’’شہر‘‘

پلاسٹک کی میز پر چڑھ کر سونو نے نعمت خانے کی الماری کا چھوٹا سا کواڑ وا کیا تو اندر قسم قسم کے بسکٹ، نمک پارے، شکر پارے اور جانے کیا کیا نعمتیں رکھی تھیں۔ پل بھر کو وہ ننھے سے دل پر کچوکے لگاتاہواغم بھول کر مسکرادیا ۔ لباس ِخواب کی لمبی آستین سے سوکھے ہوئے آنسوؤں بھرے رخسار پر ایک تازہ بہا آنسو کا قطرہ پونچھ کر اس نے  بسکٹ کاڈبّہ ہاتھ میں لے لیا اور اپنے پانچ سالہ وجود کا بوجھ سنبھالتا ہوا میز سے نیچے اتر آیا۔ اسے بھوک بھی بہت لگی تھی۔ آج صبح سے اس نے کچھ نہیں کھایاتھا، اس کی چھوٹی سی اڑھائی برس کی بہن ثوبیہ بھی صبح سے بھوکی تھی۔ سارا دن وہ مسہری  پر لیٹی اپنی ممی کو پکار پکار کر تھک گئی تھی اور بہت زیادہ روتے رہنے کے باعث نڈھال سی ہوکر اس نے اپنا گھنگھریالے بالوں والا ننھا سا سر اپنی امی کے پھیلے ہوئے بازو پر رکھ چھوڑا تھا۔ د ن بھر شاید وہ سوتی رہی تھی اور کچھ دیر پہلے

پاگل

ہسپتال کا ایمرجنسی واڑوہ جگہ ہے جہاں معجزے اور موت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔یہاں لائے جانے والے مریض تقریباً مردہ حالت سے دو بارہ زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں اور کبھی موت انھیں ڈاکٹروں کے ہاتھوں سے یوں اچک لیتی ہے کہ زندگی بھی حیران رہ جاتی ہے۔ میرا نام ڈاکٹر سہیل ہے اور میں گزشتہ تین سال سے شہر کے ایک بڑے ہسپتال کے ایمرجنسی واڑ میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہوں۔اس عرصہ میں،میں نے یہاںبے شمار لوگوں کو دم توڑتے اور ان سے بھی زیادہ لوگوں کو شفایاب ہوتے دیکھا ہے۔ڈاکٹروں کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ وہ احساسات اور جذبات سے عاری ہوتے ہیں کیوں کہ وہ ہمہ وقت حادثوں کا ایک حصہ بنتے ہیںپھر انسانی جذبات پر قابو بھی پالیتے ہیں۔لیکن نہ جانے کیوں ہر مریض کے نقوش میرے ذہن میں گھر کرجاتے ہیں۔میرے ذہن کے کینوس پربہت سی مسکراہٹوں  اور ان گنت آنسوں کی تصوریں آویزاں ہیں۔پانچ ماہ قبل ایک بیس برس کے نوجو

ارمغانِ نحویؔ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شعر و فکر کا نادر تحفہ

عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ مشرقی علوم وفنون کے رمزشناس ہوتے ہیں ان کی فکر وافکار میں پختگی پائی جاتی ہے۔مولانا غلام حسن نحویؔ کی فکر وافکار اور کلام کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ آپ نہ صرف عربی ‘فارسی‘اردو اور کشمیری زبان کے ادب عالیہ کے رمز شناس تھے بلکہ عملی طورپر‘ اس علمی ‘فکری اور روحانی سرمایہ میں اپنے علم وفضل کے جواہرسے اضافہ کرنے میں شریک بھی رہے ‘جس کا ثبوت’’ارمغانِ نحویؔ‘‘کی صورت میں موجود ہے۔ان کی یہ کوشش معروف اقبال ؔ شناس اور آپ کے خلف رشید پروفیسر بشیر احمد نحویؔ کی محنت شاقہ کی بدولت کتابی صورت میں علم وادب کے شائقین تک پہنچی ہے۔ کتاب گوشۂ منظومات اورگوشۂ مضامین وپیغامات پر مشتمل ہے۔ گوشۂ منظومات کلام نحویؔ پرمشتمل ہے اور گوشۂ مضامین میں کئی معروف دانشوروں اور مصاحبوںکی تحریرات اور پیغامات شامل ہیں ‘جن میں مولانا غ

