خطہ پیر پنچال کا طبی نظام ۔۔۔ لاپرواہی کی انتہا

خطہ پیر پنچال کا طبی نظام اپنی خرابیوں کی وجہ سے ہمیشہ سے ہی سرخیوں میں رہتاہے لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ سی ٹی سکین اور ڈیجیٹل ایکسرے کروانے کیلئے بھی مریضوں کو جموں آناجاناپڑتاہے ۔طبی و نیم طبی عملے کی قلت ،مشینری کی غیر فعالیت اور طبی مراکز میں ادویات کی عدم دستیابی اور ڈاکٹروںکی غیر حاضری ایسے مسائل ہیں جنہوں نے اور اس سرحدی اور پہاڑی خطے کے عوام کو زبردست پریشان کررکھاہے ۔نتیجہ کے طور پر روزانہ سینکڑوں کی تعدادمیں مریض اور زخمی بہتر علاج کی تگ ودو میں کبھی جموں توکبھی سرینگر اور کبھی اس سے بھی دور چندی گڑھ،امرتسر و دلی کے ہسپتالوں میں جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو ایک غریب کے بس سے باہر کی بات ہے ۔حکومت کی طرف سے دور درا ز اور پہاڑی علاقوں میں طبی خدمات اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کے دعوے کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی مگر صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آرہی ۔ اگرچہ چند ماہ

تازہ ترین