تازہ ترین

غزلیات

  اوڑھی ہے خار خار نے اب کے ردائے گُل گلزار میں بہار کا موسم کھلائے گُل  گاتا ہے گیت پیار کے اس کی ہے یہ خطا طائر کو با بار چمن میں رُلائے گُل ساراچمن ہوا ہے پریشان دفعتاً سنتا نہیں ہے باغ میں کوئی نوائے گُل خوشبو کا کاروان ہے سارا دھواں دھواں گلشن میں آج کس نے ہمارے جلائے گُل یہ تازگی ملیگی ہوائوں میں اب کہاں عرقِ گلاب آب و ہوا کو  پلائے گُل مالی نہ جانے کیوں ہے پریشان دوستو ہم نے خزان کیلئے کچھ، کیا بچائے گُل؟ جلتی ہوئی زمین ہے جلتا ہوا  فلک  یہ کون سا دیار ہے کس میں بسائے گُل  بلبل  یہ کہہ رہا تھا گلوں سے  سنو  سنو  اس باغ میں گلاب کو کہنا خدائے گُل   اشرف عادل  کشمیر یونیورسٹی ,حضرت بل سرینگر کشمیر موبائل  9906540315   ٹھیک

غزل

ٹیک لگا کر بیٹھا ہوں میں جس بوڑھی دیوار کے ساتھ خوف ہے مجھ کو مٹ نا جائوں اس کے ہر آثار کے ساتھ غازہ پوڈر مل کر میں بھی آ جاتا ہوں سرخی میں بک جاتا ہے چہرہ میرا سستے سے اخبار کے ساتھ کیوں نا بڑھ کر میں پی جائوں تیرے نقلی سب تریاق پھر تو دھوکا کر  نہ  پائے بستی میں بیمار کے ساتھ  ہوش کے ناخن لے تو سائیں کیوں یہ غوغا ڈالا ہے دیکھ ، نہیں اب لے یہ چلتی نغمہ ٔ دربار کے ساتھ کس نے تجھ کو سونپی بھائی سرداری اس بستی کی سب کے سب محصور یہ ہوں گے اپنے اپنے یار کے ساتھ مٹی کا اک ڈھیر سا ہو گا، اس پہ خوشبودار اک پھول میرا پتہ بس اتنا ہی ہے قلعہ ٔ   مسمار کے ساتھ عمر تمامی شوق سے ہم نے ایک ہی تتلی پالی تھی جب جب اس کو خواب میں دیکھا اُڑتی ہے اغیار کے ساتھ   جموں ، 9797580748    

غزل

 مسافروں کو بچھڑنے کا ڈر نہیں ہوتا شریکِ راہ شریک سفر نہیں ہوتا بسا ہے وہ مری آنکھوں میںصرف ضد کے لیے کسی نے کہہ دیا پانی میں گھر نہیں ہوتا  کہاں وہ دور کہ تم سے ہی میری دنیا تھی اور آج پا کے تمہیں بھی گزر نہیں ہوتا لحاظ رکھتا ہوں احباب کا بڑی حد تک میں ان کی سازشوں سے بے خبر نہیں ہوتا وہ دور جائے تو اس کی کمی سی لگتی ہے جوپاس رہ کے بھی مد نظر نہیں ہوتا قبول ہوتی گئیں بددعائیں لوگوں کی مری دعاء میں بھی لیکن اثر نہیں ہوتا مراوجود تو بے برگ و شاخ سا بلراجؔ شجر ہے وہ جو کبھی با ثمر نہیں ہوتا بچاؤں سر کو یا دستار کو یہاں بلراجؔ نہ ہوتا سر ہی تو یہ دردِ سر نہیں ہوتا   بلراجؔ بخشی عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور-09419339303             &nbs

