تازہ ترین

غزلیات

 یہ اجنبی سا کون تھا جو آئینہ دکھا گیا مجھے وہ اپنی ذات کے حصار میں پھنسا گیا   عجیب سی خموشیاں، ہیں چارسُو اداسیاں یہ کس طرح کے شہر میں کوئی مجھے بسا گیا   جہاں تلک نظر گئی، تھے مرگ زار ہر طرف مہیب تر تھا خواب یہ جو نیند ہی اُڑا گیا   وہ جس سے تھیں بغاوتیں، عداوتیں، شکائتیں وہ ذہن سے اُتر کے اب، ہمارے دل میں آگیا   بڑھا گیا وہ بام و در کی رونقیں کچھ اور دن ’’ملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھاگیا‘‘   خورشید ؔبسمل رابطہ؛تھنہ منڈی راجوری،9622045323             بات دِل کی ہے نہیں ہے باہری چھوڑ دو عُشاقؔ ذوقِ شاعری بے سبب کرتے ہو تم یہ فکرِ مال شغل سارا ہے یہ کارِ ساحری دِل میں تیرے ہے نہیں محشر بپا

غزلیات

  صحرا میں دھوپ اوڑھ کے بیٹھے ہوئے ہیں ہم تشنہ لبی کی آنچ سے جھلسے ہوئے ہیں ہم   چہرے وہی لباس وہی شخصیت وہی پر اپنے قول وفعل سے بدلے ہوئے ہیں ہم   کچھ سوچتے نہیں ہیں کسی مسئلے پہ اب جذباتیت کے بحر میں ڈوبے ہوئے ہیں ہم   ثابت حقیقتوں کی طرف دیکھتے نہیں مفروضہ داستانوں میں الجھے ہوئے ہیں ہم   اک روشنی سی رہتی ہے ہر وقت آس پاس  تاروں کا شہر گھوم کے آئے ہوئے ہیں ہم   ڈاکٹر شمس کمال انجمؔ صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9419103564     جیسے تمام تارے فلک پر فضا کے ہیں  انسان اس زمین پہ ایسے خدا کے ہیں  پھولوں میں تازگی ہے بہاروں میں نغمگی  یہ نقش نو  بہار   پہ دستِ صبا کے ہیں  محفو

غزلیات

وہ ایک شخص مجھے عالیشان لگتا ہے خدا کی ذات میں جسکا دھیان لگتا ہے عجیب وسوسے دل کو اُداس کرتے ہیں ’’جب اپنے ہاتھ میں سارا جہان لگتا ہے‘‘ بدن پہ زرد یوں نے اپنی چھاپ چھوڑی ہے کئی دنوں سے یہ خالی مکان لگتا ہے تعلقات کی ڈوری کو کاٹ نہ دینا کہ تیرا قرب مجھے سائبان لگتا ہے بدلتے جاتے ہیں اب زاویئے نگاہوں کے مجھے فریبِ نظر آسمان لگتا ہے نیا عذاب نیا دور دے رہا ہے ہمیں غریق ِیاس یہاں ہر جوان لگتا ہے بلایں کونسی ہیں تاک میں خدا جانے حریفِ جان بہت مہربان لگتا ہے یہ آب و گلِ کا تماشہ سراب ہے سارا خیال ِزیست بھی وہم و گمان لگتا ہے نبی ،فرشتے، کُتب ،آخرت کی سب باتیں مرے خدا کا یہ گہرا پلان لگتا ہے تمہارے شہر پہ اُفتاد کیا پڑی بسملؔ؟ یہاں کا فردِ بشر بے زبان لگتا ہے   خورشید بسملؔ

