ہٰذا مِن فَضلِ رَ بی

قومی ہیکل اور شاندار ڈیوڑھی کے سامنے، ڈیوڑھی کی شان سے مطابقت رکھتے ہوئے پہناوے کے ساتھ ایک پُروقار شخص کی برف سی سفید داڑھی اور پُرکوشش آنکھوں نے اُس کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ بھرے ہوئے رخساروں پر آنکھوں کے نچلے کناروں سے آنسوئوں کی دو جھڑیاں، جو داڑھی کو تر کررہی تھیں، دیکھ کر اُس کو حیر ت سی ہوئی۔ اُس نے اخذ کرلیاکہ اس شخص کو شائد اُس کے بیٹوں نے گھر سے نکال باہر کردیا ہے ۔۔۔ از راہِ ہمدردی وہ اُس شخص کے قریب گیا۔۔۔ اُس نے واقعی دیکھا کہ اُس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے ہیں اور اُس کی تراشی ہوئی سفید داڑھی کسی حد تک بھیگ چکی ہے۔ ’’بابا حوصلہ رکھئے۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائیگا۔۔۔‘‘ ’’بھائی۔۔ ٹھیک تو تب ہی ہوگا جب کچھ بچا ہو۔۔۔‘‘ بابا کی آواز میں تھرتھری اور دُکھ عیاں تھا۔ ’’بچے ہیں۔۔۔ ابھی نادان ہیں۔۔۔آپ کی قدر و ق

زمیں ساز

آفرین آباد پلیٹ فارم ، مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ابھی افروز پلیٹ فارم پہ پہنچا ہی تھا کہ اس کے سامنے سے ایک عجیب قسم کا شخص گزرا۔ چہرے پہ لمبی داڑھی اور مونچھیں تھیں،چلنے کا اندار بھی عام انسانوں جیسا نہیں تھا۔ افروز اس شخص کے ساتھ -ساتھ چلتا ہوا ٹرین میں جاکر ٹھیک اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ افروز اس سے کلام کرنا چاہتا تھا مگر سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ بات چیت کیسے شروع کرے۔ کچھ دیر تک سوچنے کے بعد آخر کار افروز اس سے ہمکلام ہوا ۔ "بابا آپ کہاں جا رہے ہیں؟" "میں آپ کو بابا دکھتا ہوں!" "جی نہیں" افروز لڑکھڑا کر بولا۔  اس پہ اجنبی ہنستے ہوے بولا۔"بھائی میں پی ۔کے، خلائی تحقیق تنظیم کا سائنسداں ہوں" "پی۔ کے " "ہاں بھائی تخلص پی۔ کے، نام پرویز کمال، ویسے آپ کی تعریف ؟" "مجھے افروز کہ

بولوتوسہی

آفتاب صاحب کوبچپن ہی سے بوقت ِ شام چہل قدمی کی عادت تھی اورپھربڑھتی عمرکے ساتھ تویہ عادت اوربھی پختہ ہوگئی تھی۔ نہ جانے کیابات تھی کہ شام کے وقت جیسے ہی سورج ڈوبنے کوہوتا ان کادِل بھی خودبخودڈوبنے لگ جاتاتھا۔ان پریاس وحسرت کی ایک بے نام سی گہری کیفیت چھاجاتی اوراِسی عالم میں وہ گھرسے نکل کھڑے ہوتے تھے ۔اُس دن بھی وہ اسی حالت میں گھرسے نکلے تواُ ن کارُخ دریائے چناب کی جانب تھا۔وہ ذرا آگے بڑھے تودیکھادریائے چناب پوری طرح اپنے شباب پرتھا ۔موجوں کی باہم تصادم آرائی سے ایک ایسادِلُربااحساس ِ نغمگی پیداہورہاتھا جیسے کہ کہیں کوئی روائتی ساسازبج رہاہو ۔ اب آفتاب صاحب سازِ فطرت کی رُوح پرور موسیقی میں ایساکھوئے کہ آگے بڑھناہی بھو ل گئے ۔وہ جہاں تھے وہیں کھڑے کے کھڑے رہ گئے ۔ وہ موجوں کی اِ س کشاکش کواسطرح دیکھ رہے تھے جیسے کہ دُنیاومافیاسے بے نیازہوکر کوئی عاشق اپنی معشوقہ کودیکھتاہے۔

