تازہ ترین

خطہ پیر پنچال کا طبی نظام ۔۔۔ لاپرواہی کی انتہا

خطہ پیر پنچال کا طبی نظام اپنی خرابیوں کی وجہ سے ہمیشہ سے ہی سرخیوں میں رہتاہے لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ سی ٹی سکین اور ڈیجیٹل ایکسرے کروانے کیلئے بھی مریضوں کو جموں آناجاناپڑتاہے ۔طبی و نیم طبی عملے کی قلت ،مشینری کی غیر فعالیت اور طبی مراکز میں ادویات کی عدم دستیابی اور ڈاکٹروںکی غیر حاضری ایسے مسائل ہیں جنہوں نے اور اس سرحدی اور پہاڑی خطے کے عوام کو زبردست پریشان کررکھاہے ۔نتیجہ کے طور پر روزانہ سینکڑوں کی تعدادمیں مریض اور زخمی بہتر علاج کی تگ ودو میں کبھی جموں توکبھی سرینگر اور کبھی اس سے بھی دور چندی گڑھ،امرتسر و دلی کے ہسپتالوں میں جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو ایک غریب کے بس سے باہر کی بات ہے ۔حکومت کی طرف سے دور درا ز اور پہاڑی علاقوں میں طبی خدمات اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کے دعوے کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی مگر صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آرہی ۔ اگرچہ چند ماہ

شادی بیاہ ۔۔۔ فضولیات کا گورکھ دھندا!

   عید الالفطر کے فوراً بعد وادی میں شادیوں کا سیزن شدو مد سے شروع ہوچکا ہے اور یہ سلسلہ حسب ِ سابق نومبر کےآواخر تک طول پکڑے گا۔ عام مشاہدہ یہ ہے کہ جب کبھی یہاں حالات خراب رہے اکثر  لوگوں نے دعوت نامے منسوخ کر کے شادیاں بڑی سادگی کے ساتھ انجام دیتے ہیں مگر جونہی حالات میں ٹھہراؤ آتا شادیوں منگنیاں بڑی دھوم دھام اور نمود ونمائش کے ساتھ رچائی جاتی ہیں ۔ ہمارے یہاں شادی بیاہ کے مواقع پر اکثر و بیشتر اسراف وتبذیر اور نمود ونمائش کا ایک میلہ سالگتا ہے جن میں فضولیات اور حماقتوں کی حد یں پارکی جا تی ہیں۔ جہیزی لین دین، رسوماتِ قبیحہ، بے ہنگم وازہ وان، ا?تش بازی ، چراغاںاور ہمچو قسم کی فضول خر چیاں ہمیں اجتماعی طور حرافات کے کس دلدل میں پھنسا چکی ہیں ، اس سے ہر کو ئی ذی ہوش باخبر ہے۔ اس میں دوائے نہیں کہ اہلِ کشمیر کی معاشی سرگرمیوں میں شادی بیاہ کا ایک کلیدی کردار ہو تا م

نکاسی آب کا بدترین نظام!

گذشتہ جمعرات کی شبانہ بارش سے وادیٔ کشمیر کے اندر نکاسیٔ آب کے نظام کی بدترین صورتحال اُس وقت سامنے آگئی، جب جابجا بستیوں میں چھوٹی بڑی سڑکیں ایسے زیر آب آگئیں، جیسے سیلاب میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگرچہ وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ گذشتہ ایک مہینے سے جاری ہے، جس کی وجہ سے زیر زمین سطح آب میں یقینی طور پر اضافہ ہوا ہے تاہم جس پیمانے پر دیکھتے ہی دیکھتے شہر ، قصبہ جات اور دیہات میں سڑکیں زیر آب آگئیں اُس سے نہ صرف لوگوں کو عبور و مرور میں مشکلات پیدا ہوگئیں بلکہ کئی علاقوں میں پانی گھروں کے آنگنوں میں داخل ہوا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہےبلکہ جب بھی بارشیں ہوتی ہیں بستیوں اور بازاروں میں چھوٹی بڑی سڑکیں زیر آب آنے کی وجہ سے لوگوں کا عبورومرور اور گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے، خاص کر بزرگوں، خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا بار بار کیوں ہوتاہے؟ جواب ا

ٹریفک حادثات۔۔۔خونچکانی کا نہ رُکنے والاسلسلہ!

