تازہ ترین

رشتہ

اُس نے کبھی اتنا خوبصورت باغ نہیں دیکھا تھا۔باغِ گُل لالہ وہ کئی بار گئی تھی لیکن اس باغ کے سامنے باغِ گُل لالہ ہیچ تھا۔ہوا کے ہلکے جھونکے پھولوں کی مہک اُس کی جانب لے آتے اور اُس خوبصورت مہک سے وہ چند لمحوں کے لیے مدہوش ہوجاتی۔جہاں تک اُس کی نگاہیں جاتی ،وہاں تک صرف رنگارنگ پھولوں کی کیاریاں نظر آتی تھیں۔پھولوں کی رنگارنگ اقسام کے ساتھ ساتھ اس خوبصورت باغ میں چنار کے تناور درخت بھی تھے، جن کے سائے تلے درجنوں لوگ لطف اندوز ہورہے تھے۔وہ ابھی باغ کا مشاہدہ کرنے میں ہی منہمک تھی کہ اچانک اُس کی نگاہ دور کھڑے ایک شناسا سے چہرے پر اٹک گئی۔اُس نے آنکھیں بند کرکے یاد کرنے کی کوشش کی اور اچانک اُسے ایک شاک سا لگا۔وہ اپنے ساتھ بڑ بڑانے لگی ،’’اوہ میرے خدایا۔۔یہ تو۔۔یہ تو ابو ہیں۔‘‘ اتنی دیر میںوہ شناسا سا شخص اُس کے قریب پہنچ کر اُس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔چند لمحوں ک

پلکوں میں چُھپے خواب!

سنڈے مارکٹ ۔۔۔  نام سنتے ہی ڈر اور خوف کی لہر جیسے میرے بدن سے چھوکر نکل گئی  ۔ یہاں کے حالات ہی کچھ ایسے  ہوگئے تھے کہ بھیڑ بھاڑ والے  بازاروں میں جانے سے خوف آتا تھا۔  پتا نہیں کب کیا حادثہ ہوجائے ۔گولیاں چلنے اور کہیں بھی بم پھٹنے کے واقعات عام ہورہے تھے۔   لیکن میرا جانا ضروری تھا۔  یہ میرے بابا کا حکم تھا۔ بابا بیس بائیس سال پہلے حج سے ایک ریڈیو سیٹ لائے تھے، جوچندمہینے پہلے خراب ہوگیا۔ بابا کے حکم سے میں نے کئی میک نکس کو دکھایا لیکن یہ ٹھیک نہیں ہوا۔ سب نے یہی بتایا کہ اس کی کوئی آئی سی(IC) خراب ہوچکی ہے، جو یہاں نہیں مل سکتی ۔  اب یہ ریڈیو کا زمانہ بھی نہیں تھا۔ ٹی وی پر لائیونیوز چینلز کی بھر مار تھی۔بابا سے نیا ریڈیو سیٹ لاکے دینے کی بھی بات کہی۔ لیکن بابا کو کون سمجھائے ۔وہ اسی کو ٹھیک کروانے میں لگے تھے۔ پھر کسی نے ان سے کہ

تانیثیت

 اسٹیج پر ڈسکورسز چل رہے تھے اور محفل میں قدآور شخصیات نے اپنے  اپنے خیالات کو منصۂ شہود پر لانے کے بعد حتی الامکان داد طلب کی۔ جبھی اینکر نے آواز دی .... ’’اب ہم صاحبہ جی کو شہ نشین پر مدعو کرتے ہیں ......اور وہ تانیثیت کے موضوع پر تھوڑی روشنی ڈالے لیں گی.........‘‘ صاحبہ جی بڑے عالمانہ  تفاخر سے شہ نشین پر آئیں اور تانیثیت پر برملا اظہار خیال کرنا شروع کیا۔صاحبہ جی نے اپنی بات کا آغاز اس جملے سے کیا؛ ’’ مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں یہ بس ذہنوں کی پیدا کردہ تفریق ہے جس سے عورت کو کمزور بنا کے اس پر حکمرانی کی جاتی ہے۔‘‘  صاحبہ جی بار بار انگریزی میں یہ جملہ دہرارہی تھی کہ.......’’i am equal to man‘‘ (میں مرد کے برابر ہوں) اس فقرے پر اسٹیج پر بیٹھے حضرات اور سامعین تالیاں

