تازہ ترین

مسکان بیٹی

تاریخ ایک ننھی سی پری جنوبی کشمیر کے گاؤں ترکانجن میں دوسری عید کو چلی ہزاروں خوشیوں کو منانے اپنی سہیلوں کے سنگ ،ننھے اَرمان ننھی خوشیاں سہیلیوں کے ساتھ دن بھر خوشیاں منانے کے بعد رات کے اندھیرے تک گھر نہ آئی  اماں نے لذیذ پکوان بنا کے رکھے، بیٹی آئے گی، بھوک محسوس کر رہی ہوگی، پر بیٹی کو نہ آنا تھا نہیں آئی  اماں نے آس پڑوس میں معلوم کیا ، وہ کہیں نہ ملی، دو دن گزرگئے، چار دن بیت گئے ، ہفتہ گزرا، دل وجگر کی طمانیت نظروں سے دور رہی ، کہیں نہ ملی اس معصوم پری کا نام مسکان جان بنت مشتاق احمد گنائی ساکن لڑی ترکانجن تحصیل بونیار  معصومہ اسکول جاتی تھی، عید تھی نانہیں گئی پڑھنے لکھنے ۔ ورنہ یہ پری روزاسکول جاتی تھی ۔ پانچویں جماعت کی ایک ہونہار طالبہ تھی، اس کی اماں گر چہ غیر ریاستی خاتون تھی مگر تھی نا ایک مامتا بھری ماں ہی۔ اپنی پری کے لئے

مقدس ماں وردھ آشرم میں؟؟؟

مجھے   لگاکہ یہ بڑھیا اُس کی ماں ہے مگر اس کے رکھ رکھائوسے وہ کوئی نوکرانی لگتی تھی، اس لیے میں نے پوچھا:’’ بہن جی کیایہ آپ کی ماں ہے؟‘‘ ’’نہیںیہ میری ساس ہے‘‘ ۔اس نے جواب دیا۔ ’’ساس بھی توماں ہی ہوتی ہے ‘‘۔میں نے جواباً کہا۔ ’’ان کوکیاتکلیف ہے ؟‘‘میں نے پھرپوچھا۔ ’’کھاناہضم نہیں ہوتاہے ،ہروقت جوکھاتی رہتی ہے ۔ڈکاریں آتی رہتی ہیں ۔اُلٹیاں کرنے کودِل کرتاہے وغیرہ وغیرہ ‘‘۔وہ لڑکی بولی  ’’یہ بہت زیادہ کمزوراورلاغر ہیں‘‘۔میں نے کہا ’’یہ کھاتی توبہت ہیں اورکام بھی کچھ نہیں ہے،ان کامنہ ہی چھوٹا ہے،پیٹ بہت بڑا ہے‘‘ ۔ اتنے میں ڈاکٹرمہیش نے اندرسے آوازدے کربلایا۔ ’’اندراد

جینے کی راہ دھوپ چھاؤں پھول کانٹے زندگی کا نام ہے

ہی ہم زندگی گزارنے اور جینے کی راہیں ڈھونڈنے کے لئے طرح طرح سے خیالات کی کھیتی میں بیج ڈال کر سوچ سے آ بیاری کرتے ہیں ۔ زمین کو ہموار کرنے کا عمل مستقبل کی اچھی فصل کی امید میں آنکھوں میں لہلاتے کھیت کا منظر بسا لیتے ہیں ۔ماضی بنجر اور سخت زمین کی طرح پہلی فصل کے بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے ۔کوشش میں اگر کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو تو اسے پورا کرنے کی حتی الوسع سعی کی جاتی ہے،مگر قدرتی آفات یا نا گہانی آفت سے ہونے والے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا ۔بیج سے پیدا ہونے والا پودا دو بار جینے کے لیے لڑتا ہے ۔ پہلے بیج سے اور پھر زمین سے نکلتے وقت ، اس کے بعد وہ حالات کے رحم و کرم پر چلا جاتا ہے ۔بارش کی کمی بیشی اور دھوپ چھاؤں میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے میں محتاج دعا ہو جاتا ہے ، وہاں وہ کسی کو بہت زیادہ خوشی دیتا ہے تو کسی کو مایوسی ۔اسی طرح انسان بھی دو طرح سے جینے کی جنگ کرتا ہ