وادی کشمیر میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سڑک حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسی عنوان سے ان حادثات میں ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے ۔ غالباً ہی ایسا کوئی دن گزرتا ہے جب حادثات میں کسی شہری کی شمع حیات گُل نہ ہوتی ہو اور اس طرح کنبوں کے کنبے تباہ نہ ہوتے ہوں۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور اس پر قابو پانے میں ہم ناکام کیوں ہو رہے ہیں، یہ ایسے سوالات ہیں، جن کی جانب نہ تو سرکاری سطح پہ اور نہ ہی سماجی سطح پر کوئی توجہ مرکوز ہو رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ریاست میں سڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں اور دو پہیوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے اور بدلتے سماجی و اقتصادی  حالات میں وہ گاڑی جو کبھی آسودہ حالی کی علامت سمجھی جاتی تھی، ضروریات زندگی کا حصہ  بنتی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائےتو مستقبل میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ ٹرانسپورٹ کا پھیلائو ایک م

عدالتی فیصلہ۔۔۔ بالآخر انصاف کی جیت ہوئی!

ضلع کٹھوعہ کے ہیرانگر رسانہ علاقے میں گزشتہ برس جنوری میں پیش آئے انسانیت سوز واقعہ پر پٹھانکوٹ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت نے منصفانہ فیصلہ سناکر انصاف کے تقاضے پورے کئے ہیں ۔یہ انصاف کی جیت اور ان عناصر کی شکست ہے جو اس واقعہ کو سیاسی و مذہبی رنگت دے کر اپنے سیاسی قدکو اونچا کرناچاہتے تھے اور جن کی حرکتوں کی وجہ سے پورے صوبہ جموں کا امن خطرے میں پڑنے لگاتھا۔ایک آٹھ سالہ بچی کی بے دردی سے عصمت دری اور اس کے بعد اس کے قتل کے واقعہ کو لے کر انصاف کے تقاضوں کو متاثر کرنے کیلئے حالات کو اس قدر حساس بنادیاگیاکہ یہ معاملہ امن و قانون کا مسئلہ بن گیا تاہم یہ عدالتی نظام کی عظمت ہے جس کی وجہ سے ظالم اور مظلوم کی پہچان سامنے آگئی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد پہلے تحقیقات پولیس کوسونپی گئی تھی لیکن جن اہلکاروں کوحقایق کی کھوج بین پر مامور کیاگیا انہوںنے ہی شواہد م

شہر کی بے ترتیب وسعتیں!!

ریاست کے اندر آبادیوں کے بے ترتیب پھیلائو کے بہ سبب جو دنیا ترتیب پا رہی ہے ، آنے والے قتوں میں وہ لوگوں کےلئے نہایت تکلیف دہ مشکلات کا سب بن کر سامنےآ سکتی ہے، کیونکہ ان بستیوں کو کسی منصوبے سے ماوریٰ ہو کر آباد کیا جاتا ہے، جن میں نہ تو بنیادی شہری سہولیات موجودومیسر ہوتی ہیں اور نہ ہی انکے فروغ کی کوئی گنجائش ۔ریاست کا گرمائی دارالحکومت سرینگر جس سرعت لیکن بے ترتیبی کے ساتھ پھیل رہا ہے اس رفتار کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا غلط نہیں ہوگا کہ آنے والے ایام میں اس شہر م، جو کبھی اپنے خوبصورتی اور صاف و شفاف آب و ہوا کی وجہ سے دنیا کے خوبصورت ترین شہرو ں میں شمار ہوتا تھا، کا غلیظ ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہونے کا اندیشہ ہے۔ایسا نہیں ہے کہ حکومت نے وقت وقت پر منصوبے مرتب نہیں کئے ہوں بلکہ سرینگر کےلئے ایک ماسٹر پلان ضرور موجود ہے ، لیکن جب عملی سطح پر دیکھا جاتا ہے تو یہ منصوب

