تازہ ترین

غزل

 اک کشمکش رہی مرے اندر تمام رات تڑپا کسی کی یاد میں اکثر تمام رات   پھر بھی مٹی نا تیرگی میرے نصیب کی وہ چاند بن کے ٹھہرا تھا چھت پر تمام رات   اک جُوئے خوں تھی آنکھوں میں سو وہ بھی بہہ گئی پیاسا تھا پھر بھی دِل کا سمندر تمام رات   اِک بوند خوں کی پائی نہ داماںِ صبح پر یوں تو چلے ہیں قلب پر خنجر تمام رات   تب جاکے عطر بیز ہوا ہے تیرا بدن ہم نے بنائے نیند میں پیکر تمام رات   محسوس تیرا لمس جو ہونے لگا مجھے سُلگا ہے تیری یاد میں بستر تمام رات   دیکھے تھے دوپہر میں کبھی ہم نے بھیڑیئے گُزرے نظر سے خوف کے منظر تمام رات   سچ بولنے سے آج میں کترا گیا تھا کیوں؟ بر سے مرے ضمیر پر پتھر تمام رات   کیسے بنا یہ سنگ صنم، سوچتے رہے تھا مبتلا عذاب میں آذر

غزلیات

  کلی  جب  مْسکرا کر بیٹھتی  ہے  مری  بیٹی بھی آکر بیٹھتی ہے    سلیقہ دیکھئے  اِس شاخِ  گْل کا  کہ چڑیا گھر بسا کر بیٹھتی ہے   جبیں پر دشت کے کرنے ہیں سجدے  محبّت آزما کر بیٹھتی ہے   اْسے آتا ہے موجوں کو ہرانا سمندر کو جُھکا کر بیٹھتی ہے   جو سر پر ہاتھ رکھ دوں شفقتوں کا وہ اپنی جاں لْٹا کر بیٹھتی  ہے   غموں کو ٹال دیتی ہے مسلسل  کہیں جھولا جھلا کر بیٹھتی ہے   تھکا  ہارا  پرندہ گھر کو لوٹوں  مْجھے کاندھے سْلا کر بیٹھتی ہے   محمد محمود  نی پورہ  اننت ناگ کشمیر  موبائل نمبر9906874299     اے زندگی بتا، میں اکرام دوں تجھے کیا میری حیات تجھ

غزل

 دِل سے چاہا آپ کو سارا جہاں رہنے دیا تاج و تخت اور جاہ و حشمت کا بیاں رہنے دیا   وسعتِ اِدراک سے بالا بلند تیرا مقام آپ کو بس آپ ہی کو جاوِداں رہنے دیا   میرا دانشور حریصِ تمغۂ طاغوت ہے خون میں لت پت سرِ راہ نوجواں رہنے دیا   راست گوئی پیشِ نمرودِ زماں، ایمان میرا بے خطر جیتا ہوں خوفِ جسم و جاں رہنے دیا   گرچہ سائے شفقتوں کے ہاتھ پھیلاتے رہے تیری چاہت نے مجھے بے خانماں رہنے دیا   مشتاق کاشمیری موبائیل نمبر:9596167104    

غزل

اہتمامِ رنگ و بوہے جابجا کاشمر تیرا لہو ہے جابجا بولتا شہرِ خموشاں دور تک چاک میرا ہا و ہو ہے جابجا دن تھکا ماندہ اُجالا ہار کے رات محوِ گفتگو ہے جابجا لغزشیں کیا قد سے بالا ہوگئیں گردشِ وردِ عفو ہے جابجا آنکھ میں منظر کوئی ٹھہرا نہیں سو بہ سو ہے کوبکو ہے جابجا آئنہ لیکر ہے بیٹھی حیرتی انتہائے من کہ توہے جابجا ظلمتوں کا توڑ کرنے کے لئے رقصِ شمعِ آرزو ہے جابجا کب تلک دل سے دھواں اُٹھتا رہے چاک ہے تن، بے رفو ہے جابجا رقص کرتی ہیں جنوں کی مستیاں دشت میں ہوں، بادِ ہُو ہے جابجا مسجدیں دل کی مقفل ہوگئیں محفلِ جام و صبو ہے جا بجا آؤ شیدّا دشت میں سجدہ کریں آنکھ میں تازہ وضو ہے جابجا    (نجدون ) نپورہ اسلام آباد کشمیر  9419045987  