سوچ کے زخم

ہمارے سماج میں خدا کے قہر سے نہ ڈرنے والے کچھ بے رحم لوگ موجود ہوتے ہیں جو بلامعاوضہ خود چوکیداری پر مامور ہو کر ہر طرح کی خبر رکھنے کے علاوہ کسی اچھے سچے انسان کی اچھائی سچائی کو عام لوگوں کے سامنے غلط رنگ میں پیش کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ جھوٹی بات کو سچائی کے انداز میں دوسروں تک پہنچانے،پھیلانے اور یقین دلانے کا ہنر جانتے ہیں۔ کبھی کبھی سات پردوں میں رہنے والی کسی کی بہو بیٹی کو بھی نہیں بخشتے۔ کسی پر تہمت لگانا، کسی کی زندگی کو جہنم بنانا ، کسی کا گھر جلانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ ان ہی جیسے لوگوں میں سے کسی ایک کو طالب اور حرمت کی خوشیوں سے بھری زندگی دیکھی نہ گئی۔ طالب کے دل پر شک کا تیر چلا کر اسے حرمت کی طرف سے بدگمان کردیا اور بدگمان ہوتے ہی طالب کے دل میں طرح طرح کی باتیں جنم لینے لگیں۔ وہ باتیں جو حرمت کے وہم و گمان میں بھی نہ تھیں۔ پھر اس کے دل میں خطرناک ہلچل م

اجنبی لڑکی

صبح سویرے جوں ہی بازار کُھلتا تھا وہ نوجوان خوبصورت لڑکی چوک میں نمودار ہوجاتی تھی۔ اُس کے کُھردرے سنہرے بال، اُسکی ہرنی جیسی چال اور نازک بدن پر وہ پھٹے پرانے کپڑے آج بھی میرے اِدراک کے دریچے پر دستک دے رہے ہیں! وہ غریب حسینہ آج بھی میرے محسوسات کی دُنیا پر حکمرانی کررہی ہے۔ اُس کی غزالی آنکھوں میں مانسبل کی جھیل سُکڑ سمٹ رہی تھی۔ اُس کے پاس ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے سوا اور کچھ نہیں بچا تھا۔ اُس کے ہر ادا نرالی تھی۔ پتھریلی زمین اُس کے ننگے پیروں کو چومتی تھی۔ اُس بھرے بازار میں صرف میں ایک تھا جسکی سوچ کو سِیاہی چوس کی طرح اس جوان لڑکی نے چوس لیا تھا۔  میں اس لڑکی کے بارے میں اتنا فکر مند کیوں ہوں؟ میرا اُس سے کیا رشتہ ہے؟ ایسے ہی اور بھی کچھ سوالات میری سوچ کی تختی پر اکثر ابھرتے تھے۔ تیز دھوپ جب اُس کا گورا بدن جھلس جاتا اور اُس کے پھیلے ہوئے نرم خوبصورت ہاتھ تھر تھرانے

لمحوں کی ڈور

جھیل ڈل کا بغور جائزہ لینے کے بعد یاور ؔ نے مانجھی کو اشارہ کر کے بلایا اور کہا۔ ’’ہمیں جھیل کی سیر کروائوگے۔‘‘ وہ جلدی کرتے ہوئے بو لا۔’’آئیے صاحب بیٹھئے۔میں ساری جھیل گھما لے آوںگااور محنتانہ بھی مناسب ہی لوں گا۔‘‘ اتنے میںبھیڑ لگ گئی ہر ایک مانجھی انھیں اپنی طر ف رجھانے کی کوشش کرتا رہا۔یاورؔ اور شبنمؔ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیاںاترتے کشتی میں بیٹھ گئے ۔ ’’صاحب مجھے یقین تھا کہ آپ میری ہی کشتی میں بیٹھیں گے، آپ نے مجھے بلایا تھا۔‘‘ ’’مجھے تمہا ری کشتی پسند آئی ۔تم نے خوب سجایا ہے اس کو ۔‘‘ ’’ صاحب!لگتا ہے نئی نئی شادی ہوئی ہے ۔‘‘ اس پر یاور ؔ نے خاموشی اختیار کر لی۔ اس کی چپی دیکھ کر مانجھی کچھ توقف کے بعد پھر بولا۔ ’