آوارہ کتوں کی ہڑبونگ اورضروری

ریاست بھر میں آوارہ کتوں نے لوگوںکا جینا محال بنارکھاہے اور آئے روز بڑی تعداد میں لوگ ان کی جارحیت کا نشانہ بن رہے ہیں تاہم نہ ہی حکام آوارہ کتوں کوٹھکانے لگانے کیلئے کوئی اقدامات کررہے ہیں اور نہ ہی ان کے زہر کاشکار بننے والے زخمیوں کووقت پر اینٹی ریبیز انجکشن ملتے ہیں۔نتیجہ کے طور پر دور دراز پہاڑی علاقوں میں ایسے حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کو انجکشن حاصل کرنے کیلئے سینکڑوں میل کا سفر طے کرناپڑتاہے ۔گزشتہ کچھ عرصہ سے سرحدی ضلع پونچھ میں پاگل اور آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں زبردست اضافہ ہواہے اور منڈی، سرنکوٹ اور مینڈھر میں کئی لوگ ان کا نشانہ بن گئے لیکن اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ ان لوگوں کو مقامی سطح پر اینٹی ریبیز انجکشن نہیں مل رہے ۔یہ دوائی کافی عرصہ سے سرکاری ہسپتالوں میں سپلائی ہی نہیں کی جاتی جبکہ نجی دکانوں میں بھی سٹاک ختم ہوچکاہے ۔پچھلے دنوں ایک ایک انجکشن کیل

!!! سڑک حا دثات

    عیدا لفطر کی خوشیوں کے درمیان بھی ریاست میں یکے بعد دیگرے دلدوز سڑک حا دثا ت سے رنج و غم کی پرچھائیاں بھی تواتر کے ساتھ جاری رہیں ۔ یہ ہماری اجتماعی کم نصیبی ہی نہیں بلکہ ٹریفک حکام کی نااہلی کا منہ بو لتا ثبوت بھی ہے۔ افسوس کہ ہمارے یہاں ٹریفک حادثات جس تواتر کے ساتھ پیش آ تے ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہے ہم روزمرہ ماردھاڑ کی طرح سڑک حادثات کو بھی معمولاتِ زندگی کا حصہ مان کر چل ر ہے ہیں۔ عام مشاہدہ یہی ہے کہ جاں لیوا ٹریفک حادثات پر کچھ دن لوگ کف ِافسوس ملنے کے بعد پھر انہیں بستۂ فراموشی میں ڈالتے ہیں ، پھر زیادہ سے زیادہ متاثرہ گھرانوں میں ہی غم والم اور ما تم وسینہ کوبیاں ڈیرا ڈالے رہتی ہیں۔ سڑ ک حا دثوں کے تسلسل پر ہمارے ارباب بست وکشاد بھی روایتاً اظہار تاسف پر اکتفا کر نے کے عادی بن چکے ہیں ، جب کہ ہو نا یہ چاہیے کہ ایک ایسا موثر لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جس پر عمل درآ

عیدا لفطر۔۔۔ مستحقین کی امداد قومی فریضہ!

 برکتوں اور سعادتوں کا مہینہ اختتام پذیر ہواچاہتا ہے اور مسلمانان عالم عید الفطر منانے کی تیاریوں میں جٹ گئے ہیں۔اُمت مسلمہ کیلئے عید محض کوئی روایتی یا محدودالمعنیٰ تہوار نہیں ہوتا بلکہ عیدسے دل کی شاد مانی اور روح کی طمانیت کا تقویٰ شعارانہ مظاہرہ ہوتا ہے ۔ بنابریں رمضان کو الوداع کہنا اور عید کا استقبال کر نا ایک ہی سکے کے دورُخ تصور کئے جاتے ہیں ۔ رمضان کی روزہ داری کا مطلب پورے ایک ماہ تک خلوصِ دل کے ساتھ بدنی اور مالی عبادات میں انہماک و مشغولیت ہے۔ تاہم روزوں سے صرف صبح تاشام نری فاقہ کشی مراد نہیں لینی چاہیے بلکہ ان سے مسلمانوں کی رَگ رَگ میں ضبط ِ نفس، تزکیۂ قلب ، بھائی چارے ، ہمدردی اور غم گساری کا تازہ دم لہو دوڑا نا مطلوب ہوتا ہے۔صوم وصلوٰۃ سے فرد اور سماج کے ایمانی جوش و خروش میں واقعی اُبال آنا چاہیے جب کہ روحانی سطح پر صیام کی حیات بخش کیفیات روزہ داروں کو بندگان