غزلیات

میرے نصیب میںکوئی طوفان ہے شاید اس واسطے یہ زندگی سنسان ہے شاید جل بجھ رہا ہے میری محبت کا دیا جو ناشادیوں کا میری یہ سامان ہے شاید وقتِ قضا یہ جان اٹک سی گئی ہے کیوں جنت نہیں، جہان کا ارمان ہے شاید اوروں کا درد دیکھ کے دُکھتا ہے مرادل اندر مرے حیات وہ انسان ہے شاید تحریر کر رہا ہوں حوادث پہ حوادث تصویرِ زندگی مرادیوان ہے شاید اُمید ہے وفا کی تجھے کن سے مسافر اِس شہر کے مزاج سے انجان ہے شاید چہرے کے ہائو بھائو بتاتے ہیں یہ عارضؔ دشمن میر اُڑان پہ حیران ہے شاید عارض ؔارشاد نوہٹہ  سرینگر 9419060276   چاندنی رات ہے چلے آئو رس کی برسات ہے چلے آئو پھر اُسی دھج سے چاند نکلاء آئو!  پھر وہی رات ہے چلے آئو ساری بازی سنوارلی میں نے  ایک شہہ مات ہے چلے آئو فصلِ گُل جاچُکی ہے گُ

غزل

پھر نہاں خانے سے لایا ہوں کہانی دوستو کچھ قلم سے کہہ چکا ہوں ،کچھ زبانی دوستو کاش! ہوتی دیر پا یہ زندگانی دوستو آج ہوتے روبرو پھر میرؔ و فانیؔ دوستو گر شریک ِبزم ہوتے ذوقؔ و غالب ؔ آج بھی کیا فضائے شعر ہوتی پھر سہانی دوستو ہیں نہیں حسرتؔ و مومنؔ اب ہمارے درمیان  حسرتا وہ ہوگئے اب اک کہانی دوستو بعدِ مُردن بھی سخن میںان کے ہے لطف ِ دوام اُنکے فن پاروں میں ہے اب بھی جوانی دوستو کر رہےہیں شاعری کیا آجکل مہمل مزاج کس کی ہمت ہے کرے کوئی منانی دوستو آئو پھر سے فکر و فن کو اک نئی تہذیب دیں تاکہ ہر جا ہو ہماری قدردانی دوستو سلطنت عشاقؔ شعروں کی ہلا دیتے ہیں جو با بصر سنتے ہیں کب اُن کی بیانی دوستو صدر انجمن ترقی اُردو (ہند) شاخ کشتواڑ 9697524469     

نارو ے کے سفیر کی سرینگر آمد

 وزیر اعلیٰ کے ساتھ ماہی پروری، سولر پاور ،ڈل اور ولرجھیلوں کے تحفظ پر تبادلہ خیال سرینگر//ناروے کے سفیر نیل رگنار نے یہاں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ ملاقات کی۔ملاقی کے دوران ناروے کے سفیر نے وزیر اعلیٰ کو اُن کی حکومت کی جانب سے بھارت میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر ، ماہی پروری، پون توانائی ،پن بجلی ،واٹر ٹریٹمنٹ اور مادرانہ صحت کے شعبوںمیں اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں جانکاری دی۔ناروے کے سفیر نے وزیرا علیٰ کو جانکاری دی کہ اُن کا ملک دنیامیں مچھلی کی برآمدات میں دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔انہوںنے وزیر اعلیٰ کو ناروے میں ماہی پروری کے لئے توانائی اور ٹیکنالوجی کے فروغ اور استعمال کے بارے میں بھی جانکاری دی۔وزیراعلیٰ نے ناروے کے سفیر کو حکومت کی جانب سے آلودگی پر قابو پانے ، تعمیراتی ڈھانچے کا قائم کرنے اور کئی کلیدی شعبوں بشمول باغبانی اور سیاحت کے فروغ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے ب

