تازہ ترین

معاشرے میں عورت کا کردار

 عورت نرمی، شفقت ،وفا ، ممتا کی جذبات سے گندھی ربِ کائنات کی خوبصورت تخلیق ہے اور اسلام وہ واحد مذہب ہے، جس نے عورت کو خاص مقام ومرتبہ عطاکیا ہے۔ کبھی اس کی قدموں تلے جنت رکھ کر اس کی عظمت کو چارچاند لگائی تو کبھی نازک آبگینہ کا لقب دے کر اس کی لطافت کوسراہا گیا اوراس کے ساتھ نرمی کی برتاؤ کی تلقین کی گئی۔ لیکن عورت کو اس کی اصل مقام ومرتبہ پر فائز رکھنے کے لئے مردکو قوّام کی صورت میںاس پر ایک درجہ زیادہ عطا کیا گیا جو اس کی محافظت اورمعیثت کاذمہ دار ہے۔ مر دکو اپنی اس ذمہ داری کا احساس دِلانابھی ایک عورت ہی کی ذمہ داری ہے کیونکہ مرد عورت ہی کی زیر تربیت ہوتا ہے۔ یوں ایک عورت معاشرے کوبگاڑ نے یاسنوارنے کی طاقت اپنے اندر رکھتی ہے کیونکہ بچے کی پہلی درس گاہ اس کے ماں کی گود ہے، بچہ جو کچھ وہاں سے سیکھتا ہے وہی اسکی شخصیت کی بنیاد بنتا ہے اور معاشرہ اس کاعکس پیش کرتا ہے لہٰذا معاشر

جہیز کی روایت ایک بڑی لعنت

قومیں سب ہی زندہ ہوتی ہے لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ زندہ رہنے والی قومیں کون سی ہیں؟قوموں کو بقا ء اور زندگی کے لیے اپنی اجتماعی اصلاح کرنی پڑتی ہے۔ حکومت ہو یا عوام ،فرد ہو یا قوم، بھیک یا محتاجی زندہ قوموں کو زیب نہیں دیتی۔ہمارے یہاں تو مسلمان بہت ہیں لیکن اسلام بہت کم نظر آتا ہے۔ اکثر لوگ شارٹ کٹ مار کر راتوں رات امیر بننے کے چکر میں کبھی ڈبل شاہ کے ہاتھوں لٹتے ہیں تو کچھ کسی بھی حد کو پار کرنے پر تل جاتے ہیں اور اپنی عزت تک بھی داو پرلگادیتے ہیں ۔ہماری معاشرتی خرابیوں میں بیٹی والو ں سے جہیز کامطالبہ کرنے جیسی روایت بھی ایک بڑی لعنت ہے، جس میں مال و زر کے حریص بڑی ستم ظریفی سے جہیز کی بھیک مانگتے ہیں اور رشتہ منہ مانگے جہیز کی شرط پر طے کرتے ہیں۔ بعض اوقات سب کچھ طے ہوجانے کے بعد جب شادی کے کارڈ چھپ جاتے ہیں تو اپنے مطالبات سامنے رکھ دیے جاتے ہیں ۔ایسے لوگوں کے معیادر دوہرے ہوتے ہیں

لباس کو اپنی شخصیت کا آئینہ بناو

خوبصورت لگنا اور نظر آنا ہر عورت کی اولین خواہش ہوتی ہے ،اگر اس میں انفرادیت کا پہلو نمایاں ہو تو آپ دوسروں سے الگ یا اسٹائلش کہلائیں گی ،یوں تو حسن اور پیرہن دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے کیونکہ لباس کو شخصیت کا آئینہ بھی کہا جاتا ہے ،لہٰذا لباس پر بھر پور توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ایسا لباس جو آپ کی شخصیت سے مطابقت نہ رکھتا ہو ،غیر تہذیب یافتہ ہو یا آپ پر جچتا نہ ہو ،اسے استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔اکثر خواتین کو اس بات کی سمجھ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے لئے کون سا لباس منتخب کریں ،جبکہ زیادہ تر خواتین اپنے لئے جدید اور فیشن ایبل لباس کا انتخاب محض اس لئے کررہی ہیں تاکہ وہ فیشن کی دوڑ میں شامل ہوسکیں او روہ اس بات کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں کہ آیا وہ لباس ان پر جچ بھی رہا ہے یا نہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کشیدہ کاری ایک ایسا فن ہے جو لباس کی خوبصورتی کو چار چاند لگادیتا ہے لیکن اگر ی

کیا عورت میں خامیاں نہیں ہوسکتیں؟

کیا عورت انسان نہیں؟ آج یہ سوال اس لیے اْٹھا رہاہوں کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ دور میں عورت کو انسان سمجھا جارہاہے۔مشرق ہو یا مغرب ہر طرف مردوں کی اجارداری قائم ہے۔عوت تو بس ایک جسم بن کررہ گئی ہے۔ عورت کی اس حالت کی ذمہ داری کہیں نہ کہیں عورت پر بھی عائدہوتی ہے ۔مرد کایہ سوچنا کہ وہ عورت کو سب کچھ دے رہا ہے، انتہائی غلط ہے۔ وہ مرد جو پیدا ہوتے ہی عورت کے سامنے رونے لگتا ہے ۔وہ مردعورت کو کیا حقوق دے گا،جسے اس دنیا میں آنے کے لیے ایک عورت کے ہی دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ مرد جسے اپنی نسل آگے چلانے کے لیے کبھی کبھی ایک سے بھی زیادہ عورتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مرد کیوں یہ بات بھول جاتا ہے کہ جس نے اسے نو ماہ تک اپنے پیٹ میں پالااور پھر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر اسے جنم دیا۔ وہ عورت ہی ہے جو اپنی تمام تر خواہشات کو زندہ دفن کرکے رات دن مرد کی بے لوث خدمت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عو