برہنگی برائیون کی جڑ

 تاریخ  اسلام کا ایک سبق آموز اور ایمان افروز واقعہ پیش خدمت ہے۔مدینہ منورہ میں ایک خاتون تھیں جنہیں اُمِّ خلاد رضی اللہ عنہا کہا جاتا تھا۔ غزوئہ خندق کے فوراً بعد جب غزوئہ بنو قریظہ پیش آیا تو ان کے صاحبزادے حضرت خلاد ؓ نے اس غزوہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان کو جب اپنے بیٹے کی شہادت کا پتہ چلا تو یہ اپنے گھر سے ان کی میت دیکھنے کے لیے روانہ ہوئیں۔ ظاہر ہے کہ بیٹے کی جدائی کا صدمہ دل میں ہو گا لیکن ایسے موقع پر بھی یہ اپنا نقاب کرنا، جو پردے کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے، نہ بھولیں۔ جب یہ اُس جگہ پہنچیں جہاں ان کے صاحبزادے کی میت رکھی ہوئی تھی، تو کئی ایک لوگوں کے منہ سے یہ جملہ نکل گیا کہ ’’اپنے بیٹے کی میت پر آئی ہیں اور اس حال میں بھی نقاب کر رکھا ہے‘‘ یعنی ایسے غم کے وقت پردے کے اہتمام کی بھلا کیا ضرورت ہے؟؟؟ حضرت ام خلاد رضی اللہ عنہا نے اس با

اللہ کی نعمتیں

  کون ہے جو بیمار ہونا چاہتا ہے؟بیماری تو نہ صرف اِنسان کا جینا دوبھر کرتی ہے بلکہ یہ جیبیں بھی خالی کر دیتی ہے۔ اِس کی وجہ سے آپ کی طبیعت بیزار رہتی ہے، آپ کام پر یا سکول نہیں جا سکتے، کمائی نہیں کر سکتے اور اپنے گھر والوں کی دیکھ‌بھال بھی نہیں کر سکتے۔ اُلٹا دوسروں کو آپ کا خیال رکھنا پڑتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ کو علاج اور دوائیوں پر بھاری رقم خرچ کرنی پڑے۔‏ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’پرہیز علاج سے بہتر ہے۔‏‘‘کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن سے ہم بچ نہیں سکتے۔ پھر بھی آپ کچھ ایسی احتیاطی تدابیر کر سکتے ہیں جن سے بعض بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان یا تو کم ہو سکتا ہے یا پھر بالکل ختم ہو سکتا ہے۔ آیئے، پانچ ایسے طریقوں پر غور کریں جن پر عمل کرنے سے آپ اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔‏ 1 ہاتھ اچھی طرح دھوئیں جسم اور دا

لباس ہو تو کیسا؟

 ڈریس  کوڈ ایک وسیع المعنی اصطلاح ہے جس سے کسی قوم یا معاشرے کی تہذیب اور اس کے تمدنی احوال کا اظہار ہوتا ہے ۔اسلام بھی بہ حیثیت مکمل دین ِانسانیت اپنے پیرو کاروں میں منفرد ڈریس کوڈ یا مخصوص لباس کا تصور متعارف کرتاہے ،جس کا لب لباب انسانی ستر کا اہتمام ، شخصیت کاتزئین اور موسمی حالات وکوائف کا پاس ولحاظ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کا اصل تعلق پہناوے کے طور طریقوں سے نہیں بلکہ دل کی دنیا سے ہے اور یہ چاہتا ہے کہ دلوں کی زمین پہ صرف اور صرف اللہ اور رسول ؐکا راج تاج ہو۔کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ دین کا تعلق روح سے ہے ظاہری جسم سے نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ہم یہ بات ذہن نشین کریں کہ دین اسلام کے احکام ہمارے جسم پر بھی نافذ ہوتے ہیں اور روح پر بھی لاگو ہوتے ہیں ، ظاہر پر بھی اور باطن پر بھی ۔ قرآن مجید کی تعلیم ہے کہ ہم ظاہر کی آلائش اور باطن کے گناہ کلی طور چھوڑ دیں۔ ایک بزرگ

حیاء حیات ہے!