نئی شروعات

گھر والے اُسے میرا کمرا کہتے ہیں۔ لیکن اصل میں وہ ایک کوڈے دان سے کم نہيں تھا ۔کتابیں،کپڑے، باقی ضرورت کی چیزیں سارے کمرے میں بکھری پڑی رہتیں۔ میں انہیں اور وہ مجھے ایسے دیکھتیں جیسے کہ وہ قیدی اور میں دربان، جو آٹھوں پہر ان کی نگرانی کرتا۔ ہر روز اپنے آپ سے کہتا کہ کل صفائی کروں گا لیکن ہر دن کل پہ ہی چھوڑدیتا ۔اس طرح وہ کل کبھی آیا ہی نہیں۔! ایک کرسی تھی جو میری وفادار تھی ۔میں اکثر اُس پہ ٹیک لگا کر سوجاتا  اور کھبی کھبی اس پر بیٹھ کر کچھ لکھ یا پڑھ لیتا۔ میں آج بھی اسی لکڑی کی کرسی پہ آنکھیں بند کئے ہوے کسی گہری سوچ میں تھا کہ اچانک چوڑیوں کے کھنکنے کی آواز خاموشی کو توڑتی ہوی میرے کان کے پردوں سے ٹکرائی جیسے کوئی سریلا ساز بج اُٹھا ہو اور پھر پائیل کی آواز نے اس ساز میں اور بھی مٹھاس بھر دی ۔کوئی اچانک میرے کمرے میں آگیا ۔آتے ہی اُس کا سامنا بکھری ہوئی کتابوں اور کپڑ

چاند کے پاس جو تارا ہے

گلال رنگوں، روشنیوں، آبشاروں، بہاروں، نظاروں اور چاند تاروں کا دیوانہ تھا۔ یمبرزل وادی کا شہزادہ۔ بچپن میں سے والدین کے سائے سے محروم ہوا تھا۔ ماں کا جب انتقال ہو ا تو باپ نے ایک الگ دنیا بسائی۔ آسودہ حال اور رحم دل نانا نے شہزادوں کی طرح پرورش کر کے گلال کی دنیا آباد کی۔ خوبصورت سراپے اور جگمگاتی ہوئی آنکھوں اور دمکتے پہناوے سے وہ سچ مچ شہزادہ لگتا تھا۔ نانا نے علم کے نور سے بھی منور کرایا۔ اپنی نصف وراثت کا وارث بنا کرعزت بخش دی ۔ برسرِ روزگار ہوتے ہی اس کی شادی سُنبل سے کرا دی۔  سُنبل بھرے بھرے بدن اور درمیانہ قد کی نٹ کھٹ، چنچل اور شریر سی سانولی رنگت والی دلکش لڑکی تھی، جس کے ہونٹوں پر ہمیشہ دلکش سی مسکراہٹ کھلی رہتی تھی۔ بات ایسے کرتی جیسے دنیا بھر کی معصومیت اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہو۔ ہنستی ایسے جیسے موتی کے دانے ایک ساتھ بکھیر رہی ہو۔  گلال اور سنبل ہم جماعت

افسانچے

می ٹُو ملک میں می ٹُو کا نعرہ بلند ہُوا تو اس نے بھی سنا۔بند زبانوں کے تالے کھلنے لگے۔مردوں کے تشدد کا شکار ہوئی لڑکیاں سامنے آرہی تھی کھُل کے۔وہ دن بھر اپنے بند کمرے میں بیٹھی اسی کشمکش میں تھی کہ آج وہ بھی سامنے آئے یا نہیں۔آخر اس نے می ٹو والوں کا فون ملایا مگر دیوار پہ ٹنگی ماں کی تصویر پہ نظر گئی، جسے مرے ہوے دوسال ہونے کو آرہے تھے۔ماں کی آنکھوں سے آنکھیں ٹکرائیں۔۔اسے محسوس ہُوا کہ ماں کی اداس آنکھیں اس سے کچھ کہہ رہی ہیں۔” بیٹی۔۔گھرانے کی لاج بچا۔۔۔خاموش ہی رہ۔۔۔۔دنیا کا بنانے والا اسے خود سزا دیگا۔۔۔۔۔تمہارا ڑیڈی اس رات ہوش میں نہیں تھا۔۔پی کر گھر آیا تھا۔۔۔۔۔“   تعبیر ایک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ کوئی انسان اس کو انار کے دس پندرہ دانے دیتا ہے کھانے کے لئے۔اور دوسرا آدمی سرینج سے پندرہ بار خون نکالتا ہے۔وہ پیر بابا کے پاس گیا خواب کی

