تازہ ترین

بچوں کو عزت دو!

 یہ آرٹیکل بچوں کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کے بارے میں ہے جس کا ارتکاب کہیں دانستہ اور کہیں غیر دانستہ طورعلم وآگہی کے علمبردار کررہے ہیں۔تعلیمی اخراجات اور فیس وغیرہ کا تقاضا اسکولوں میں معصوم بچوں سے کر نا ایک گھمبیر مسئلہ ہے ۔ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں سے فیس وغیرہ کا مطالبہ کر نا بےشک اسکول انتظامیہ کا حق ہے لیکن کسی وجہ سے ادائیگی نہ کر نے پر یا تاخیر ہونے پر بچوں کی تذلیل کر نا یا انہیں سزائیں دینا کہاں کا انصاف ہے۔ ایسے بچوں کو دوسرے بچوں اور اساتدہ کے سامنے بےعزت کیا جانا ایک مجر مانہ حرکت قرار پاتی ہے۔ آپ سب سے گزارش ہے کے اس بات کے حق میں اپنے معاشرے میں رائے عامہ منظم کیجئے کہ تمام تعلیمی ادارے ایسے جاہلانہ طرزعمل کو ترک کر یں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ برائے مہربانی اپنے بچے کے واجبات( اسکول فیس) بروقت ادا کیا کریں ، بصورت دیگر ان کے معصوم بچوں کو اسکول انتظامی

نکاح میں تاخیر!

 نکاح  انسان کی فطری و طبعی ضرورت کی تکمیل ہے اور یہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت اور افزائش نسل کا حلال و پاکیزہ ذریعہ ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر مرد و عورت کے دل میں دوسرے جنس کی طرف رغبت و میلان کو پیدا کیا ہے ۔ یہ ایک فطری امر ہے۔ اس طبعی و فطری ضرورت کی تکمیل کے لئے نکاح کو مقرر کیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طورپر نکاح فرمایا اور اپنے فرامین کے ذریعہ بھی اس کی ترغیب دلائی ہے۔ ارشاد فرمایا: ’’نکاح میری سنت ہے اور جو میری سنت سے منہ موڑے وہ مجھ سے نہیں‘‘۔ (حدیث) دین اسلام کی تعلیمات میں اعتدال و توازن سب سے نمایاں خوبی اور خصوصیت ہے۔ اسی سے دین اسلام کی تعلیمات کو دنیا کے دیگر مذاہب و ادیان کی تعلیمات سے ممتاز بناتی ہیں۔ اسلام میں جس طرح مردوزن کے باہمی اختلاط و امتزاج کی ممانعت ہے، وہیں ایک دوسرے سے بالکل یہ علیح

جانئے اسلام کو

 چند  سال قبل میں اپنے علاج ومعالجہ کی خاطر بترا انسٹی چیوٹ کی طرف جارہی تھی ، راستے میں مجھے حوضِ رانی گاندھی پارک کے متصل کافی گہما گہمی دیکھنے کو ملی ۔ لوگوں کی بھیڑ میں چند افراد کچھ پمپلٹ تقسیم کررہے تھے، جو اُردو زبان میں شائع کئے گئے تھے۔ جی للچایا اور میں نے رکشا ڈرائیور کو رُکنے کے لئے کہا۔ دل جمعی کی خاطر ایک بندے نے دو چار پمفلٹ میرے ہاتھ میں تھمادئے اور میں دُزدیدہ نگاہوں سے اُن کا شکریہ ادا کرکے اپنے منزل کی طرف رواں دواں ہوئی۔ میں نے پمفلٹ کھول کے دیکھا ، یہ اسلامک ریسرچ سنٹر نئی دہلی سے شائع ہوا تھا اور اس کا مصنف ڈاکٹر امجد خان صاحب تھے۔اس کا موضوعِ تحقیق’’جانئے اسلام کو اور جگائیے ایمان کو‘‘ ۔ اس میںمسلم سماج کے اشیائے خوردنی پر مکمل اور مدلل تحقیق تھی اور جس کی تقسیم کاری میں ڈاکٹر موصوف خود بھی عارضی سٹیج پر براجمان تھے۔ اس کتابچے کو