قرآن   پاک میں اللہ فرماتے ہیں:’بے شک اللہ حکم دیتا ہے عدل کا ، احسان کا، اور رشتہ داروں کو دینے کا اور وہ روکتا ہے بے حیائی سے ، برائی سے اور زیادتی سے وہ تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو، سبق سیکھو۔‘‘اس آیت میں کچھ چیزوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے او رکچھ چیزوں سے روکا گیاہے ۔ ممانعت جن چیزوں کی گئی ،ان میں ایک چیز بے حیائی ہے جس کے لئے یہاں لفظ فحشاء استعمال ہوا ہے۔ فحشاء سے مراد بے حیائی اور بے شرمی کی باتیں ہیں اور ایسے اعمال جو حیاء کے منافی ہوں۔ جو شخص شرم و حیاء سے کام لیتا ہے وہ اپنے ایمان کو مکمل کرتا ہے اور بے حیائی ایمان کی دشمن ہے۔ حیاء ہی وہ چیز ہے جس سے انسان اور حیوان میںفرق ہوتا ہے۔ انسان جانوروں سے مختلف ہے۔ انسان کو اللہ نے عقل او رشعور عطاء کیا ہے۔ اس عقل و شعور کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حیاء سے کام لے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ’’

لکھنا ایک فن ہے

فضول کاموں میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہےاپنے خیالات قلم بند کریں، تخلیقی سرگرمیوں کی طرف مائل کریں۔ایک لکھاری بھی دیگر فن کاروں اور ہنرمندوں کی طرح تخلیق کارہوتا ہے، جو معاشرے کی تصویرکو اپنے خیالات، نظریات اور فکر کے ذریعے قلم کی زبان عطا کر کے الفاظ کے روپ میں ڈھالتا ہے۔ وہ جو دیکھتا اور سوچتا ہے، اسے الفاظ کے ذریعے دوسروں کے ذہن پر ثبت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے ایسا کرنے پر اس کا احساس مجبورکرتا ہے۔ لکھنے کا تعلق جبر سے نہیں، بلکہ تخلیق کار کی تمنا، آرزو، خواہش، مرضی و منشا، شوق اور اس کے جذبات و احساسات سے ہوتا ہے۔ ایک لکھاری کسی بھی معاشرے کا چہرہ ہوتا ہے، جو مشاہدے کی طاقت سے معاشرے اور اس میں ہونے والے تمام افعال کو الفاظ کی تصویر پہناتا ہے۔ لکھاریوں کی اکثریت خود کو بے لوث معاشرے کے لیے وقف کیے رکھتی ہے، جس بنا پر یقینا ان کو بہت ہی معزز اور قوم کا فخر سمجھا جاتا ہے۔لکھنا ای

گھریلو باغبانی

اگر  کہا جائے کہ ’’وجودِ گل سے ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘ تو مجھے یقین ہے کہ اکثر لوگ مجھ سے اتفاق کریں گے۔ ذرا سوچیے تو، اگر ہماری دنیا میں یہ پھول بوٹے اور ہریالی نہ ہوتی تو ہماری زندگی کتنی بے رونق اور بدنما ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انسان کی جمالیاتی حس کو ناپنے کا پیمانہ ہی بعض اوقات چمن آرائی کو سمجھا جاتا ہے۔ پھول ہماری معاشرت کا حصہ ہیں، کہیں کہیں تو انہیں باقاعدہ صنعت کا درجہ دے دیا گیا ہے، اور کہیں یہ صرف تعلیم دینے کے طور پر استعمال ہورہے ہیں۔ آج کل تو پھولوں کی سجاوٹ اور باغبانی کا علم دینے کے باقاعدہ ادارے وجود میں آچکے ہیں۔ آج کی بھاگ دوڑ کی طرزِ معاشرت اور زمین کی قلت نے باقاعدہ طور پر کسی قطعہ زمین پر باغبانی کے شوق کو کسی حد تک ختم کردیا ہے…لیکن پریشان نہ ہوں، اگر آپ بھی باغبانی کا شوق رکھتے ہیں لیکن زمین کی قلت یا فاضل زمین نہ ہونے