افسانچے

’’ ہیرے کی پہچان‘‘  ’’امام صاحب آپ ایک بار ڈاکٹر سنگیتا جی سے ضرور مشورہ لیں وہ ان امراض کی اسپیشلسٹ ہیں۔ ‘‘ محلے کے سب سے بزرگ مقتدی نے امام صاحب کو مشورہ دیا۔  دوسرے دن جب امام صاحب ڈاکٹر سنگیتا کے کلینک پہنچے تو کلینک میں بہت بھیڑ تھی۔ تمام لوگ قطار میں بیٹھے اپنے نمبر کا انتظار کر رہے تھے۔  ٹکٹ کاونٹر سے امام صاحب بھی ٹکٹ لے کر قطار میں بیٹھ گئے۔ اتنے میں کاونٹر پر بیٹھا لڑکا اندر ڈاکٹر کے کیبن میں گیا اور باہر آتے ہی امام صاحب کے پاس آکر کہنے لگا ''مولوی صاحب ڈاکٹر صاحبہ آپ کو بلا رہی ہیں۔۔‘‘  امام صاحب جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو ڈاکٹر سنگیتا نے آداب کہتے ہوئے بیٹھنے کو کہا۔ ابتدائی معائنے کے بعد ڈاکٹر سنگیتا بولی ''مولوی صاحب یہ کچھ ٹیسٹ کروا لیں۔ ''

پھولوں کے سوداگر

رمضان تانترے جسے لوگ عام طور پر رنبہ تانترے کے نام سے جانتے رُوسا گائوں کا رہنے والا تھا۔ اُن کا خاندان کئی پشتوں سے باغبانی کے پیشے سے وابستہ تھا اور وہ خود بھی ایک ماہر باغبان تھا۔ رُوسا گائوں اُن چند چھوٹے چھوٹے دیہات میں ایک تھا جو پہاڑ کے دامن میں سبز جھیل کے کنارے کئی صدیوں سے آباد تھے۔ کہتے ہیں جب مغلوں نے سبز جھیل کے کنارے کئی باغ بنوائے تومختلف جگہوں سے باغبان لاکے اُنہیں پہاڑوں کے دامن میں بسایا گیا تا کہ ایک تو باغات تعمیر کرنے میں آسانی ہو دوسرے ان کی دیکھ بھال بھی صحیح طریقے سے ہوپائے۔ رُوسا گائوں اور اس کے آس پاس میں رہنے والے بیشتر لوگ اب بھی باغبانی کے پیشے سے منسلک تھے۔ رنبہ تانترے پورے علاقے میں باغبانی کی مہارت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ عام طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ رنبہ نے جس بھی باغ میں کام کیا اُس میں چار چاند لگادیئے، جیسے اس کے ہاتھ میں جادو تھا۔ لوگ