خط بنام خالق ِ کائنات

سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں -وہ الفاظ کہاں سے لاؤں جن سے آپ کی تعریفیں کروں- خط شروع کرتے ہوئے جہاں اپنے اوپر ہنسی آرہی ہے کہ کہاں میں جو اس کائنات میں ایک ریت کے ذرے کی مانند بھی نہیں  اور کہاں آپ جس کی بالادستی پورے عالم پر قائم ہے مگر شرم ساری کے اس عالم میں خط لکھنے کی جرأت کر رہا ہوں، یہ جانتے ہوئے کہ آپ بڑے معاف کرنے والوں میں سے ہیں- گزشتہ مہینوں سے کئی سوالات میرے ذہن میں گردش کر رہے ہیں- جب اس دنیا میں اپنے وجود کو دیکھتا ہوں تو خون کے آنسو روتا ہوں- میرے خالق آپ نے تو انسان کو ایک بہترین ساخت سے پیدا کیا تھا- آپ نے ہر انسان کو اس کائنات میں برابر کا درجہ دیا تھا -آپ نے اس کو ذہن دیا تھا کہ وہ آپ کی اس حسین کائنات کا نظارہ کرے اور آپ کی حمد بجا لائے- آپ نے انسان کو انسان کا ہمدرد بنایا تھا مگر اے زمين و آسمان کے حاکم  یہ سب دنیا میں کیا

ضدی

 میری ماں کے چہرے پر یاس اور ناامیدی کا پہرا تھا۔ وہ حسرت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔اس کا چہرا بتا رہاتھا کہ وہ   دھاڑیں مار مار کر رونا چاہتی ہے لیکن ضبط کئے ہوئے تھی ۔ اس نے دل پر صبر کا کاغذی پتھر رکھا ہوا تھا اور کلیجے کو امید کے نحیف ہاتھوں سے تھام رکھا تھا۔ وہ میرے چہرے کو ٹکٹکی باندھ کر تکتی جا رہی تھی، شاید میرے دل میں چھپے غموں کا طوفان  میری آنکھوں میں تلاش کر رہی تھی ۔ وہ منتظر تھی کہ کب میرے صبر کا پیمانہ ٹوٹ پڑے اور میں چیخ چیخ کر رو پڑوں اور وہ میر ا سر اپنی گود میں رکھ کر  اپنی پلکوں کانرم باندھ کھول کر میرے ساتھ ساتھ زار و قطار رو لے تاکہ میرے درد کا کچھ مداوا ہوجائے۔ لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ میری ماں کی ا ٓنکھیں میرے دکھ کی وجہ سے تر ہوجائیں ۔ اپنی ماں کے ایک ایک آنسو پر ایسی ہزار جانیں قربان کر سکتا تھا۔   ایک سانحہ تھ

پانی کی لڑکی

ریت کے اونچے ٹیلے پربیٹھ کے حد نظر تک پھیلے نیلے سمندر کی لہروں کو تکتے ہوئے سوچ کی وادی میںدور نکل جانا ،سنہری سبزسرخ مچھلیوں کا سطح آب پہ آکے اُچھلنا ناچنا اُسے اچھا لگتا تھا۔فرصت کے لمحات میںاکثر یہاں آتا تھا ۔لیکن ایک بات ہے پہلے وہ خود کو جوش سے بھرا ہوا پاتا تھا ۔اب اُس جوش میںکچھ کمی سی آگئی تھی ۔جیسے انتظار تھک چکا تھا ۔امید بھری آنکھ میں کوئی دھند سماگئی تھی۔آج چھٹی ہونے کے سبب وہ سویرے ہی چلاآیا تھا۔دھوپ میں زیادہ تمازت نہ تھی۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔سمندر کی لہریں شانت تھیں۔وہ اپنی کسی سوچ میں کھویاہوا تھا کہ یکایک اسکے چہرے پر ایک چمک سی پیدا ہوئی ۔اس نے دور سمندر میں ایک جواں سال لڑکی کے اوپری دھڑکو  لہروں پرناچتے لہراتے ہوئے دیکھا  ۔پہلے اس نے سوچا فریب نظر ہے لیکن دوسرے ہی لمحے لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے پایا۔وہ اُسے اپنی جانب بلا رہی تھی۔اُس نے آس پاس دیکھ