غزل

 ہجر کی شب مل کر جاگے ہیں چاند ،ہوا اور میں  ہر سو تجھ کو ڈھونڈھ رہے ہیں چاند، ہوا اور میں تتلی، جگنو ،بادل، خوشبو ہمسائے اس کے  بس تنہائی میں ڈوبے ہیں چاند، ہوا اور میں کیسا سحر ہے اس کی زْلفوں میں اب تک  گجرے کی صورت اٹکے ہیں چاند، ہوا اور میں ہاتھ چھڑا کر رخ کو اس نے پھیر لیا جب سے تنہائی میں ساتھ کھڑے ہیں چاند، ہوا اور میں پھول بدن سی اک دوشیزہ گزرے گی یاں سے  کب سے راہوں میں بیٹھے ہیں چاند ،ہوا اور میں اس کی دید کی خاطر شب بھر  بام پہ بیٹھے یوں  اکثر شبنم میں بھیگے ہیں چاند ،ہوا اور میں کس کی یاد نے کوچہ کوچہ بھٹکایا ہم کو  جوگی بن کر ساتھ چلے ہیں چاند، ہوا اور میں یوں ہی تیری راہیں روشن کب ہوتیں جاناں!  دیپک بن کر خوب جلے ہیں چاند ،ہوا اور میں ہر منظر کو مہکاتے ہیں قوسِ قز

غزل

 لْٹ گئے دل کے خزانے کتنے مٹ گئے درد پْرانے کتنے اک حقیقت کے فسانے کتنے  لوگ ہوتے ہیں دِوانے کتنے انجمن، دشت، چمن ، تنہائی  آدمی کے ہیں  ٹھکانے کتنے چاندنی،پھول ، شفق، آئینہ  ہیں ترے رنگ نہ جانے کتنے دردِ سر ، خوف، خْدا رْسوائی  تیرے جانے کے بہانے کتنے خواب یاد آئیں تو راتوں جیسے  بھْول جائیں تو سْہانے کتنے کون محفل کو بناتا شب کو  اک نظر کے ہیں نشانے کتنے ٹوٹ جائے نہ کہیں نیند مری  خواب ہنستے ہیں سِر ہانے کتنے عشق کا حْسن کہ آباد  رہا  کر کے برباد گھرانے کتنے ایک ہی لفظ محبت تھا مگر  بن گئے اْس کے فسانے کتنے   اندرون کاٹھی دروازہ رعنا واری  سری نگر.. رابطہ: - 990685395  

غزل

یہ آدمی تو کسی وقت بھی ہمارا نہ تھا کسی بھی حال میں اس کا ہمیں سہارا نہ تھا یہ لوگ جو کہ سمندر عبور کر نہ سکے وہ اس لیے کہ انھوں نے خدا پکارا نہ تھا امیر شہر کی مجلس سے میں نکالا گیا ہر ایک حکم مجھے ماننا گوارا نہ تھا مری طرف تو وہ باتیں بھی کی گئیں منسوب مرے کلام میں جن کی طرف اشارہ نہ تھا سبھی سمجھتے تھے حق کیا ہے اور باطل کیا مگر کسی میں بھی سچ بولنے کا یارا نہ تھا ہمیں تمنا کبھی بھی رہی نہ ساحل کی ہمارے دل کو بھی حاصل کبھی کنارا نہ تھا   صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380    