غزلیات

  یوں زندگی کا ساتھ نبھانا پڑا مجھے اُس کے لئے سب ہار ہی جانا پڑا مجھے دردِ غمِ رقیب کو پالا تھا اِس طرح دار و رسن سے ہاتھ ملانا پڑا مجھے یوں ماند پڑ گیا تھا ترے سامنے کہ پھر جلتا ہوا چراغ بجھانا پڑا مجھے تیغِ جفا کا وار لئے قلبِ زار پر میزانِ عشق کیا ہے، بتانا پڑا مجھے قطرہ لہو کا تھا جو دلِ داغ دار میں مژگانِ چشمِ تر پہ سجانا پڑا مجھے اپنوں سے دور تیرے جنوں نے جو کر دیا غیروں کی سمت ہاتھ بڑھانا پڑا مجھے دنیائے التفات میں نقوی ؔنہ پوچھیے دھوکا ہر اک مقام پہ کھانا پڑا مجھے   ذوالفقار نقوی سینئر لیکچرار ، مینڈر ، پونچھ ،9797580748   اہتمامِ رنگ و بوہے جابجا کاشمر تیرا لہو ہے جابجا بولتا شہرِ خموشاں دور تک چاک میرا ہا و ہو ہے جابجا دن تھکا ماندہ اُجالا ہار کے رات محوِ گفتگو ہے جابجا

وہ جن کے خیالوں کی ہوپروازبُلند زِندگی میں وہی کرتے ہیں ہرآوازبُلند جن کے افکار میں ہوتی ہے محبت کی چمک  ایسے لوگوں کاہی دُنیامیں ہے انداز بُلند ہرگھڑی دِل میں جورکھتے ہیں زمانے کی خبر ساتھ رکھتے ہیں وہ اپنے پرِ پروازبُلند یہ کسی طور بھی پھر دب نہ سکی حق کی بات ہم نے دُنیا میں جوکی ہے کبھی آوازبلُند زندگی میں نہیں ہوتی ہے جنہیں پستی قبول  اُڑتے ہیں زِندگی میں وہ پرِ پرواز بُلند  ناگوار اہلِ زمانہ کویہ اکثرگُذری  میں نے حق کے لئے کی جب کبھی آوازبلند   جن کی ہربات میں پاکیزگی ہوتی ہے ہتاشؔ  ہے بُلند اُن کی ادا اورہیں انداز بُلند پیارے ہتاشؔ رابطہ نمبر:8493853607   ہر ایک لب پر سلامِ الفت ہے روئے دلبر مقامِ الفت نگاہِ نازک میں جامِ الفت ہے پیچِ گیسو کہ دامِ الفت و

غزل

 لذتِ درد درمند جانے بے خبر کیا نبات و قند جانے سرگرانی سے جو ہے دامن کش وہ فقیروں کو سربلند جانے آدمیت کا یہ تقاضا ہے تو کسی کو نہ ناپسند جانے اُس کی باتوں سے بات بنتی ہے جو سخن ور کہ رمزِ چند جانے آدمی وہ اصول اپنائے  جن پہ فطرت کو کاربند جانے ابن آدم خدا کو پہنچانے گذریئے کو گو سفند جانے طالبِ نیک بخت پتھر کی خامشی کو زبانِ پند جانے ابتلا زندگی کا گہنہ ہے اس کو کیوں کر کوئی گزند جانے لوگ عادی ہوئے تبسم کے اور مشہورؔ زہر خند جانے    رابطہ؛موبائل نمبر9906624123                              

  اصولوں کا کسی ظالم سے یوں سودا نہ ہو جائے ہمارے ہاتھ سے انسانیت رسوا نہ ہو جائے تلاطم خیز موجیں خود پتہ دے دیں کناروں کا جو میرا ناخدا طوفان کا حصہ نہ ہو جائے بتانِ آرزو، مسجود ہیں، معبود ہیں ہر جا کہیں میری عبادت کا یہی قصہ نہ ہو جائے یہ بد اعمالیاں، جور و جفا، فتنے شواہد ہیں قیامت وقت سے پہلے کہیں برپا نہ ہو جائے الہی پھونک دے اک بار پھر سے روح تو اپنی کہیں شہکار تیرا خاک کا پتلا نہ ہو جائے یہی تشکیک ہے باعث تری ایماں سے دوری کا کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے   ذوالفقار نقوی رابطہ؛مینڈر ، پونچھ ،9797580748   ہائے یہ کس پہ اعتبار کیا  ہجر کی شب کو یادگار کیا معتبر ہو چکا ہے  اب دشمن  دوستوں میں کسے شمار کیا بولتا ہے گلے میں  بلبل کے  کس طرح خود

