تازہ ترین

حدِ متارکہ کے متاثرین سے بھی انصاف ہو !

مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحد پر رہائش پذیرآبادی کو براہ راست بھرتی میں ریزرویشن، ترقیاں اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں داخلوں سے متعلق مراعات دینے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جس کیلئے لوک سبھا میں بل بھی پیش کیاگیاہے ۔ اس سے قبل اسی سرحدی آبادی کی فلاح و بہبودکیلئے حکومت نے کئی دیگر اقدامات بھی کئے ہیں جن میں بنکروں کی تعمیر اور موبائل ٹاوروں کی تنصیب قابل ذکر ہے ۔ واقعی بین الاقوامی سرحد پر بس رہی آبادی بے پناہ مشکلات کاسامناکررہی ہے اور جب ہندوپاک کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوتاہے تو اس وقت لوگوں کو گھر بار چھوڑ کر کبھی ایک جگہ تو کبھی دوسری جگہ پناہ لیناپڑتی ہے ۔سرحدی کشیدگی کے دوران اس آبادی نے بار بار تباہی بھی برداشت کی ہے چاہے، وہ جانی صورت میں ہو یا مالی صورت میں ۔اس مصیبت زدہ عوام کیلئے حکومت کی طرف سے اقدامات کیاجانا قابل سراہنا اقد