بیٹیوں کے گھریلو تنازعات ، والدین کا رویہ کیسا ہو ؟

ریحانہ : بیٹا اتنا کچھ ہوگیا اور آپ نے ہمیں نہیں بتایا۔ اْف میری بچی دس سالوں سے یہ سب بھگت رہی تھی۔ نادیہ: امی… میں آپ کو دْکھ دینا نہیں چاہتی تھی اور میرا خیال تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوتا جائے گا لیکن یہ میری بھول تھی معاملہ مزید بگڑتا گیا اور… اب… ارقم اور اس کے گھر والے کسی سے بھی مجھے بھلائی کی اْمید نہیں، اب مجھے اپنی نہیں بلکہ اپنے بیٹے کی فکر ہے اس کا مستقبل… امی میں اب اس جنونی شخص کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی۔  ارقم اور نادیہ دونوں کا تعلق خوشحال گھرانوں سے تھا، دونوں کی ارینجڈ میرج تھی لیکن دونوں کی رائے کے مطابق ان کی شادی کا فیصلہ کیا گیا تھا کچھ ہی عرصہ کے بعد نادیہ پر ارقم کی اصلیت واضح ہوگئی کہ نہ صرف وہ بے روزگار بلکہ اعلیٰ تعلیم سے محروم برگر فیملی کا ایک بگڑا بیٹا تھا۔ نادیہ کے لیے یہ سب قابل اذیت تھا لیکن وہ سمج

بچے کا روشن مستقبل کس کے ہاتھ؟

ایک  مسلم گھرانے کی بہو اسماء افتخار کے ہاں ماشاء اللہ خوشی آنے والی تھی۔ شادی سے پہلے ہی ان کی ساس نے کہہ دیا تھا کہ نوکری تو بہو کو کرنی پڑے گی کیونکہ میری بیٹیاں اور بڑی بہو بھی نوکری کرتی ہیں۔ شادی کی 15 دن کی چھٹیوں کے بعد ہی کپڑے دھونے کی ذمے داری اسماء پر ڈال دی گئی۔ گھر میں تین نندیں تھیں جو شادی کے انتظار میں بوڑھی اور چڑچڑی ہوچکی تھیں، ایک جیٹھ، ان کی بیوی اور چار بچے تھے۔ ساس، سسر، اسماء اور اس کا شوہر۔ گویا 13 لوگوں کے اندر باہر کے سب کپڑے دھونا اسماء کی ذمے داری تھی۔ بڑی بہو کھانا پکاتی تھیں، ایک نند صفائی کرتیں، ایک برتن دھوتیں، اور سب سے بڑی نند بیمار تھیں، پہلے کپڑے دھوتی تھیں، اب اُن پر سے ہر ذمے داری ہٹا لی گئی تھی۔اسماء نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے کچھ فروٹ وغیرہ لادیا کریں، ان دنوں میں ذرا صحت بنے گی، میری تنخواہ تو آپ کی امی لے لیتی ہیں… بس یہ کہنا تھا