آخری داؤ

نفسیاتی امراض کے اسپتال جسے عرف عام میں پاگل خانہ کہا جاتا ہے کی انتظامیہ کی اجازت کے بعد ہم اپنے پیشہ ورانہ فرائیض کی انجام دہی کے لئے اسپتال کے مختلف اطرا ف میں پھیل گئے تاکہ یہاں زیر علاج نفسیاتی مریضوں کی حالت کا بچشم خود مشاہدہ کر سکیں۔بار باریہاں کے  ناقص انتظام اور مریضوں کے ساتھ نا روا سلوک کی شکائیتیں ملنے کے بعد صحافی برادری نے کچھ ہفتے قبل پاگل خانے کا چکر لگا کر یہاں زیر علاج مریضوں کی زندگی ،حرکات و سکنات اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کا مشاہدہ کرکے ایک رپورٹ تیار کرکے اخبارات اور جرائید میں شایع کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔وہاں آہنی سلاخوں سے بنے دروازوں والی کوٹھریوں میں بند پا گل عجیب عجیب حرکتیں کرتے تھے ۔ایک کوٹھری میں ایک پاگل پروفیسر بن کر دوسرے پاگلوں کو لکچر دے رہا تھا ۔دوسری کوٹھری میں دو پاگل کھڑے ہو کر سیا سی لیڈروں کے انداز میں باری باری دوسرے پاگلو

کچھ ایسی ہوا چلی ہے

مارکیٹ میں چلتے چلتے وہ اچانک بائیں جانب مڑ کر بولی۔ ’’  بھیا۔۔۔  مجھے تنگ مت کرو۔مجھے ڈیوٹی کے لئے دیر ہورہی ہے۔‘‘ ایک چھوٹا سا بچہ اس کا دوپٹہ زور سے کھینچ رہا تھااور اس کو دکان کی طرف چلنے پر مجبور کر رہا تھا۔ دکان طرح طرح کے کھلونوں سے بھری پڑی تھی اور بچہ کھلونا خریدنے کے لئے اصرار کرتے ہوئے  ’’ دیدی ۔مجھے وہ کھلونا خرید کر دو نا۔‘‘ اس نے Teddy bear کی طرف اشارہ کیا۔ ’’دیکھ بھیا۔میری جیب میںاتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں تیرے لئے Teddy bear خرید سکوں۔حپ چاپ چلتے بنو ۔ورنہ میں تھپڑ  ماروںگی۔‘‘ یہ سنتے ہی بچہ زمین پر بیٹھ کر پائوں پسارکے رونے لگا۔شگفتہ اس کو چپ کرانے کی کوشش کرتی رہی مگر بچہ رویئے جارہا تھا۔اتنے میںراہ چلتے لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور شگفتہ ؔسے طرح طرح کے

کیوں دھڑکتا ہے دل؟

 پیشے سے ایک قصاب ہوں ، شاید اس لئے لوگ مجھے مضبوط اوسان کا مالک اور سنگ دل سمجھتے ہیں، لیکن مضبوط سے مضبوط انسان کی زندگی میں بھی ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ کمزور پڑ جاتا ہے اور اُس کادل کسی دوسرے کی خاطربے اختیار دھڑک ہی جاتا ہے۔لاکھ پتھر ہولیکن دل، احساس کے طوفان میں ڈوب کر دوسرے دلوں میں اُمڑنے والے درد و غم پر، پسیج ہو ہی جاتا ہے۔یہ کمزور لمحہ میری زندگی میں بھی آیا اوراب تک کی زندگی کا سب سے بے دادگر لمحہ ثابت ہوا۔یہ لمحہ میری زندگی کے ایک ایسے دن میںسربستہ تھاجس دن میںبستی کے دیگرمردوں کے ہمراہ کریک ڈاون میں بیٹھاتھا۔  یوں تو طلوعِ آفتاب سے قبل ہی گولیوں کی گھن گرج مکمل طور پر بند ہو چکی تھی لیکن جھڑپ میں کیا ہوا تھا ،اس سے ہم میدان میں ٹھٹھررہے لوگ بے خبر ہی تھے ۔ نومبر کی اِس ٹھنڈی سی صبح کو مشرق سے آفتاب کی گرم شعائیںتھرتھراتے جسموں کیلئے راحت کا تھوڑا

