غزلیات

جس قدر وہ حُسن پر مغرُور ہوتا جائے گا  دسترس سے وہ ہماری دُور ہوتا جائے گا آئینہ سا جسم لے کر مت نکلنا شہر میں  سنگ برسانا یہاں دستوُر ہوتا جائے گا یہ انالحق کی صدائیں سُن کے لگتا ہے کہ اب  ہر بشر اس شہر کا منصُور ہوتا جائے گا سچ تو یہ ہے جس قدر الزام لگتے جائیں گے  رہبرِ قوم اتنا ہی مشہور ہوتا جائے گا لب پہ ہمدردی سجی ہے دل میں بے دردی بھری  آدمی اب آدمی سے دُور ہوتا جائے گا غیر کے پتھر کا شیشے پر نہ ہوگا کچھ اثر  پر تمہارے پُھول سے یہ چُور ہوتا جائے گا حوصلہ جو آندھیوں میں بھی نہ ہارے گا چراغ  تیرگی میں اور بھی پُر نُور ہوتا جائے تو   پرویز مانوسؔ نٹی پورہ سرینگر ،موبائیل :-9622937142      پرانے درد کو کیسے بھی ہو نیا کر دے جو زخم سوکھ رہا ہے اسے

غزلیات

کھیل مشکل ہے مری ہار بھی ہو سکتی ہے گھر کی بنیاد میں دیوار بھی ہو سکتی ہے   تری گلیوں میں تو جذبوں کی تجارت کر لی اب نمائش سرِ بازار بھی ہو سکتی ہے   مرے اندر جو عمارت ہے تری یادوں کی شدتِ درد سے مسمار بھی ہو سکتی ہے   اب وہ مقتل میں ہے خود مدِ مقابل میرے اب یہ گردن تہِ تلوار بھی ہو سکتی ہے   اتنا آساں بھی نہیں چھوڑ کے جانا مجھ کو اب کے بچھڑو گے تو تکرار بھی ہو سکتی ہے   چین پڑتا نہیں اس پار بھی مجھ کو جاویدؔ کوئی خواہش ہے جو اس پار بھی ہو سکتی ہے   سردار جاوید خان رابطہ؛ مہنڈر، پونچھ،جموں وکشمیر نمبر؛ 9697440404     صحرا کا مسافر ہوں پریشان بہت کم کچھ پیاس ہے، کچھ دھول ہے،سامان بہت کم   ملتا ہے کوئی قیس یہاں صدیاں گُزر کے آباد ہے یہ

غزلیات

نہ جانے کون سا طوفان آنے والا تھا  کہ دشت دشت میری پیاس کا حوالہ تھا   اندھیرے ایسی کرامت کا پا سکے نہ سُراغ  جہاں پہ میں نے قدم رکھ دیا اُجالا تھا   میں اور جاتا کہاں کاسہء نگاہ لیے  ہر ایک رُخ تو زمانے کا دیکھا بھالا تھا   فریب خوردہ منظر کی پیاس بُجھ نہ سکی اگرچہ اُس نے سرابوں کو بھی کھنگالا تھا   تلاشِ لُقمۂ تر اس طرح  تمام ہوئی  گلے میں اٹکا ہوا خوں بھرا نوالہ تھا   گُزر گئی انہی نیرنگیوں میں عمرِ عزیز  کہ رات اُجلی نہ تھی اور دن بھی کالا تھا   شبیبؔ سمجھا تھا جس کو میں سرگزشت اپنی  حیات ِ میر پہ لکھا ہوا مقالہ تھا   ڈاکٹر سید شبیبؔ رضوی اندرون کاٹھی دروازہ،رعناواری سرینگر  موبائل :-9906685395   