غزلیات

وہ پیکرِ جمال لبِ بام نہ آیا جیسے اُفق پہ چاند سرِ شام نہ آیا ہم نے تو اُن پہ جان دی نکلے جو بے وفا کم بخت عشق بھی ہمارے کام نہ آیا سب رند پی کے بزم میں سرمست ہوگئے ہم ہیں کہ جن کے ہاتھ کبھی جام نہ آیا آتش زنی و کُشت و خوں، عصمت دری ہوئی لیکن کسی پہ کوئی بھی الزام نہ آیا مال اور جان و آبرو سب کچھ ہوا تباہ لینے کو اس کا کوئی انتقام نہ آیا ہیں بیچ کھاتے  قوم کو غدار ہر طرح کیا وقت اِن کو بخشتا انعام نہ آیا پامال کس قدر ہیں اب انسان کے حقوق دنیائے دوں کا اس پہ کچھ اقدام نہ آیا ہر سو ہو قہر و ظلم تورومانس کیا کریں اس کُشت و خوں میں عشق کسی کام نہ آیا باطل یہ کُشت و خوں کرے کھائے شکست حق الہام کبھی لے کے یہ پیغام نہ آیا ہوتا خفا ہی اس پہ یہ جہاں ہے اے بشیرؔ بن کر جو اِس کا بندئہ بے دام نہ آیا &

غزلیات

 آتش عشق میں اس طرح دھواں ہو جاؤں لب کشائی بھی نہ ہو اور بیاں ہو جاؤں   تجھ سے بچھڑوں تو بھٹک جاؤں ہواؤں کی طرح اور مل جاؤں تو بے سمت و نشاں ہو جاؤں   تُو جو چاہے تو یقیں بن کے ترے دل میں رہوں ورنہ اک پل میں ترا وہم و گماں ہو جاؤں   سلسلہ کوئی رُکے میرے بِنا اور نہ چلے کہاں مٹ جاؤں بتا اور کہاں ہو جاؤں   سب کی ہمدردیاں لذت کی طلب ہیں بلراج کاش ایسا ہو کہ میں دردِ نہاں ہو جاؤں    بلراجؔ بخشی ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی،  اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر) موبائل نمبر؛  09419339303       کرتا ہے بار بار وہ ہم سے جفا بہت  آئی ہے راس ہم کو یہ آب و ہوا بہت    قد اس کا میرے قد کے برابر نہ ہوسکا  وہ

غزلیات

 اگر کبھی کسی طرح سے جی بہل جاتا رکا پڑا کوئی آنسو ہوں میں نکل جاتا   بچھڑنا اپنا مقدر ازل سے ہے لیکن یہ سانحہ کسی اگلی گھڑی کو ٹل جاتا   قدم ذرا سے کسی اور سمت اُٹھ جاتے ہمیشہ کے لیے گھر کا پتہ بدل جاتا   اسے میری ہی ضرورت اگر رہی ہوتی کسی بھی شکل میں، وہ چاہتا، میں ڈھل جاتا   تمہارے ہونے سے صحرا میں پھول کیا کھلتے مرے مزاج کا موسم ذرا بدل جاتا   قدم قدم پہ سہارے کا ہو گیا محتاج نہ تھامتا مجھے کوئی تو میں سنبھل جاتا   نہ انتظار میں کر وقت رائیگاں بلراجؔ کسی  کے آنے کا اب تک پتہ تو چل جاتا   بلراج ؔبخشی عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور (جموں کشمیر)، موبائل نمبر؛ 09419339303     پانا بھول کے کھونا سیکھو پیار کیا تو رونا

غزل

 شام کا سورج بھی معمارِ مقدر ہوگیا میرا سایہ اُن کے گیسو کے برابر ہوگیا کیا ہوا میں پتّی پتّی ہوگیا جو شاخ پر میری خوشبو سے کوئی دِل تو معطر ہوگیا جو کبھی پیاسا تھا اپنی ہی طرح سُنتے ہیں اب وہ کسی پنگھٹ پہ پَنِہارن کی گاگر ہوگیا ہوگیا مغرور بُت آذر کی نفرت کا شکار ایک ٹھوکر کیا لگی وہ پھر سے پتھر ہوگیا ڈھول تاشے بج رہے ہیں کس لئے کہ آج پھر تیرگی سے روشنی کا مورچہ سَر ہوگیا پھر خُدا کے گھر پہ چنگیزوں نے قبضہ کر لیا پھر کوئی کعبہ کسی شیطان کا گھر ہوگیا عشق میں ہم تو کسی تخصیص کے قائیل نہیں جس جگہ سجدہ کیا محبوب کا در ہوگیا کوئی بھی آندھی اِسے پنچھیؔ بُجھا سکتی نہیں جو دِیا اب حق پرستی سے مُنّور ہوگیا   سردار پنچھیؔ جیٹھی نگر۔ مالیر کوٹلہ روڈ۔ کھنہ 141401 پنجاب موبائل نمبر؛941709668   &nb