جموں خطے میں منشیات مخالف مہم ناکام کیوں ؟

ریاست کی نوجوان نسل کیلئے منشیات انتہائی مہلک ثابت ہورہی ہے ،جس نے اب تک کئی نوجوانو ں کی زندگیاں لپیٹ لے لیں اور بڑی تعدادمیں نوجوان بری صحبتوں میں مبتلا ہوکر راہ راست سے بھٹک گئے ۔یہ ایک ایسا سنگین خطرہ ہے جس سے اگر نمٹانہ گیاتویہ معاشرے کو کھوکھلا کرکے رکھ دے گا۔ اس خطرے کا ادراک تب ہوتاہے جب کسی نوجوان کی جان چلی جاتی ہے ۔گزشتہ دنوں پونچھ کی تحصیل مینڈھر میں ایک نوجوان منشیات کے ہتھے چڑھ کر اپنی زندگی گنوابیٹھا جس کے بعد عوامی حلقوں میں زبردست فکر مندی پائی جارہی ہے اور یہ سوالا ت اٹھنے لگے ہیں اگر پولیس کئی برسوں سے منشیات مخالف کارروائیاں کرنے کے دعوے کررہی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس کا دائرہ سکڑنے کے بجائے وسیع ہوتاجارہاہے ۔صرف مینڈھر کی ہی اگر بات کی جائے تو پچھلے چھ ماہ کے دوران منشیات کے طفیل 6نوجوانوں کی اموات واقع ہوچکی ہیں جبکہ اسی طرح سے ریاست کے دیگر علاقوں سے بھی ایسی ہ

شہر ِسرینگر ۔۔۔۔۔ کو ئی تو پرسان حال ہو

  سابق حکومتوں نے بار بار ترقی یافتہ کشمیر کے خاکے میں رنگ بھرنے کا اعلان کیا تھا جس سے بظاہر یہی اخذ ہوتا تھا کہ انکی حکومت شہر سرینگر کو درپیش مسائل پر توجہ مبذول کرینگی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیوں نہیں ہوا ؟اسکا جواب وہی دے سکتے ہیں۔ فی الوقت اتنا کہا جا سکتا ہے کہ شاید ہی اس بات پر کسی کو اختلاف ہو کہ سرینگر کو تعمیر وترقی کے حوالے سے مجموعی طور کئی برسوں سے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہاہے ۔ شہر کی پرانی بستیوں اور نئی رہائشی کالونیوں پر ایک سرسری نظر دوڑائیے تو صاف نظر آئے گا کہ کم و بیش 12لاکھ کی آبادی کا یہ مسکن ہر اعتبار سے پچھڑا ہواہے ۔ یہاں کی سڑکیں خستہ حال ہیں ،گلی کوچے مرمت اور دیکھ ریکھ کے لئے چیخ وپکار کررہے ہیں ۔گندے پانی کی نکاسی کا نظام مفلوج ہے ، بلدیاتی سہولیات کا فقدان اپنے عروج پر ہے ، ٹریفک جاموں اور اوورلوڈنگ کے ان گنت مسائل ہیں،گند اور غلاظت کے ڈھیر شہر کے

شاہراہ کی بدتر حالت اور ناجائز منافع خوروں کی یلغار!

