تازہ ترین

غزلیات

قرارِ عشق کی رسمیں نبھا کر دیکھ لیتا ہوں دلِ ناداں کو دیوانہ بنا کر دیکھ لیتا ہوں   خطا کاروں کو کس طرح نہیں ملتی تیری جنت تیرے دربار میں آنسو بہا کر دیکھ لیتا ہوں   کرم تیرا کہ اے اللہ میں اک خاک کا پتلا تیرے سنسار کو نظریں اٹھا کر دیکھ لیتا ہوں   یہ کارِ دوجہاں آباد ہے تیری مشیت سے میں ناداں ہوں جو قسمت آزما کر دیکھ لیتا ہوں   تیری ہی کارسازی کے تو یہ سارے کرشمے ہیں کہ میں فولاد گردوں میں اُڑا کر دیکھ لیتا ہوں   اے اللہ عشق میں آفاقؔ کا انجام کیا ہوگا؟ تیرے ہی واسطے ہستی مٹا کر دیکھ لیتا ہوں   آفاق دلنوی دلنہ بارہمولہ کشمیر موبائل نمبر؛ 700608727     محفل سجی ہے آج بڑے اہتمام سے لیکن گریز پا ہوا دل دھوم دھام سے   کیوں آج اس بہار م

غزلیات

اے جانِ وفادِل کو لُبھانے کے لئے آ آجائو ذرا درد مٹانے کے لئے آ   اُجڑا ہے میرے دل کا چمن تند ہوا سے اِک بار میرے گھر کو بسانے کے لئے آ   ویران پڑا ہے میرا کا شانۂ غربت اُلفت کے اِس مندر کو سجانے کے لئے آ   ہم تم میں رہے دوری گوارا نہیں لیکن حائل ہیں جو پردے وہ ہٹانے کے لئے آ   معصوم ؔسخنور کو وفاوئوں کا صلہ دے آئوئو ۔۔۔ تو سَدا ساتھ نبھانے کے لئے آ   مشتاق احمد معصومؔ حسینی کالونی، چھترگام، بڈگام موبائل نمبر؛06005510692     بے شک گردشِ شام وسحردو دِل کے ساتھ کُشادہ نظردو جس میں گزرے عمر ہماری رہنے کی خاطروہ گھردو اس دنیاسے تنگ بہت ہوں  میں اُڑ جائوں ایسے پَردو کہاں ہوں میں، معلوم ہواِتنا مجھ کومیری کوئی خبردو میرے لئے احسان یہ

غزلیات

شبِ ہجراں کی سیاہی کو مٹانے کے لیے  لوگ نکلے ہیں چراغوں کو جلانے کے لیے  کون پھرتا ہے سرِ شام مری بستی میں کون آیا ہے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے تیرے ہاتھوں کی جو مہندی ہے اُتر جائے گی خون کیا کم تھا ہتھیلی پہ سجانے کے لیے مجھ سے ایک بار کو بچھڑا تو بچھڑتا ہی گیا  میں نے کیا کچھ نہ کیا جاں تجھے پانے کے لئے امتحاں اور لیے جائیں گے آخر کب تک  کوئی حد بھی تو مقرر ہو دیوانے لے لیے آخری رسمِ محبت تو نبھاتے جائو کون آئے گا مری خاک اُڑانے کے لیے ایک پیماں ہے کہ مرنے نہیں دیتا جاویدؔ اب تو جینا ہے مراسم کو نبھانے کے لیے   سردار جاوؔید خان   پتہ مہینڈھر پونچھ، رابطہ 9419175198,9697440404       قہر یوں نفرتوں کا برسا ہے آدمی آدمی کو ترسا ہے   پھر

غزلیات

ہر ایک  سنگ شیشۂ افکار سے نکال اس بار خار خار کو گلزار سے نکال مجروح ہوگئی ہے مری فکرِ نازنیں منفی ہے سوچ! خنجرِ افکار سے نکال خوشبو ہوئی حرام محبت کے نام پر اُڑتا ہوا غبار بھی گلزار سے نکال واقف ہیں ہم بھی لذّتِ گریہ سے اب بہت احساسِ درد زخم کے دربار سے نکال کب تک اُٹھے گی موجہ ٔ خوں لفظ لفظ سے اب سرخیٔ لہو مرے اخبار سے نکال مری زمینِ شوق ٹھٹھرتی رہے گی کیا؟ سورج تو اپنا سایۂ دیوار سے نکال ضائع نہ کر یہ تلخیٔ جاں اِس طرح سُنو! جیون سے اپنے زہر بھی مقدار سے نکال تبدیل ہوگیا ہے جہانِ سراب بھی! عادلؔ شکن شکن تو بھی دستار سے نکال   اشرف عادلؔؔ کشمیر یونیورسٹی، موبائل نمبر؛7780806455       نتائج کچھ بھی ہوں لیکن یہ دل سنسان نکلے گا میرے دل سے تری یادوں کا ایک طوفان نکلے گا