غزل

کہہ رہے ہیں آج سب اہلِ نظر اچھا لگا پر زمانے کو کہاں میرا ہنر اچھا لگا شاخ سے پہلے ہوائوں نے گرایا خاک پر اور پھر ان زرد پتوں کو شرر اچھا لگا عشق کے بازار کا سامان سب تھا دلفریب لاکھ دیکھا پر ہمیں دردِ جگر اچھا لگا اور بھی دنیا میں کتنے خوبصورت ہیں مقام کیوں حوادث کو ہمارا ہی نگر اچھا لگا دور میں ہر دم رہا جس کے درودیوار سے جب جہاں میں دیکھ آیا تو وہ گھر اچھا لگا آسماں نے بھی سُنی ہوگی بہت چیخ و پکار  آگ کو جب آشیانہ سربسر اچھا لگا جو مسافر تھے یہاں اُن کو ملی ہیں منزلیں جُستجو کس کی ہمیں تھی کیوں سفر اچھا لگا تیر چل کے آگئے سارے میرے تن کی طرف ہر کسی تلوار کو میراہی سر اچھا لگا   رئوف راحتؔ سرینگر، موبائل نمبر؛9419626800  

غزلیات

مقدر تھا ستاروں کے حوالے ہوئے ہم بھی سہاروں کے حوالے ہمارا جو بھی ہو گا دیکھ لیں گے کیا تم کو بہاروں کے حوالے بیاں ہوتا نہیں الفاظ میں جو اشاروں، استعاروں کے حوالے ہماری آبلہ پائی کا صدقہ کہ ہم ہیں خارزاروں کے حوالے ابھی معلوم ہو گا ظرف ان کا چلو ہو جائیں یاروں کے حوالے انہیں ہی کاٹتا ہے کیوں سمندر ہوا تھا جن کناروں کے حوالے فریبوں میں رہا بلراؔج لیکن یقینوں ‘ اعتباروں کے حوالے   بلراج ؔبخشی  ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱ (جموں کشمیر) موبائل نمبر؛09419339303 ای میل؛ balrajbakshi1@gmail.com     مثلِ شعلہ کبھی شرار میں تھا  منفرد شہر کے  غبار میں تھا  کون سنتا نوائے شوق میری  اجنبی اپنے ہی دیار میں  تیر کس کی کمان سے

غزلیات

        دل کے ڈھول کی تھاپ سے اٹھتی ہر لے بڑی سُر یلی ہو آ و ا ز و ں کے سنگم سے جب شب کی سا نس نشیلی ہو   مجھ میں پھیلی تنہا ئی پر ر نگ نہ کو ئی چڑھ پایا میر ے من کی محفل کی، پھر کیا رنگت چمکیلی ہو   من نگری میں ڈ و ل ر ہی ہے آ شا ؤ ں کی کٹی پتنگ دشت میں جیسے بھو لی بھٹکی بد لی کو ئی اکیلی ہو   رنگو ں کے ر نگین جنوں سے چل کر حد سے پار نکل رنگ سوا ہو جا تا ہے جب د ر د کی د ھا ر نو کیلی ہو   طوفاں جس سے پانی مانگیں، بھنورکاوہ تیراک ہوں میں ساتھ مجھے لے ڈ و بے کو ئی مو ج ا گر البیلی ہو   عقل کے اندھوں سے یوں ان کا خوابِ حقیقت دور رہا جیسے بہر و ں کے جھر مٹ میں کو ئی صدا پھڑ کیلی ہو   ڈاکٹر حنیف ترین نئی دہلی، موبائل نمبر۔8920859337  