سرینگر جموں شاہراہ ریاست کی معیشی ترقی کےلئے بنیاد کے پتھر کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ بیرون ریاست سے کشمیر اور لداخ ڈویژن کو آنےو الی ساری سپلائی، جس پر موجودہ دور کی تجارتی معیشت ٹکی ہوئی ہے، اس شاہراہ کے بند یا کھلے ہونے سے منسلک ہے۔ یہی حال وادی سے بیرون ریاست ہونے والی فروٹ کی تجارت کا بھی ہے۔ ایسے میں جب یہ شاہراہ آئے روز بند ہوتی رہتی ہے تو نہ صرف تجارت کے آہنگ میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے بلکہ اشیاء کی قیمتوں میں بے اعتدالی کا عنصر غالب ہو جاتا ہے، جو بالآخر عام صارفین پر اثر انداز ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وادیٔ کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کبھی اعتدال پر نہیں رہتیں۔ کیونکہ جب بیرون ریاست سے آنے والی مال بردار گاڑیوں کو ایک دن کے سفر میں تین تین دن لگ جائیں تو وہ کاروباریوں سے اضافی کرایہ وصول کرتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ کاروباری حلقے یہ اضافی کرایہ اپنے منافع میں سے تو نہیں

عارضی ملازمین سے انصاف کی ضرورت

گورنر انتظامیہ کی طرف سے 2010کے بعد تعینات ہوئے عارضی ملازمین بشمول کنٹریکچول، ایڈہاک،ڈیلی ویجروںاور کیجول ورکروں کے متعلق  حکمنامہ جاری ہونے کے بعدپچھلے کئی برسوں سے معمولی سی تنخواہوں پر سرکاری خدمات انجام دینے والے ان ملازمین میں غیر یقینیت کی صورتحال پیدا ہوئی ہے اور انہوں نے حکمنامہ واپس نہ لینے پر شدید احتجاج کا انتباہ دیاہے جبکہ اس فیصلے کے رد عمل میں سیاسی جماعتوں نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملازمین کے ساتھ ناانصافی قرار دیاہے ۔واضح رہے کہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے پچھلے ہفتے یہ حکمنامہ جاری کیاگیاتھاکہ 2010کے بعدلگائے گئے جن عارضی ملازمین کی بھرتیاں قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں ہوئی ہوںاور پھر 2015کے بعد تعینات ہونے والے وہ تمام ملازمین برطرف کئے جائیں جن کی بھرتی کی منظوری محکمہ خزانہ اور وزیر اعلیٰ سے نہ لی گئی ہو ۔اس فیصلے کے جاری ہوتے ہی عارضی ملازمی

! نئی سرکار اور عوامی توقعات

پارلیمانی انتخابات کے تاریخی نتائج، جن میں وزیراعظم نریندر مودی کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے، نے آئندہ پانچ برسوں کےلئے ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کی راہ ہموار کردی ہے، جو یقینی طور پر عوامی مفاد کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کی مثبت اور مؤثر ترقی کےلئے ایک مضبوط حکومتی ڈھانچہ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران رائے دہندگان کو اپنی جانب راغب کرنے کےلئے سبھی سیاسی جماعتوں کی طرف سے کیا کیا جتن نہ کئے گئے اور انکے نتیجے میں عوامی اور سماجی سطح پر کیا کیا مسائل پیدا نہ ہوئے، ان سے صرف نظر کرکے اب  ضرورت اس بات کی ہے کہ ان معاملات کو پس پشت ڈال کر مثبت انداز سے سبھی مکاتب ہائے فکر کو اپنے ساتے لیکر آگے بڑھا جائے۔ وزیراعظم مودی نے کامیابی کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں صفائی کے ساتھ یہ بات کہی کہ ملک کے اندر اقلیتوں کو ووٹ بنک سیاست کا شکار بنایا جا