افسانچے

عشق ’’عادل! عشق بڑا ہی پیچیدہ معاملہ ہے۔جب آپ کے نزدیک دُنیا کی ہر چیز کی قیمت زیرو ہو جائے اور صرف اپنے محبوب کو پانے کی چاہت ہوتو اُسے عشق کہتے ہے۔۔۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو جان لینا چاہیے کہ عشق کمزور اورلا چار ہے۔‘‘اُس کے کہے ہو ئے اِن الفاظ کو سمجھنے سے میں قاصر تھا لیکن یہ عشق کی گہرائی میرے سامنے تب کھلی ،جب کانپتے ہاتھوں سے خون میں لت پت کفن کواپنے دوست کے چہرے کا آخری دیدارکرنے کیلئے اُٹھایا۔    لفافہ ’’وقت بہت کم ہے۔۔۔بہت کم ۔۔۔یوں سمجھ لئجیے کہ ندیم کچھ مہینوں کا مہمان ہے۔‘‘ڈاکٹر کے یہ الفاظ مسلسل شاکرہ کے کانوں میں گونج رہے تھے۔اپنے شوہرسے جدائی کا تصور ہی اُس کے وجود کو ریزہ ریزہ کرنے کے لئے کا فی تھا۔ٹیبل پر پڑے لفافے کو خوف زدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔دل اُداسی کے دریا میں غوطہ زن ، آنکھیں اشک باراو

غزلیات

 طوفاں ہے تو تھم جائے ، دریا ہے اتر جائے وہ صبح کا بھولا ہے اب شام کو گھر جائے   اک دستِ ہنر مانگے اب شوق و جنوں میرا آرام ہی آئے گا جاتا ہے تو سر جائے   کانٹا ہے تو کم سے کم اک آبلہ پا ڈھونڈے گُل ہے تو وہ کِھل جائے ، خوشبو ہے بکھر جائے   بن جائے نہ عادت ہی وہ اتنا قریب آ کر نظروں میں جو رہتا ہے دل میںنہ ٹھہر جائے   بینائی اگر دی ہے منظر بھی دیا ہوتا رہ رہ کے پلٹتی ہے جس سمت نظر جائے    بلراجؔ یہ چھوٹی سی معصوم سی خواہش ہے دن رات میں ڈھل جائے اور رات گزر جائے      بلراجؔ بخشی عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور موبائل نمبر؛09419339303   شعورِ خاک کے سانچے میں ڈھل گیا سورج جو آگے سر پہ ہمارے پِگھل گیا سورج تڑپ رہے ہیں زمیں پہ یہاں

بمناسبتِ یوم ولادت خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزھراء ؓ

 آمد ہے سیدہؑ کی گلوں پر نکھار ہے گھر مصطفیٰؐ کارحمتِ پروردگار ہے   عصمت کی شاخ پر یہ کھلا کون سا گلاب دونوں جہاں میں چار سو فصلِ بہار ہے   اے سیدہؑ ہے تیرے تصدق کا فیضِ عام اس کائناتِ کل پہ ترا اختیار ہے   سائے میں جس کے ملتی ہے اسلام کو حیات چادر یہ فاطمہؑ کی بہت ذی وقار ہے   لے کر کہا یہ روٹی ملائک نے بار بار زہراؑوقارِ قوتِ پروردگارہے   لکھے ہیںمنقبت کے یہ اشعار شوق سے عادلؔ مرا نصیب بڑا با وقارہے   انجینئر محمد عادلؔ فرازعلیگ ہلال ہائوس 4/114 نگلہ ملاح سول لائن علی گڑھ یوپی موبائل:09358856606 mohdadil75@yahoo.com     جس طرح مصطفیٰؐ سا پیمبرنہیں کوئی ایسے ہی فاطمہؑ کے برابر نہیں کوئی   پیوند جس کے چرخِ طہارت کا نور ہیں