نظمیں

لائحہ عمل اپنا مقصد عملِِ صالح کو بنانا چاہئے نیک کاموں سے ہی اپنا دل لگانا چاہئے ہم ہوئے پیدا کہ ہو سب کے عمل کا امتحاں! وعدۂ میثاق کو اب تو نبھانا چاہئے ساری خلقت ہے عیالِ خالقِِ ارض و سما اس لئے اوروں کے بھی کچھ کام آنا چاہئے چاہتے گر ہو فلاحِ دین و دنیا دوستو غمزدوں کے دل سے درد و غم مٹانا چاہئے جب کوئی بھٹکا ہوا ہو زندگی کی راہ میں اُس کو جاکر راستہ سیدھا دکھانا چاہئے خدمتِ انسانیت دنیا میں ہے یہ بہتریں درد وغم سے درد مندوں کو چُھڑانا چاہئے   بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ) کشتواڑی موبائل نمبر؛7006606571      نظم   خاک میں ہونگے ہم جب ڈھونڈے گا زمانہ روئینگے، ہم سے بچھڑنے والے قبر پر آنسوں بہائینگے میری وہ باتیں دہرائینگے "دو چار دن کی زندگی ہے

غزلیات

ہواؤں کی شرارت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے چراغوں کی شجاعت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے  اِدھر آنکھیں اُدھر زلفیں یہاں پلکیں وہاں اَبرو  قیامت ہی قیامت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے  ہواؤں کی نمائش ہے شراروں کی ستائش ہے کھڑی دل کی عمارت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے  نگاہوں نے ڈبویا ہے نگاہوں کے سفینے کو  سمندر کی عنایت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے  جلائے تیز آندھی میں دیئے ہم نے محبت کے  ہواؤں کی اجازت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے  کوئی کانٹا چُبھا ہے دل کے پیروں میں چمن میں کل  گلِ تَر کی اجازت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے  چُبھے ہیں خار دل میں ہر ادا سے آپ کی عادل ؔ گلابوں کی نزاکت ہے مگر ہم کہہ نہیں سکتے     اشرف عادلؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر  رابطہ؛ 9906540315&n

غزلیات

 آئینے کا یہ فیصلہ کیا ہے کوئی اچھا ہے یا بُرا کیاہے آج رہتا نہیں ٹھکانے پر دل مرا جانے چاہتا کیا ہے اے فریبی رہے سلامت تو اس عمارت کا آسرا کیا ہے جھوٹ کہنے کی جن کو عادت ہے روبرو ان کے آئینہ کیا ہے وحشتِ دل ترے تصدق ہم یہ تو کہئے کہ مدعا کیا ہے راستے اور بھی ہیں راحت کے ان کی جانب ہی دیکھنا کیا ہے ہم اسی رہگزر کے پتھر ہیں بار ہا ہم کو ٹوکتا کیا ہے زخم سے خون کب نہیں رستا حادثہ یہ کوئی نیا کیا ہے میری منزل ہے کوچۂ جاناں مجھکو مسجد کہ بت کدہ کیا ہے اک مقدس گناہ کی ضد ہیں اتنا ہنگامہ سابپا کیا ہے   عمران راقمؔ 3 گرانٹ سٹریٹ، کلکتہ 700013 9163916117,  9062102672     جب بھی چہرے پہ چہرہ لگانے لگا جھوٹ سچ اصل چہرے پہ آنے لگا اپنی اوقات کتنی ہے جا

غزلیات

مرے دل کی بھی کچھ سنا کیجیے کچھ اپنے بھی دل کی کہا کیجیے   ہوں بیمار اے دلربا آپ کا مرے دردِ دل کی دوا کیجیے   مرے دل میں اٹھتا کہ جو درد ہے کوئی گر نہ جائے تو کیا کیجیے   دلوں سے کہ اٹھتی جو آواز ہے کبھی تو اسے بھی سنا کیجیے   وہ دل، آپ ہی کے جو بیمار ہیں اب ان کی شفا کی دعا کیجیے   ہزاروں ہیں دل آپ کی قید میں خدارا اب ان کو رہا کیجیے   نہ دے جائے دھوکہ کوئی اے بشیرؔ ذرا دیکھ کر دل دیا کیجیے   بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ) کشتواڑی موبائل نمبر؛7006606571       تمہارے ہجر کا مزہ اٹھا کے دیکھتے ہیں ہم  چراغ آندھیوں میں اب جلا کے دیکھتے ہیں ہم    پگھل گئی ہے موم کی طرح خیال کی پری  چراغ دل کا شام سے