ہر مرد کی ایک ہی خواہش

آج کے دور میں اکثر والدین کے منہ سے یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ ہماری بچیوں کے اچھے رشتے نہیں آ رہے۔ یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر اچھے رشتے کیوں نہیں آرہے ؟ لڑکی پڑھی لکھی ہے، خوش شکل ہے مگر پھر بھی والدین بے چارے پریشان ہی دکھائی دیتے ہیں۔ دور حاضرمیں جہاں بہت سے مسائل نے انسانوں کو اپنے حصار میں لے رکھاہے، وہیں والدین کے لئے سب سے بڑی پریشانی ان کی بچیوں کے مناسب رشتے نہ ہونا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ والدین نہ صرف لڑکیوں کے رشتوں کے لئے فکر مند نظرآتے ہیں بلکہ وہ اپنے بیٹوں کے رشتوں کے لئے بھی اسی قدر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے معاشرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہمارے معاشرے کا ہر تیسرے گھرمیں لڑکے اور لڑکیاں شادی کی منتظر ہیں اور ان کی عمریں ڈھل رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ والدین کو ہر لحاظ سے پرفیکٹ جوڑ نہیں ملتا یعنی لڑکے کے لئے پرفیکٹ بہو کی

پردہ جو اٹھ گیا تو ۔۔۔۔؟

  ہم بحیثیت مسلمان سب جانتے ہیں کہ اس پرفتن دور میں پردہ ہماری حفاظت کے لئے کس قدر ضروری ہے مگر صورت حال یہ ہے کہ ہم سے زیادہ تر بہنوں نے پردے کو بھی فیشن بنا دیا ہے۔ رنگین مِزین برقعے جو ان کو بھی اپنی جانب متوجہ کرلیں جو دیکھنا نہیں چاہتے، ہم اختیار کریں تو یہ کہاں کی پردہ داری ہے۔ ہم نے زیادہ تر عبایا پہننے کو رواج بنا لیا ہے مگر پردے کے اصل مقصد کو بھول گئے ہیں۔ پردے کا مقصد یہ ہے کہ ہم نامحرم کی نظروں اور بری نیتوں سے محفوظ رہ سکیں۔ جہاں سے کوئی باپردہ خاتون گزرے مردوں کی نظریں خود جھک جائیں۔  اس کے الٹ میں جب اتنے آرائشی مزین برقعے بنالئے گئے کہ ہر شخص بجائے سر جھکانے کے الٹا متوجہ ہو تو کیا مسلم خواتین نے خود اپنے پردے کے مقصد یا اپنے دین کے حکم کو پامال نہیں کردیا؟قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اور اپنے گھروں میں سکون سے بیٹھی رہو اور زمانہ ج

ڈائٹنگ کے بغیر فِٹ ر ہنے کاراز

آپ اپنی ایسی کئی دوست، ساتھی اور رشتہ دار خواتین کو جانتی ہوں گی جو آئس کریم اس قدر مزے لے کر کھاتی ہیں، جیسے ’کوئی بات ہی نہیں‘۔ آپ نے ایسی خواتین کو کبھی کھانے کی جگہ سلاد کھاتے نہیں دیکھا ہوگا۔ ان کی ’فیملی ہسٹری‘ سے آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ وہ ’ سپر وومن جینز‘ نہیں رکھتیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ خواتین ہر چیز کھانے کے باوجود، زبردست فِٹ رہتی ہیں اور انہیں کبھی ڈائٹنگ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ذہن میں یہ سوال اْبھرتا ہے کہ یہ خواتین آخر ایسا کیا کرتی ہیں کہ ہمیشہ فٹ اور دْبلی پتلی رہتی ہیں؟ آئیے اس سوال کا جواب جانتے ہیں۔ خوب پانی پینا: ڈاکٹروں کا کہناہے کہ مجموعی طور پر صحت برقرار رکھنے کے لیے وافر مقدار میںباقاعدگی سے پانی پینا انتہائی ضروری ہے (خصوصاً جب آپ ایکسرسائز کرتی ہیں)۔ ہرچند کہ انتہائی شوگر کے حامل مشروبات جیسے سوڈا، جوس، ک