’’کیوں نا‘‘؟

دن بھر کی دفتری مصروفیات سے فراغت پانے کے ساتھ ہی گھر کی جانب نکل پڑا تو حسب معمول مغرب کی اذان راستے میں ہی سنی ۔ خزاں کی سرد شام اور ہلکی بونداباندی سے بدن ٹھٹھر رہا تھا اور گاڑی کے انتظار نے مزید بےقرار کر دیا ۔ عجیب پریشانی میں مبتلا ہوکر ہر آتی گاڑی کا تعاقب کرتا رہا۔ گاڑی کے انتظار میں جب بہت وقت گزرا تو پریشانی کے عالم میں قسمت نے یاوری کی اور میں سواریوں سے کھچا کھچ بھری ایک بس میں سوار ہوا ۔ اپنی عادت سے مجبور میں نے بھیڑ کو چیرتے ہوئے وسط میں جگہ بنا لی۔ گاڑی آگے بڑھتی گئی اور میں اپنی ہی سوچوں میں گم،  اپنی قسمت کو کوسنے لگا ، یہ کیا نہیں،  وہ ہوا نہیں،  یہ ہونا چاہیئے وغیرہ وغیرہ ۔  ابھی میں بیزاری کے تصور میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک بھری گاڑی میں سامنے کی سیٹ پر براجمان ایک جوان شخص زور سے چلایا ۔۔ ’’ کیوں نا ۔۔کیوں نا۔‘‘ می

افسانچے

شرافت ’’ عورت کی شرافت ہی اُس کا زیور ہے۔۔۔جانتی ہونا صبا ! کتنی محبت کرتا ہوںتمہاری بھابھی سے۔۔۔لیکن اللہ نہ کرے آج بھی۔۔۔آج بھی اگرمیرے کانوں سے اُس کے ماضی کے متعلق کوئی ایسی ویسی بات گزرے تو میںاُسی وقت تین الفاظ کہہ کراُسے یہاں سے چلتا کروں گا۔‘‘نہ جانے کس وجہ سے فیروز کی نصیحتیں صبا سے ہضم نہ ہوئیں تو بھابھی کی موجود گی کا خیال بھی نہ کرتے ہوئے وہ اپنے بھائی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول پڑی’’سمجھ نہیں آتا ۔۔۔صرف عورت کا ماضی ہی کیوں بے داغ ہونا چاہیے؟۔۔۔مرد کا کیوں نہیں؟۔۔۔کیا لفظ’’ شرافت ‘‘صرف عورت سے منسلک ہے؟‘‘   کمائی و اقف تھا کہ وہ بڑے گھر کی بیٹی ہے، اِس لئے ضروری سمجھا کہ اپنی ذات اور اوقات کے پوشیدہ پہلو اُس کے سامنے رکھ دوں۔جب تنخواہ کی باری آئی تو میں پلکیں جھکائے مہین

جھیل کی لہریں

صبح کے پُرکیف منظر اور سورج کی ترچھی شعاعوں کے جُھرمٹ میںجھیل  کے نیلے پانی کی سطح پر سجا سجا یا شکارا ایک ستارے کی مانند چمکتا رہا۔رمضان لاوے کے جوان اور مضبوط ہاتھوں میں چپو ایک تنکے کی طرح لہرایا اور شکارا برق رفتاری کے ساتھ پانی کا سینہ چیرتے ہوئے فراٹے بھرنے لگا۔ شکارے میں برطانیہ کی مکین جواں سال خوبصورت ماریا اور رمضان لاوے کی دو بہنیں نُورا اور راحت قہقہے بکھیر رہی تھیں۔ماریا اُن کے ہاں ہی ٹھہری ہوئی تھی۔ اُس کے والدین ہر سال کشمیر کی سیر وسیاحت کے کئے آیا کرتے تھے اور رمضان لاوے کے والدسبحان لاوے کے ہاں ٹھہرے تھے۔ ماریا اکیلی اولاد ہونے کی وجہ سے ہمیشہ اُن کے ساتھ رہتی۔ آخری بار جب وہ یہاں آئے اس وقت ماریاکی عمر سات سال کی تھی۔ پھر کھبی یہاں آنے کا موقع نہیں ملا۔ کیونکہ واپسی پر اُس کے والدین ایک حادثے میں مارے گئے۔ وہ اپنے اعزاء و اقارب کے ہا ں پرورش پا گئی اور تعلیم