غزلیات

        دل کے ڈھول کی تھاپ سے اٹھتی ہر لے بڑی سُر یلی ہو آ و ا ز و ں کے سنگم سے جب شب کی سا نس نشیلی ہو   مجھ میں پھیلی تنہا ئی پر ر نگ نہ کو ئی چڑھ پایا میر ے من کی محفل کی، پھر کیا رنگت چمکیلی ہو   من نگری میں ڈ و ل ر ہی ہے آ شا ؤ ں کی کٹی پتنگ دشت میں جیسے بھو لی بھٹکی بد لی کو ئی اکیلی ہو   رنگو ں کے ر نگین جنوں سے چل کر حد سے پار نکل رنگ سوا ہو جا تا ہے جب د ر د کی د ھا ر نو کیلی ہو   طوفاں جس سے پانی مانگیں، بھنورکاوہ تیراک ہوں میں ساتھ مجھے لے ڈ و بے کو ئی مو ج ا گر البیلی ہو   عقل کے اندھوں سے یوں ان کا خوابِ حقیقت دور رہا جیسے بہر و ں کے جھر مٹ میں کو ئی صدا پھڑ کیلی ہو   ڈاکٹر حنیف ترین نئی دہلی، موبائل نمبر۔8920859337  

غزلیات

  اُس کے دِل میں نہ جانے کیاغم تھا جب بھی دیکھااُسے وہ پُرنم تھا   زِندگی اِس طرح میری گُزری  سلسِلہ رنج وغم کاپیہم تھا   کھویاکھویا تھا یہ خیالوں میں  دِل کاعالم عجیب عالم تھا   مُدتّوں سے نہیں مِلامجھ سے  مُدتوں سے وہ مُجھ سے برہم تھا   اُس کااِظہار ہی وہ کردیتا اُس کے دِل میں اگرکوئی غم تھا   سب کی آنکھوں سے کیوں تھے اشک رواں شہر سارا جو محوِ ماتم تھا   اُلجھتارہتاہے مُشکلوں سے ہتاشؔ اُس کواحساس یہ بہت کم تھا   پیارے ہتاشؔ دوردرشن گیسٹ لین، جانی پورہ جموں موبائل نمبر؛8493853607     دل میں ہو گر چین سب اچھا لگتا ہے ورنہ سنسار تو کچرا لگتا ہے ٹوٹ چکا ہر انگ عمر کے ڈھلنے سے دل ہے لیکن اب بھی بچہ لگتا ہے

غزلیات

سودا مری نگاہ کا ہر چند ہوگیا  پھر بھی نہ خواب میرا رضامند ہوگیا    وقعت نہیں تھی جس کی نظر میں رواج کی  وہ بھی رسومِ وقت کا پابند ہوگیا    غافل رہا شعور سے جو فرد  دیر تک  ایسا ہی ایک شخص خرد مند ہوگیا    ہر ایک شاخِ سبز ہے جس کی وصال میں  وہ پیڑ شامِ غم کا تنو مند ہوگیا   سپنوں میں جس کی سانس لئے جاتے  ہیں تمام رہبر میرے وطن کا خدا وند  ہوگیا    یہ کس نے خواب خواب اُتارا ہے نیند میں  یہ کون شہرِ دل میں ہنر مند ہوگیا    آنکھوں میںہیں وبال یہ کاجل کے دائرے  کس کی نظر میں کون نظر بند ہوگیا    اشرف عادل  کشمیر یونیورسٹی حضرت بل  سرینگر کشمیر  رابطہ؛ 9906540315  

