تازہ ترین

کشتواڑ اور بھدرواہ واقعات | تحقیقاتی عمل میں سرعت لانے کی ضرورت

فرقہ وارانہ بھائی چارے کیلئے انتہائی حساس سمجھے جانے والے خطہ چناب میں پچھلے کچھ مہینوں میں ایسے بدقسمت واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے صدیوں سے ہمیشہ ایک ساتھ رہ رہے دونوں طبقوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں ۔2018کے اواخر میں کشتواڑ میں نامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں بی جے پی لیڈر اوراس کے بھائی کی ہلاکت اوراس کے بعد اسی قصبہ میں آر ایس ایس کارکن اوراس کے محافظ کی ہلاکت سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ابھی معمول پر واپس آئی نہیں کہ گزشتہ دنوں بھدرواہ میں ایک پچاس سالہ شہری کو گولیاں مار کر ہلاک کردیاگیا۔اس واقعہ کے بعد قصبہ میں پر تشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے اور دونوں طبقوں سے تعلق رکھنے والے کچھ گروہوںنے ایک دوسرے پر پتھرائو کرکے املاک کو نقصان پہنچایا جس کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ کو فوج طلب کرکے کرفیو نافذ کرناپڑا۔اسی طرح کے پرتشدد مظاہرے کشتواڑ میں بھی انتظامیہ کے خلا

بنت ِ حوا کو ہمہ گیر تحفظ دیجئے

   شمالی کشمیر میں انسانیت کے خلاف حالیہ مجرمانہ حرکت کی حقیقت کیا ہے ، ا س حوالے سے سرکاری انکوائری کے بعد ہی کوئی حتمی رائے قائم کی جاسکتی ہے ۔ البتہ اس تحقیق طلب مبینہ زیادتی کے خلاف کشمیر میں جگہ جگہ جو احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ، اس سے واضح عندیہ ملتا ہے کہ کشمیریوں میں ابھی اخلاقیات کی رَمق باقی ہے ، انہیں اخلاقی زوال کسی صورت قبول نہیں، وہ ناانصافی کے روادار نہیں ، وہ انسانی قدروں سے بالشت بھر بھی سر گردانی بر داشت نہیں کر سکتے۔ یہ ساری چیزیں فی الحقیقت اس قوم کی اخلاقی بر تری کی آئینہ دار ہیں۔ سچ یہ ہے کہ نقاشِ ازل نے بہشت نما سرزمین کشمیر کو قدرتی حُسن سے ہی مالا مال نہیں کیا ہوا ہے بلکہ یہاں کے لوگوں کو بھی حیات بخش امتیازات اور خصوصیات سے مزین کیا ہواہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گردشِ دہر کے ہاتھوں ماروں پہ ماریں کھانے کے باوجو آج بھی اہل ِکشمیر انسانیت کے جیتے جاگتے نمونے ہ

منشیات کےخلاف پولیس کی قابلِ سراہنا مہم

ریاست میں پولیس نے منشیات فروشوں کےخلاف جو مہم شروع کی ہے، اُس کےخاطر خواہ نتائج سامنے آنے لگے ہیں،جبھی تو رواں ہفتہ کے دوران جموں اور کشمیر صوبوں میں مختلف مقامات پر بڑی مقدار میں منشیات کی ضبطی عمل میں لاکر ملوث افرا کو گرفتار کیا گیا ہے۔ چند روز قبل رام بن میں پولیس نے پچاس کلوگرام ہیروین، جس کی بین الاقوامی منشیات مارکیٹ میں کروڑوں روپے قیمت بنتی ہے، ضبط کرکے ایک بہترین مثال قائم کی ہے، جبکہ کل ہی نگروٹہ میں ایک گاڑی کی تلاشی کے دوران 72کلو گرام پوست برآمد کی گئی ہے۔ ایسی بھاری مقدار میں ضبطیوں کے عمل سے جہاں سماج میں ایک حوصلہ فزاء رجحان کو فروغ ملتا ہے، وہیں منشیات فروشوں کا مافیا ایسی منضبط مہم سے گھبرا کر سماج کے اندر مختلف حیلوں اور بہانوں سے امن وقانون کے مسائل پیدا کرنے کے درپے ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ اُن ممالک میں جہاں منشیات کا کاروبار عروج پر ہے ایسا اکثر دیکھنے کو ملتا ہے ک

سماجی برائیاں۔۔۔۔ سنجیدہ تحرّک کی ضرورت !