افسانچے

ایسا ہی ہوتا ہے زمین کو لے کر باپ بیٹے میں توُ توُ میں میں ہوئی۔دوسرا بیٹا بار بار ان سے التجا کرتا تھا کہ خدارا خاموش رہیں۔چند ہی ساعت میں وہ زور زور سے چلانے لگے۔پھر دونوں کھڑے ہوے۔کرتار کا دوسرا بیٹا پھر سے بول اٹھا”باپو۔آپ ہی خاموش ہوجائیں۔“ اور بڑے بھائی سے بھی بولا ”بھائی چپ ہوجا۔پڑوسی کیا کہیں گے“۔ اچانک باپ بیٹے میں ہاتھا پائی شروع ہوئی۔وہ دونوں ایک دوسرے کو پیٹنے کے لیے ڈنڈے ڈھونڈنے لگے۔کرتار اپنی چارپائی کے نیچے سے بڑا سا ڈنڈا نکال لایا۔سندیپ نے باہر برآمدے سے ڈنڈا لایا۔پھر مارا ماری شروع ہوئی کمرے میں۔عورتیں کھیت پہ گئی ہوئی تھیں۔کبھی باپ بیٹے کی ٹانگوں پہ وار کرتا۔تو کبھی بیٹا باپ کی کمر پہ حملہ کرتا۔تیسرے بیٹے ببلو نے جلدی سے جاکے کمرے کی لایٹ جلائی۔باپ بیٹا ایک دوسرے کو گالیاں دے رہیں تھے اور تلوارو کی طرح ڈنڈے چل رہیں تھے۔اسی اثنا می

ایٹم بم

زمانی کالج میں پڑھتی تھی ۔ بہت سارے لڑکے زمانی کی خوبصورتی پر فدا تھے ۔ لیکن زمانی کسی کو بھی گھاس نہیں ڈالتی ۔ وقت گذرتا گیا ۔ زمانی اپنی تعلیم میں مگن تھی ایک دن زمانی کا رشتہ گاوں کے ایک لڑکے اکبر کے ساتھ طے ہوا ۔ کالج کے لڑکے، خصوصاً اکبر کے دوست، اکبر کو مبارکباد دینے لگے ۔ کوئی دوست کہتا، ارے اکبر تم تو چھپے رستم نکلے آخر کار اپس زمانی کو قابو ہی کر لیا جو کسی کے قابو میں نہیں آئی تھی تو کوئی کہتا ارے یار کیا قسمت پائی ہے زمانی جنت کی حور ہے ۔ اکبر بھی خوش تھا کہ ایک خوبصورت لڑکی اُس کی رفیق حیات بننے جا رہی ہے ۔ ایک دن اکبر کے گھر والوں نے شادی کی تاریخ طے کر دی ۔ شادی سے پہلے زمانی کے گھر والوں نے دُلہن کے لیے کپڑے زیورات اور باقی چیزیں ادا کر دیں اور شادی کا دن آخر کار نزدیک آگیا ۔  15ستمبر کی رات تھی جب اکبر دُلہا بن کر زمانی کے گھر پہنچا زمانی دُلہن کے کپڑوں میں