قوس قزح

اب بھی رنگوں میں قوس قزح کی لکیر اپنی تمام رعنائیوں سے اُبھرتی ہیں۔ وہ ، وہ قوس قزح ہے جو اُبھر تی ہے، کھوجاتی ہے اور میں چپکے سے اس کے کان میں کہہ دیتا ہوں  ۔  ۔  ۔ ’’تم قوس قزح ہو! ‘‘ وہ اپنی بڑی بڑی ، موٹی موٹی آنکھوں سے خاموش رہنے کا حکم دیتی، وہی آنکھیں جن میں درد اور کرب کی پرچھائیاں نظر آتی تھیں۔ لیکن ان آنکھوں نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا  ۔  ۔  ۔  اب  ۔  ۔  اب میں اپنے آپ کو اضطراب، بے چینی، بے بسی کے عالم میں تڑپتا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ وہ کتابی چہرہ اب بھی نظر کے سامنے ہے جس پر دو موٹی موٹی آنکھیں سنجیدگی اور خاموشی کی پرچھائیاں معلوم ہوتی تھیں۔ اس کی کمر پر بالوں کی لمبی چوٹی، اس کی صحت مند پیٹھ اور اس کے کانوں میں چمکتی اور جھولتی ہوئی بڑی بڑی بالیاں! دو سال ہوگئے  ۔  ۔&

آدھا لَنچ

گھنٹی بج گئی۔لنچ کا وقت ہوگیا۔سبھی بچوں نے اپنا اپنا ٹفن کھولا اور کھانا کھانے میں مشغول ہوگئے۔اساتذہ صاحبان اپنے اپنے کلاس روموں میں بیٹھے بچوں کے کھانا کھانے کے الگ الگ انداز سے لطف اٹھا رہے تھے۔اسی اثنا میں نقاش نام کا ایک شاگرد اپنے استاد سے کہنے لگا ”سر آئیے ہمارے ساتھ کھانا کھائیے“۔ ”آپ کھاؤ بیٹا“ استاد نے کہا۔ نقاش کے بار بار اصرار کرنے پر صنان نام کے اِس استاد نے آخرکار دو،تین چمچ تناول کئے اور ٹفن اس کو واپس کر دیا۔ دوسرے دن جب لنچ ٹائم ہوگیا تو تھوڑی دیر بعد نقاش نے خود آدھا کھانا کھا کر اسی استاد کو ٹفن دے کر بچاہوا کھانا کھانے کے لیے دیا۔چونکہ بچپن میں ہی صنان نے ”کھانے پینے کے آداب“میں یہ بات پڑھی تھی کہ ”اگر کوئی آپ کو  کچھ کھانے پینے کے لیے پیش کرے تو اس کو ہر گز ٹھکرانا نہیں چاہیے، حتیٰ کہ اگر آپ اس چیز

رکھشا بندھن

وہ ضلع اننت ناگ کے ا یک خوبصورت گاؤں سے جب سرینگر آیا تو اس کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ اس کے گاؤں میں پنڈت اور مسلم صدیوں سے ایک ساتھ مل جھل کر رہتے آ رہے تھے۔ وہ ایک غریب گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ خدا نےاس کو شکل و صورت کے علاوہ قابلیت اور ذہانت سے نوازا تھا۔ اس نے انٹرنس کا امتحان امتیازی مارکس کے ساتھ پاس کر کے میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کے لیے داخلہ لیا۔ پورے گاؤں میں یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ رمیز چاچا کا بیٹا شاداب ڈاکٹر بن گیا۔ گاؤں کے سارے لوگ ، مسلم و پنڈت یکجا، رمیز چاچا کے گھر مبارکباد دینے کے لیے آئے۔ رمیز چاچا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ مگر اندر ہی اندر انہیں اس بات کی فکر ہو رہی تھی کہ اب شاداب کی پڑھائی اور رہنے کے خرچے کا انتظام کیسے ہوگا۔ بیٹے کی خاطر انہوں نے یہ بات دل میں ہی چھپا لی اور کچھ پیسوں کا انتظام کر کے سرینگر پہنچ گئے۔کالج میں بیٹے