 کچھ عرصہ سے ہمارے سماج کے اندر ایسی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں، جن کے بارے میں ہمارےآباء و اجداد نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ کشمیری سماج میں اخلاقی اقدار اس سطح تک پامال ہوسکتی ہیں، جہاں ایک شیرخوار کی عزت وناموس بھی محفوظ نہیں۔ سمبل کے دل دہلانے والے واقع نے رسانہ کی یادتازہ کی ہے، جس پر بہت سیاست کی گئی اور ملزم کو بچانے کےلئے کئی سیاسی جماعتوں نے ایسی چلتر بازیاں کیں کہ جس سے انسانیت کی بنیادیں مہندم کرنے والا وہ واقع فرقہ واریت کا رنگ اختیار کر گیا تھا۔ نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ متعلقہ اداروں کو اسکی تحقیق و تفتیش میں انواع و اقسام کے دبائو کا سامنا رہا، جس کی وجہ سے حقائق سامنے آنے میں تاخیر ہوگئی، چنانچہ واقع کو پیش آئے ہوئے کم و بیش ڈیڑھ سال کا عرصہ ہونے کو آرہا ہے لیکن معاملہ ابھی تک فیصل نہیں ہوا ہے۔ سمبل کا واقعہ بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ اس نے بھی ہمارے سماج کی چولیں

جعلسازی کے واقعات قابلِ تشویش !

دنیا کے بقیہ حصوں کی طرح ریاست میں بھی غیر قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعہ جعلسازوں کی طرف سے سادہ لوح عوام کو لوٹنے کا سلسلہ چل پڑاہے اور کبھی فرضی بینک بناکر لوگوں کی محنت کی کمائی لوٹ لی جاتی ہے تو کبھی کسی دوسرے طریقہ سے رقومات بٹور لی جاتی ہیں ۔ اسی طرح کاتازہ واقعہ پونچھ کے سب ڈیویژن مینڈھر میں پیش آیاہے جہاں فرضی شیئر مارکیٹ قائم کرکے مقامی لوگوں سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے اینٹھ لئے گئے ۔مینڈھر کے ایک گروہ نے پچھلے سال ایک شیئر مارکیٹ بناکر لوگوں سے اس بناپر رقومات جمع کرناشروع کیں کہ کچھ ہی عرصہ بعد ان کی یہ رقم دوگنی ہوجائے گی ۔اس طر ح اس گروہ نے کروڑوں روپے جمع کرلئے اور جب دوگنی رقم اداکرنے کا وقت آیا تو فرضی شیئر مارکیٹ چلانے والا گروہ ہی غائب ہو گیا اوراب لوگ ہاتھ مل رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے مینڈھر میں ایک طرح سے افراتفری کا ماحول برپا ہوگیا ۔ لوگوں کے غم وغصہ کا سامنا اس گرو

سرکاری ہسپتالوں میں اَدویات کی سپلائی بہتر بنانے کی ضرورت

ہماری ریاست میں شعبہ طب میں موجود کمزوریوں کے بہ سبب عام لوگوں کو جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، وہ کسی سےچھپا نہیں ہے۔ ضلعی اور مضافاتی ہسپتالوں اور ہیلتھ سینٹروں میں بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے نہ صرف شہر کے بڑے ہسپتالوں پر بوجھ میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اکثر اوقات سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے رش کی وجہ سے متعدد لوگوں کو پرائیوٹ ہسپتالوں اور نرسنگ ہوموں کا رُخ کرنا پڑتا ہے ، جہاں علاج معالجے کے نام پر اُنکی کھال کھینچنے میں کوئی کثراُٹھائے نہیں رکھی جاتی ۔ دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں معالجوں کی ایک اچھی خاصی تعداد ایسی کمپنیوں کے ادویات تجویز کرتے ہیں، جو مخصوص میڈیکل سٹوروں پر ہی دستیاب ہوتے ہیں ۔ اس کے پس پردہ کیا وجوہات ہوسکتی ہیں، اسکا اندازہ لگانا کوئی مشکل بات نہیں ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ سبھی معالج اس عمل کے قائل ہوں بلکہ متعدد ایسے حضرات بھی ہیں جو م