فن افسانچہ۔۔۔۔۔ تحقیقی و تنقیدی جائیزہ

کہانی ایک ایسی چیز ہے جسے ہر ایک پسند کرتا ہے ۔اس کا سننا سنانا ابتداء سے ہی لوگوں کا  مشغلہ رہا ہے ۔ پھر جب اس کا ڈھانچہ مخصوص ہیت میں تیار کیا گیا تو اس کے چار چاند لگ گئے۔ داستان سے لے کر افسانچے تک کا سفر کرتے ہوئے اس نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ آج ہر زبان میں داستانیں لکھنے یا سننے سنانے کا رواج عنقاکے برابر ہے۔ البتہ ناولیں ، ناولٹ اور افسانے لکھنے کا دستور اب بھی ہے لیکن بیسویں صدی کے نصف اول کے بعد جس صنف  نے پر پھیلانے شروع کئے وہ افسانچہ یا منُی افسانہ ہے۔  کیا افسانچہ ایک صنف ہے ۔افسانچہ اور لطیفہ میں کیا فرق ہے ۔ افسانے اور افسانچے میں فرق کیا ہے۔  پہلا اردو افسانچہ نگار کون ہے ۔ افسانچہ کامستقبل کیا ہے ۔افسانچہ کے اجزائے ترکیبی کیا ہیںوغیرہ ایسے سوالات ہیں جن  کو فکشن نقادوںنے حل کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اُسے حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ا

خوابِ گراں

  پروین کے دن کا چین اور راتوں کی نیند اڑ چکی تھی۔  وہ ہر صبح گائوں کے چشمے کے کنارے بیٹھ جاتی ۔ جس میںدور دور تک کنول کے پھول کھلتے تھے۔  وہ چشمے کے شفاف پانی میں ماجد کا عکس تلاشتی رہتی  جو بچپن میں اکثر  اس کے ساتھ یہاں آکر پانی میں اپنا ہلتا ڈلتا عکس دیکھ کر خوش ہوجاتا تھا۔  اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں کنول کے پھول لے کر پانی پر مارتا تھا۔  ہاتھوں سے پانی کو ہلا جلا کر اپنا عکس پانی پر بکھرا  دیتا تھا اور خوش ہوکر چلاتا رہتا  تھا۔  پروین  اسے خوش دیکھ کر اور زیادہ خوش ہوجاتی تھی۔ ۔۔  وہ خیالوں میں ذہن کے اسکرین پر ماجدکا عکس ابھار لاتی ۔ پھر وہی عکس دیر تک چشمے کے پانی میں تلاشتی رہتی لیکن ماجد کے ننھے ہاتھ اس کے تخیل میں بساچہرا ٹھہرنے نہیں دیتے ۔  جونہی شکل بننے لگتی اسی وقت وہ بکھر کر پانی میں گدمڈ ہو جاتی۔  وہ

انٹرنیٹ

عذابوں کی اس بستی میں صبح کیا ہوگا اور شام کو کیا، اس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا۔مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میرے خاندان کے ساتھ ہوا۔عبداللہ کی خیالی دنیا نے اُس کو ایسا جھٹکا دیا کہ جس اخبار سے وہ خبریں پڑھ رہا تھا وہ اک دم اُس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچھے گر گیا۔ وہ پسینے سے آب آب ماتھا صاف کرنے والا ہی تھا کہ وارڈ سے نرس نکلی اورعبداللہ کو کاغذکی پرچی تھما کر کہا کہ مریض کے لئے یہ دوائیاں خرید کر لائیے۔ عبداللہ نے کاغذ کی پرچی ہاتھ میں لے کر پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنے پرانے اسکوٹر کی چابی نکالی اور وارڈ کے اندر جاکر پہلے اپنے بیٹے احمد کی خبر لی ۔احمد کچھ دن پہلے ایک حادثے کا شکار ہوا تھا ۔  عبداللہ جب احمد کے قریب کرسی پر بیٹھ گیا تو اُس نے احمد کے لمبے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا ۔میرا پیارا بیٹا ٹھیک ہے نا ،اچھا سنو میں باہر جارہا ہوں تمہارے لئے دوائیاں لانے ،اگر