غزلیات

تم سے کہنی تھی کوئی بات ، چلو رہنے دو کیسے گزری ہے مری رات ،چلو رہنے دو عمر بھر ساتھ نبھاؤ تو کوئی بات کریں مجھکو لگتے نہیں حالات ،چلو رہنے دو پاس بیٹھے ہو تو آنکھوں میں نہ آنکھیں ڈالو پھر امڈ آئینگے جذبات ،چلو رہنے دو ایسے لگتا ہے مرے دل میں اُتر جاؤ گے یہ تو ہیں میرے خیالات ،چلو رہنے دو خود ہی جانو میری الفت کا تقاضہ کیا ہے مجھ سے پوچھو نہ سوالات ،چلو رہنے دو رات اب ختم ہوئی سورج کو طلوع ہونے دو کچھ قدم چلتے ہیں اک ساتھ ،چلو رہنے دو اپنے  چہرے پہ یہ گیسو تو گرا کر نکلو پھر نہ ہو جائے کہیں رات ،چلو رہنے دو اب کے جاوؔید نہ چھائے گی یہ گھنگھور گھٹا اب کہاں ہو گی یہ برسات ،چلو رہنے دو   سردار جاوید خان رابطہ؛ مہنڈر, پونچھ موبائل نمبر 9697440404     ہیں جن کے دلوں میں خیالات رو

نعتیہ غزل

صد صد سلام لیجئے آقائےؐ نامدار مخلوقِ عالم ہیں تری رحمت کے طلب گار انسانیت کا ہو رہا دھرتی پہ بُرا حال ہے آپؐ پر یہ صورتِ احوال آشکار یہ دورِ فَتن ہے، یہاں فِسق و فجور ہیں برگشتہ جو اقوام ہیں لت پت وہ گُنہگار لوٹائے جارہے ہیں حرم کی طرف اصنام آتے ہیں نظر پاسباں مغرب کے وفادار ربّ کا عطا کردہ نسخہ طاقِ نِسیاں پر ہے قاعدہ داری یہاں اُمّت کی تار تار ہر صف میں یہاں پانچواں کالم ہے گُھس گیا واحسرتا اِجماعِ اُمّت میں ہے خلفشار فریاد ہے، فریاد اے خیرالاُمم،ؐ فریاد! مظلوموں سے ہے چِھن گئی آزادیٔ اظہار ہے قید و بند شاہیں صف افراد کے لئے آتا ہے جب جب کرگسی ہاتھوں میں اقتدار اِک نگہِ کرم کیجئے سرکارِ دو عالمؐ ہیں آپ ہی انسانیت کے محسن و غم خوار   ڈاکٹر میر حسام الدین گاندربل، کشمیر

غزلیات

قدم قدم پہ یہ طوفان اٹھا ہے میرے لئے  ہوا کا زور بھی لیکن رُکا ہے میرے لئے    فریب حسن کا کتنا بڑا طلسم ہے  پرانی آنکھ ہے منظر نیا ہے میرے لئے    کہیں پہ پیاس تڑپتی رہی میری خاطر  کہیں پہ اُبر برستا رہا ہے میرے لئے    تمام لوگ ہوئے شہر کے مرے دشمن  کروں نہ فکر ترا در کھلا ہے میرے لئے    یہ کس نے خار بچھائے ہیں اس چمن میں مرے  یہاں کا پھول بھی زنجیر پا ہے میرے لئے    ہر ایک ناگ جدائی کا مجھ سے لپٹا تھا  کسی کا قرب  تڑپتا رہا ہے میرے لئے    نہ دوستی ہے کسی سے نہ دشمنی عادلؔ محبتوں کا تقاضا جدا ہے میرے لئے    اشرف عادلؔ  کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  رابطہ ۔۔9906540315  