سپاری

ریل سے اتر کر ماجد کچھ لمحے ادھر اُدھر کے نظاروں سے لطف اندوز ہو کر خوش وخرم اپنے نئے دفتر کی طرف جانے لگا ،اس کی نئی نئی ترقی   ہوئی تھی اورنیا عہدہ ملنے کے ساتھ ہی اس کا تبادلہ دوسرے شہر میں ہوا تھاجہاںوہ آج ہی ڈیوٹی جوائین کرنے جا رہا تھا ۔ ’’ او مائی گا رڑ ۔۔۔۔۔۔ یہ مصیبت یہاں بھی پہنچ گئی ہے ‘‘۔ چلتے چلتے دفعتاًہاتھ میں لاٹھی لئے انسپکٹر شہباز کو دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوگئے اورمُنہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے ۔اس نے گھبراہٹ کے عالم میں دائیں بائیں دیکھا اور چپ کے سے راستہ بدل کر نکل گیا کیوں کہ وہ کسی بھی حال میں انسپکٹر کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔بہر حال جوں توں کرکے وہ انسپکٹر کا سامنا کئے بغیر جب ریلوے سٹیشن سے باہر نکلا تو اس نے اطمینان کی سانس لی اور جلد ہی دفتر پہنچ گیا جو یہاں سے تھوڑی ہی دوری پر واقع تھا ۔    &rsqu

’جہانِ حمد و نعت‘

محمد عربی نور سرمدی ﷺ کی ذات ارفع و اعلی صفات ہے،آپ ؐ کی محبت جانِ جاں ، جانِ ایماں ، یقین کی آن ، اسلام کی شان ، دین کی روح اور شریعت کی اساس ہے۔جس کے دل میں آپؐ کی محبت کی آنچ نہ ہو، وہ کافر بھی ہے منکر بھی۔ دنیا کی تمام عظمتیں آپؐ کی بارگاہ میں سرنگوں ، ساری رفعتیں آپؐ کے قدموں کی دھول اور ساری نیک نامیاں آپؐ پہ نثارہیں۔ ازخاک تا عالم پاک ، ازفرش زمیں تا عرش بریں ،از ثری تا ثریا ہر شئے آپؐ کی عظمت کی گواہ ، فضیلت کی شاہد ، کمال کی قصیدہ خواں ، جمال کی نغمہ سرا اور نوال کی بانگ درا ہیں۔زندہ  جاوید ہیں وہ زبانیں جن سے نعت ِ رسول مقبول ﷺ کے زمزمے بلند ہوں ، قابل رشک ہیں وہ قلم جن سے منقبت ِ نبیؐ کے آبشار پھوٹیں ، لائق ناز ہیں وہ صلاحیتیں جو مدحت ِ نبی رحمتؐ کی پاکیزہ فضا اور مقدس جولان گاہ میں شب و روز اڑان بھرتی ہوں۔ رسالت مآب ﷺکے عہد فرخ فال سے لے کر دنیا کی ہر زبان می

