ماں تجھے سلام!

گرمیوں کی ایک دوپہر بچہ اسکول سے گھر لوٹا۔ ماں بچے کو دیکھ کر مسکرائی اور اس کے گال پر بوسہ دیتے ہوئے کہا بیٹا! جلدی سے کپڑے بدل لو، میں کھانا لاتی ہوں، میرے بیٹے کو بھوک لگی ہوگی۔ بیٹا جلدی سے کپڑے بدل کر آیا تو سامنے ہر روز کی طرح سبزی یا دال کی جگہ آج اس کی پسندیدہ ڈش تھی۔ بیٹے نے پوچھا امی! آج یہ سب کچھ کیسے؟ ماں نے کہا، بیٹا! یہ سب کچھ میں نے تمہارے لیے بنایا ہے۔ بچے نے کہا: آپ بھی میرے ساتھ کھانا کھالیں ۔ بچے کی پسند کا کھانا چونکہ کم تھا اس لیے ماں نے کہا :’’بیٹا میں نے تو کھانا کھا لیا ہے، اب تو پانی پینے کی جگہ بھی نہیں رہی ، تم اکیلے ہی کھانا کھاؤ ، تمہیں بھوک لگی ہوگی‘‘۔ یہ کہہ کر ماں پھر سے کچن میں چلی گئی۔ بیٹا روز منہ بنا کر کھانا کھاتا تھا لیکن آج پسند کا کھانا دیکھ کر جلدی جلدی سب چٹ کرگیا۔ بیٹا برتن اٹھا کر جیسے ہی کچن میں داخل ہوا تو

آزادیٔ نسواں ایک فریب

 زمانہ جاہلیت میں عورت ذات پوری دنیا میں بالعموم اور عرب معاشرہ میں بالخصوص کس آزمائش سے گزر رہی تھی؟ ہند میں عورتوں کی کیا حالت تھی؟ عیسائیت میں عورت کے حقوق کی کیا کتر بیونت  ہوئی تھی ؟ یہودیت میں عورت کا کیا بُراحال تھا؟ اس کی تفصیل تاریخ کتابوں میں موجود ہے۔ اس سب کا منصفانہ جائزہ لیجئے تو نظر یہ آئے گا کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے دنیا میں عورت کو بے وقعتی و ناقدری ، زبوں حالی وکسمپرسی ، ذلت ورسوائی کی پستیوں سے اٹھاکر عزت و تکریم کا وہ مقام دیا جس کی مثال نہ کسی اور مذہب میں اور نہ ہی کسی قانون اور نہ کسی مفکورے میں مل سکتی ہے۔اس موضوع پر دفتر در دفتر  کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ اس سلسلے کی چند موٹی موٹی مثالیں پیش خد مت جو یہ بتاتی ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو جو آزادی اس سے صنف ِ نازک نے کیسے کیسے فائدہ اٹھایا۔ اسلام کے زیر سایہ اورحیا و پردے کی  زیب وزینت وا

معمولی حادثے کے غیر معمولی نتائج

 ڈاکٹر  خالد الشافعی مصری ہیں اور مصر کے نیشل اکنامکس سٹڈی سنٹر میں منیجر ہیں ۔ ان کی یہ تحریر عربی زبان میں ہے جس کا ارود ترجمہ پیش خدمت ہے تاکہ ا لشافعی کے ایک حادثاتی تجربے سے ہم بھی کچھ سبق لیں۔لکھتے ہیں : اسی گزرے اٹھارہ مارچ کو عصر کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکل تھا کہ میرا توازن بگڑا، گرا اور پاؤں ٹوٹ گیا۔ ہسپتال گیا، ایکسرے کرایا، ڈاکٹر نے تشخیص کیا کہ پاؤں میں ٹخنے اور انگلیوں کو آپس میں جوڑنے والی ہڈی (پانچویں میٹیٹسل بیس) ٹوٹ گئی ہے۔پاؤں پر پلستر ٹانگ اور گھٹنے کو ملا کر چڑھا دیا گیا۔ ڈاکٹر نے نوید سنائی کہ پلستر ڈیڑھ سے دو مہینے تک چڑھا رہے گا۔ میں بڑا حیران۔ یہ ڈاکٹر کہتا کیا ہے؟ بس ایک چھوٹا سا کنکر میرے پیر کے نیچے آیا تھا۔ نہ کسی گاڑی نے مجھے ٹکر ماری ہے اور نہ ہی میں کسی اونچائی سے گرا ہوں۔ اس دن شام کو گھر واپس پہنچنے پر مجھ پر بہت ساری حقیقتیں کھلنا شر