ماہ صیام …خدمات کی فراہمی کی یقین دہانیوں پر عمل کب ہوگا

انتظامیہ کی یقین دہانیوں اور اعلانات کے برعکس ماہ صیام میں پانی اور بجلی کی سپلائی کی صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے اقدامات بُری طرح ناکام ہو گئے ہیں۔اگرچہ ماہ صیام سے قبل انتظامیہ کی طرف سے میٹنگیں منعقد کرکے یہ اعلانات کئے گئے تھے کہ بجلی اور پانی کی سپلائی میں معقولیت لائی جائے گی اور قیمتوں کو اعتدال میں رکھاجائے گالیکن رمضان کے پہلے عشرے میں ایسا ممکن نہیں ہوپایا ہے اور ہر طرف سے پانی او ربجلی پر ہاہاکار مچی ہوئی ہے جبکہ کئی علاقوں سے ناجائز منافع خوری کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں ۔پانی اور بجلی کی کٹوتی پر جموں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہورہے ہیں اور خطہ پیر پنچال و خطہ چناب میں سپلائی کا نظام مزید خراب ہوگیاہے ۔حد یہ ہے کہ بعض اوقات نہ ہی سحری کے وقت بجلی ہوتی ہے اور نہ ہی افطاری اور تراویح کے وقت ،نتیجہ کے طور پر روزہ داروں کو ایسے

۔2019 کاالیکشن | خوبی وناخوبی کاسنگم!

آزاد   ہندوستان کا غالباً یہ پہلا ایسا پارلیمانی الیکشن ہوگا جو اپنی خوبیوں کی وجہ سے کم اور اپنی خامیوں کی وجہ سے زیادہ یاد رکھا جائے گا۔ جب بھی اس کی خامیوں کو بیان کیا جائے گا تو بہت سی باتوں کے ساتھ ساتھ ان دو باتوں کا بطور خاص ذکر ہوگا۔ ایک وزیر اعظم اور بی جے پی کے اسٹار پرچارک نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ کی سطحی بیان بازی اور دوسرے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی نااہلی و ناکارکردگی۔ سطحی بیان بازی کے زمرے میں ان کی جانب سے مثالی ضابطۂ اخلاق کی متواتر خلاف ورزیوں کو بھی رکھا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن ایک آزاد، خود مختار اور طاقتور آئینی ادارہ ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اسے اختیارات حاصل نہیں ہیں تو یہ بات قابل قبول نہیں ہوگی۔ اس سے قبل ٹی این سیشن، ایم ایس گل اور ماضی قریب میں ڈاکٹر ایس وائی قریشی نے جس طرح کمیشن کے اختیارات کا استعمال کرکے اس کے وقار میں اضافہ کیا تھا،

مہنگائی۔۔۔ انتظامی مشنری مفلوج کیوں؟

    گراں بازاری کا جو دیو ہیکل عفریت موسم سر ما سے بازاروں میں دند ناتا پھر رہا تھا، وہ دربار موکے ما بعد بلا روک وٹوک غرباء اور متوسط طبقات کو روندے چلاجارہاہے ۔ نتیجہ یہ کہ اشیائے ضروریہ اور خوردنی اجناس کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں ۔عوام کی بے بسی اور انتظامیہ کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ جہاں منافع خوروں ، ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کی من مانیاں عروج پر ہیں، وہاں ا س اہم مسئلے کے تئیںسرکاری حکام کا تجاہل عارفانہ تمام سابقہ ریکارڈ توڑ چکاہے ۔ ظاہر ہے جب حالات کی یہ شکل وصورت ہو تو ریاستی عوام کا ارباب ِ حل و عقد سے یہ بدگمانی قرین عقل ہے کہ گراں فروشوں کو لوگوں کا خون چوسنے سے باز نہ رکھنا شاید انتظامی پالیسی کا حصہ ہے ۔ ظلم بالائے ظلم یہ کہ غریب عوام کی قوتِ خرید کمزور سے کمزور تر ہو رہی ہے جب کہ گراں فروشی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہی اضافہ ہورہا ہے ۔ بنابریں عام

جنوبی ایشیاء کاخطہ۔۔۔ سنجیدہ قیادت کی ضرورت!