پانی کی نکاسی نظام۔۔۔۔۔ بہتر بنانے کی ضرورت

 پچھلے کئی روز سے جاری بارشوں سے جہاں فصلوں کو نقصان پہنچاہے وہیں ایک بارپھر نکاسی کے نظام کی قلعی کھل گئی ہے ۔ریاست کے تمام بڑے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں پانی کی نکاسی کا بہتر نظام نہ ہونے کی وجہ سے کئی جگہوں پر بارش کا پانی سڑکوں سے بہتے ہوئے دکانوں کے اندر چلا جاتاہے تو کہیں مکانات کی دیواروں میں گھُس جاتا ہےجبکہ کچھ جگہوں پر تو سڑکیں کئی کئی دن تک زیر آب رہتی ہیں۔اگرچہ موسم برسات کے دوران یہ صورتحال انتہائی سنگین بن جاتی ہے تاہم حالیہ بارشوں کے دوران بھی یہ دیکھاگیاہے کہ بارش کا پانی ،خاص کر پہاڑی علاقوں میں،سڑکوں پر بہتے ہوئے سیدھا دکانوں کے اندر داخل ہوگیا جس پر دکاندارسیخ پا ہیں ۔ گزشتہ دنوں پونچھ کے مینڈھر بازار میں پانی دکانوں کے اندر داخل ہونے سے دکانداروں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑااور انہوں نے انتظامیہ کوانتباہ دیاہے کہ اگر نکاسی آب کے نظام میں بہتری نہ لائی گئی

فکر وعمل کا اتحاد

وادی ٔکشمیر کو تاریخ میں یہ اعزاز و امتیاز حاصل رہاہے کہ خاصا نِ خدا کے دوش بدوش حکمائے اخلاق اور سماجی اصلاح کاروں نے اپنا خو ن جگر پلا پلا کر اس خطۂ مینو نظیر کو انسا نی اقدار اور مذہبی وراداری سے روشناس کرا یا۔ یہ اسی کا ثمرہ ہے کہ لا کھ خرا بیو ں اور کو تا ہیو ں کے باوجو د اور زور زبردستوں کی ماریں سہتے ہو ئے بھی اہل ِ کشمیر من حیث القوم زندہ وپائندہ ہیں۔ تا ریخ شاہد عادل ہے کہ اولیاء اللہ نے کشمیر یو ں کو دین ومذہب کی انسانیت نو از تعلیما ت کا شعور بخشنے کے بین بین کشمیری سماج کوتہذ یب، فنو ن ، ہنر مندیوں،صنعت ودست کاریوں اور ہمچو قسم کی معاشی سر گرمیو ں سے بہرہ ور کیا تو ارض ِ کشمیر کو خوش حالی کے علاوہ ایک فخر یہ تشخص عطا ہوا۔ اس تشخص اورانفرادیت کاچراغ آندھیوں میں بھی جوں توں جلتا رہا۔ حق یہ ہے کہ ان حوالوں سے ہم سب فرداًفرداً حضرت امیر کبیر شاہ ہمدا ن کی اولوالعزم شخصیت سے ل

ٹریفک جاموں کی مصیبت

شہر سرینگر میں ٹریفک جاموں کی شدت اپنی عروج کو پہنچتی جارہی ہے اور روزانہ اہم مقامات پر طویل ٹریفک جاموں کے بہ سبب لوگوں کے قیمتی اوقات کا ضیاع عمل میں آر ہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بے تحاشہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس کی متعد وجوہات ہیں۔ پبلک سیکٹر ٹرانسپوٹ کے تئیں ہماری حکومتوں کی منفی پالیساں جہاں اس کا ایک بڑا سبب ہے وہیں بدلتے سماج میں اُبھرنے والی نئی اقدار سے ہم آہنگی کا مزاج بھی ایک اہم سبب ہے، جس کےلئے گاڑیاں تیار کرنے والے ٹرانسپورٹ اور اُن کے حصول کےلئے قرضے فراہم کرنے والے بینکنگ سیکٹروں سے جڑے شعبوں کی ہمہ پہلو پالیساں راہ ہموار کررہی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ مزاج اس وقت ساری دنیا میں روبہ فروغ ہے لیکن وہاں ٹریفک کے بڑھتے دبائو کے ساتھ ساتھ قوانین اورقواعدو ضوابط کے حوالے سے عوام کے اندر حساسیت بھی اُجاگر ہ

شاہراہ پر قدغن کاخاتمہ۔۔۔ قابلِ سراہنا فیصلہ !