غزلیات

غم ہے ہمیں کیوں غم نہیں ہے یہی غم ، وہ کہیں، کیا کم نہیں ہے   اُڑا دے دھجیاں ہر بات کی وہ ہماری بات میں کیا دم نہیں ہے    اسے ہر حال میں کٹنا  پڑے گا ہمارا سر جو ہوتا خم نہیں ہے   ہمارا لازمی رسوا ہے ہونا ہمارے حق میں جو ہمدم نہیں ہے   کہاں ر خسار پہ آنسوں ٹکیں گے گُلوں پر ٹھہرتی شبنم نہیں ہے   خزاں کے بعد آتی ہیں بہاریں سدا اک سا رہے موسم نہیں ہے   یقیں اُس پر کرے گا کون انجمؔ جو رہتا وعدے پہ قائم نہیں ہے   پیاساانجمؔ رابطہ؛ریشم گھر کالونی جمّوں،موبائل نمبر؛7889872796       زندگی بد سلوک شہزادی ہو بھی سکتی ہے چوک شہزادی! سسکیوں سے محل نہ ٹوٹے گا اور شدت سے کُوک شہزادی آبھی جائے گا کیا ضروری ھے کوئی سی

غزلیات

  اس کا جنت سے کوئی رشتہ ہے بے سہاروں کا وہ سہارا ہے   چاند تاروں میں روشنی ہے بہت کیا وہاں آج کوئی میلہ ہے؟   روز و شب میں بھی دشمنی ہے عجب ایک دوجے کے پیچھے رہتا ہے   عدل پھرتا ہے سر چھپائے ہوئے تان کر سینہ ظلم چلتا ہے   سچ پہ بالکل یقیں نہیں آتا جھوٹ کا اتنا بول بالا ہے   سچ یہاں کون بولتا ہے شمسؔ سچ پہ جھوٹوں کا سخت پہرہ ہے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380     فراوانی ہو کانٹوں کی پریشانی نہیں ہوتی یہ جنگل درد کا ہَے اِس میں ویرانی نہیں ہوتی ہے جب تک اجنبی جب تک رہے کوئی کِنارے پر اُتر جائے تو پھِر گہرائی انجانی نہیں ہوتی عیاں اِس سے تو ہے سب کُچھ یہ ہے اخلاق کا ش

نعت

عظمت کی روشنی ہے رسالتؐ کی روشنی سرکارؐ کو ملی جو نبّوت کی روشنی رحمت کی روشنی ہے یہ برکت کی روشنی یہ روشنی ہے آپؐ کی اُمّت کی روشنی شفقت کی روشنی یہ سخاوت کی روشنی پھیلی ہے چار سُو یہ تلاوت کی روشنی کافی یہ روشنی ہے یہ کافی ہے روشنی آیت کی روشنی ہے یہ آیت کی روشنی حاصل ہمیں ہے اس سے قناعت کی روشنی اسلام کے ستون کی عظمت کی روشنی اسلام لے کے آیا صداقت کی روشنی عظمت کی روشنی یہ شہادت کی روشنی اُس کو نہ کام آئی  بناوٹ کی روشنی جس نے یہاں نہ پائی ہدایت کی روشنی   عبدالجبّاربٹ 169، گجر نگر جموں موبائل نمبر؛9906185501  