 جب بھی بحران دوامی صورت میںسامنے آئے تو اس سے باہر نکلنے کےلئے غیر معمول کاوشوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ دائمی بحران میںجب بھی ایسا لگنے لگتا ہے کہ حالا ت بہتری کی طرف گامزن ہیں تو اچانک کسی نہ کسی سمت سے ایسا کچھ ہوتا ہے کہ صورتحال پھر بگڑ جاتی ہے اور حالات پھر مایوسی اور بے بسی کی جانب مڑ جاتے ہیں۔دنیا بھر میںموجود طویل العرصہ تنازعات کے حوالے سے یہ ایک حقیقت رہی ہے اور ان میں تب تک کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی جب تک کوئی نئی قیادت سامنے آکر بنیادی مواقف میں انقلابی تبدیلی لاکر عام لوگوں کو اسکے شدائید سے باز یاب نہ کرے۔ جنوبی ایشیا کا خطہ بھی اس وقت ایسے تنازعات میں گھرا ہوا ہے ، لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ خطہ میں ان تنازعات کا حل تلاش کرنے کےلئے قیادت کا شدید فقدان ہے۔حالانکہ خطہ میں متعدد تنازعات موجود ہیں لیکن انکے فریقین کےدرمیان انہیں حل کرنے کا کوئی

جھیلوں کی بربادی اورہماری بے حسی!

یہ المیہ ہی تو ہے کہ ہم بحیثیت قوم اخلاقی اور انسانی قدریں ہی نہیں بلکہ حس انسانیت بھی  بڑی تیزی سے کھو رہے ہیں۔ اس ضمن میں ایک نہیں درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔اگر ہم صرف اس بات پر غور کریں کہ ہم پچھلی کئی دہائیوں سے اپنی خود غرضیوں اور غلط حرکتوں کی وجہ سے کس تیزی سے ماحولیات کو برباد کررہے ہیں اور اسکے نتیجے میں قدرتی وسائل کھو رہے ہیں تو  یقینا اندازہ ہوگا کہ ہم کس مقام پر کھڑے ہیں۔ ہمارے آبی وسائل اور ہماری جھیلیں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سکڑ رہی ہیںاور ہمارے جنگلات کا  پھیلائو تسلسل کے ساتھ کم ہورہا ہے۔میڈیا رپورٹوں کے ذریعے  بار بار کشمیر میں جھیلوں اور آبگاہوں کی تباہی  کا جو نقشہ ابھر کر سامنے آتا ہے، اس کو دیکھ کر کسی بھی ذی حس انسان کا جگر پاش پاش ہوسکتا ہے۔ایشیاء میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ولر ، جسکا رقبہ 1911میں 217مربع کلومیٹر تھا، ایک رپو

مغل شاہراہ۔۔۔۔ مسافروں کی تکالیف دور کرنے کی ضرورت!

خدا خدا کرکے پانچ ماہ سے بھی زائد عرصہ کے بعد مغل شاہراہ پر ٹریفک تو بحال ہوگیا ہے لیکن چیکنگ کے نام پر مسافروں کو روزانہ 5 گھنٹوں سے بھی زیادہ وقت تک پوشانہ کے مقام پر روکے رکھنے کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ پچھلے چند روز سے مسلسل یہ دیکھا گیا ہے کہ فوج اور پولیس کی طرف سے بفلیاز اور پیر گلی کے درمیان واقع پوشانہ کے مقام پر قائم چیک پوسٹ پر گاڑیوں اور مسافروں کی انتہائی سست روی سے چیکنگ کی وجہ سے اس جگہ بدترین ٹریفک جام لگتے ہیں اور مسافروں کو بعض اوقات 5گھنٹے سے 6 گھنٹے تک رکے رہنا پڑتا ہے اور جو مسافت محض 4 گھنٹوں میں طے کی جاسکتی ہے وہی سفر 12 گھنٹے سے کم مدت میں طے نہیں ہورہا۔ اس اذیت ناک چیکنگ سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مسافر پریشان ہوتے ہیں اور وہ وقت پر اپنی اپنی منزل بھی نہیں پہنچ پاتے۔ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مریض اور معصوم بچوں کو بھی پریشان کیا جاتا ہے۔ یہ بات قابل ذ