ریاستی حکومت نے پلوامہ خودکش حملے کے بعد سرینگر جموں شاہراہ  پر ادھمپور بارہمولہ تک ٹریفک کی آمد و رفت کے حوالے سے لگائی گئی قدغنوں کے فیصلے کو واپس لیکر ایک اہم عوامی مطالبے کے تئیں مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اگر چہ یہ فیصلہ قومی سلامتی کے نام پر لیا گیا تھا لیکن اس سے ریاستی عوام کو جن بےبیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اُسکا ایک ترقی پسند سماج میں تصوربھی نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس کی وجہ سے نہ صرف عوام الناس کے معمولات بُری طرح متاثر ہوئے تھے بلکہ ریاست، خاص کر وادیٔ کشمیر کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ماہرین نے اس فیصلے کو ابتداء میں ہی حقوق انسانی کی پامالی، سماجی زندگی میں خلل اور معیشت کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش قرار دیا تھا۔چانچہ عوامی سطح پر ہمہ گیر پیمانے پر اس فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا جا رہا تھا اور سیاسی و نظریاتی صفوں کے آر پار کم

سرکاری تعلیمی نظام تنزلی کاشکار کیوں؟

ریاست میں سرکاری تعلیمی نظام تنزلی کی طرف گامزن ہے اوراس کی بدحالی کا اندازہ اس تلخ حقیقت سے لگایاجاسکتاہے کہ دور افتادہ علاقوں میں بڑی کلاسوں کے متعددطلاب تعلیم کے بنیادی مدارج سے پیوست نہیں ہو پاتے ہیں۔حال ہی میں راجوری کی تحصیل تھنہ منڈی سے رونگٹے کھڑے کردینے والی یہ اطلاع سامنے آئی کہ نویں جماعت کے طلباء کو انگریزی اور اردو کے حروف تہجی کی تعلیم دینے کیلئے خصوصی کلاسز شروع کی گئی ہیں اوراس کام کیلئے تین اساتذہ کو مامور بھی کیاگیاہے ۔تھنہ منڈی کے بوائز ہائراسکینڈری سکول میں یہ خصوصی کلاسیں قصبہ کے گردونواح سے آٹھویں جماعت پاس کرکے اس ادارے میں نویں کلاس میں داخلہ لینے والے طلباء کی خاطر لگائی گئی ہیں اور سکول انتظامیہ کے مطابق ان طلباء کو حروف تہجی بھی پوری طرح سے یاد نہیں تھے ،اس لئے انہیں اس کی تعلیم دی جارہی ہے ۔ نویں جماعت کے طلباء کیلئے حروف تہجی کی کلاسوں کا اہتمام محکمہ تعل

جنگلی جانوروں کی بدحواسی۔۔۔ ایک لمحہ ٔ فکریہ!

 ریاست کے مختلف علاقوں میں جنگلی جانورں کی طرف سے بستیوں کی جانب یلغار کرنے کی خبریں گزشتہ چند ہفتوں سے تواتر کے ساتھ آرہی ہیں، جو اس بات کا غماز ہے کہ  انسان اور جانوروں کے درمیان تصادم آرائی کے واقعات میںدن بہ دن تیزی کےساتھ اضافہ ہوتا جارہاہے۔ دو روز قبل ہی فقیر گجری ہارون میں ریچھوں کا ایک جھنڈ کھیتوں میں کام کر رہے شہریوں پر حملہ آور ہوا جن میں کئی ایک زخمی ہوگئےاور بعد اذاں ایک شہری دم توڑ بیٹھا۔ اسی دن ہائن کنگن میں بھی ریچھ کے ذرریعہ ایک نوجوان کوزخمی کرنے کی خبر آئی جبکہ اس سے ایک روز قبل ہی اننت ناگ کے ایک گائوں میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ یہ سلسلہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ  جنگلی جانوروں اور انسانوںمیں ٹکراؤایک معمول بنتا جارہاہے ۔حالیہ برسوں میں وادی کے اندر خاص کر کنڈی کے علاقوں میں چھوٹے بچوں سمیت متعدد افراد تیندؤں اور ریچھوں کے حملوں کے شکار ہو

تازہ ترین