’’مصحف‘‘

 اد ب  سماج کی عکاسی کرتا ہے، ادب گزشتہ تہذیبوں پر پڑے پردوں کوواکرکے اُن کے اندر موجود سماجی تانے بانے کوہمارے سامنے عریاں کرتا ہے، ادب زمانے کے رنگ ڈھنگ اور لوگوں کی سوچ سمجھ کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی لیے سماج میں ادبی دنیا کو ہر دور میں نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔ انسانی سماج کے ماضی ، حال اور مستقبل کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں ادیبوں کے قلم نے سوئی اور ادب کی ڈور نے دھاگے کا کام کیا ہے۔تاریخ انسانیت شاہد ہے کہ جس کسی بھی سماج نے ادبی ذوق و شوق کو کھو دیا تھا اُن کی تہذیب اور تاریخ پھر آنے والے زمانے میں قصۂ پارینہ بن گئی۔ہر زمانے میں ادبی دنیا کے ذریعے سے مختلف الخیال لوگوں نے اپنی سوچ اور فکر کو پروان چڑھانے کی کوشش کی۔ماضی میں بھی اور آج کے دور میں بھی تاریخ سازی، افسانہ نگاری، اسفار نگاری،سیرت، سماجیات وغیرہ موضوعات پر علماء، دانشوروں ، ادیبوں اور شاعروںنے اپنی تخلیقی صلاحیت

آج کی خاتون

آج   کی عورت کے لیئے اپنا گھر بار زیادہ ضروری ہے یا اپنا کیرئیر؟؟؟ یہ ایک ایسا سوال تھا جس نے مجھے چکر ا کر رکھ دیا۔ دور جدید کی عورت اپنے آپ کے مرد ہی سمجھتی ہے۔ وہ بھی چاہتی ہے کہ جس طرح مرد اپنا کیرئیر بنا سکتا ہے وہ کیوں نہیں بنا سکتی۔جب اس کے اندر موجود یہی جذبہ جنون کی حد تک چلا جاتا ہے تو پھر وہ کسی کو بھی اہمیت نہیں دیتی۔اس کیر ئیر کے آڑھے اس کے والدین آتے ہیں یا بہن بھائی آتے ہیں۔اس کے رشتہ دار یا اس کا اپنا شوہر یا بچے ۔ وہ سب کو قربان کرنے کو تیار ہوجاتی ہے۔ ان میں سے اکثر تو اپنے اس کیرئیر کو کبھی بھی نہیں پا سکتیں۔ اور بعد میں ان کو ان کے اپنے رشتے بھی قبول نہیں کرتے۔ نہ خد ا ہی ملا نہ وصال صنم۔اگر ان کو ان کا کیر ئیر مل بھی جاتا ہے اور وہ اپنے تمام خواب شرمندۂ تعبیر کر لیتی ہیں تو بھی ان کے نصیب میں اپنے رشتے نہیں ہوتے۔اﷲ کا بنا یا ہوا قانون کیسے غلط ہو سک

یہ کیساآیا زمانہ !

 ’’عورت باپ بھی بن سکتی ہے ‘‘آپ کو اس عنوان پر حیرانگی ہو گی لیکن مغرب میں یہ ڈسکشن جاری ہے کہ ایک عورت کا یہ بنیادی انسانی حق ہے کہ وہ اپنے ذہنی سکون اور اطمینان کے لیے سرجری کے ذریعے اپنی جنس تبدیل کروا لے۔ اسے میڈیکل کی اصطلاح میں سیکس ری اسائنمنٹ سرجری (sex reassignment surgery) کہتے ہیں۔ باقی ڈیوڈ ریمر نے جنس تبدیل کروا کے ڈپریشن کے مارے خودکشی کر لی تھی تو خودکشی بھی تو اس کا بنیادی انسانی حق تھا نا۔ اس کی زندگی ہے، ہمیں کیا حق کہ مرے یا جیئے، مرد بن کر یا عورت ہو کر۔ ہمارے ہاں کے کندہ ٔ ناتراشوں کو ابھی یہی اعتراض ہے کہ عورت امام مسجد اور موذن کیوں نہیں بن رہی اور مغرب میں عورت، باپ بھی بن رہی ہے۔اسے کہتے ہیں ’’حقیقی مساوات‘‘۔ بس مرد کے برابر حقوق تو تبھی پورے مل سکتے ہیں نا جب عورت مرد ہی بن جائے۔ لبرل، سیکولر، ترقی پسند اور

