تازہ ترین

ماں کی غیر مشروط محبت

ماں  کی محبت و ممتا عالم میں ایک مثال ہے،ماں کی محبت وہ گہرا سمندر ہے،جس کی گہرائی کو آج تک کوئی ناپ نہ سکانہ ناپ سکے گا۔ماں کی محبت وہ ہمالیہ پہاڑ ہے کہ جس کی بلند یوں کو کوئی آج تک چھو نہ سکانہ چھو سکے گا۔ماں کی محبت وہ سدا بہار پھول ہے جس پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ماںتو اولاد پر قربان ہوجایا کرتی ہیں،اور یہ صرف انسانوں میں نہیں بلکہ پرندوں میںبھی دیکھ لیجئے،چڑیا ایک ننھی سی جان ہے،گرمی کے موسم میں اڑکر جاتی ہے،اور پسینہ پسینہ ہوجاتی ہے مگر چونچ میں پانی لاکر اپنے بچوں کو پلاتی ہے،اس کے اپنے چونچ میں پانی ہے اور وہ پیاسی بھی ہے مگر خود نہیں پیتی کہ اس کے بچے پیاسے ہیں،چھوٹی سی جان میں دیکھئے بچوں کی کتنی محبت ہے،ایک صحابی کا واقعہ ہے کہ وہ نبی کریم ـؐ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے جا رہے تھے،کہ ایک درخت پرانہوں نے ایک گھونسلہ دیکھاجس میں چڑیا کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے،چڑیا کہیں گئی ہ

خدا کی بستی

’’خدا  کی بستی‘‘ کے خالق معروف ناول و افسانہ نگار شوکت صدیقی ۲۰؍ مارچ ۱۹۲۳ء کولکھنؤمیںپیدا ہوئے ۔ امیر الدولہ اسلامیہ ہائی سکول لکھنؤ سے میٹرک پاس کیا۔ ایف اے اور بی اے بطور پرائیویٹ اُمیدوار پاس کرنے کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے سیاسیات کے مضمون میں ایم اے کیا۔ ۱۹۵۰ء میں ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان گئے اور کچھ عرصہ لاہور میں قیام کرنے کے بعد کراچی منتقل ہو گئے۔ اسی سال کراچی میں ڈاکٹر محمد سعید خان کی صاحبزادی ثریا بیگم سے شادی کر لی۔ انہیں بچپن سے ہی علم و ادب سے گہری وابستگی تھی۔ شوکت صدیقی نے عملی زندگی کا آغاز ۱۹۵۴ء میں روزنامہ Times of Karachi سے کیا۔ اس کے بعد وہ روزنامہ ’’مارننگ نیوز‘‘کراچی سے بھی منسلک رہے۔ ۱۹۶۳ء میں انگریزی صحافت سے کنارہ کشی اختیار کی اور اردو صحافت سے وابستہ ہو گئے اور’ ’روزنامہ انجام&lsquo