شادی خانہ آبادی میں تاخیر

شادی بیاہ دو دلوں اور دو نفوس کے بیچ وہ پاکیزہ اور مقدس بندھن ہے جس سے خاندان کی بنیاد پڑتی ہے اور کہیں رشتے ایک ساتھ جنم لیتے ہیں۔ شادی اگر مناسب وقت پر کی جائے تو بہتر ہے اور بلاوجہ تاخیر سے کی جائے تو کہیں برائیوں کو جنم ملتا ہے۔ شادی کی وساطت سے سے وجود میں آنے والا خاندان اپنے فرائض بہتر انداز میں سر انجام دے سکتا ہے۔ اسلام نے شادی کے سلسلے میں بہت زیادہ تاکید کی اور اسے انسانی سماجی ضرورت نیز مرد و عورت کی تکمیل َذات کا ذریعہ گردانتے ہوئے اپنے وقت پر انجام دینے پر زور دیا ہے بلکہ اس سے آسان سے آسان تر بنانے کی پوری سعی بھی کی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’ تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت (مومن) غلام کا بھی، اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے بے نیاز بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔&lsq

موبائیل اور ہم لوگ

جب  موبائل نہیں تھا تو زندگی کتنی سکون تھی ‘ ہر چھوٹا بڑا سکون کی نیند سوتا تھا ‘ موبائل کی فراوانی سے انسانی زندگی میںبھونچال آچکا ہے‘ بیوی شوہر سے بیزار اور شوہر بیوی سے کنارہ کش ‘ اولا د ماں باپ سے باغی اور ماں باپ بچوں سے لاپرواہ‘ ہر شخص حالات‘ موسم اور وقت کو بھول کر موبائل کوہاتھوں میں اٹھائے اور سینے سے لگائے یوں پھرتا ہے جیسے زندگی کا سب سے اہم اثاثہ یہی ہو ۔چند دن پہلے کی بات ہے کہ میں نے ایک خاتون کو دیکھا جو موبائل کانوں سے لگائے کسی سے جھگڑتی جارہی تھی ‘ چند لمحوں کے بعد وہی خاتون موبائل پر بات کرتے ہوئے ایک قیمتی گاڑی کو ڈرائیوکرتی دکھائی ‘ کچھ ہی دور جا کر اس نے جب مخالف سمت ٹرن لیا تو دوسری جانب سے بھی ایک ایسا ہی شخص سامنے آگیا ،بس پھر کیا تھا ایک دھماکہ ہوا اور دونوں خون میں لت پت تڑپتے دکھائی دئے ۔ایک مرتبہ میں نہ

ماہِ صیام

 رمضان  المبارک کا عظیم الشان مہینہ گزر رہا ہے، جس میں رب کریم کی رحمت و مغفرت کا دریا بہتا ہے۔یہ مقدس مہینہ اپنے اندر لامحدود رحمتیں سموئے ہوئے ہے، اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی بے پناہ برکتیں نازل ہو تی ہیں، مسلمانوں کے لئے یہ ماہِ مقدس نیکیوں کی موسلا دھار بارش برساتا ہے اور ہر مسلمان زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔رمضان المبارک وہ مقدس مہینہ ہے،جس میں قرآن کریم کا نزول ہواہے اور قرآن میں اس کانام آیا ہے ۔ رمضان المبارک کی فضیلت و عظمت کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو پابہ زنجیر کر دیا جاتا ہے‘‘۔( بخاری شریف)۔حدیث شریف میں ہے کہ ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ۔ اس ا