غزلیات

کہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھا وہ چاہتا تو میں دانستہ ہار سکتا تھا   زمین پاؤں سے میرے لپٹ گئی ورنہ میں آسمان سے تارے اُتار سکتا تھا   مرے مکان میں دیوار ہے نہ دروازہ مجھے تو کوئی بھی گھر سے پکار سکتا تھا   جلا رہی ہیں جسے تیز دھوپ کی نظریں وہ اُبر باغ کی قسمت سنوار سکتا تھا   پُر اطمینان تھیںاس کی رفاقتیں بلراجؔ وہ آئینے میں مجھے بھی اُتار سکتا تھا      بلراج بخشی  ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی،  اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)  موبائل نمبر؛09419339303       دِل میں رب کو بسایا کر اُس کے نغمے گایا کر   اُس کے درکی خاک کو بھی  اِن آنکھوں سے لگایا کر   اپنے غم کی بات نہیں  سب کا بو

غزلیات

 جب مقدر میں ہے تنہائی سے یاری پاگل  پھر وہی شخص ہے کیوں ذہن پہ طاری،پاگل؟   رات بھر تیری تمنّا کے سفر میں گزری  دور تک تیرگئ راہ پکاری, پاگل    مجھ کو رکنے نہ دیا میری جنوں خیزی نے  عقل کہتی ہی رہی, فکر سے عاری, پاگل    تجھ کو ہر صبح کے آغاز پہ سوچا میں نے  مجھ کو کرتی ہی رہی میری خماری پاگل    تو نے کاغذ پہ کبھی نقش بنایا تھا مرِا کر گئی مجھکو وہی نقش نگاری پاگل   جھوم کر جب مرے چہرے پہ وہ لہرائی تھی  تم نے کس ناز سے وہ زلف سنواری, پاگل    میرا سایہ ہی فقط ساتھ مرے چلتا ہے  اپنےسائے سے ہی رکھتی ہوں میں یاری پاگل      اس نے دل ہار کے زریاؔب مُجھے جیت لیا   عشق کی ریت ہے دنیا سے نیاری ، پاگل

غزلیات

مری نظر کو مہکتے گلاب کیا دو گے کہ نیند دے نہ سکے تم تو خواب کیا دو گے   میں خود دکھاؤں گا دُکھتی رگیں کہاں ہیں مری جو تم بتاؤ کہ اب کے عذاب کیا دو گے   تمہارے پاس تو آ جاؤں جی کڑا کرکے سِوا تپش کے تم اے آفتاب کیا دو گے   شمار لمحوں کا، تفصیل بیتی گھڑیوں کی غروبِ شامِ تمنا حساب کیا دو گے   یہ خامشی بھی عجیب امتحان ہے بلراجؔ سوال ہی نہیں کوئی جواب کیا دو گے   بلراج ؔبخشی ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی  اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)  موبائل نمبر؛09419339303     وہ کہ ہر پل مری سانسوں میں رواں رہتا ہے میرے اندر ہی مرا دشمنِ جاں رہتا ہے پھیر لیں تم نے جو نظریں تو بکھر جائے گا خواب آنکھوں میں بہت دیر کہاں رہتا ہے دیکھتا ہوں تری صورت تو نکھر

سب رِس

ٓٓآبشاروں سبزہ زاروں کی زمین دیوداروں بیدزاروں کی زمین شرمساروں شرم داروں کی زمین ماہ جبینوں ماہ پاروں کی زمین شاعروں اور شاہ پاروں کی زمین زائروں اور شاہ سواروں کی زمین مورخوں اور فن کاروں کی زمین لغزشوں اور استغفاروں کی زمین جانبازوں جاںنثا روں کی زمین سرگرانوں سبک ساروں کی زمین نونہالوں نوبہاروں کی زمین عطر افشاں عطر باروں کی زمین نعت خوانوں نغمہ باروں کی زمین میزبانوں وصع داروں کی زمین نے نوازوں موسیقاروں کی زمین حُسنِ خوباں شہریاروں کی زمین حسن کی بارگاہ تیرا چترؔنار ہے یہ صناعِ قدرت کا ایک شاہکار ہے کسی شوخ دُلہن کا زرین سنگار ہے یہاں کے گلوں میں خمار ہی خمار ہے   شاعر : مرحوم حاجی محمد اکبر میرؔ،  داچھی گام بانڈی پور)  مرسلہ: شوکت احمدوانی 9055018485    