کامیاب شوہرخوشحال گھر

 ارے تم اتنی ڈری سہمی سی کیوں لگ رہی ہو؟ تمہیں کیا ہوا؟ تم تو بڑی شوخ وچنچل تھیں۔ تم سے تو بحث و مباحثے میں کوئی جیت ہی نہیں سکتا تھا‘ تم میں تو بلا کا اعتماد تھا‘ تم تو ہم دوستوں میں سب سے زیادہ بااعتماد تھیں میں ایک سال کے لیے باہر کیا گئی تم تو بالکل بدل گئی ہو۔ کہاں گئی تمہاری خوداعتماد اور شوخی؟؟؟ چھوڑو یار ماضی کی باتیں…! شادی کے بعد سب کچھ تبدیل ہوجاتا ہے۔ ماضی میں اگر میں خود اعتماد تھی تو اس کی وجہ میرے والدین کا مجھ ر اعتماد کرنا تھا۔ شوخ چنچل تھی تو اس کی وجہ والدین کا تعاون تھا۔ کوئی مجھ سے غلط بات کہتا تو دو ٹوک جواب دے کر کہنے والے کا منہ بند کردیتی تھی‘ کسی کی ہمت نہ تھی کہ مجھ سے کوئی غلط بات کہتا مگر شادی کے بعد ساری خوداعتمادی ختم ہوگئی کیونکہ میرے شوہر مجھ پر اعتماد نہیں کرتے۔ مجھ میں خامیاں اور برائیاں تلاش کرتے ہیں اور ہر ایک کے آگے م

والد…… سایۂ شفقت !

باپ  دنیا کی وہ عظیم ترین ہستی ہے جو اپنے بچوں کی بہترین پرورش اور ان کی راحت کے لئے ہمہ وقت کوششوں، کاوشوں اور مشقتوں میں مصروف عمل رہ کر زندگی گزارتاہے ، اور ضرورت پڑنے پر جان تک کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔ ہر باپ کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ میعار زندگی فراہم کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کرسکے اور معاشرتی ترقی میں بہتر طور پر اپنا کردار ادا کرسکے۔ پیارے مذہب اسلام میں باپ کوبڑارتبہ حاصل ہے جب کہ احادیث مبارکہ میں باپ کی ناراضگی کو اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی اور باپ کی خوشنودگی کو ربّ تعالیٰ کی خوشنودگی قراردیا گیا ہے۔ قرآن پاک کے احکامات اور نبی کریم صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کے فرمودات کی روشنی میں والدین ( یعنی دونوں) کی خدمت و اطاعت کا حکم دیا گیاہے۔ اگر ماں کی طرح باپ کی عظمت کا پاس رکھتے ہوئے اس کی اطاعت ، فرمان برداری ، خدمت اورتعظیم کرکے رضاح

بنتِ حوا۔۔۔ مقام ومرتبہ جانئے!

 ’’ اسلام اور عورت‘‘ دورِ حاضر کا ایک حساس موضوع ہے جس پر سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔’’ اسلام اور عورت‘‘ کے موضوع کو لے ان دونوں پلیٹ فارمز پر ایک بحث شروع کر دی گئی ہے جس سے عورت ذات کے متعلق عصری تعلیم گاہوں سے فارغ التحصیل انسانوں کا ماڈرن طبقہ کئی سوالات پیدا کر رہا ہے۔ عورت کی فطری حیثیت کو مدِ نظر رکھ کر اسلام نے عورت کو کچھ خصوصیات سے نوازا تھا ، لیکن عورت کی اس مخصوص حیثیت پر بعض لوگ کئی سوالات پیدا کر رہے ہیں اور عورت کااسلامی پردہ اختیار کرنا ، خود کو مردوں کی سرگرمیوں سے دور رکھنا، اپنے شوہروں کے تئیں وفاداری کا مظاہرہ کرنے جیسے اسلامی احکامات پر اعتراضات کرکے اِسے عورت طبقے پر ظلم و جبر اور تشدد سے تعبیر کر رہے ہیں۔انسانوں کے اس جدید طبقے کے مطابق اسلامی تعلیمات  دراصل عورت ذات پر ظلم و

ظلم وتشدد کا کوئی جنس نہیں ہوتا!

