تازہ ترین

ماہ صیام …خدمات کی فراہمی کی یقین دہانیوں پر عمل کب ہوگا

انتظامیہ کی یقین دہانیوں اور اعلانات کے برعکس ماہ صیام میں پانی اور بجلی کی سپلائی کی صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے اقدامات بُری طرح ناکام ہو گئے ہیں۔اگرچہ ماہ صیام سے قبل انتظامیہ کی طرف سے میٹنگیں منعقد کرکے یہ اعلانات کئے گئے تھے کہ بجلی اور پانی کی سپلائی میں معقولیت لائی جائے گی اور قیمتوں کو اعتدال میں رکھاجائے گالیکن رمضان کے پہلے عشرے میں ایسا ممکن نہیں ہوپایا ہے اور ہر طرف سے پانی او ربجلی پر ہاہاکار مچی ہوئی ہے جبکہ کئی علاقوں سے ناجائز منافع خوری کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں ۔پانی اور بجلی کی کٹوتی پر جموں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہورہے ہیں اور خطہ پیر پنچال و خطہ چناب میں سپلائی کا نظام مزید خراب ہوگیاہے ۔حد یہ ہے کہ بعض اوقات نہ ہی سحری کے وقت بجلی ہوتی ہے اور نہ ہی افطاری اور تراویح کے وقت ،نتیجہ کے طور پر روزہ داروں کو ایسے

۔2019 کاالیکشن | خوبی وناخوبی کاسنگم!

آزاد   ہندوستان کا غالباً یہ پہلا ایسا پارلیمانی الیکشن ہوگا جو اپنی خوبیوں کی وجہ سے کم اور اپنی خامیوں کی وجہ سے زیادہ یاد رکھا جائے گا۔ جب بھی اس کی خامیوں کو بیان کیا جائے گا تو بہت سی باتوں کے ساتھ ساتھ ان دو باتوں کا بطور خاص ذکر ہوگا۔ ایک وزیر اعظم اور بی جے پی کے اسٹار پرچارک نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ کی سطحی بیان بازی اور دوسرے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی نااہلی و ناکارکردگی۔ سطحی بیان بازی کے زمرے میں ان کی جانب سے مثالی ضابطۂ اخلاق کی متواتر خلاف ورزیوں کو بھی رکھا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن ایک آزاد، خود مختار اور طاقتور آئینی ادارہ ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اسے اختیارات حاصل نہیں ہیں تو یہ بات قابل قبول نہیں ہوگی۔ اس سے قبل ٹی این سیشن، ایم ایس گل اور ماضی قریب میں ڈاکٹر ایس وائی قریشی نے جس طرح کمیشن کے اختیارات کا استعمال کرکے اس کے وقار میں اضافہ کیا تھا،