تمہیں دل لگانے کوکس نے کہاتھا۔۔۔

وہ بلاکی خوب صورت ،بہترین نقش ونگارکی مالکہ تھی۔ اسکے خدوخال بہترین ڈھانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔ اسکی سرمئی آنکھوں میںڈوب جانے کودل کرتاتھا۔  کالی گھنی زلفیں ماتھے پر ہروقت اٹکھیلیاں کرتی رہتی تھیں ۔وہ بات کرتی تو جیسے موتی بکھیرتی ۔چہرہ ہنسی کے بغیربھی ہنستادکھائی دیتا تھا۔ غرض وہ خوب صورتی کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھی۔ اس کے برعکس اس کاخاوند عام سی شکل وصورت کامالک تھا، جسکو کپڑے پہننے کاڈھنگ بھی کچھ کم ہی تھا ۔ و ہ بڑابددماغ اوربداخلاق بھی تھا۔ایک دفترمیں بڑاافسرتھا لیکن افسرانہ رکھ رکھائو اُس کو چھو کر بھی نہیں گیاتھا۔اسکی بات چیت اوربرتائوسے اسکے دفتروالے بہت نالاں تھے۔وہ محلہ میں بھی کسی سے بات وغیرہ نہیں کرتاتھا۔ اسکے گھرمیں بھی کسی کا آنا جانا بھی نہیں تھا۔صرف ایک وکیل صاحب، جو انکے کلاس فیلوتھے، تقریباً ہرروز انکے ہاں آتے تھے،باقی کسی کونہ آتے دیکھانہ جاتے ۔

تعطیل

اللہ کے فضل سے وسیم کو دس روز کی چھٹی مل ہی گئی۔وہ بہت خوش تھا ،آفس کے ڈیسک پہ بیٹھے بیٹھے اکثر اُسے  ماں کی آواز سنائی دینے لگتی۔پھر رفتہ  رفتہ ڈیسک پر لگی تصویر سے ماں باہر آکر جیسے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرنے لگتی۔ماں کا زرد چہرا،اسکے کھردرے ہاتھ اورگالوں کے سیاہ داغ ،وسیم کو یہ سب اب بھی یاد تھا،سات سال گھر سے دوٗر رہنے کے بعد بھی۔ان سات سالوں میں کیا کیا نہیں ہوا تھا۔ماں کی نیم جان جوانی اک طرف پھانسی کے پھندے پہ چڑھ رہی تھی تو دوسریطرف وسیم کی نو وارد جوانی قفس ِ روزگار میں عمر قید ہورہی تھی۔سات سال فقت سات سال ۔اور ایسا لگ رہا تھا جیسے اِن سات سالوں میں ایک تو ساے کا ئیناتیں اجڑبھی چکی ہیں اور نئے سرے سے اب تعمیر بھی ہورہی ہیں۔ مضطرب دل اور بے تاب ذہن کے ساتھ وصیم اپنے فلیٹ کی طرف چل رہا تھا۔ہوا کا خنک جھونکا اس کے جسم سے ٹکرایا تو اسے معاً اپنی ما ں کے ٹھنڈے آنسوں

دُھند کار

میری بیٹی سعدیہ مجھ پہ کم اور اپنی ماں پہ زیادہ گئی ہے۔بازار سے جب بھی ہمارا گزر ہوتا ہے تومجھے ہمیشہ اُسے طرح طرح کی باتوں میں اُلجھا کر رکھنا پڑتا ہے کیونکہ اگر میں ایسا نہ کروں تو بازار میں موجود بھکاریوں ،معذوروں اورکم عمر موچیوں ،جو اکثر بازاروں میں بیٹھ کر جوتوں کی پالش کرتے ہیں وغیرہ کو دیکھ کر اُس کی جھیل جیسی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو گرنے لگتے ہیں۔وہ پھر اکثر مجھ سے پوچھتی ہے ،’’ابو! ہم کتنی شاہانہ اور عیش و عشرت والی زندگی گزارتے ہیں مگر جو لوگ بھیک مانگتے ہیں،اتنی چھوٹی عمر میں بازار میں دن بھر بیٹھ کر لوگوں کے جوتے پالش کرتے ہیں،ٹھیلا لگا کر چیزیں فروخت کرتے ہیں،کیا اُن کی زندگی بھی بھی ہماری طرح شاہانہ اور عیش و عشرت والی ہوگی؟‘‘ وہ جذباتی نہ ہو اس لیے میں چہرے پہ ایک فرضی مسکراہٹ سجا کر کہتا ہوں ،’’ ارے ہاں بیٹا کیوں نہیں! ہماری ج

فریب!