 اکیسویں   صدی میں جب کہ دنیا کے ہر کونے میں مرد اور خواتین کو ہرمیدان میں برابر کے حقوق دئے جارہے ہیں، جس وجہ سے خواتین کی بڑی تعداد ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی اپنی کامیابی کا پرچم لہرارہی ہیں، پھر بھی اس کو مظلوم کا نام دے کر عورت غلط بھی ہو تو اسی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے اس کی بے جا حمایت میں ایک بڑا ہجوم اکٹھا ہوجاتا ہےاور حقیقت کو جانے سمجھے بغیر مرد کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے ۔ماناکہ عورت نازک صنف ہونے کی وجہ سے بظاہربےقصور نظر آتی ہے اور ہمدردی کی مستحق ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر جگہ ہر مرتبہ عورت ہی صحیح اور مرد غلط ہوںکیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بے چارے مرد بھی چند عورتوں کی سازشوں اور مظالم کا شکار ہو کر اپنی جان تک گنوا چکے ہیں ، اس لئے ہر مرتبہ عورت ہی مظلوم نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی عورت کے ظلم کا شکار بنے مرد بھی مظلوموں کی فہرست میں

اولاد کی تعلیم و تربیت

ہم میں سے اکثر لوگ جب والدین اور اولاد کی بات کرتے ہیں تو والدین کے حقوق اور اولاد کے فرائض تو ہماری انگلیوں کے پوروں پر ہوتے ہیں لیکن ہم میں سے اکثر اولاد کے حقوق فراموش کر دیتے ہیں۔ جب کہ ذمہ داری دینے والے نے جب والدین کو ذمہ دار بنایا ہے تو انہیں پوری پوری تاکید کی ہے۔ ایک مسئلہ بہت اہم ہے کہ بچوں کو والدین کی تربیت نہیں کرنا ہوتی ہے بلکہ والدین کو اولاد کی تربیت کرنی ہوتی ہے تو عموماََ وہ اپنے حقوق کی بات تو اولاد کو ازبر کروادیتے ہیں لیکن انھیں یہ شعور نہیں دیتے کہ بچوں کے کیا حقوق ہیں؟ بخاری ومسلم میں حضرت نعمان بن بشیر رضی ال عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد شیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک غلام ہبہ کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپؐ نے دریافت فرمایا: ـ’’کیا تو نے ہر بیٹے کو ایک ایک غلام ہبہ کیاہے؟‘‘  بشیر رضی اللہ عنہ کہنے ل

شوہر برائے نیلامی

میری بیگم مسکرائے چلی جارہی تھی۔ میں بھی مسکرارہا تھا۔ میری بیگم پتہ نہیں کیوں نہیں کیوں مسکرائے چلی جارہی تھی لیکن میں ریلوے کا ایک اشتہار جو اس روز اخبار میں چھپا تھا دیکھ رہا تھاا ور مسکرارہاتھا۔ اس میں ایک ریلوے لائن کی تصویر تھی کچھ فاصلے پر ریلوے کاایک انجن کھڑا تھا۔ ریلوے لائن کو چن دبھینسیں یا بھینسے عبورکررہے تھے اور اشتہار ہر لکھاتھا خبردار! ریلوے پھاٹک عبور کرتے وقت ہمیشہ رکیے۔ ریلوے پھاٹک کو عبور کرنے سے پہلے رک کر دونوں جانب دیکھیں کہ کہیں گاڑی تو نہیں آرہی۔ یہ اطمینان کرنے کے بعد ہی پھاٹک عبورکریں۔ احتیاط کیجیے اور خطرناک حادثات سے بچئے ۔آپ کاتعاون‘ حفاظت کاضامن۔۔۔ ریلوے اور تصویر میں دورد ور تک کسی ریلوے پھاٹک کانام ونشان تک نہ تھا اور چند مویشی ریلوے لائن کو عبور کررہے تھے، شاید ریلوے والوں نے یہ اشتہار مویشیوں کے لئے ہی اچھایا تھا اور میرے لئے نہیں تھا۔ اب