بچے کا روشن مستقبل کس کے ہاتھ؟

ایک  مسلم گھرانے کی بہو اسماء افتخار کے ہاں ماشاء اللہ خوشی آنے والی تھی۔ شادی سے پہلے ہی ان کی ساس نے کہہ دیا تھا کہ نوکری تو بہو کو کرنی پڑے گی کیونکہ میری بیٹیاں اور بڑی بہو بھی نوکری کرتی ہیں۔ شادی کی 15 دن کی چھٹیوں کے بعد ہی کپڑے دھونے کی ذمے داری اسماء پر ڈال دی گئی۔ گھر میں تین نندیں تھیں جو شادی کے انتظار میں بوڑھی اور چڑچڑی ہوچکی تھیں، ایک جیٹھ، ان کی بیوی اور چار بچے تھے۔ ساس، سسر، اسماء اور اس کا شوہر۔ گویا 13 لوگوں کے اندر باہر کے سب کپڑے دھونا اسماء کی ذمے داری تھی۔ بڑی بہو کھانا پکاتی تھیں، ایک نند صفائی کرتیں، ایک برتن دھوتیں، اور سب سے بڑی نند بیمار تھیں، پہلے کپڑے دھوتی تھیں، اب اُن پر سے ہر ذمے داری ہٹا لی گئی تھی۔اسماء نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے کچھ فروٹ وغیرہ لادیا کریں، ان دنوں میں ذرا صحت بنے گی، میری تنخواہ تو آپ کی امی لے لیتی ہیں… بس یہ کہنا تھا

ظلم وتشدد کا کوئی جنس نہیں ہوتا!

 اکیسویں صدی میں جب کہ دنیا کے ہر کونے میں مرد اور خواتین کو ہرمیدان میں برابر کے حقوق دئے جارہے ہیں، جس وجہ سے خواتین کی بڑی تعداد ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی اپنی کامیابی کا پرچم لہرارہی ہیں، پھر بھی اس کو مظلوم کا نام دے کر عورت غلط بھی ہو تو اسی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے اس کی بے جا حمایت میں ایک بڑا ہجوم اکٹھا ہوجاتا ہےاور حقیقت کو جانے سمجھے بغیر مرد کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے ۔ماناکہ عورت نازک صنف ہونے کی وجہ سے بظاہربےقصور نظر آتی ہے اور ہمدردی کی مستحق ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر جگہ ہر مرتبہ عورت ہی صحیح اور مرد غلط ہوںکیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بے چارے مرد بھی چند عورتوں کی سازشوں اور مظالم کا شکار ہو کر اپنی جان تک گنوا چکے ہیں ، اس لئے ہر مرتبہ عورت ہی مظلوم نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی عورت کے ظلم کا شکار بنے مرد بھی مظلوموں کی فہرست میں شمار ہوتے ہی