غزلــــیـات

پھر کون چلا آیا مرے حرفِ یقیں تک مضمون جو پہنچا تھا مکافاتِ نہیں تک   یوں جھاڑتا ہوں گردِ مسلسل میں بدن سے لاتا ہوں یہ مٹی کا ہنر تیری زمیں تک   اغلب کہ دفن قیس مرا ہو تو یہیں ہو سجدہ ہے پڑا قد میں برابر ہے جبیں تک   اب مجھ کو خلاؤں کی دھنک سے نہ پکارو میں آہی گیا اپنے کسی خاک نشیں تک   ہیں فاصلے جو آنکھ کے منظر پہ یہ ٹھہرے لے جائے کوئی میری دعا عرشِ بریں تک   گردش میں بہت دیر رہاچاک پہ پُرنم آنسو ہے نکل آے تو جاے گا کہیں تک   شیدّاؔ ہے عبث کرلیں جو منزل کا تعیّن رستہ ہے جہاں جائے چلیں ہم بھی وہاں تک   علی شیدّاؔ نجدہ ون  نپورہ اسلام آباد کشمیر  فون نمبر9419045087     مدت کے بعد آئے ہو، جانا نہ چھوڑ کے کچھ پل خوشی کے

غــزلـــــــیـات

 ثابت ہے مرا حوصلہ مغلوب نہیں ہوں ہے جُرم صعیفی، تو میں محجوب نہیں ہوں تجدیدِ ضوابط کی طرح خواب ہیںمیرے میں کُہنہ روایات کو مطلُوب نہیں ہوں لُوٹے ہیں مزے سُکر کے بھی خود میں اُتر کر ہو‘ حَق میںجو غلطاں ہو وہ مجذوب نہیں ہوں ہیں دورِ پُر آشوب میں جو حق کے نگہباں میں اُن کی نگاہوں میں بھی معُتوب نہیں ہوں میں شیشے کی ماند ہوں پتھریلی فضا میں گواپنی حفاظت میںبہت خوُب نہیں ہوں میں جہد مُسلسل کے محازوں پہ ڈٹاہوں گُھل گُھل کے جورہ جائے وہ مشروب نہیں ہوں میں اپنے ہی سونے کے نشان کس طرح پائوں جب اس کی نگاہوں کو ہی مطلوب نہیں ہوں بے سود ہے مجھ پر تری الزام تراشی بے عیب ہوں میں در خورِ معیُوب نہیں ہوں کل جس کی مورّخ نئی تاریخ لکھے گا کیا وہ میں حنیف آج کا مکتُوب نہیں ہوں حنیف ترین۔۔۔نئی دہلی 9971730422 &nb

غــزلـــــــیـات

سرگرداں میں ہوا جو تلاشِ کتاب میں ابواب علم وا ہوئے آ آ کے خواب میں میں مبتلائے دردِ محبت بھی کیا ہوا مدت سے میری روح پھنسی ہے عذاب میں احساس کا جو بار ِگراں دے دیا مجھے رہتا ہوں صبح و شام عجب پیچ و تاب میں آرام ِجاں سے ہوتی ہے سوزش عجیب سی راحت مجھے ملے ہے بہت اضطراب میں کیا کیا سنائے جارہے ہیں آپ بھی ہمیں ہم نے بھی کچھ جو کہہ دیا اُلٹا جواب میں! کیسے بھُلا سکے گا دل ِشنا انہیں دیدار وہ جو روز کراتے ہیں خواب میں بے چینیاں عجیب تھیں، بے تابیاں عجیب کاٹی شبِ فراق بڑے ہی عذاب میں اے شمسؔ میرے غم کا نہ مجھ سے حساب مانگ  یہ عمر ورنہ ساری کٹے گی حساب میں ڈاکٹر شمس کمال انجمؔ صدر شعبۂ عربی، اردو ، اسلامک اسٹڈیز، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری 9086180380    تیری گلی میں شاہ بھی آیا گدا ہوا

غزل

  ہر سفر میں سفر تلاش کیا  ہم نے کب اپنا گھر تلاش کیا  جسم میں اپنے جو نہیں رہتا  اس قلندر کا گھر تلاش کیا  ایک قطرہ بھی اک سمندر ہے  آنسوؤں میں گہر  تلاش کیا  جذبہء دل بجھا نہیں اب بھی  راکھ میں اک شرر  تلاش کیا  شکر ہے لفظ کے نگر میں ہوں  بھیڑ میں اپنا سر تلاش کیا  خانقاہوں کی بھیڑ کم ہوگی  تم کو دل میں  اگر تلاش کیا  رقص جگنو کا تھا بہت روشن  تیرگی میں قمر تلاش کیا  جب کہیں فن کی پیاس ہی نہ بجھی اپنا ہی پھر ہنر تلاش کیا  اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  رابطہ 9906540315  