پچھڑے طبقہ جات

 کسی بھی ملک یاریاست کی خوش حالی میں عوام ہی حکومت کے اصل موسس ہوتے ہیں اورحکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے کہ عوام کے بنیادی حقوق و فرائض ادا کرنے کو اولین ترجیح دے۔ ہمارے ملکی اور ریاستی آئین دونوں ہی اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ حکومت عوام کی بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی فلاح و بہبود اور ان کی خوشحالی کی اصل ذمہ دار ہے لیکن گزشتہ سات دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی ریاست جموں کشمیر کے تقریباً ہر ضلع کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں عوام زندگی کی بنیادی ضروریات اور سہولیات سے محروم ہیں اور عوام کی بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہماری ریاست کے تقریباً ہر ضلع کے دور دراز اور پہاڑی علاقے جہاں پہ تقریباً 60 سے ستر فیصد آبادی گجر بکروال اور پہاڑی طبقوں سے تعلق رکھتی ہے۔ آج اکیسویں صدی میں بھی تعلیم جس کو ہر مسئلے اور مشکل کے حل کی سرٹیفیکٹ کا درجہ حاصل ہے ، یہ آبا

اور طلاق کو طلاق ملی!

صاحب   یہ نسخہ شادی شدہ ہی لوگوں کے لیے کیا یہ تو پولیو ڈراپ جیسا ہے جسے ہر مرد وزن بچے کو پینا پلانا چاہیے تاکہ رشتے لُولے لنگڑے نہ ہونے پائیں۔شیخ راغب نے اپنی بیوی نجیہ کو طلاق دے دی، طلاق کے بعد انہوں نے بیوی سے کہا : تم اپنے گھر چلی جاؤ۔ بیوی بولی : میں ہرگز گھر نہیں جاؤں گی، اب اس گھر سے میری لاش ہی نکلے گی۔ شیخ راغب بولے: میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں، اب مجھے تمہاری حاجت نہیں، چلی جاؤ میرے گھر سے بیوی بولی : میں نہیں جاؤں گی، آپ مجھے گھر سے نہیں نکال سکتے جب تک میں عدت پوری نہ کر لوں، تب تک میرا خرچ بھی آپ کے ذمے ہے۔ شیخ راغب بولے : یہ تو ڈھٹائی ہے، جسارت ہے، بے شرمی ہے۔ بیوی بولی : آپ اللہ سے زیادہ ادب سکھانے والے تو نہیں ہے، کیا آپ نے اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا: اے نبی! ( اپنی امت سے کہیں کہ ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی ع

آغوشِ مادر…درسگاہِ فطرت

 بچے  کی زندگی کے ابتدائی دو سال اس کی صحت اور تندرستی کے بنیادی ایام ہیں۔ ان ایام میں اگر اسے مناسب طریقہ سے دودھ پلایا جائے‘ اسے ورزش کرائی جائے‘ اسے غسل‘ نیند‘ سیر ‘ دھوپ وغیرہ تمام حوائج ضروریہ سے مناسب حصہ دیا جائے تو ایسا بچہ زندگی کی آئندہ کٹھن منزلوں کو بخیر و خوبی طے کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔ پیدائش کے چھ گھنٹہ بعد سے بچہ کو ماں کا دودھ پلایا جائے۔ تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ دس منٹ کی مدت دودھ پلانے کیلئے کافی ہے اور ایک بار میں صرف ایک ہی چھاتی سے دودھ پلایا جائے۔ دوسرے موقع پر دوسری چھاتی سے‘ اسی طرح سے تبدیل کر کے دودھ پلانا مفید رہتا ہے۔ جب بچہ دودھ پی رہا ہو تو اسے جگائے رکھنا ضروری ہے۔ جن عورتوں کو دودھ زیادہ آتا ہے لیکن بچہ دودھ نہیں پیتا تو دودھ بستہ ہو کر چھاتیوں میں گٹھلیاں بن جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ چھاتیوں میں بچے کیلئے ک