گلستان سعدی شِنا زبان میں۔۔۔ ایک مثبت کوشش

جموں وکشمیر کی ریاست تاریخی اعتبار سے مختلف زبانوں اور بولیوں کی آماجگاہ رہی ہے۔ ان ہی زبانوں میں شنا بھی شامل ہے اور اس خطہ اراضی کے بہت سارے علاقوں میں بولی جاتی ہے ۔ جن علاقوںمیں شنا زبان بولی جاتی ہے اُن میں دراس، گریز، تلیل، داچھی گام اور چندر کوٹ وغیرہ شامل ہے ۔ شنا زبان کو دُنیا کی پُرانی زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے اب یہ زبان بھی دُنیا کی ناپید ہونے والی زبانوں کی فہرست میں شامل ہے ۔ اس زبان کی شمع کو جلائے رکھنے میں مسعود الحسن سامون صاحب کا بہت زیادہ کردار ہے ۔ سامون صاحب جموں کشمیر کے اعلیٰ پائے کے بیروکریٹ رہ چُکے ہیں ۔ اب شنا زبان کی خدمت میں دن رات مشغول ہیں ۔ سامون صاحب کی کتاب ’’پُشْوں باغ‘‘ اصل میں شیخ سعدی شیرازی کی عالمی شہرت یافتہ کتاب ’’گلستان‘‘ کا شنا ترجمہ ہے ۔ شنا زبان میں اب تک بہت ہی کم لکھا گیا ہے اور ترجمہ تو

بہاروں کے رنگ

"جوان بیٹی گھر میں ہے، کتنی بار آپ سے کہہ چکی ہوں کہ اس کی  شادی کروا دو کہیں۔ آخرکار رشتے بھی تو آ رہے ہیں مریم کے لئے ۔کسی ایک کو ہاں کیوں نہیں کہہ دیتے" درد کی ماری صائمہ نے اختر کو خوب کھری کھوٹی سنائی۔  اختر نے چائے کا پیالہ ختم کرکے بستہ اٹھایا اور کام پر نکل گیا ۔عید کے موقع پر لوگ شہر سے اپنے گاؤں کو لوٹ رہے تھے جس کی وجہ سے ریلوے اسٹیشن پر اچھا خاصا رش رہتا تھا ۔جس کے چلتے اختر بھی اچھی خاصی رقم کمال لیتا تھا۔ اختر ہر روز اپنی کمائی کا دس فیصد حصہ اپنے گھر میں رکھے بکسے میں علیحدہ سے جمع کر دیتا تھا۔ اور یہ کام پچھلے پندرہ سال سے کرتا آ رہا تھا۔ اور پھر کچھ روز بعد عید بھی آ گئی۔ نماز اور دن کی مصروفیات کے بعد اختر دیر شام گھر واپس پہنچا۔ کھانا کھانے کے بعد اختر کو خیال آیا کہ کیوں نہ آج جمع کی گئی رقم کر تھوڑا گن لیا جائے ۔ اس ن

رشتہ

اُس نے کبھی اتنا خوبصورت باغ نہیں دیکھا تھا۔باغِ گُل لالہ وہ کئی بار گئی تھی لیکن اس باغ کے سامنے باغِ گُل لالہ ہیچ تھا۔ہوا کے ہلکے جھونکے پھولوں کی مہک اُس کی جانب لے آتے اور اُس خوبصورت مہک سے وہ چند لمحوں کے لیے مدہوش ہوجاتی۔جہاں تک اُس کی نگاہیں جاتی ،وہاں تک صرف رنگارنگ پھولوں کی کیاریاں نظر آتی تھیں۔پھولوں کی رنگارنگ اقسام کے ساتھ ساتھ اس خوبصورت باغ میں چنار کے تناور درخت بھی تھے، جن کے سائے تلے درجنوں لوگ لطف اندوز ہورہے تھے۔وہ ابھی باغ کا مشاہدہ کرنے میں ہی منہمک تھی کہ اچانک اُس کی نگاہ دور کھڑے ایک شناسا سے چہرے پر اٹک گئی۔اُس نے آنکھیں بند کرکے یاد کرنے کی کوشش کی اور اچانک اُسے ایک شاک سا لگا۔وہ اپنے ساتھ بڑ بڑانے لگی ،’’اوہ میرے خدایا۔۔یہ تو۔۔یہ تو ابو ہیں۔‘‘ اتنی دیر میںوہ شناسا سا شخص اُس کے قریب پہنچ کر اُس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔چند لمحوں ک

پلکوں میں چُھپے خواب!