موسم گرما اور چہرے کی حفاظت

سب سے پہلے اپنے چہرے کو دھوئیے۔ پھر ہاتھ سے ہلکے ہلکے تھپ تھپا کے خشک کیجیے۔ اس کے بعد ایک ٹشو پیپر اپنے چہرے کے مختلف حصوں پر رکھ کر دبائیے۔ اگر آپ کی جلد چکنی ہے تو ٹشو پیپر پر روغنی دھبے آجائیں گے۔ اگر ٹشو پیپر چہرے کے کسی حصے پر نہ چپکے اور نہ ہی اس پر چکنے دھبے نظر آئیں تو آپ کی جلد خشک ہے۔ اگر یہ آپ کی پیشانی، ناک یا ٹھوڑی پر چپک جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جلد نارمل یا ملی جلی ہے۔ تقریباً 70 فیصد خواتین کی جلد نارمل یا ملی جلی ہوتی ہے۔ چکنی جلد: ایسی جلد دیکھنے میں کسی حد تک چمک دار معلوم ہوتی ہے اور یہ بلیک ہیڈز اور کیل مہاسوں کا اکثر شکار بنتی ہے۔ کبھی کبھی جلد میں کھنچاؤ اور سختی بھی محسوس ہوتی ہے۔ نارمل یا ملی جلی جلد: ایسی جلد کے مسام درمیانے ہوتے ہیں۔ سطح ہم وار اور ساخت اچھی ہوتی ہے اور یہ صحت مند رنگت کی حامل ہوتی ہے۔ ملی جلی یا نارمل جلد میں دونوں

بنتِ حوا | تقدیر بدلنے کی ہے تدبیر اپنے پاس

اللہ  تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات میں بے شمار مخلوقات پیدا فرمائے ہیں اور ان سب مخلوقات میںسے انسان کو سب سے بلند مقام پر فائز کیا ہے۔اسی لیے انسان کو اشرف المخلوقات کے لقب سے نوازا گیا۔اشرف المخلوقات میں مرد اور عورت کے جنس میں عورت کو جو حیثیت اسلام نے عطا کی ہے ،دوسرے ادیان میں دور دور تک اس کا تصور بھی نہیں ملتاہے۔جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں ہمارا سابقہ جاہلیت کے مختلف پیرائیوں کے ساتھ بھی پڑ تا ہے اورہم دیکھتے ہیں کہ زمانۂ جاہلیت میںخواتین کوکیسے کیسے ناقابل برداشت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔صنف نازک کے ساتھ جو استحصال ہورہا تھااس کو محسوس کر کے درد دلِ رکھنے والے انسان کی روح کانپ جاتی ہے۔بچیوں کی پیدائش کو ہی عار سمجھا جاتا تھا اور اُنہیں زندہ در گور کرنے میں لوگ فخر محسوس کرتے تھے، تعددِ ازدواج کی کوئی حد مقرر نہیں تھی، فحاشی و عریانی کے عجیب و غ

آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

خوف  وہراس میں مبتلا مسلم اقلیت کے لئے آرام وسکون کا ایک لمحہ بھی نصیب ہو نا اب خواب وگمان بنتا جارہا ہے۔ ۴۷ء سے آج تک جرم بے گناہی کی پاداش میں مسلمانوں پر کتنے مظالم ڈھائے گئے ،اس کا کوئی حد وحساب ہی نہیں ۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ اب  سیاسی قائدین ، حکو متی وزراء اور دیگر صلاح کار تک حکومت ِوقت سے کھلم کھلا مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ مسلمانوں کاحق رائے دہی سلب کیا جانا چاہئے ، یا جو شخص گائے کو ذبح کرتا ہے، اس کو بھی ذبح کیا جانا چاہئے۔یاد رہے کہ یوپی کے اخلاق احمد جیسے ادھیڑ عمر والے شخص ، کمسن طالب علم حافظ جنید ، مزدور افروزل کی بہیمانہ ہلاکت ، جواہر لال یونیورسٹی کے ایک طالب علم محمد نجیب کا لاپتہ کیا جانا، راجستھان میں پہلو خان کی جان لینا ، جھارکھنڈ میں متشدد ہجوم کا علیم الدین نامی شخص کا ابدی نیند سلا دینا اور اب تبریز انصاری کی ہجومی ہلاکت وغیرہ وغیرہ مسلمانوں کے دلوں