یہ کیساآیاز مانہ؟

 پچھلے   دنوں ایک پروقار رسم منگنی کی تقریب میں ایک نوجوان دوست سے ملاقات ہوئی۔ دوران گفتگو نوجوان نے کہا کہ ہمیں بغیر جہیز اور سادگی سے نکاح کرنا ہےاور ہم اس بات پر اپنے نوجوان دوستوں کو بھی آمادہ کریں گے کہ وہ بھی سادگی سے اور بغیر کسی خرافات وبدعات کے نکاح کریں۔طبیعت بڑی خوش ہوتی ہے جب ملت کے حساس نوجوان طبقہ کی جانب سے ایسے نیک عزائم کا اظہار ہوتا ہے اور اس طرح کے عزائم واقعی میں قابلِ تعریف ہیں ۔ یقیناً بہت اچھی بات ہے کہ اس طرح کے خرافات کا خاتمہ ہو نا چاہیے ۔ آج کے مادہ پرست اور فیشن زدہ ماحول میں پرورش پارہے ملت کے نوجوان طبقہ کی طرف سے یہ خوش خبریاں روز کہیں کہیں سے آرہی ہے جو ہمیں زندگی جینے کی امید دلاتے ہیں ۔  جہیز واقعی ایک لعنت ہے اور سماجی ناسور بھی۔ اس کی وجہ سے قوم کی لکھوکھا بیٹیاں بالوں میں چاندی لئے رشتوں کی منتظر بیٹھی ہے۔ معاشرے میں کسی

میرے ابو!

 نصیب  والی ہے وہ بیٹی جس کے سر پر والدین کا سایہ تادیر قائم رہے اور خوش قسمت ہے وہ نواسہ ، نواسی جن کا بچپن نانا، نانی کی گود میں گزرے۔ وہ بے لوث محبت جس کا کوئی بدل نہیں، وہ انمول شئے جس کا کوئی بدل نہیں۔ میرے مرحوم ابو کی زندگی اور اُن سے جڑی زریں یادیں ایک کارواں کی صورت میں ہمیشہ میرے ہم سفر ہیں ۔ یہ پاکیزہ یادیں میرے ساتھ میرے تمام اہل خانہ کے لئے اساس ِحیات ہیں ۔بہر حال اللہ کی مرضی کے سامنے ہماری خواہشیں ہیچ ہیں۔ ہمارے والد ماجد۔۔۔ منظور الفتح وانی صاحب آف پٹن کشمیر۔۔۔ کو اس دارفانی سے وداع لئے ہوئے چھ سال گزر گئے مگر یہ وقفہ بالکل ہی مختصر محسوس ہوتا ہے، یوں لگتا ہے کہ جیسے گزشتہ کل کی ہی تو بات ہو کیونکہ ان کی سب یادیں ہمارے سامنے ترو تازہ ہیں اوران کی پر چھائیاں ہمارے آگے پیچھے، دائیں بائیں محسوس ہوتی ہیں ۔  اُن کے دنیا چھوڑنے کا رنج و غم ، اس درد سے ملا

عنتر اور عبلہ

 لازوال محبت کی داستان محبت لیلیٰ مجنوں کا قصہ رومانوی ادب میں زبان زد عام ہے۔ نہ صرف مشرق وسطیٰ کا بچہ بچہ محبت کی اس امر کہانی سے واقف ہے بلکہ مغرب میں بھی اس پر فلمیں بن چکی ہیں مگر شاید کئی لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ عرب کی سرزمین پر صرف لیلیٰ مجنوں کی محبت کی کہانی نے ہی نہیں بلکہ لازوال محبت کی کئی داستانوں نے جنم لیا جن میں سے ایک عنتر اور عبلہ کی محبت کی ادھوری کہانی بھی ہے۔ عنتر کا اصل نام عنترہ بن شداد العبسی تھاجو بہادر اور جنگجو قبیلے ’’عبس‘‘ سے تعلق رکھتا تھا۔ 525ء میں پیدا ہوا اور  608ء میں انتقال کرگیا۔ عنتر عربوں کے مشہور اور قادر الکلام شاعر تھا۔اسلام سے پہلے شعراء نے جو لازوال قصیدے لکھے انہیں کعبۃ اللہ کی دیواروں پر لٹکایا جاتا ہے۔ ان قصائد کو ’’معلقات‘‘ کہا جاتا تھا۔ عنتر ان عرب شعراء میں سے ایک ہیں جس کا