غزلیات

فصل شعلوں کی پکنے والی ہے  یہ زمیں پھر سُلگنے والی ہے    روشنی ہورہی ہے تیز بہت  شمع محفل کی بُجھنے والی ہے    چاند سا وہ بدن لئے نکلا  کس کی قسمت چمکنے والی ہے    اب مری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں  پھول کی ڈالی جُھکنے والی ہے    پیڑ پر چڑھ گئی تھکن دن کی  شام ٹہنی پہ سونے والی ہے    مسکراہٹ کسی کی اب عادل ؔ تیرے ہونٹوں پہ کِھلنے والی ہے    اشرف عادل  کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  رابط 9906540315      اب بھی تو اس بات سے انجان ہے؟ دل مرا بس تجھ پہ ہی قربان ہے میں نے ہر اک زخم کی پائی دوا جو ترے ہی درد کا  احسان  ہے ہم نے جن سے عمر کا وعدہ لیا کیا خبر تھی چار دن

غزلیات

 لاکھ چہروں میں نظر آتی ہے صورت کوئی  کون سمجھے گا محبت کی ضرورت کوئی    رنگ بھرتی ہے مرے شعر میں طاقت کوئی  استعارہ کوئی، فن کوئی، علامت کوئی    دل کے ایوان پہ کرتا ہے حکومت کوئی  جانتا خوب ہے نظروں  کی سیاست کوئی   وہ تو بدنام ہے گلشن کی فضاوءں میں بہت  شاخ پر کرتا ہے پھولوں کی  حفاظت کوئی   اس کے پیچھے ہے کوئی نور کا دریا بہتا  میں یہ کہتا ہوں ' ہے سورج بھی علامت کوئی    ایک طوفان سمندر میں گرجتا ہے بہت  دے رہا ہے مجھے ساحل کی بشارت کوئی   کتنے نمکین تھے پہلے ترے آنسو عادلؔ کرتا ہے لذتِ گریہ سے شکایت کوئی    اشرف عادلؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر ،رابطہ؛ 9906540315    &nb

غزلیات

نہ سمجھویہ کہ دنیا میں خوش و خرم ہر انساں ہے یہاں ہیں بیشتر وہ جن کے دل میں درد و حرماں ہے جو خود ہی وقت کا چنگیز ہے ظالم حکمراں ہے وہی دہشت پسندی کا لگاتا ہم پہ بہتان ہے خدایا ظالموں اور غاصبوں کے اس جہاں میں اب جو مظلوموں نے تھاما ہے فقط تیرا ہی داماں ہے ہٹے گا ظلم تب ہی جب ہٹایا جائے ظالم کو فقط اخراجِ دنداں ہی علاجِ دردِ دنداں ہے کرے کیا بیکس و مظلوم بیچارہ کہاں جائے کہ اب دنیا میں ہر سُو اقتدارِ چیرہ دستاں ہے سنو اے غاصبو! تم کو ملا اس ظلم سے بس یہ کہ بدامنی بغاوت کا جہاں میں اب یہ بحراں ہے جہاں میں جس بھی خطے پر مسلط آج ہیں غاصب سمجھ لو اہلِ خطہ کا وہ قبرستاں و زنداں ہے حماقت ہے سمجھنا موت ہوگی دور ہی ہم سے حقیقت میں کہ جب انساں فنا کی زد میں ہر آں ہے ہزاروں خواہشیں کیا، لمبی چوڑی آرزوئیں کیوں؟ جہاں میں زندگی

تازہ ترین