غزلـیات

 کیاجانے کیسے جال بچھاجاتی ہیں نظریں  جب جب بھی میرے پاس کبھی آتی ہیں نظریں   ہوجاتی ہیں نشتر کی طرح جذب وہ اس میں  کیاکیا نہ ستِم دِل پہ میرے ڈھاتی ہیں نظریں    میں کہنا بھی چاہوں تو کبھی کہہ نہیں سکتا اب کیسے کہوں کِتنا رُلا جاتی ہیں نظریں   یہ جان وجگرکرتاہوں میں اُن پہ نچھاور  انکارنہیں مجھ کوکبھی بھاتی ہیں نظریں    ہم زندگی میں شام وسحرساتھ رہے ہیں  افسانے کئی یاددِلا جاتی ہیں نظریں    پھرنیند نہیں آتی کسِی طور بھی مُجھ کو راتوں کومجھے ایسے جگاجاتی ہیں نظریں    میں پھربھی ہتاشؔ اِس کی شکایت نہیں کرتا میرے لیے بے چینیاں بھی لاتی ہیںنظریں   پیارے ہتاشؔ جموں،رابطہ نمبر:8493853607     غُبارِ راہ

غزلـیات

 کیاجانے کیسے جال بچھاجاتی ہیں نظریں  جب جب بھی میرے پاس کبھی آتی ہیں نظریں   ہوجاتی ہیں نشتر کی طرح جذب وہ اس میں  کیاکیا نہ ستِم دِل پہ میرے ڈھاتی ہیں نظریں    میں کہنا بھی چاہوں تو کبھی کہہ نہیں سکتا اب کیسے کہوں کِتنا رُلا جاتی ہیں نظریں   یہ جان وجگرکرتاہوں میں اُن پہ نچھاور  انکارنہیں مجھ کوکبھی بھاتی ہیں نظریں    ہم زندگی میں شام وسحرساتھ رہے ہیں  افسانے کئی یاددِلا جاتی ہیں نظریں    پھرنیند نہیں آتی کسِی طور بھی مُجھ کو راتوں کومجھے ایسے جگاجاتی ہیں نظریں    میں پھربھی ہتاشؔ اِس کی شکایت نہیں کرتا میرے لیے بے چینیاں بھی لاتی ہیںنظریں   پیارے ہتاشؔ جموں،رابطہ نمبر:8493853607     غُبارِ راہ

غزلیات

  اوڑھی ہے خار خار نے اب کے ردائے گُل گلزار میں بہار کا موسم کھلائے گُل  گاتا ہے گیت پیار کے اس کی ہے یہ خطا طائر کو با بار چمن میں رُلائے گُل ساراچمن ہوا ہے پریشان دفعتاً سنتا نہیں ہے باغ میں کوئی نوائے گُل خوشبو کا کاروان ہے سارا دھواں دھواں گلشن میں آج کس نے ہمارے جلائے گُل یہ تازگی ملیگی ہوائوں میں اب کہاں عرقِ گلاب آب و ہوا کو  پلائے گُل مالی نہ جانے کیوں ہے پریشان دوستو ہم نے خزان کیلئے کچھ، کیا بچائے گُل؟ جلتی ہوئی زمین ہے جلتا ہوا  فلک  یہ کون سا دیار ہے کس میں بسائے گُل  بلبل  یہ کہہ رہا تھا گلوں سے  سنو  سنو  اس باغ میں گلاب کو کہنا خدائے گُل   اشرف عادل  کشمیر یونیورسٹی ,حضرت بل سرینگر کشمیر موبائل  9906540315   ٹھیک

غزل

ٹیک لگا کر بیٹھا ہوں میں جس بوڑھی دیوار کے ساتھ خوف ہے مجھ کو مٹ نا جائوں اس کے ہر آثار کے ساتھ غازہ پوڈر مل کر میں بھی آ جاتا ہوں سرخی میں بک جاتا ہے چہرہ میرا سستے سے اخبار کے ساتھ کیوں نا بڑھ کر میں پی جائوں تیرے نقلی سب تریاق پھر تو دھوکا کر  نہ  پائے بستی میں بیمار کے ساتھ  ہوش کے ناخن لے تو سائیں کیوں یہ غوغا ڈالا ہے دیکھ ، نہیں اب لے یہ چلتی نغمہ ٔ دربار کے ساتھ کس نے تجھ کو سونپی بھائی سرداری اس بستی کی سب کے سب محصور یہ ہوں گے اپنے اپنے یار کے ساتھ مٹی کا اک ڈھیر سا ہو گا، اس پہ خوشبودار اک پھول میرا پتہ بس اتنا ہی ہے قلعہ ٔ   مسمار کے ساتھ عمر تمامی شوق سے ہم نے ایک ہی تتلی پالی تھی جب جب اس کو خواب میں دیکھا اُڑتی ہے اغیار کے ساتھ   جموں ، 9797580748    

