھر  آزماتا ہی رہا  اپنے پن کی یہ سزا پائی بہت بوالہوس ہر دور میں ہیں ذی وقار  عشق نے پائی ہے رسوائی بہت پھر بھی میں انساں کا انساں ہی رہا خُو فرشتوں کی بھی گو پائی بہت جس کا کوئی بھی نہ تھا ، اس کا ہوا یہ ادا اُس کی ہمیں بھائی بہت ہم سمجھتے تھے کہ ہم فارغ رہے آخر ش ہم پر بھی بن آئی بہت دوستی کی داد کچھ مت پوچھئیے  بَرہمن سے شیخ نے پائی بہت آدمی نکھرے ہے دکھ سے درد سے رنگ پسنے پر حنا لائی بہت پھر بھی اُترے زیست کے ویشو کے پار  پتھروں پر تھی جمی کائی بہت  کیا خبر ہم پر بھی ہو اُن کی نگہ  بے رخی ہے ان کی ترسائی بہت سادگی سے رہنے کا دیتے ہیں درس  خود جو کرتے ہیں خود آرائی بہت  بھائی نے د

رباعیات

 آواز کے شعلے کی لپک یاد رہے گی آکاش کو چھولے تو گمک یا رہے گی اُس غیرتِ ناہید کا انداز الگ تھا ہونٹوں پہ تبسم کی چمک یاد رہے گی   آواز میں کلیوں کی چہک یاد رہے گی سُرتال میں گھنگرو کی کھنک یاد رہے گی آواز کے پھیلاو میں ساگر بھی سما جائے سانسوں میں گلالوں کی مہک یاد رہے گی   فاروق نازکی موبائل نمبر:9419012874    

غـــزلــــیات

 خِراماں جب کوئی منصور سوئے دار ہوتا ہے تو ظاہر بیں سے حیرت کا ہی پھر اظہار ہوتا ہے جہاں والوں کو اِس سے کیوں بھلا آزار ہوتا ہے بچار اعشق تو رُسوا سرِ بازار ہوتا ہے دلِ پرُ درد سب کا مونس و غمخوار ہوتا ہے یہ تھوڑا سا گِلہ بھی بُھولنا دشوار ہوتا ہے سُنہرا وقت وہ جو رائگاں اک بار ہوتا ہے دوُبارہ اِس کو پانا کس قدر دشوار ہوتا ہے نہیں ہے شاعری ذہنی تخیُل شعر میں بھرنا کلام ایسا سبق جس میں نہ ہو بیکار ہوتا ہے غزل میں کوئی بس یہ عشق کا رونا ہی کیوں روئے حقیقی علم ہی سرمایہ ء اشعار ہوتا ہے ہیں جنسی بھوک و نوش و خور سبھی شہوات نفسانی یہ میرا تجربہ ہے اِن سے دل ہوتا ہے مجھے اب تو بچالے نفس کی شہوات سے یارب کہ ان سے مرضِ رُوح و قلب میں تیار ہوتا ہے تخیُل شاعرانہ یہ نہیں حکمت کی باتیں ہیں کہ مقصد شعر کا حکمت ہی کا اظہار ہوت

غزلیات

کہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھا وہ چاہتا تو میں دانستہ ہار سکتا تھا   زمین پاؤں سے میرے لپٹ گئی ورنہ میں آسمان سے تارے اُتار سکتا تھا   مرے مکان میں دیوار ہے نہ دروازہ مجھے تو کوئی بھی گھر سے پکار سکتا تھا   جلا رہی ہیں جسے تیز دھوپ کی نظریں وہ ابر باغ کی قسمت سنوار سکتا تھا   پُر اطمینان تھیںاس کی رفاقتیں بلراجؔ وہ آئینے میں مجھے بھی اتار سکتا تھا   بلراجؔ بخشی  رابطہ:- عیدگاہ روڈادھم پور (جموں) موبائل نمبر:-9419339303   شمشیر مری، میری سپر کون لے گیا کشمیر ہوں میں جسم سے سر کون لے گیا گنبدسلگ رہا ہے، شرر کون لے گیا دیوارِ شہر گر گئی، در کون لے گیا اب دور تک غبّا ر اندھیروں کا ہے گواہ میرے فلک سے میرا قمر کون لے گیا سب کچھ وصول ہو گیا ہے کھیل کھیل