آج کاشرون کمار

اس نے اپنے اکلوتے بیٹے کوایمانداری کی نیک کمائی سے تعلیم دلوا کر میڈیسن میں پوسٹ گریجویشن کروائی۔ امتحان میں اچھے ماکس لینے کی وجہ سے اسکوملک کے ایک باوقار طبی ادارے میں دنیائے طب کی جدید تر اوراُبھرتی برانچ سُپر سپیشلٹی میں عمر رسیدگی کی بیماریوں اور مسائل کے علاج کے شعبے میں داخلہ ملا۔یہ اپنے علاقہ کا پہلاایسا ڈاکٹرتھا جواس برانچ کے ماہر کی حیثیت سے تعینات ہواتھا۔ اس وجہ سے ڈاکٹر مہیش کی ہر سطح پر تعریف ہورہی تھی اورہرکوئی اسکی تقرری سے خوش تھا۔طبی تعلیم اور صحت کے وزیر نے ان کو اپناتھوڑا ساوقت آشرم اور اولڈایج ہومزجیسے فلاحی اداروں میں لگانے کوکہا، جس کی ڈاکٹرنے حامی بھری۔ان اداروں میں گھرسے بے توجہی کی وجہ سے نکالے گئے،ناداراورلاوارث افرادکوداخل کیاجاتاہے ۔اس سلسلے میں وزیرکی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ڈاکٹرمہیش نے پہل کی۔ اس نے سب سے پہلے قریبی شہر کے اولڈ ایج ہوم میں جانکاری او

ریٹ لسٹ

’’پتّا پتّا بُوٹا بُوٹا حال ہمارا جانے ہے ‘‘ماسٹر سوم ناتھ کے موبائل فون پہ جونہی یہ مسرور کُن ٹیون ساز وآواز کے ساتھ بج اُٹھی تو انھوں نے فوراً اپنا قیمتی موبائل سیٹ اُٹھایا اور د ائیں کان کے قریب لے جاکر پوچھا  ’’ہیلو۔۔۔کون بول رہے ہیں ؟‘‘آگے سے مردانہ آواز ان کے کان میں پڑی ’’میں جناب فرید احمد بول رہا ہوں ۔آداب ۔یہ میرا دوسرا نمبر ہے جیو۔آپ اسے اپنے  موبائل میں سیو کر لیجیے‘‘ ’’ہاں سنایئے فرید صاحب کیا حال ہے ؟آپ خیریت سے ہیں؟‘ ’’جی خدا کے فضل سے اچھا ہوں ‘‘فرید احمد نے جواب دیا۔ ماسٹر سوم ناتھ نے پوچھا ’’اور کہیے میرے لائق کیا خدمت ہے؟‘‘ فرید احمد نے جھٹ سے کہا ’’جناب میں نے آپ کی خدمت میں

آئینہ فروش

’’کیا میرے سارے آئینے ناکارہ ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔؟‘‘   آئینہ فروش مایوس ہوکر اپنے آئینوںکو سامنے رکھ کر بڑ بڑایا ،اس کے دماغ میں راجا کے کہے ہوئے الفاظ اذیت بن کر گونج رہے تھے۔ ’’پیارے دیش واسیو ۔۔۔۔۔۔ ہمارے ذہین و فطین سائنس دانوں نے دن رات ایک کرکے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہوا میں اڑنے والا آگ کا ایک ایسا طاقت ور گولہ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے کہ نگری میں سب سے زیادہ طاقتور اور ترقی یافتہ بننے کا ہمارا دیرینہ خواب پورا ہو گیا ۔اب کوئی بھی دیش ہمارے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔ نہ ہی ہمارے ترقی کے منصوبوں میں روڑے اٹکانے کی ہمت جٹا سکتا ہے‘‘۔   آدم نگری کے ایک جزیرے کے راجا نے اپنی رعایا کے نام پیغام کی آڑمیںدل وذہن میں تکبر کے بلند و بالا پہاڑ کھڑے کرکے سینہ ُپھلا کر دھمکی آمیز لہجہ میں نگری کے