منشیات مخالف ریلیاں۔۔۔۔احسن اقدام!

ریاست بھر میں آج کل منشیات کےخلاف عوام کےا ندر بیداری پیدا کرنے کا ہفتہ منایا جا رہا ہے اور اس حوالےسے ضلعی انتظامیہ اور تعلیمی اداروں کی جانب سے سڑکوں پر ریلیاں برآمد کرکے سماج کے اندر تیزی کے ساتھ پھیل رہی اس خوفناک وباء کے تئیں عام لوگوں، خاص کر نوجوانوں اور طلاب میں بیداری پیدا کرنے کے جتن کئے جا رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی مہموں سے سماجی حلقوں کے اندر احساس ذمہ داری کو بیدار کرنے کی سبیل پیدا ہوتی ہے، تاہم اس چیز کے لئے ضروری ہے کہ مہم کے مقاصد میں زمینی سطح پر بدلائو لانے کے لوازم کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ سڑکوں پر ریلیاں برآمد کرکے میڈیا کے توسط سے اس مہم کے مقاصد عوام کے سامنے ضرور پہنچتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ طبقے جو اس مصیبت میں مبتلاء ہو چکے ہیں اُن سے روابطہ پیدا کرکے انہیں اس دلدل سے باہر نکالنے کے جتن کئے جائیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر دن پولیس کی ج

ماہِ صیام ۔۔۔ بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت

ہرسال حکومت اوراس کی انتظامیہ کی طرف سے ماہ صیام سے قبل علماء ومعززین کے ساتھ میٹنگیں منعقد کرکے اس بات کا اعلا ن کیاجاتاہے کہ بجلی اور پانی کی سپلائی میں معقولیت لائی جائے گی جبکہ صفائی ستھرائی کے انتظامات کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کی قیمتوںکو بھی اعتدال میں رکھاجائے گالیکن عملاً  ایسا ہوتا نہیںہے اور عوام کو انہی مسائل کا ماہ رمضان میں بھی سامنا رہتاہے جو پورے سال درپیش رہتے  ہیں ۔ماضی میں یہ دیکھاگیاہے کہ بندکمروں میں دی جانے والی یقین دہانیوں کے باوجود ماہ صیام میں بازاروں میںناجائز منافع خوری بھی ہوتی ہے اور پانی و بجلی کی سپلائی میں کٹوتی بھی عروج پر رہتی ہے ، یہاں تک کہ بعض اوقات سحری اور افطاری کے وقت بھی بجلی دستیاب نہیں ہوتی ۔اسی طرح سے دیگر سہولیات کی فراہمی کے وعدے بھی سراب ثابت ہوتے رہے ہیں ۔ سالہاسال سے چلی آرہی اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس مرتبہ بھی رمضان