دن بھر کھیل کو د کے بعد عابد جب گھر لو ٹا تو حسب ِ معمول ما ں کی گو د میں سر رکھتے ہو ئے کہا ’’ما ں اب دھوپ تیز ہو تی جا رہی ہے۔سر میں درد ہو نے لگتا ہے اور تلوئوں سے آگ بھی نکل رہی ہے۔‘‘ ما ں نے ہمدردانہ لہجے میں کہا ’’ بیٹا کہیں چھا ؤں میں بیٹھ کر پڑھ لیا کرو۔ ہمیشہ کہتی ہوں کہ شام کے وقت سر میں مکھن کی ما لش کرلیا کرو۔ اس سے گرمی ذرا کم محسوس ہوتی ہے۔۔۔‘‘لو ۔۔صبا بھی آگئی اور مغرب کی اذان بھی ہو نے والی ہے ۔‘‘ مغرب و عشا کی نما ز کے بعد معمول کے مطابق سب لو گ سو گئے تھے ۔وقت ِ سحر عابد صبا کا  ہا تھ تھا مے ہو ئے تھا کہ ماں کی نظر پھر ان پر پڑی ۔ صبا فوراً با ہر نکل گئی۔با ہر تیز ہو ائیں چل رہی تھیںاور خوش نما پرندوں کی خوش نما آوازوں کے سا تھ قریب ایک بہتے ہو ئے دریا کی روانی سے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کو ئی

مجھ سے اچھا کون ہے!

صبح کے دس کے آس پاس کا وقت ہوتا۔میں ہسپتال میں نائٹ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر مین گیٹ کے عین سامنے گاڑی کا انتظار کر رہا تھا۔سفید کپڑوں میں ملبوس اسکول بیگ کاندھوں سے لٹکائے میری چھوٹی بہن کی عمر کی ایک لڑکی میرے سامنے سے گزری۔اگلے ہی پل میں پیچھے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے ایک پچیس تیس سالہ فیشن ایبل لونڈے نے کچھ ایسے الفاظ میں اس ننھی سی جان پر فقرہ باندھا کہ میرے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔غصہ آیا، کچھ الفاظ زباں تک لا کر پیچھے مڑا۔دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اس بے یودہ کے درشن کئے، جو کھسیانی ہنسی ہنس رہا تھا۔اس کے تیور دیکھ اسی رفتار سے سر واپس موڑا۔کنکھیوں سے اس بچی کی طرف دیکھا، جو ایک نظر اس لونڈے اور دوسری مجھ پر جمائے ہوئی پوری لال ہو چکی تھی۔میں نے دور سے آتے ہوئے ایک آٹو رکھشا کو حلقے سے دکھایا۔میں اس میں بیٹھا اور ڈرائیور سے چلنے کو کہا۔سیٹ پر آرام سے بیٹھے ابھی کچھ منٹ ہی ہوئے تھ

کُتے ۔۔۔ پیارے کُتے

کُتا ایسا ہر دل عزیز جانور بنتا جارہا ہے کہ آپ اس کو ہر گلی، ہر سڑک یہاں تک کہ ہر باغ اور ہر محفل کے آس پاس دیکھ سکتے ہیں۔ کتنا سُہانا اور دلربا منظر ہوتا ہے جب کتوں کے غول سڑک پر دھما چوکڑی اور چھینا جھپٹی کرتے ہوئے ساری سڑک پر اپنی حکمرانی قائم کرکے ثابت کردیتے ہیں کہ ان کی اعدادی قوت انسان کی افرادی قوت سے برتر ہے۔ رنگ برنگے کتے دُم ہلاتے ہوئے اپنے اپنے علاقے کی حفاظت کے لئے چاک و چوبندہوتے ہیں۔ مجال ہے کہ کوئی کُتا اپنے علاقے کی حد سے باہر جائے اور کوئی دوسرے علاقے کا کُتا اِدھر آئے۔ اگر بھول کے سبب گُھس پیٹھ ہوئی تو گُھس پیٹھئے کو کھدیڑ کے بھگانا عزت اور غیرت کی بات بن کر رہ جاتی ہے اور سڑک میدانِ جنگ بن جاتی ہے۔ اُس وقت انسان اپنے گھروں میں دُبک کر رہنے میں خیر سمجھتا ہے کیونکہ گندم کے ساتھ گن کا پس جانا حماقت کے مترادف ہے۔ کُتوں کی آبادی کے لئے حکومت نے خاص طور پر ایک منفرد