غـزلــیات

 اُڑان کا جو سلیقہ نظر میں رکھتا ہے  وہ آسمان کو بھی بال و پر میں رکھتا ہے مقابلے کا  ہُنر تاکہ وہ  بُھلا نہ  سکے  ہمیشہ اپنا سفینہ بھنور میں رکھتا ہے اُسے خیال ہے کتنا بھٹکنے والوں کا چراغِ نقشِ قدم رہگزر میں رکھتا ہے نگاہ بھر کے زمانے کو دیکھنے کے لئے  زمانے بھر کو وہ اپنے اثر میں رکھتا ہے گُماں نہیں ہے کسی اور کی ستائش کا  یقیں وہ اپنے ہی عیب و ہُنر میں رکھتا ہجوم ِ رنج سے وہ مانگتا ہے تنہائی  بنائے صبر و سکوں شور و شر میں رکھتا ہے مآلِ شوق میں پاتا ہے آبلہ پائی  قدم جو پہلے پہل اس سفر میں رکھتا ہے جھکی ہی جاتی ہے پیشانی احترام کے ساتھ  یہ کون شخص ہے کیا سنگِ در میں رکھتا ہے   ڈاکٹر سید شبیب رضوی اندرون کاٹھی دروازہ رعنا واری سرینگر 9906885395 &n

عبادت

وہ دونوں سگے بھائی تھے۔ دونوں کی عمر میں دو سال کا فرق تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے تھے اورانگشت شہادت وابہام کی طرح بچپن سے ساتھ ساتھ رہتے آئے تھے ۔ان کا معمول تھا کہ جمعہ کے دن وہ امور خانہ داری سے فراغت کے بعد تیار ہوتے اور اپنے گاؤں سے بیس کلو میٹر دور واقع شہر کی جامع مسجد میں جاکر نماز جمعہ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ۔بڑے کا نام نظام الدین اور چھوٹے کا نجم الدین تھا۔ دونوں کی شکل وشباہت میں واضح فرق تھا۔ بڑے کا رنگ سانولاتھا اور سنتی ریش مبارک خضاب سے آراستہ تھی ۔ چہرہ کتابی تھا اور امتداد زمانہ کے اثرات سے آراستہ ۔ چھوٹے کا رنگ گورا، داڑھی سفید اور چہرہ قدرے گول اور متبسم ۔دونوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا بہت مشکل تھا کہ دونوں سگے بھائی ہیں۔ان کی شکلوں میں واضح فرق کی وجہ سے زیادہ تر لوگ سمجھتے تھے کہ دونوں بڑے گہرے دوست یا زیادہ سے زیادہ چچا زاد ہیں۔ صرف چند لوگوں

غزلیات

غزل چوٹ اپنوںسے دل پہ کھائی ہے میرے مولا تری دہائی ہے   زندگی بھر کے جو یہ ہیں احسان آخرش اُن سے مار کھائی ہے   دل جو دنیا سے بھر گیا میرا دلبر باکی یہ دلر بائی ہے   حاصلِ شوق کچھ نہیں پایا جان تک دائو پر لگائی ہے   کیا کروں کچھ سمجھ نہیںپاتا آگے خندق تو پیچھے کھائی ہے   خانہ ویران خاک ہے یہ عشق شمعِ دل برق سے جلائی ہے   بے کلی بے سبب نہیں ہوتی ہے کوئی جس سے لو لگائی ہے   آگئے ہیں وہ پوچھنے کو مزاج کچھ تو غیرت بھی کام آئی ہے   بیٹھنے کو کہوں تو کیسے کہوں نہ چٹائی نہ چار پائی ہے   سلطان الحق شہیدی   رابطہ:-  ست بونی ، لعل بازار ،سری نگر موبائل نمبر :  9596307605       نظر

غزل

 عجب ہے مرے شہر کی دستان    ہے لتھڑا  ہوا خوں میں یہ گلستان گھر ہے، نہ راہ ہے نہ کوئی پڑوس     بھڑکے ہے تاریکی میں پاسباں ظلمت کی شب ہے، گھٹا چھائی ہے   گلے میں اٹک کر رہی ہے زباں لبوںں پر معلق ہے آوازِحق   توسینوں پہ ہیں گولیوں کے نشاں عزادار خلقِِ خدا چار سُو   ہر اک اور کربل کا دیکھو سماں  بہائے نہ اقبالؔ کیوں اشکِ خوں    ہے ہر زرہ وادی کا برقِ تپاں      