اس سراپا کی داد دیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذہن منتشر، سانسیں الجھی ہوئیںاور چہرے سے نحوست  اور فکر مندیوںکے آثار چھلک رہے ہوں تو آپ کبھی بھی پر کشش نظر نہیں آسکتیں۔ اس کے برعکس آپ پُر سکون ،پُر اعتماد، متوازن، رحم دل، پر جوش اور پر امید ہونے کے ساتھ ساتھ کام میں آگے آگے رہتی ہیں تو یہ شخصیت کے نمایاں پہلو آپ کو سب کو نظروں میں ایک بلند مقام عطا کریں گے۔ فیشن سالہا سال سے بدلتے چلے آئے ہیں اور بدلتے رہیں گے لیکن شخصیت کے اندر کی خوبیاں چہرے کے جلد کو جلا بخشتی ہیں یہ وہی ہیں جو صدیوں سے نہیں بدلیں۔بدقسمتی سے وہ بہنیں جو ہر لمحہ فکر مند اور افسردہ رہتی ہیں، ان کا حسن دن بدن زائل ہوتا جاتا ہے۔ ہر کام کے روشن اور تاریک پہلو ہر مرحلے پر موجود ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسے کون سے رُخ سے دیکھا جا رہا ہے۔ آپ کو اپنی ذات پر اعتماد ہے ،حوصلہ بلند اور عزم صمیم موجود ہے، اگر آپ راسخ العقیدہ ہیں تو آپ ضرور بہ ضرور روشن پہلو د

ماں کی غیر مشروط محبت

ماں  کی محبت و ممتا عالم میں ایک مثال ہے،ماں کی محبت وہ گہرا سمندر ہے،جس کی گہرائی کو آج تک کوئی ناپ نہ سکانہ ناپ سکے گا۔ماں کی محبت وہ ہمالیہ پہاڑ ہے کہ جس کی بلند یوں کو کوئی آج تک چھو نہ سکانہ چھو سکے گا۔ماں کی محبت وہ سدا بہار پھول ہے جس پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ماںتو اولاد پر قربان ہوجایا کرتی ہیں،اور یہ صرف انسانوں میں نہیں بلکہ پرندوں میںبھی دیکھ لیجئے،چڑیا ایک ننھی سی جان ہے،گرمی کے موسم میں اڑکر جاتی ہے،اور پسینہ پسینہ ہوجاتی ہے مگر چونچ میں پانی لاکر اپنے بچوں کو پلاتی ہے،اس کے اپنے چونچ میں پانی ہے اور وہ پیاسی بھی ہے مگر خود نہیں پیتی کہ اس کے بچے پیاسے ہیں،چھوٹی سی جان میں دیکھئے بچوں کی کتنی محبت ہے،ایک صحابی کا واقعہ ہے کہ وہ نبی کریم ـؐ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے جا رہے تھے،کہ ایک درخت پرانہوں نے ایک گھونسلہ دیکھاجس میں چڑیا کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے،چڑیا کہیں گئی ہ

خدا کی بستی

’’خدا  کی بستی‘‘ کے خالق معروف ناول و افسانہ نگار شوکت صدیقی ۲۰؍ مارچ ۱۹۲۳ء کولکھنؤمیںپیدا ہوئے ۔ امیر الدولہ اسلامیہ ہائی سکول لکھنؤ سے میٹرک پاس کیا۔ ایف اے اور بی اے بطور پرائیویٹ اُمیدوار پاس کرنے کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے سیاسیات کے مضمون میں ایم اے کیا۔ ۱۹۵۰ء میں ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان گئے اور کچھ عرصہ لاہور میں قیام کرنے کے بعد کراچی منتقل ہو گئے۔ اسی سال کراچی میں ڈاکٹر محمد سعید خان کی صاحبزادی ثریا بیگم سے شادی کر لی۔ انہیں بچپن سے ہی علم و ادب سے گہری وابستگی تھی۔ شوکت صدیقی نے عملی زندگی کا آغاز ۱۹۵۴ء میں روزنامہ Times of Karachi سے کیا۔ اس کے بعد وہ روزنامہ ’’مارننگ نیوز‘‘کراچی سے بھی منسلک رہے۔ ۱۹۶۳ء میں انگریزی صحافت سے کنارہ کشی اختیار کی اور اردو صحافت سے وابستہ ہو گئے اور’ ’روزنامہ انجام&lsquo