دور ترقی کا ۔۔۔

میری ہمیشہ سے یہ عادت تھی کہ میں سبھی لوگوں سے جلدی گھُل مِل جاتی تھی کیونکہ میں ہمیشہ ہر ایک شخص سے نرم لہجے میں بات کرتی تھی ۔ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا میں نے نئے اسکول میں داخلہ لیاتھا ۔میں پہلے کانوینٹ اسکول میں پڑھتی تھی لیکن مجھے اچانک سے ہی اردو سے اتنا لگائوہو گیا تھا کہ میں اردو سیکھنے اور پڑھنے کے لئے دیوانی ہو گئی تھی ۔جس طرح ایک محبوب کو محبوبہ سے پیار ہوتا ہے اُسی طرح مجھے اردو سے پیار ہو گیا تھا اور اِس کی اصل وجہ تھی کہ میرے پاپا کے پاس تمام رسائل آتے تھے اور میرے والد بہت سے سیمینار بھی attendکر چکے تھے ۔کبھی میں دیکھتی کہ ’شاعر ‘ آیا ہے کبھی ’رنگ ‘ کبھی ’اسباق ‘ اور کبھی کوئی اور رسالہ۔ چونکہ میرے پاپا ’انتساب‘ کے سرپرست بھی ہیں جس کی وجہ سے انہوںنے میری تربیت ہی اِس ڈھنگ سے کی ہے کہ میں بھی ترقی کر سکوں ۔یہی وجہ ہے کہ م

خوش قسمت

’تین سال ہوئے ہماری شادی کو۔۔۔‘ فہمیدہ اپنی سہیلیوں کے درمیان چہک چہک کر باتیں کررہی تھی۔ ’کیا بتائوں، میں کتنی خوش قسمت ہوں،  آ ج کل وہ جونہی دفتر سے گھر لوٹتے ہیں، تو سیدھے کچن میں آکر مجھے۔۔۔۔  پہلے پہل تو آتے ہی بات بے بات پر آسمان سر پر اُٹھاتے ،  چیزیں الٹ پلٹ کر رکھ دیتے، موقع بے موقع مجھ سے جھگڑتے رہتے۔  آج کل وہ بھیگی بلی بن کر ۔۔۔۔۔،  واقعی میں بہت خوش ۔۔۔۔۔ کیا بتائوں، صبح اگر میں کوئی چیز مانگوں تو شام تک میری فرمائش۔۔۔۔۔ پہلے تو گھر سے باہرمجھے قدم رکھنے ہی نہیں دیتے تھے،  آج اگر میں ہفتہ بھر بھی میکے میں گزاروں، وہ کبھی ناراض نہیں ہوتے، اُف تک نہیں کرتے۔  کسی بھی بات پر شکایت کرنے کا موقع نہیں دیتے،  کیا بتائوں میں کتنی خوش قسمت ہوں۔۔۔ کل ہی میرے لئے ایک بہت

پروفیسر محی الدین حاجنی

ایشیا میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی آبگاہ ولر جھیل کے کنارے واقع علاقہ بانڈی پورہ کی سر زمین کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فطری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ علم و اد ب کے لحاظ سے کافی زرخیزیت عطا کی ہے ۔یہاں پر کئی بڑے دانشوروں، سخنورں، ادیبوں اور تاریخ دانوں نے جنم لیا ہے اور اُنہوں نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر علم و ادب کے گلشن کو مہکایا ہے ۔مرحوم پروفیسر محی الدین حاجنی کو ان بلند قد شخصیات میں اعلیٰ مقام حاصل ہے، جنہوں نے اپنی ساری زندگی کشمیری زبان و ادب اور تاریخ کی زُلفیں سنوارنے میں صرف کی ۔پروفیسر حاجنی،  جنہیں اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ مغربی علوم پر بھی دسترس حاصل تھی، نہ صرف کشمیری زبان کے اعلیٰ پایہ کے ادیب تھے بلکہ ایک سماجی کارکن ،بلند قد عالم اوردانشور بھی تھے، جنہیں ان کی علمی و ادبی خدمات کے سبب ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ پروفیسر حاجنی کا اصل نام غلام محی الدی

تازہ ترین