تازہ ترین

سفید کتوبر

مجھے اب بہت دن ہوگئے اِس شہر میں۔ آج کام مکمل ہوجائے تو آگے بڑھوں۔ مجھے جلدی سے شہر کے مفامات میںپہاڑی کے دامن میںواقع زیارت گاہ پر پہنچنا ہوگا۔  بابا وہی پر ہونگے۔ اب ڈیڑھ مہینہ ہونے کو آیا ہے جب میں پہلی دفعہ اس قدجع خلائق زیارت گاہ پر اِن سے مِلا تھا۔مجھے یاد ہے کہ بابا نے آواز دیکر مجھے پاس بُلایا اور پوچھا ۔ کون ہو تم؟ جی مسافر۔ کیا کرتے ہو؟ شہر شہر ، گائو ںگائوں بھٹکتا ہوں اور لوگ گیت ، کتھائیں اور کہانیاں جمع کرتا ہوں اور اُنکو لکھ کر محفوظ کر لیتا ہوں ۔ ہوں!یہ بھی کوئی کا م ہوا بھلا۔ بابا نے حیرت سے پوچھا۔ جی حضرت۔ میرا یہی کام ہے اور شاید میرا مقدر بھی ۔ پھر میں نے پہلی دفعہ بابا کو غور سے دیکھا۔ ایک ایسا بزرگ جس کے  کپڑ ے پُرانے اور میلے تھے لیکن جس کے چہرے پر نور تھا اور ایک عجیب کشش تھی ، سفید چہرے پر بڑی ہو ئی داڑھی اور ماتھے پ

رہائی

سورج حسب معمول پہاڑی کنگروں سے سنہری کرنیں بکھیر رہا تھا۔ گلشن  کے پھول کھل اٹھے تھے اور بھنورے بھنبھنارہے تھے۔سبزے پر شبنم کے قطرے چمک اٹھے تھے۔ شہر کے پرانے زنداں کے دریچوں سے  سورج کی کرنیں داخل ہوکر مجبور قیدیوں کوجگانے کے لئے بے تاب ہورہی تھیں۔ معروف احمدکو سلاخوں سے گزرتی کرنوں کی چمک نےسوچ کی گہری دھندمیں پہنچادیا۔  "یہ کرنیں کتنی خودمختار ہیں کہ قیدخانوں میں گھس کر سلاخوں کو بھی چیر کر نکل جاتی ہیں۔" قید خانے میں رہ کر معروف بھول چکا تھا کہ قوم جب  اندھیرے میں قید تھی تو وہی پہلا شخص تھا کہ جس نے پہلی بار تاریکی سے بغاوت کا کُھلا اعلان کیا اور مانند خورشید اندھیرے کو چیر کر نکلنے کا باغی ٹھہرا۔ وہ اب کئی برسوں سے اسی جرم کی سزا کاٹ رہا تھا۔ لیکن اتنے برسوں کے باوجود تاریک کوٹھری کا یہ اندھیرا اس کے عزم و ہمت کو توڑنے میں ناکام ثابت ہوا

اُڑن طشتر ی

جشن کی تیاریاں زور وشور سے جاری تھیں ،شاہی محل کے خاص مشیر اور درباری خود جشن کی تیاریوں کی نگرانی کر رہے تھے کیوں کہ دھرتی پر رہنے بسنے والے انسانوں کا صدیوں پرانا سنہری خواب پورا ہونے والا تھا ۔ ہاں! وہی خواب جس کی تعبیر ڈھونڈتے ڈھونڈتے انسان نے بے پناہ محنت کے ساتھ ساتھ کافی سرمایہ بھی خرچ کیا ہے ۔ اس خواب کی تعبیر سے یقینًا انسانی زندگی کے ایک نئے ناقابل فراموش انقلاب کی شروعات ہوگی۔اسی عظیم انسانی خواب کے پورا ہونے کی خوشی میں دھرتی پر ایک شاندار جشن کا اہتمام کیا گیا تھا،دھرتی کے شاہی محل کو دلہن کی طرح سجایا اور سنوارا گیا تھا ۔جشن میں شرکت کے لئے دھرتی کے شہنشاہ کے ساتھ ساتھ تمام بادشاہ اور وزیر موجود تھے۔ دفعتاًشاہی محل بارودی دھماکوں کی گن گرج سے گونج اٹھااور درجنوں توپوں کی سلامی سے باضابطہ طورجشن کا آغاز ہو گیا،جس کے ساتھ ہی شہنشاہ، بادشاہ، وزیر ، بڑے بڑے سائینس دان او

رفیق رازؔکا شعری نخلستان

چند حرفوںنے بہت شور مچا رکھا ہے  یعنی کاغذ پہ کوئی حشر اٹھا رکھا ہے (نخل ِ آب۔۔۔ص ۱۵۴)           شاعر کا مقام متعین کرنے میں مخصوص شعری بصیرت (Poetic Vision) بنیادی اہمیت رکھتی ہے‘جسکی پہچان منفرد شعری لہجہ‘تخئیل آفرینی ‘ تخیلقیی اسلوب   (Creative style)  اور فنی  ہنرمندی وغیرہ جیسے خصائص میں پوشیدہ ہوتی ہے‘ نہیں تو کتنے لوگ شعر کہتے آئے ہیں اور کتنے شعر کہہ کے چلے بھی گئے لیکن صرف چند ہی اس تخئیلی سلطنت میں اپنی نشستیں سنھبالنے میں کامیاب رہے۔ عصری اردو شعری منظرنامے میں رفیق رازاپنے منفرد شعری لہجے‘ تخئیل آفرینی ‘تخلیقی اسلوب اور فنی ہنر مندی کے خصائص کی بدولت مخصوص مقام بنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں ۔ رفیق رازصاحب کے فنی اختصاص پر معروف نقاد جناب شمس الرحمن فاروقی گفتگو کرتے ہو

سوغات

ننھی زیبا کے لئے اس کی ساری دنیا چھو ٹی سی پہا ڑی پر ہی بسی ہو ئی تھی۔پہاڑی پر بھی اس کی حدیں محدود تھیں ۔ نا نی کے گھر سے وہ سامنے والے سیب کے با غات تک۔۔۔ہا ں نا نی کے گھر ۔۔۔ ننھی زیبا اپنی نا نی کے گھر رہتی تھی ۔وہ کو ئی پا نچ برس کی تھی جب اس کے امی ابو دونو ں چلے گئے تھے۔ اس کے بعد نا نی اسے اپنے گھر لے آئی تھی۔کوئی تین برس بعد جب زیبا آٹھ برس کی ہوئی تواس نے نا نی سے امی ابو کے با رے میں پوچھا تھا۔نا نی نے اسے بتا یا تھا کہ اُس کے امی ابو اللہ کے پا س چلے گئے ہیں۔لیکن نا نی ۔۔ ۔۔پڑوس والے فیضان انکل تو کہہ رہے تھے کہ امی ابو کو پولیس نے گولی ما ری ہے۔ زیبا کے اس سوال پر نا نی نے اسے روتے ہوئے سینے سے لگا لیا تھا اور کہا کہ وہ بھی اللہ کی مرضی تھی میری بچی۔۔۔ننھی زیبا یہ نہیں سمجھ پا تی تھی کہ کوئی اس چھوٹی سی بچی کے امی ابو کو گولی ماردے ۔۔یہ بھی اللہ کی مرضی۔۔۔ کیسے ہو سک