مسلم اقلیت سیاسی حاشیہ پر؟

 ہماری   پیاری ریاست کرناٹک سمیت پورے ہندوستان میں لوک سبھا چناؤ کو لے کر جس طرح کی گہما گہمی پائی جاتی ہے اُس کا گہرائی سے جائزہ لیجئے تو پتہ چلے گا کہ ملک میں سیاسی واقتصادی حالات خیال و گماں سے کئی گنا زیادہ بدتر ہوچکے ہیں ۔اس وجہ سے ہر باشعور انسان کوغور و فکر کرنا ہوگا کہ اگر یہی قصہ چلتا رہے توا س وشال دیش کا بھوش کیا ہوگا ۔دراصل سیاسی بازی گروں نےہندوستان کی آب و ہوا میں اپنا حقیر مفادات پانے کے لئے اس قدر زہرگھول رکھا ہے کہ آج ملک کے حکمران یا پر دھان سیوک کا چناؤ ملکی فلاح وبہبود پہ نہیں بلکہ ذات ،دھرم ،گوتھر کو فوقیت دے کر کیا جارہا ہے۔اس انوکھے طرز سیاست کے چلتے مسلمانوں اور دلتوں کے حق میں نہ کوئی سیکولر کہلانے والی سیاسی جماعت کھڑی ہے اور نہ ہی سیکولرازم کا دَم بھرنے اوراتحاد و یکجہتی کی دہائی دینے والوں پر کوئی اعتبار کے قابل ہے ۔ آج دیش بھگتی کے نام پ

وہ دوخبریں !

زوالفقار  علی بھٹو کی پھانسی کی خبر پڑھ لیں گی آپ ؟ شعبۂ خبر سے وابستگی کے دوران دو خبریں ایسی تھیںجن میں سے ایک پڑھ کر افسوس ہوا اور ایک نہ پڑھ کر۔ ایک جمہوریت کی موت تھی اور ایک آمریت کی۔ دونوں خبریں اپنی اپنی جگہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئیں۔ ایک ملک کے منتخب وزیر اعظم کے قتل کے باب میں جس کے خون کے چھینٹے انصاف کے دامن پر بھی نظرآتے ہیں، دوسری ایک آمر کے انجام کے باب میں ۔ تو چلئے پہلے وہ خبر جسے سن کر میرے بہت سے لمحے تو بے یقینی کی کیفیت میں گزرے۔دل جیسے کہہ رہا ہویا الہٰی مرگ یوسف کی خبر سچی نہ ہو مگر حقیت کے ادراک پر آنکھ سے بے اختیار آنسو چھلک پڑے۔ یہ خبر پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان کے دن کے گیارہ بجے کے بلیٹن میں نشر ہوئی جس کے مطابق بھٹو صاحب کو ہمارے گھر سے تین میل کے فاصلے پر راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں رات کے دو بجے پھانسی دی جا چکی تھی۔ تاہم فوج ک