چند خطرناک غلطیاں

ہمارے معاشرے میں مردوں کو ہی کماؤ پوت اور مضبوط جنس مانا جاتا ہے جس کے اوپر پورے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت بھی کرنا ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے مرد گھر کی بنیاد ہوتا ہے تو اس کا صحت مند اور تندرست ہونا ضروری ہے۔ مرد حضرات اپنی زندگی میں جانے انجانے میں کچھ ایسی غلطیاں سر انجام دے رہے ہیں جو مستقبل میں ان کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔اگر آپ مرد ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ وہ غلطیاں کیا ہے تو یہ پڑھئے۔  ڈاکٹر سے دور بھاگنا: عام مشاہدہ ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جانےسے انکاری ہونا تو مردوں کی جنیات میں شامل ہے، اگر کچھ عرصے میں چند کلو وزن بڑھ جائے تو کیا ہوا کوئی مسئلہ تھوڑی ہے تھوڑی سی ایکسر سائز کرنی ہے اور معاملہ سیٹ ۔اور اگر جسم میں درد ہے تو کیا ہوا؟ مرد کو درد تھوڑی ہوتا ہے ! ویسے یہ باتیں سننے میں تو بہت اچھی لگتی ہیں لیکن کچھ سالوں بعد یہ ہی درد

بنتِ حوا کی مظلومیت

 ماب  لنچنگ اور مسلم خواتین کے ساتھ ہمدردی دو متضاد چیزیں ہیں ۔ کسی شادی شدہ خاتون کو بیوہ ،بچوں کو یتیم ، بزرگوں کو بےسہارا کرنے والے درندوں کے سامنے جب قانون بھیگی بلی بن جائے تو سیاسی نیتاوں کاتین طلاق کے نام پہ مسلم خواتین سے جھوٹی ہمدردی جتانا بے معنی گفتار ہے، جس سے اس بات کا سو فیصد یقین ہوجاتا ہے کہ ایسے نوٹنکی باز نہ بالی ووڈ میں آج تک آئے ہیں نہ ہی ہالی ووڈ میں موجود ہیں۔جی ہاں، نیتاؤں نے ایک بار پھر طلاق ثلاثہ کو لے کر پارلیمنٹ میں بل پیش کیا ہے، ویسے ان کا یہ ڈرامہ آج کا کوئی نیا معاملہ نہیں ہے بلکہ پریوار بار بار تین طلاق کو مدعا بناکر مسلم خواتین سے ہمدردی کے بہانے شریعت میں جبراً مداخلت کرنے کی کوشاں رہی ہے، لیکن الحمدللہ خود مسلم خواتین اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج اور اختلاف رائے کی وجہ سے انہیں کئی دفعہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ مسلم خواتین سے ہمدردی کے

اک ماں کی کہانی

ثمینہ  جیسے ہی پہلی منزل پر پہنچی ساجدہ آنٹی کو دیکھا، جو اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر اندر جارہی تھیں۔ آواز پر پلٹیں اور اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ ثمینہ سے حال احوال پوچھنے لگیں۔ ثمینہ: السلام علیکم آنٹی! آپ کیسی ہیں؟ آنٹی ساجدہ: الحمدللہ، آپ کیسی ہیں؟ بیٹا گھر میں سب ٹھیک ہے؟ ثمینہ: جی آنٹی، آج آپ اسکول سے جلدی آگئیں؟ آنٹی: ہاں بچے تو آ نہیں رہے، امتحان ہوچکے ہیں اس لیے جلدی چھٹی ہوگئی۔ ثمینہ آنٹی کو خدا حافظ کہہ کر اوپر آگئی۔ …٭… آنٹی ساجدہ کو اس محلے میں آئے پانچ، چھ مہینے ہی ہوئے تھے۔ اسکول سے واپسی پر یا کسی شام کو آنٹی کے ساتھ ثمینہ کی مڈبھیڑ ہوجاتی۔ ثمینہ کو جلدی گھر پہنچ کر کھانا بنانا ہوتا، اس لیے وہ رسمی سلام دعا کے بعد خدا حافظ کہہ کر اوپر آجاتی۔ بس اسے اتنا ہی معلوم ہوسکا تھا کہ وہ اس اپارٹمنٹ میں تنہا رہ