غزل

 مسافروں کو بچھڑنے کا ڈر نہیں ہوتا شریکِ راہ شریک سفر نہیں ہوتا بسا ہے وہ مری آنکھوں میںصرف ضد کے لیے کسی نے کہہ دیا پانی میں گھر نہیں ہوتا  کہاں وہ دور کہ تم سے ہی میری دنیا تھی اور آج پا کے تمہیں بھی گزر نہیں ہوتا لحاظ رکھتا ہوں احباب کا بڑی حد تک میں ان کی سازشوں سے بے خبر نہیں ہوتا وہ دور جائے تو اس کی کمی سی لگتی ہے جوپاس رہ کے بھی مد نظر نہیں ہوتا قبول ہوتی گئیں بددعائیں لوگوں کی مری دعاء میں بھی لیکن اثر نہیں ہوتا مراوجود تو بے برگ و شاخ سا بلراجؔ شجر ہے وہ جو کبھی با ثمر نہیں ہوتا بچاؤں سر کو یا دستار کو یہاں بلراجؔ نہ ہوتا سر ہی تو یہ دردِ سر نہیں ہوتا   بلراجؔ بخشی عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور-09419339303             &nbs

غزلیات

  یوں زندگی کا ساتھ نبھانا پڑا مجھے اُس کے لئے سب ہار ہی جانا پڑا مجھے دردِ غمِ رقیب کو پالا تھا اِس طرح دار و رسن سے ہاتھ ملانا پڑا مجھے یوں ماند پڑ گیا تھا ترے سامنے کہ پھر جلتا ہوا چراغ بجھانا پڑا مجھے تیغِ جفا کا وار لئے قلبِ زار پر میزانِ عشق کیا ہے، بتانا پڑا مجھے قطرہ لہو کا تھا جو دلِ داغ دار میں مژگانِ چشمِ تر پہ سجانا پڑا مجھے اپنوں سے دور تیرے جنوں نے جو کر دیا غیروں کی سمت ہاتھ بڑھانا پڑا مجھے دنیائے التفات میں نقوی ؔنہ پوچھیے دھوکا ہر اک مقام پہ کھانا پڑا مجھے   ذوالفقار نقوی سینئر لیکچرار ، مینڈر ، پونچھ ،9797580748   اہتمامِ رنگ و بوہے جابجا کاشمر تیرا لہو ہے جابجا بولتا شہرِ خموشاں دور تک چاک میرا ہا و ہو ہے جابجا دن تھکا ماندہ اُجالا ہار کے رات محوِ گفتگو ہے جابجا

وہ جن کے خیالوں کی ہوپروازبُلند زِندگی میں وہی کرتے ہیں ہرآوازبُلند جن کے افکار میں ہوتی ہے محبت کی چمک  ایسے لوگوں کاہی دُنیامیں ہے انداز بُلند ہرگھڑی دِل میں جورکھتے ہیں زمانے کی خبر ساتھ رکھتے ہیں وہ اپنے پرِ پروازبُلند یہ کسی طور بھی پھر دب نہ سکی حق کی بات ہم نے دُنیا میں جوکی ہے کبھی آوازبلُند زندگی میں نہیں ہوتی ہے جنہیں پستی قبول  اُڑتے ہیں زِندگی میں وہ پرِ پرواز بُلند  ناگوار اہلِ زمانہ کویہ اکثرگُذری  میں نے حق کے لئے کی جب کبھی آوازبلند   جن کی ہربات میں پاکیزگی ہوتی ہے ہتاشؔ  ہے بُلند اُن کی ادا اورہیں انداز بُلند پیارے ہتاشؔ رابطہ نمبر:8493853607   ہر ایک لب پر سلامِ الفت ہے روئے دلبر مقامِ الفت نگاہِ نازک میں جامِ الفت ہے پیچِ گیسو کہ دامِ الفت و