ورزش کر یئے تندرستی پایئے

صحت کا دارمدار ورزش پر ہے۔ ایک خوش گوار اور بھر پور زندگی بسر کرنے کے لیے انسان کا صحت مند ہونا انتہائی ضروری ہے ،لیکن صحت اورتندرستی ورزش کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ کئی لوگ کہتے ہیںکہ تندرست اور توانا رہنے کے لیے ہفتے میں دو مرتبہ ورزش کرنا کافی ہوتا ہے جب کہ ماہر ین صحت کا کہنا ہے کہ روزانہ کم از کم ۳۰؍ منٹ ورزش سے انسان میں قوتِ مدافعت بڑھ جاتی ہے اور وہ کافی عرصہ تک صحت وسلاامتی سے جیتا ہے۔ مختصراََ یہ کہ ہمیں اگر تندرست رہنا ہے تو کچھ نہ کچھ جسم کو حرکت دیتے رہنا ہے۔ ہمارے اسلاف کی عمریں کافی لمبی ہوتی تھیں پھربھی وہ آخری دم تک کسی جسمانی کمزوری کا رونا نہیں روتے تھے، اس کی وجہ صاف ہے کہ وہ اپنے جسم کو ہمہ و قت مشقتوں میں ڈالتے، کھیتوں میں کام کرتے، جنگوں میں حصہ لیتے وغیرہ وغیرہ۔ یوںاپنے آپ کو کبھی بوڑھا نہیں سمجھتے ۔ پہلے زمانے میں اتنی سواریاں بھی میسر نہیں تھیں اور اگر کسی ک

سوتیلی ماں

انسانی  معاشرہ رشتوں اور قرابت داریوںسے تشکیل پاتا ہے ۔ہم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو بہت سے پیارے پیارے رشتے گھرا ہوا پاتا ہے۔ ہم ان ہی کے درمیان جیتے مر تے ہیں ، ان سے خوشی محسوس کرتے ہیں، یہی ہمارے غموں اور دکھ درد کو بانٹتے ہیں اور انہی سے عبارت ہوتی ہے زندگی کا انتھک سفر۔ ان ڈھیر سارے رشتوں میں سب سے اہم رشتہ والدین اور اولاد کا ماناجاتا ہے۔والدین میں بھی ماںکے رشتے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ، اس رشتے کی گاڑی دل کے پلیٹ فارم سے شروع ہوکر جگر کے اسٹیشن تک پہنچتی ہے، بیچ میں اس کا گزر نرم ونازک جذبات اور قربانیوں کے ا ہم  پڑاؤ بھی ملتے ہیں اور ہم سب اس سفر کی آخری منزل سے بخوبی واقف ہیں ۔ کسی بھی خاندا ن میں ماں کا وجود ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔ماں گھرانے کا ایک اہم ستون ہوتی ہے ۔ کبھی قسمت ایس ابھی کھیل کھیلتی ہے ماں اپنے بچوں کو تنہا چھوڑ کر دنیا سے چلی جاتی ہے۔زندگی

فیڈر یا ماں کا دودھ

 بعض مائیں فکرمند ہوجاتی ہیں کہ پیدائش کے بعد دو تین دن کے اندر ان کے بچے کا وزن کم ہوگیا ہے لیکن یہ کوئی بیماری نہیں ہوتی۔ یہ فطری عمل ہوتا ہے۔ پیدائش کے بعد دو تین دن کے دوران بچے کا وزن 5 سے 20 فیصد کم ہوجاتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ بچے کے جسم میں جمع شدہ مائعات پیشاب کے ذریعے خارج ہوتے ہیں۔ ننھا بچہ بڑوں کی نسبت 7 گنا زائد بار پیشاب کرتا ہے۔ وزن میں کمی کی ایک اور وجہ یہ ہوتی ہے کہ بچہ عموماً پہلے دن یا تو بالکل دودھ نہیں پیتا یا کم پیتا ہے۔ اس دوران بچہ اپنے جسم میں جمع چربی اور پروٹین پر گزارہ کرتا ہے اور عام طور پر تیسرے یا چوتھے دن اپنی بھوک کی نشانیاں ظاہر کرتا ہے اس وقت تک ماں کے جسم میں بھی دودھ صحیح مقدار میں بن چکا ہوتا ہے۔ ماں کے دودھ میں خاص قسم کے اجزا یعنی اینٹی باڈیز ہوتے ہیں جو بچے کی انتڑیوں اور دوران سانس کے اعضاءکے گرد ایسی حفاظتی دیوار تعمیر کرتے ہیں