سنڈے مارکٹ ۔۔۔  نام سنتے ہی ڈر اور خوف کی لہر جیسے میرے بدن سے چھوکر نکل گئی  ۔ یہاں کے حالات ہی کچھ ایسے  ہوگئے تھے کہ بھیڑ بھاڑ والے  بازاروں میں جانے سے خوف آتا تھا۔  پتا نہیں کب کیا حادثہ ہوجائے ۔گولیاں چلنے اور کہیں بھی بم پھٹنے کے واقعات عام ہورہے تھے۔   لیکن میرا جانا ضروری تھا۔  یہ میرے بابا کا حکم تھا۔ بابا بیس بائیس سال پہلے حج سے ایک ریڈیو سیٹ لائے تھے، جوچندمہینے پہلے خراب ہوگیا۔ بابا کے حکم سے میں نے کئی میک نکس کو دکھایا لیکن یہ ٹھیک نہیں ہوا۔ سب نے یہی بتایا کہ اس کی کوئی آئی سی(IC) خراب ہوچکی ہے، جو یہاں نہیں مل سکتی ۔  اب یہ ریڈیو کا زمانہ بھی نہیں تھا۔ ٹی وی پر لائیونیوز چینلز کی بھر مار تھی۔بابا سے نیا ریڈیو سیٹ لاکے دینے کی بھی بات کہی۔ لیکن بابا کو کون سمجھائے ۔وہ اسی کو ٹھیک کروانے میں لگے تھے۔ پھر کسی نے ان سے کہ

تانیثیت

 اسٹیج پر ڈسکورسز چل رہے تھے اور محفل میں قدآور شخصیات نے اپنے  اپنے خیالات کو منصۂ شہود پر لانے کے بعد حتی الامکان داد طلب کی۔ جبھی اینکر نے آواز دی .... ’’اب ہم صاحبہ جی کو شہ نشین پر مدعو کرتے ہیں ......اور وہ تانیثیت کے موضوع پر تھوڑی روشنی ڈالے لیں گی.........‘‘ صاحبہ جی بڑے عالمانہ  تفاخر سے شہ نشین پر آئیں اور تانیثیت پر برملا اظہار خیال کرنا شروع کیا۔صاحبہ جی نے اپنی بات کا آغاز اس جملے سے کیا؛ ’’ مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں یہ بس ذہنوں کی پیدا کردہ تفریق ہے جس سے عورت کو کمزور بنا کے اس پر حکمرانی کی جاتی ہے۔‘‘  صاحبہ جی بار بار انگریزی میں یہ جملہ دہرارہی تھی کہ.......’’i am equal to man‘‘ (میں مرد کے برابر ہوں) اس فقرے پر اسٹیج پر بیٹھے حضرات اور سامعین تالیاں

’’کیوں نا‘‘؟

دن بھر کی دفتری مصروفیات سے فراغت پانے کے ساتھ ہی گھر کی جانب نکل پڑا تو حسب معمول مغرب کی اذان راستے میں ہی سنی ۔ خزاں کی سرد شام اور ہلکی بونداباندی سے بدن ٹھٹھر رہا تھا اور گاڑی کے انتظار نے مزید بےقرار کر دیا ۔ عجیب پریشانی میں مبتلا ہوکر ہر آتی گاڑی کا تعاقب کرتا رہا۔ گاڑی کے انتظار میں جب بہت وقت گزرا تو پریشانی کے عالم میں قسمت نے یاوری کی اور میں سواریوں سے کھچا کھچ بھری ایک بس میں سوار ہوا ۔ اپنی عادت سے مجبور میں نے بھیڑ کو چیرتے ہوئے وسط میں جگہ بنا لی۔ گاڑی آگے بڑھتی گئی اور میں اپنی ہی سوچوں میں گم،  اپنی قسمت کو کوسنے لگا ، یہ کیا نہیں،  وہ ہوا نہیں،  یہ ہونا چاہیئے وغیرہ وغیرہ ۔  ابھی میں بیزاری کے تصور میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک بھری گاڑی میں سامنے کی سیٹ پر براجمان ایک جوان شخص زور سے چلایا ۔۔ ’’ کیوں نا ۔۔کیوں نا۔‘‘ می

تازہ ترین