مجالسِ نکاح تقاریبِ شا دی

 یہ  اللہ تعالیٰ کا ہی فضل و کرم ہے کہ سخت جان اُمت مسلمہ میں ایسے ائمہ کرام ، واعظین عظام اور اصلاح ِ معاشرہ چاہنے والے حضرات ہر دور میں موجود رہے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے اپنے میدان میں اُمت مسلمہ میں پھیلی ہوئی رسومات اور بدعاتِ قبیحہ، او دیگر خرافاتِ سُغلہ کے خلاف کسی نہ کسی انداز سے اپنی ناراضگی کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں گوکہ اس طوفانِ بدتمیزی کے خلاف ان کی ایک بھی نہیں چلتی ہے۔ سماج میں رائج بدعات و خرافات کے خلاف بارہا محلہ کمیٹیاں، سدھار انجمنیں ، رضاکار ادارے بھی بنائے گئے مگر بے سود ،کہیں کہیں غیر اسلامی تقریبات سے بائیکاٹ کرنے کے فیصلے بھی لئے گئے لیکن یہ فیصلے گفتند نشستند و برخواستند تک محدود ثابت ہوتے رہے ،ان پر عمل کرنے کے لئے ماحول سازگار بنا نہ وموافقانہ عوامی رائے کی موافقت منظم ہوئی۔  ہمارے سماج کئی افراد جو شادی غمی کے مواقع پر نمود و نمائش کے مرضِ لا

لکھنا ایک فن ہے

فضول  کاموں میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہےاپنے خیالات قلم بند کریں، تخلیقی سرگرمیوں کی طرف مائل کریں۔ایک لکھاری بھی دیگر فن کاروں اور ہنرمندوں کی طرح تخلیق کارہوتا ہے، جو معاشرے کی تصویرکو اپنے خیالات، نظریات اور فکر کے ذریعے قلم کی زبان عطا کر کے الفاظ کے روپ میں ڈھالتا ہے۔ وہ جو دیکھتا اور سوچتا ہے، اسے الفاظ کے ذریعے دوسروں کے ذہن پر ثبت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے ایسا کرنے پر اس کا احساس مجبورکرتا ہے۔ لکھنے کا تعلق جبر سے نہیں، بلکہ تخلیق کار کی تمنا، آرزو، خواہش، مرضی و منشا، شوق اور اس کے جذبات و احساسات سے ہوتا ہے۔ ایک لکھاری کسی بھی معاشرے کا چہرہ ہوتا ہے، جو مشاہدے کی طاقت سے معاشرے اور اس میں ہونے والے تمام افعال کو الفاظ کی تصویر پہناتا ہے۔ لکھاریوں کی اکثریت خود کو بے لوث معاشرے کے لیے وقف کیے رکھتی ہے، جس بنا پر یقینا ان کو بہت ہی معزز اور قوم کا فخر سمجھا جاتا ہے۔لک

ماں باپ کی اہم ذمہ داری

گھروں میںحیا مندی کے حوالے سے ہمیں کیا کیا کرنا چاہیے،اس کی ایک اجمالی تصویر یوں کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے : بچوں سے حقیقی تعلق: والدین بچوں سے اپنے تعلق کو یقینی بنائیں۔بچوں کو کہانیاں سنانا سب سے اہم سرگرمی ہے۔یہ کام مائیں سب سے بہتر سر انجام دے سکتی ہیں۔ کہانیاں سناناچاہے وہ حقیقی ہوں یا تصوری—اپنے بچے کے ساتھ گھلنے ملنے کا ایک تفریحی طریقہ ہے۔کہانی سنانا جادوئی عمل ہو سکتا ہے۔ کہانیوں سے آپ کے بچے کی تخلیقی اور تخیلاتی نشو و نماکے ساتھ ساتھ اردگردکی دنیاکو سمجھنے میں مددملتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ بچے کی افسردگی کم کرنے اور ان کی زندگی میں تبدیلی پیدا کرنے کے ساتھ مزید راحت کا احساس پیدا کرنے میں مدد دینے کا ایک بہترین طریقہ بھی ہے۔ اچھی کہانیاں سنانا ایک طاقت ور طریقہ ہے جس سے آپ کے بچے کو آپ کی گھریلو زبان بہتر طور پر سمجھنے میں اور بولنے میں مدد ملتی ہے – اور ا