غـــزلــــیات

 خِراماں جب کوئی منصور سوئے دار ہوتا ہے تو ظاہر بیں سے حیرت کا ہی پھر اظہار ہوتا ہے جہاں والوں کو اِس سے کیوں بھلا آزار ہوتا ہے بچار اعشق تو رُسوا سرِ بازار ہوتا ہے دلِ پرُ درد سب کا مونس و غمخوار ہوتا ہے یہ تھوڑا سا گِلہ بھی بُھولنا دشوار ہوتا ہے سُنہرا وقت وہ جو رائگاں اک بار ہوتا ہے دوُبارہ اِس کو پانا کس قدر دشوار ہوتا ہے نہیں ہے شاعری ذہنی تخیُل شعر میں بھرنا کلام ایسا سبق جس میں نہ ہو بیکار ہوتا ہے غزل میں کوئی بس یہ عشق کا رونا ہی کیوں روئے حقیقی علم ہی سرمایہ ء اشعار ہوتا ہے ہیں جنسی بھوک و نوش و خور سبھی شہوات نفسانی یہ میرا تجربہ ہے اِن سے دل ہوتا ہے مجھے اب تو بچالے نفس کی شہوات سے یارب کہ ان سے مرضِ رُوح و قلب میں تیار ہوتا ہے تخیُل شاعرانہ یہ نہیں حکمت کی باتیں ہیں کہ مقصد شعر کا حکمت ہی کا اظہار ہوت

رباعیات

 آواز کے شعلے کی لپک یاد رہے گی آکاش کو چھولے تو گمک یا رہے گی اُس غیرتِ ناہید کا انداز الگ تھا ہونٹوں پہ تبسم کی چمک یاد رہے گی   آواز میں کلیوں کی چہک یاد رہے گی سُرتال میں گھنگرو کی کھنک یاد رہے گی آواز کے پھیلاو میں ساگر بھی سما جائے سانسوں میں گلالوں کی مہک یاد رہے گی   فاروق نازکی موبائل نمبر:9419012874    

نذر عرش صہبائی

ہوگیا ہے باغ صحرائی بہت ہم بھی بھولے ہیں وہ لیلائی بہت  زندگی بھر  آزماتا ہی رہا  اپنے پن کی یہ سزا پائی بہت بوالہوس ہر دور میں ہیں ذی وقار  عشق نے پائی ہے رسوائی بہت پھر بھی میں انساں کا انساں ہی رہا خُو فرشتوں کی بھی گو پائی بہت جس کا کوئی بھی نہ تھا ، اس کا ہوا یہ ادا اُس کی ہمیں بھائی بہت ہم سمجھتے تھے کہ ہم فارغ رہے آخر ش ہم پر بھی بن آئی بہت دوستی کی داد کچھ مت پوچھئیے  بَرہمن سے شیخ نے پائی بہت آدمی نکھرے ہے دکھ سے درد سے رنگ پسنے پر حنا لائی بہت پھر بھی اُترے زیست کے ویشو کے پار  پتھروں پر تھی جمی کائی بہت  کیا خبر ہم پر بھی ہو اُن کی نگہ  بے رخی ہے ان کی ترسائی بہت سادگی سے رہنے کا دیتے ہیں درس  خود جو کرتے ہیں خود آرائی بہت  بھائی نے د

غزلیات

کہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھا وہ چاہتا تو میں دانستہ ہار سکتا تھا   زمین پاؤں سے میرے لپٹ گئی ورنہ میں آسمان سے تارے اُتار سکتا تھا   مرے مکان میں دیوار ہے نہ دروازہ مجھے تو کوئی بھی گھر سے پکار سکتا تھا   جلا رہی ہیں جسے تیز دھوپ کی نظریں وہ ابر باغ کی قسمت سنوار سکتا تھا   پُر اطمینان تھیںاس کی رفاقتیں بلراجؔ وہ آئینے میں مجھے بھی اتار سکتا تھا   بلراجؔ بخشی  رابطہ:- عیدگاہ روڈادھم پور (جموں) موبائل نمبر:-9419339303   شمشیر مری، میری سپر کون لے گیا کشمیر ہوں میں جسم سے سر کون لے گیا گنبدسلگ رہا ہے، شرر کون لے گیا دیوارِ شہر گر گئی، در کون لے گیا اب دور تک غبّا ر اندھیروں کا ہے گواہ میرے فلک سے میرا قمر کون لے گیا سب کچھ وصول ہو گیا ہے کھیل کھیل