خوشبو کی موت

یوں تو زندگی کا کسی ایک مقام پر ٹھہرائو کا نام نہیں لیکن اس بہائو میں وقت نئے نئے واقعات کو جنم دیتا ہے اور ہر واقعہ انسانی زندگی پر مثبت و منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور اکثر وبیشتر یہ رویے انسانی زندگی پر غالب آکر معاشرے کے بنا و یا بگاڑ کا باعث بن جاتے ہیں ۔اہل دل کو درپیش نفی و اثبات کی یہی صورت جس پر وہ کبھی پھیلتے ہیں اور کبھی کڑھتے ہیں۔ تخلیق کار کا موضوع و مواد فراہم کرتے ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’خو شبو کی موت‘‘ ریاست کے ایسے ہی تخلیق کار شہزادہ بسمل ؔصاحب کے افسانوں کا مجموعہ ہے ۔شہزادہ بسمل ؔکی اب تک تین کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کے افسانوں میں فن اور تخلیق کا جذبہ خلوص کے ساتھ پا یا جاتا ہے جس کا انداز ہ ان کے افسانوں سے بحوبی لگایا جاسکتا ہے۔ انہیں مختلف جذبات اور متنوع خیالات سے فکری تجربات کی بنیاد پر کہانی خلق کرنے کا ملکہ حاصل ہے،حالا

میں شرمندہ ہوں

تین سال کے بعد میں امریکہ سے گھر واپس آیا ۔ میں جیسے ہی ٹرین سے اترا میں نے ایک بار اپنے مو بائل کو آن کرکے دیکھا جو بس ڈیڈ ہونے والا تھا۔ مجھے ابھی کافی دور جانا تھا اور راستے میں موبائل کی کافی ضرورت تھی اس لئے اس کو چارج کرنا میرے لئے مجبوری تھی۔ میں اسٹیشن پر ہی چارجینگ پوئنٹ تلاش کرنے لگا اور یہ تلاش اسٹیشن کے ایک کونے پرختم ہوئی ۔جہاں پر ایک پوئنٹ خالی تھا۔ میں نے یہاں پر اپنا موبائل چارج کرنے کے لئے لگایا اور بڑے سکون سے بیٹھ گیا۔ میرے ارد گرد صرف عورتیں تھیں۔دراصل یہ جگہ عورتوں کے لئے مخصوص تھی اور میں یہ بات جان کے بھی انجان بنا رہا۔  میں وہیں موبائل کے پاس بیٹھ کر بھیڑ کا جائزہ لینے لگا ۔اچانک اسٹیشن کی حدود کے باہر سے، جہاں گھپ اندھیرا تھا، ایک انسان کے سائے پر میری نظر پڑی، جو آہستہ آہستہ اسٹیشن کی طرف بڑھ رہا تھا۔پہلی نظر میں تو میں ڈریں گیا کیونکہ اس کا سایہ

سرحد کے اُس پار

’’پاپا میں بڑاآدمی بنوں گا ‘‘ ’’ہاں ویری گُڈ۔ میرے مُنے۔ تم ضرور بڑے آدمی بنوگے‘‘ ’’ پاپا آپ جانتے ہیں میں کیا بننا چاہتا ہوں ‘‘ ؟ اقبال بچے کو چومتے ہوئے  ’’ہاں میرے لعل میں جانتا ہوں کہ تم ڈاکٹر بننا چاہتے ہو۔ میرا مُنا ضرور ڈاکٹر بنے گا اور بیماروں کا علاج کرے گا ۔ میرا مُنا لوگوںسے محبت کرے گا ۔ اُن کا مفت علاج کرے گا۔ لوگ میرے مُنے کی خوب تعریف کریں گے اور پاپا بہت خوش ہوگا ‘‘ ’’پاپا میں ڈاکٹر نہیں بننا چاہتا‘‘ ’’اچھا تو پھر میرا بیٹا انجینئر بنے گا ۔ بڑے بڑے پُل بنائے گا ، جن کے اُوپر سے گاڑیاں گذریں گی ۔ بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرے گا جن کو دیکھ کر دُنیا دنگ رہ جائے گی ۔ میرا بیٹا مہان انینئر بنے گا اور پاپا خوش ہوگا &l