ملازمت پیشہ خواتین سے

اپنے   بچوں کے ساتھ بھرپور وقت گزاریںکہ یہی آپ کی سرمایہ کاری ہے اور بڑھاپے کا سہارا بھی’’آج آپ پانچ دفعہ پیغام بھجوانے کے بعد ملنے آئی ہیںـ‘‘۔ ’’ڈاکٹر احمد! آپ کو پتہ تو ہے کہ میری نوکری کی نوعیت ہی ایسی ہے کبھی اس شہر تو کبھی اس شہر، کبھی میٹنگ تو کبھی سیمینار، وقت ہی نہیں ملتا کہ اشعر کے اسکول آئوں۔ ویسے مجھے آنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ میرا بیٹا ہے ہی اتنا ذہین تو اس کو بھلا آپ کے پاس سیشن کے لیے آنے کی کیا ضرورت؟‘‘ ’’مگر اس بار ایسا نہیں ہے، کیا پچھلے چند ماہ سے آپ کو اس کی شخصیت میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی؟‘‘ ’’میں نے تو ایسا کچھ بھی محسوس نہیں کیاـ‘‘۔ ’’یا پھر آپ کو محسوس کرنے کا وقت ہی کہاں ملا ہوگا!!! خیر یہ ویڈیو دیکھیں۔ یوں تو ہما

جب رضائی اُٹھ گئی

جاڑے   کا سفر۔ سائیں سائیں کرنے والی رات میں شائیں شائیں کرنے والی ٹرین میں شریک سفر بھی کون؟زبان پہ بار خدایا یہ کس کا نام۔۔ ۔ مگر نہیں ٹھہرئے تو سہی نام کا بھلا ہم کو کیا پتہ؟ نام تو نام صورت تک دیکھی نہیں تھی۔ البتہ اتنا معلوم تھا کہ حسین ہے اور بے حد حسین۔ اس کی دلفریبی کی قسم بغیر دیکھئے ہوئے اسی طرح کھاسکتے تھے۔ جس طرح بغیر خدا کو دیکھے ہوئے، سچی تو سچی جھوٹی قسمیں بھی جب جی چاہے کھاسکتے ہیں۔ ارغوانی رضائی جس پر کامدانی کے ستارے بکھرے ہوئے تھے، اس پیکر ناز کے حسن کو چھپا چھپا کر چمکارہی تھی۔ یہ رضائی لکھنو کی بنی ہوئی تھی اس لئے کہ رضائی میں کامدانی بنانے کا سلیقہ اور سلیقہ سے زیادہ فرصت بھلا کسی شہر کو کہاں نصیب؟ کامنی گوٹ میں سلمیٰ ستارے کا وہ کام دیکھنے والوں کی نظروں کو جھپکائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ قسمت ہو تو ایسی کہ مقابل والی سیٹ پر ہم کو بھی نہایت کشادہ جگہ مل گئی۔

سماجی خدمات رفاہی امور

 یہ  اسلام کا مابہ الامتیاز ہے کہ اس نے نہ صرف فرد کو بلکہ ریاست کو بھی عام لوگوں کی فلاح و بہبود کا پابند بنایا ہے اور حکمرانوں کو مسئول بنایا ہے کہ وہ رعایا کی ضروریات کو پیش نظر رکھیں۔اسلام ابتدا ہی سے بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لیے کوشا رہا ہے ۔اس کی کاوشیں انفرادی ، اجتماعی اور ریاستی و حکومتی سطح تک پھلی ہوئی ہیں۔اسلام میں رفاہِ عامہ اور معاشرتی فلاح و بہبود کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جتنا یہ مذہب خود قدیم ہے یعنی یہاں رفاہی عامہ کا تصور ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی تاریخ کا آغاز ظہور اسلام کے ساتھ ہی نظر آتا ہے اور مسلمان مادی منفعتوں سے بالا تر ہوکر ہر دور میں سماجی ومعاشرتی بہبود انسانی کی خاطر مسلسل مصروف عمل رہے ہیں۔ مسلمانوں کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا تھا ۔ اس تصور نے ان کی عملی زندگی ہر معاملے مین متحر ک بنا دی تھی ۔ رفاہی کاموں