غزل

 لذتِ درد درمند جانے بے خبر کیا نبات و قند جانے سرگرانی سے جو ہے دامن کش وہ فقیروں کو سربلند جانے آدمیت کا یہ تقاضا ہے تو کسی کو نہ ناپسند جانے اُس کی باتوں سے بات بنتی ہے جو سخن ور کہ رمزِ چند جانے آدمی وہ اصول اپنائے  جن پہ فطرت کو کاربند جانے ابن آدم خدا کو پہنچانے گذریئے کو گو سفند جانے طالبِ نیک بخت پتھر کی خامشی کو زبانِ پند جانے ابتلا زندگی کا گہنہ ہے اس کو کیوں کر کوئی گزند جانے لوگ عادی ہوئے تبسم کے اور مشہورؔ زہر خند جانے    رابطہ؛موبائل نمبر9906624123                              

  اصولوں کا کسی ظالم سے یوں سودا نہ ہو جائے ہمارے ہاتھ سے انسانیت رسوا نہ ہو جائے تلاطم خیز موجیں خود پتہ دے دیں کناروں کا جو میرا ناخدا طوفان کا حصہ نہ ہو جائے بتانِ آرزو، مسجود ہیں، معبود ہیں ہر جا کہیں میری عبادت کا یہی قصہ نہ ہو جائے یہ بد اعمالیاں، جور و جفا، فتنے شواہد ہیں قیامت وقت سے پہلے کہیں برپا نہ ہو جائے الہی پھونک دے اک بار پھر سے روح تو اپنی کہیں شہکار تیرا خاک کا پتلا نہ ہو جائے یہی تشکیک ہے باعث تری ایماں سے دوری کا کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے   ذوالفقار نقوی رابطہ؛مینڈر ، پونچھ ،9797580748   ہائے یہ کس پہ اعتبار کیا  ہجر کی شب کو یادگار کیا معتبر ہو چکا ہے  اب دشمن  دوستوں میں کسے شمار کیا بولتا ہے گلے میں  بلبل کے  کس طرح خود

افسانچے

عشق ’’عادل! عشق بڑا ہی پیچیدہ معاملہ ہے۔جب آپ کے نزدیک دُنیا کی ہر چیز کی قیمت زیرو ہو جائے اور صرف اپنے محبوب کو پانے کی چاہت ہوتو اُسے عشق کہتے ہے۔۔۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو جان لینا چاہیے کہ عشق کمزور اورلا چار ہے۔‘‘اُس کے کہے ہو ئے اِن الفاظ کو سمجھنے سے میں قاصر تھا لیکن یہ عشق کی گہرائی میرے سامنے تب کھلی ،جب کانپتے ہاتھوں سے خون میں لت پت کفن کواپنے دوست کے چہرے کا آخری دیدارکرنے کیلئے اُٹھایا۔    لفافہ ’’وقت بہت کم ہے۔۔۔بہت کم ۔۔۔یوں سمجھ لئجیے کہ ندیم کچھ مہینوں کا مہمان ہے۔‘‘ڈاکٹر کے یہ الفاظ مسلسل شاکرہ کے کانوں میں گونج رہے تھے۔اپنے شوہرسے جدائی کا تصور ہی اُس کے وجود کو ریزہ ریزہ کرنے کے لئے کا فی تھا۔ٹیبل پر پڑے لفافے کو خوف زدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔دل اُداسی کے دریا میں غوطہ زن ، آنکھیں اشک باراو