مجالسِ نکاح تقاریبِ شا دی

 یہ  اللہ تعالیٰ کا ہی فضل و کرم ہے کہ سخت جان اُمت مسلمہ میں ایسے ائمہ کرام ، واعظین عظام اور اصلاح ِ معاشرہ چاہنے والے حضرات ہر دور میں موجود رہے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے اپنے میدان میں اُمت مسلمہ میں پھیلی ہوئی رسومات اور بدعاتِ قبیحہ، او دیگر خرافاتِ سُغلہ کے خلاف کسی نہ کسی انداز سے اپنی ناراضگی کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں گوکہ اس طوفانِ بدتمیزی کے خلاف ان کی ایک بھی نہیں چلتی ہے۔ سماج میں رائج بدعات و خرافات کے خلاف بارہا محلہ کمیٹیاں، سدھار انجمنیں ، رضاکار ادارے بھی بنائے گئے مگر بے سود ،کہیں کہیں غیر اسلامی تقریبات سے بائیکاٹ کرنے کے فیصلے بھی لئے گئے لیکن یہ فیصلے گفتند نشستند و برخواستند تک محدود ثابت ہوتے رہے ،ان پر عمل کرنے کے لئے ماحول سازگار بنا نہ وموافقانہ عوامی رائے کی موافقت منظم ہوئی۔  ہمارے سماج کئی افراد جو شادی غمی کے مواقع پر نمود و نمائش کے مرضِ لا

لکھنا ایک فن ہے

فضول  کاموں میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہےاپنے خیالات قلم بند کریں، تخلیقی سرگرمیوں کی طرف مائل کریں۔ایک لکھاری بھی دیگر فن کاروں اور ہنرمندوں کی طرح تخلیق کارہوتا ہے، جو معاشرے کی تصویرکو اپنے خیالات، نظریات اور فکر کے ذریعے قلم کی زبان عطا کر کے الفاظ کے روپ میں ڈھالتا ہے۔ وہ جو دیکھتا اور سوچتا ہے، اسے الفاظ کے ذریعے دوسروں کے ذہن پر ثبت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے ایسا کرنے پر اس کا احساس مجبورکرتا ہے۔ لکھنے کا تعلق جبر سے نہیں، بلکہ تخلیق کار کی تمنا، آرزو، خواہش، مرضی و منشا، شوق اور اس کے جذبات و احساسات سے ہوتا ہے۔ ایک لکھاری کسی بھی معاشرے کا چہرہ ہوتا ہے، جو مشاہدے کی طاقت سے معاشرے اور اس میں ہونے والے تمام افعال کو الفاظ کی تصویر پہناتا ہے۔ لکھاریوں کی اکثریت خود کو بے لوث معاشرے کے لیے وقف کیے رکھتی ہے، جس بنا پر یقینا ان کو بہت ہی معزز اور قوم کا فخر سمجھا جاتا ہے۔لک

ماں باپ کی اہم ذمہ داری

گھروں میںحیا مندی کے حوالے سے ہمیں کیا کیا کرنا چاہیے،اس کی ایک اجمالی تصویر یوں کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے : بچوں سے حقیقی تعلق: والدین بچوں سے اپنے تعلق کو یقینی بنائیں۔بچوں کو کہانیاں سنانا سب سے اہم سرگرمی ہے۔یہ کام مائیں سب سے بہتر سر انجام دے سکتی ہیں۔ کہانیاں سناناچاہے وہ حقیقی ہوں یا تصوری—اپنے بچے کے ساتھ گھلنے ملنے کا ایک تفریحی طریقہ ہے۔کہانی سنانا جادوئی عمل ہو سکتا ہے۔ کہانیوں سے آپ کے بچے کی تخلیقی اور تخیلاتی نشو و نماکے ساتھ ساتھ اردگردکی دنیاکو سمجھنے میں مددملتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ بچے کی افسردگی کم کرنے اور ان کی زندگی میں تبدیلی پیدا کرنے کے ساتھ مزید راحت کا احساس پیدا کرنے میں مدد دینے کا ایک بہترین طریقہ بھی ہے۔ اچھی کہانیاں سنانا ایک طاقت ور طریقہ ہے جس سے آپ کے بچے کو آپ کی گھریلو زبان بہتر طور پر سمجھنے میں اور بولنے میں مدد ملتی ہے – اور ا