پیشہ ورگداگری کی حوصلہ شکنی کر یں

 ماہ صیام برکتوں اور فیض رسانیوں کا مہینہ ہے ۔ اس بر کت والے ماہ میں نہ صرف اہل اسلام میں عبادات کا ذوق شوق بڑھ جاتا ہے بلکہ لوگ خیرات و صدقات اور زکوٰۃ سے غربیوں اور ناداروں جیسے کاموں میں بھی خلوص دل کے ساتھ پیش پیش رہتے ہیں ۔ اسلام نے سماج کے صاحب ِ ثر وت طبقے کو سماج کے پچھڑے ہو ئے طبقات ، عام غرباء ، مساکین ، محتاجوں اور محروموںکے علاوہ کئی دیگر زمروں کے صاحب ِاحتیاج لوگوں کی مالی امداد کرنے کی کافی ترغیب دلائی ہے ۔ یہ خیراتی کام علی الخصوص ماہ صیام میں کافی زور پکڑتاہے ۔ اجر وثواب کا یہ کام کرتے ہوئے اس حقیقت کونظروں سے اوجھل نہیں کیا جانا چاہیے کہ دین اسلام پیشہ ورانہ گداگری کی زبردست حوصلہ شکنی کرتا ہے ۔ یہ دین بتاتاہے کہ اوپر والے ہاتھ کو نیچے والے ہاتھ پر فضیلت حاصل ہے ، یعنی ہمیں دینا والا ہاتھ ہونا چاہیے، نہ کہ مانگنے والا ہاتھ۔ افسوس کہ  کلمہ خوانوں میں دینے والے

دربار کی آمد۔۔۔۔ اب ٹریفک کا کیا حال ہوگا؟

 شہر سرینگر میں ٹریفک کا بحران ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سنگین تر ہوتا جارہا ہے اور یہ گتھی ہے کہ سلجھنے کی بجائے مزید الجھتی ہی جارہی ہے ۔دربامو کے ساتھ ہی اب جبکہ مؤ کے ساتھ سے منسلک دفاتر سرینگر میں کھلیں گے ، اس بحران میں مزید شد ت آنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب جہانگیر چوک رام باغ فلائی اُور کی تعمیر کا کام لمبا کھینچ جانے کی وجہ سے سول لائنز کی ہر چھوٹی بڑی سڑک پر ٹریفک جام کی پریشانی اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے۔ اگر چہ اس حوالے سے ٹریفک محکمہ کی طرف سے وقت وقت پر روٹ پلان جاری کئے جاتے ہیں،لیکن زمین پر انکا کوئی اثر نہیں دیکھنے کو ملتا۔ شہر سرینگر کے اکثر علاقوں میںصبح اورشام کے وقت لگنے والے ٹریفک جامو ںسے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ دفترجانے والے لوگوں اور سکولی بچو ں کو ان ٹریفک جاموں کی وجہ سے اپنی منزل تک پہنچنے میںبعض اوقات گھنٹوں کی تاخیر ہوجاتی ہے۔شہر کے بیشتر علاقوں،جن

در بارمُو…سرمائی ہو یا گرمائی، عوام کےلئے دردسر!

چھ ماہ تک سکریٹریٹ جموں میں رہنے کے بعد اب سری نگر میں کھْل رہا ہے اور عوام کوضروریہ اْمید ہے کہ متعلقہ محکموں میں کام کاج بغیر کسی تاخیر کے شروع ہوگا تاکہ دربار کی منتقلی کے سبب رْکے پڑے کاموں کی انجام دہی کی راہ ہموارہو۔ اگرچہ سرینگر اور جموں میں باری باری دربار کا لگنا اور بند ہونا کوئی نہیں بات نہیں ہے بلکہ یہ کم و بیش گزشتہ ڈیڑھ صدی سے جاری ہے اور یہ عمل ہر دور میں ریاستی عوام کے لئے ایک مصیبت سے کم نہیں رہاہے۔کیا کبھی جموں کشمیر میںاس فرسودہ روایت کا خاتمہ ہوگا، جو اقتصادی لحاظ سے اس پسماندہ ریاست کے خزانہ عامرہ پر ایک غیر ضروری بوجھ ہے؟عقل کا تقاضا ہے کہ جس ریاست کے پاس اپنے ذرائع سے ملازمین کی تنخواہیں فراہم کرنے کی سکت بھی نہ ہو، اس میں اس طرح کی شاہ خرچیوں کا تصور کرنا بھی حماقت ہے۔ ڈوگرہ شخصی حکمرانوں کے پاس دربار مو کی روایت قائم کرنے کی ایسی وجوہات تھیں جس کا موجودہ زمینی

آدھی ادھوری سڑکیں ۔۔۔۔۔پہاڑی خطوں کا دردِ سر!