معاصر اردو افسانہ تفہیم و تجزیہ

ڈاکٹر ریاض توحیدی ؔکا نام سنتے ہی جموں وکشمیر کے ایک معتبر افسانہ نگار کا نام ذہن میں آتا ہے اور کیوں نہ آئے کیونکہ ڈاکٹر ریاض توحیدی پہلے ایک اچھے اور کامیاب افسانہ نگار ہیں‘ بعد میں تنقید نگار‘اوروہ سب سے پہلے اپنے آپ کو افسانہ نگار ہی کہلوانا پسندکرتے ہیں۔لیکن اتنی بات طے ہے کہ ڈاکٹر توحیدی صاحب تنقیدی بصیرت بھی رکھتے ہیں‘ جس کااندازہ ان کی تنقیدی نگارشات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔وہ مدلل بحث کرتے ہوئے کسی بھی موضوع پر روشنی ڈالتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ ایک فنکار کی اپنے فن پر زیادہ گہری نظر ہوتی ہے ‘اس لیے ان کی رائے معتبر مانی جاتی ہے ‘حالانکہ حرف آخر نہیں۔اس تعلق سے حال ہی میں ڈاکٹر ریاض توحیدی کی ایک اہم کتاب ’’ معاصر اردو افسانہ (تفہیم و تجزیہ) شائع ہوئی ہے‘جو ادبی حلقوں میںبے حد مقبول ہورہی ہے۔ کتاب کا پہلا باب’ افسانہ: ف

پھر وہی تلاش

کلائمکس۔۔۔۔۔۔۔۔پھر وہی تلاش۔۔۔۔۔۔۔ایک نئے افسانے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تخلیق کار۔۔۔۔۔۔۔گلی کو چوں‘صحنوں‘بیابانوںسے ہو کرحالات کا مشاہدہ کرتا رہتا۔کہیں خون آلودہ منظردیکھ کر تلملا اُٹھتاتوکہیں شادیانے بجتے دیکھ خوش بھی ہو اُٹھتا۔مگر حزن ویاس میںدبی آرزوئیںدرانی ؔصاحب کولکھنے کیلئے اُکساتی رہتیں ۔وہ اپنے مشاہدے کی بنا پر ہی افسانے تخلیق کرتے۔ان کے گڑھے افسانوں میںزیادہ تردرد اور کرب میںڈوبی سسکتی بلکتی آوازیں ہی سنائی دیتیں۔درانیؔ صاحب یہ دکھ درداپنے افسانوں میں لڑیوں کی طرح پرو کرمنظر عام پر لاتے رہتے۔جنت نما وادی کاچپہ چپہ خون آلودہ‘سینہ سینہ چھلنی۔Genocideسفید کبوتروں کا۔۔۔بھلا کیوں۔۔؟یہ بات سمجھ سے باہر تھی۔ان سفید کبوتروں کی پریشانی روز بروز بڑھتی ہی جارہی تھی درانیؔ صاحب زیادہ تر دکھ بھرے افسانے ہی لکھتے رہتے۔وہ لکھتے لکھتے سوچتے رہتے ’’یہ افسان

انصاف

ہر سو ماتم تھا ،فضا سہم گئی تھی ،زمین لرز اٹھی تھی اور آسمان بھی تھرا گیا تھا ۔ہر چہرہ افسردہ اور اور ہر آنکھ نم تھی ۔عورتیں زار و قطار رو رہی تھیں ،نوحہ کر رہی تھیں اور اپنے کھوئے ہوئے جگرکے ٹکڑوں کو ندائیں دے رہی تھیں  ۔مردوں کی حالت بھی کچھ عجیب تھی ۔غصہ تھا ،بے بسی تھی اورسانسیں رکی ہوئی تھیں۔ہر ایک پر سکتہ طاری تھا۔لوگوں کاٹھاٹھیں مارتا ہواسمندر تھااور اس سمندر کے بیچ نو سالہ فیضان کی لاش ڈوبنے کے بجائے تنکے کی مانند کاندھوں پر اچھل اچھل رہی تھی ۔جس کے چھوٹے سے سینے پر لگی ہوئی گولی نے بڑا سوراخ کیا تھا ۔تڑپ کر مرنے اور ہاتھ پاؤں رگڑنے سے سارے جسم پر خراشیں آگئی تھیں ۔خون اتنا بہہ رہا تھا گویا کہ جہلم کا سوتا اس کے سینے سے ملا ہو ۔سفید کفن کارنگ بدل کر لال ہوگیا تھا ۔کفن میں لپٹی ہوئی لاش اور کھلا مرجایا ہوا چہرا ہرایک کو اپنی مظلومیت اوراپنی معصومیت کی داستان سنا رہاتھا۔