غزلیات

 کچھ لمحے ایسے آتے ہیں خود سے بھی ہم ڈر جاتے ہیں آشائوں کا ساگر گہرا جو ڈوبیں کب بچ پاتے ہیں خود سے ہی خود روٹھ کے اکثر یوں بھی دل کو بہلاتے ہیں جیون اک مکڑی کا جالا سلجھانے میں مرجاتے ہیں جنکے گھر خالی دیواریں شوق سے کب وہ گھر آتے ہیں جن کو آنکھوں پر رکھا تھا آنکھیں ہم کو دکھلاتے ہیں درد دیئے کچھ اُس نے ایسے خون کے آنسو برساتے ہیں امکانات کو کھو کر بسملؔ ہر لحظ اب پچھتاتے ہیں   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی، راجوری موبائل نمبر؛9622045323       کس مستی میں اب رہتا ہوں  خود کو خود میں ڈھونڈ رہا ہوں دنیا میں سب سے ہی جدا ہوں آخر  میں کس دنیا کا ہوں میں توخود کو بھول چکا ہوں  تم بتلا دو کون ہوں کیا ہوں یہ بھی نہیں ہے یاد مجھے اب کی

غزلیات

 کچھ لمحے ایسے آتے ہیں خود سے بھی ہم ڈر جاتے ہیں آشائوں کا ساگر گہرا جو ڈوبیں کب بچ پاتے ہیں خود سے ہی خود روٹھ کے اکثر یوں بھی دل کو بہلاتے ہیں جیون اک مکڑی کا جالا سلجھانے میں مرجاتے ہیں جنکے گھر خالی دیواریں شوق سے کب وہ گھر آتے ہیں جن کو آنکھوں پر رکھا تھا آنکھیں ہم کو دکھلاتے ہیں درد دیئے کچھ اُس نے ایسے خون کے آنسو برساتے ہیں امکانات کو کھو کر بسملؔ ہر لحظ اب پچھتاتے ہیں   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی، راجوری موبائل نمبر؛9622045323       کس مستی میں اب رہتا ہوں  خود کو خود میں ڈھونڈ رہا ہوں دنیا میں سب سے ہی جدا ہوں آخر  میں کس دنیا کا ہوں میں توخود کو بھول چکا ہوں  تم بتلا دو کون ہوں کیا ہوں یہ بھی نہیں ہے یاد مجھے اب کی

غزلیات

 شعور مر گیا جذبوں میں تازگی نہ رہی حیات لٹ گئی جب فکر و آگہی نہ رہی ہمارے دل میں جو حرص و ہوس کبھی نہ رہی ہمارے گھر میں کبھی بھی کوئی کمی نہ رہی تمہاری یاد میں بے نور ہوگئیں آنکھیں تمھارے بعد مرے دل میں روشنی نہ رہی تعلقات تو قائم ہیں آج بھی لیکن اب اس کے ساتھ وہ پہلی سی دوستی نہ رہی ہم اب کی بار جو باہم ملے خلوص کے ساتھ دلوں میں بغض کی کائی کوئی جمی نہ رہی نکل کے جب سے گیا ہے وہ پتلیوں سے مری شعورِ زیست گیا وجہ شاعری نہ رہی میں اس کی دید سے سیراب ہوگیا اتنا کہ اس کے بعد نگاہوں میں تشنگی نہ رہی وصالِ یار کی خواہش تو اس طرح جاگی فراقِ یار کی سانسوں میں زندگی نہ رہی تڑپتے رہ گئے تا عمر اک جھلک کے لیے ہمیشہ دل میں بسی چاہتِ مدینہ رہی میں نور بن کے زمانے میں یوں ہوا روشن کسی بھی شہر میں اے شمسؔ تیرگی نہ رہی