حکام کی طر ف سے اس با ت کے دعوے تو کئے جاتے ہیں کہ گائوں گائوں کو سڑک روابط سے جوڑاگیاہے لیکن ان دعوئوں کی قلعی بارشوں کے موسم میں کھل کر سامنے آجاتی ہے جب آدھی ادھوری سڑکیں مقامی آبادی کیلئے باعث عذ اب بن جاتی ہیں اور پھسلن میں گاڑیاں تودور پیدل چلنا بھی محال ہوجاتاہے ۔اگرچہ حالیہ برسوں کے دوران گائوں دیہات کو سڑک روابط سے جوڑنے کیلئے پی ایم جی ایس وائی ، نبارڈ اور دیگر سکیموں کی مدد سے اچھا خاصا کام ہواہے تاہم سڑکوں کی تعمیر مکمل نہ ہونے کے نتیجہ میں یہی سہولت لوگوں کیلئے تکلیف اور پریشانی کا باعث بن رہی ہے ۔حالیہ عرصہ میں خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب میں بارشیں ہوئی ہیں اور موسم عموما ًخراب ہی رہاہے جس کے نتیجہ میںجہاں پسیاں گرآنے سے انسانی جانوں کازیاں ہواوہیں سڑکوں کے باربار بندہونے اور کھلنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔ان خطوں کے پہاڑی اور دوردراز علاقوں میں صورتحال انتہائی پریشا

سفیدوں کا زرِ گُل۔۔۔ عوام کےلئے مصیبت!

وادی کشمیر کے عوام پر سیاسی آندھی طوفان اب زندگی کا ایک معمول بن گیا ہے اور وہ اپنی کمزوری اور بے بسی کے بہ سبب اسکے وار سہنے پر مجبور ہیں، لیکن دوسری جانب انسان ساختہ مصائب بھی کچھ کم نہیں جنکی وجہ سے عام لوگوں کو جھوجھنا پڑتا ہے۔ سفیدوں کے درختوں سے اُڑنے والے روئی کے گالے جیسے زرگلPOLLENنے فضا کو بُری طرح آلودہ کرنا شروع کر دیا ہے۔کئی ایسے علاقوں میں ،جہاں سفیدوں کے درخت اچھی خاصی تعداد میںہیں، راہ چلتے لوگوں کے لئے سانس لینا بھی دشوار بنتا جا رہا ہے اور اس وبا سے ہر سال چھاتی کے امراض میں مبتلا ء ہونے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ زرِگل کے یہ گالے ہوائوں میں اُڑ کر گھروں کے اندر بھی داخل ہوتے ہیں جہاں اکثر چھوٹے بچے اسکا تختہ مشق بن جاتے ہیں۔ اس کے اس قدر باریک ریشے جو ننگی آنکھ سے دکھائی بھی نہیں دیتے آنکھ، ناک اور منہ کے راستے جسم میں داخل ہو کر انواع و اقسام کی ب

پہاڑی علاقوں میں شاٹ سرکٹ کا بحران

گزشتہ ہفتے پونچھ کے مینڈھر علاقے میں بجلی شارٹ سرکٹ کی وجہ سے دو نوجوانوں کی موت ہوگئی جبکہ 6افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعہ میں مینڈھر کے چھونگاں چرون میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا اور لوگوں کے گھروں میں موجود الیکٹرانک آلات یا تو جل گئے یا انہیں جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ اس واقعہ سے ریاست کے دور افتادہ علاقوں میں بجلی کے نظام کا پتہ چلتا ہے۔بجلی شارٹ سرکٹ کے واقعات عموماپیش آتے رہتے ہیں اور اس کی وجہ بجلی کا خستہ حال نظام اور محکمہ کے افسران اور ملازمین کی لاپرواہی مانی جاتی ہے۔ مینڈھر واقعہ پر مقامی لوگوں میں سخت غم و غصہ پایا جارہا ہے اور انہوں نے اس کی تحقیقات کرکے لاپرواہ ملازمین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔بجلی نظام کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو زمینی سطح کی صورتحال انتہائی خراب نظر آتی ہے۔ دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں جہاں بجلی کی ترسیلی لائنیں سرسبز درختوں سے باندھی