تازہ ترین

دیوتا

اپنی تمام لگن،ہمت اور بہادری کے ساتھ پہاڑ کی ایک ایک چوٹی سر کرتا ہوا  وہ آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا تھا۔اُسکے ہاتھوں میں سات رنگوں کا ایک جھنڈا تھا۔یہ جھنڈا اسے پہاڑ کی سب  سے اونچی چوٹی پر گاڑنا تھا۔راستہ طویل اور مشکل ہونے کے باوجود  ارادہ پختہ اور مضبوط تھا۔۔۔۔آہستہ سے قدم بہ قدم آگے بڑھتا رہا۔ اب اُسکے سامنے آخری پڑائو تھا ۔ آخری چوٹی تھی۔۔۔اس چوٹی پر جھنڈا گاڑنے کے بعدہی ہر طرف سے لوگ آکر اُس کی عظمتوں کو سلام کریں گے اور وہ کہلائے گا ملنگ دیوتا۔۔۔اُسکی سانسوں میں کائنات کی سانس ہوگی۔ اپنے آنسووُں سے لوگوں کے خشک خالی پیالے بھر لے گا۔اپنی جھولی میںچھپائے قرمزی پھولوں سے ننگی عصمتوں کو سنبھالے گا۔اپنے نوانی پرتو سے تاریک جھونپڑیوں میں روشن آفتاب اُگائے گا اور بھٹکی ہوئی آدم کی اولاد کو ایک نئی سکون بخش سوچ سے متعارف کرائے گا اور اسکی ایک دیرینہ خواہش پوری

حئی علی الفلاح

میجر نیاز علی باتھ روم سے نہا کر تازہ دم ہو کر نکلا توکمرے میں پھیلی خوشبو سے اس کے مُنہ میں پانی بھر گیا،کیوں کہ ٹیبل پر بھنے تلے گوشت سے بھری پلیٹیںاور اس کی من پسند ولائیتی شراب کی بوتل اس کے منتظر تھے۔وہ من ہی من میں طے کر چکا تھا دو تین پیگ حلق سے اتار کر کچھ دیر آرام کرے گا ،کیوںکہ رات بھر ریل گاڑی کے سفر کے سبب اسے شدید تھکاوت محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔  ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے وہ جونہی نائو نوش کی غرض سے صوفے پر بیٹھ کر بوتل کا ڈھکن کھولنے لگا تو نزدیکی مسجد شریف سے بھی موذن نے اللہ اکبر کی منادی کردی، جسے سنتے ہی وہ رک گیا۔ اس کے ذہن نے نہ جانے کون سی کروٹ لی کہ چہرے پر اچانک فکرو پریشانی کے آثارنمایاں ہونے لگے۔حالاںکہ نماز روزہ تو دور کی بات رنگین مزاج میجر کو مسجد کا دروازہ تک معلوم نہیں تھا۔اس کے مسلمان ہونے کے لئے صرف اتنا کافی تھا کہ اس نے ایک مسلمان گھرانے میں ج

پَھٹی قمیض

اے لڑکے ادھر آ!کہاں جا رہا ہے اور یہ جیب میں کیا ہے ؟’’راستے میں کھڑے  نشے کی حالت میں جھولتے ہوئے اُس لڑکے نے شاہد کو روکتے ہوئے کہا‘‘   ’’اسکول جا رہا ہوں اور میں کیوں بولوںمیری جیب میںپانچ روپئے ہیں جو مجھے میری امی نے دئے ہے‘‘شاہد نے معصوم سے لہجے میںاُس نوجوان لڑکے سے مخاطب ہو کر کہا۔ اُس نوجوان نے شاہد کی قمیض کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور زبر دستی اس معصوم کے پانچ روپئے اس سے چھین لئے۔شاہد نے دانتوں سے اس کے ہاتھ کو جیسے ہی کاٹا تو ہاتھ کو چھڑانے کے ساتھ ساتھ اس کی قمیض کی جیب بھی پھاڑ دی۔ اتنے بڑے ہو کے چھوٹے بچوں سے پیسے چھینتے ہو ۔میں تمہاری شکایت امی سے کروں گا’’شاہد نے اسے مخاطب ہو کر کہا اور روتے ہوئے اسکول چلا گیا۔ اسکول میں جب اُستانی نے شاہد کی قمیض کی جیب پھٹی ہوئی دیکھی تو آگ بگولہ ہو گ

واپسی

" بیٹا عادل میں تم کو بار بار کہہ رہی ہوں کہ سامعہ ایک اچھی اور دیندار لڑکی ہے تم اپنے والد کو بتادو  ــــ اور ویسے بھی آج کل دیندار لڑکیاں بہت کم ہی ملتی ہیں ـــ۔ یہ رشتہ خود گھر آیا ہے تو غنیمت جانو بیٹا ابو کو بتا دو کہ وہ وسیم انکل سے ہاں کہہ دے"ـــ "اوکے ممّاــــ میں بھی راضی ہوں، واقعی سامعہ ایک اچھی لڑکی ہے اور ان شاء اللہ ضرور وہ گھر کو جنت کی طرح بنائے گی ــــ " دو خاندان کے درمیان اتفاق رائے اور دیگر تمام بے جا رسومات سے مبرّا ہوکر شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیاــ عادل اور سامعہ کی نئی خوشگوار زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز ہواــــ، پُرسکون و محبت بھری اذدواجی زندگی سے لبریز۔ عادل اور سامعہ کے گھر چند سال بعد ایک معصوم بیٹی نے جنم لیاــــ۔ ہر طرف خوشی کی لہر چھا گئی اور ـــ مٹھائیوں سے رشتہ داروں، دوستوں اور احباب کا منہ میٹھا کیا گیا۔ ــــ