غزلیات

سلگ رہا تھا جو برگِ چنار،ہےاب بھی فضا میںگو نجتی میری پکارہےاب بھی مرا ضمیر ستانے لگا مجھے، شاید شفق کی سرخیوں پہ اشک بار ہے اب بھی عجیب شخص ہے، دھوکہ بھی کھا گیا جس سے اسی کی بات پہ با اعتبار ہے اب بھی یہ کشمکش جو ہے باطن کی میرے ظاہر سے طفیل اس کے یہ دل بے قرار ہے اب بھی محبتوں کے سمندر میں پیارکی کشتی صدا تھی بے کنار، بے کنار ہے اب بھی گزرتے وقت نے ہتھیار کندکر ڈالے مگر یہ نوکِ قلم تیزدھارہے اب بھی میں کھردرا ہی سہی ہوں تو قیمتی پتھر کہ جس کو جوہری کا انتظار ہےاب بھی اگر چہ اشکِ ندامت سے دھو دیا عارضِؔ تو پھر یہ کیا ہے کہ دل داغدار ہے اب بھی    عارضؔ ارشاد  نوہٹہ، سرینگر موبائل نمبر؛700603386       تری شکست کا حربہ  تلاش کرتے ہیں تجھے نہیں ترے جیسا تلا ش

غزلیات

کُھلے گا امن کا در آر پار اب کے برس  نکالے گا کوئی رہ شہریار اب کے برس    محبتوں سے ملا خار خار اب کے برس  ہوئے ہیں اہلِ جفا شرمسار اب کے برس   رچائی دست صبا پر ہمیں نے تھی مہندی  ہوا ہے رنگِ حنا آشکار  اب کے برس    ڈسا ہے  یار نے پچھلے برس مجھے اتنا  کیا ہے سانپ پہ بھی اعتبار اب کے برس    لطیف آب و ہوا تن بدن کے شہر میں ہے  رہا یہ موسمِ دل خوشگوار اب کے برس    چلا نہ تھا سرِ صحرائے دل کوئی سایا  اٹھا ہے دشت میں کوئی غبار اب کے برس    بہار آئی مکرر چمن چمن عادلؔ گلاب دل کا کِھلا بار بار اب کے برس    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل نمبر؛9990654031   کچھ

غزلیات

در و دیوار کہ ویران ہوئے جاتے ہیں شہر کے شہر بیابان ہوئے جاتے ہیں   میں بھی سورج کو ہتھیلی پہ لئے پھرتا ہوں اور جگنو ہیں پریشان ہوئے جاتے ہیں   تم ہی آؤ مری محفل میں کوئی رنگ جمے ورنہ سب تو یہاں بے جان ہوئے جاتےہیں   با وفائی کا چلو کچھ تو نتیجہ نکلا میرے ہرجائی پشیمان ہوئے جاتے ہیں   آؤ کچھ دیر ہی چلتے ہیں رہِ منزل پہ اب یہ رستے بھی تو انجان ہوئے جاتے ہیں   کیوں ہواؤں سے بغاوت پہ اَڑے ہو جاویدؔ چار سُو قتل کے سامان ہوئے جاتے ہیں   سردارجاویدخان  مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر؛9419175198     چلو راحت ہے دنیا میں ابھی ایما ن باقی ہے  بڑی حیوانیت کے درمیاں انسان باقی ہے  مچلتا ہے یہ دل اب تک تیری یا دیں بھی ہیں زندہ ابھی میں مر نہیں

شکن زاد تخلیق

کشمیر سے دُکھ کا شاعر ہوں اک دھول جمی ہے چہرے پر تشہیرِ دھواں ہے آنکھوں میں قرطاس پہ بکھری ہیں لاشیں اور قطرہ قطرہ رستا ہے اس نوک قلم سے تازہ لہو  آہیں ہیں صریر خامہ میں ہر نقطہ ہے اک تربت سا ہر لفظ ہے سوئے دارورسن ہر حرف ہے میرا پا بہ زنجیر   ہر شوق تخیل زخمی ہے ہر صنف سُخن ہے گریہ کناں رفتارِ غزل پہ قدغن ہے ہر شاخ نظم ہے برق زدہ اور نثر گریباں چاک کئے پیوستہ خنجر فکر میں ہے اک سہما سہما موسم سا گلزارِ معانی ویراں ہے زرخیز زمینیں بنجر ہیں ہر قافیہ بجھتا جگنو سا   جب برگِ ردیف پہ پت جھڑ ہو پھر شعرِ مردّف کیا ہوگا اے دوست نہ کر اب مجھ سے طلب وہ نظم و غزل کی خوشبوئیں وہ باغ کلی وہ تتلی... سب ماضی کی کہانی بن بیٹھے اپنا جو حال ہے رہنے دے........ پر بچے ....

غزلیات

غمِ دوراں میں خوشیوں کا خزانہ خواب لگتا ہے  ہمارے شہر میں اب مُسکرانا خواب لگتا ہے  وراثت پر مری قابض ہُوا کچھ اس طرح  غاصب کہ اپنی ہی زمیں پر گھر بنانا خواب لگتا ہے  جہاں پر چہچہاہٹ کو پرندے بھی ترستے ہوں  وہاں پر امن کا پرچم اُٹھانا خواب لگتا ہے  گیا جو دے کے تنہائی کے تحفے مُدتوں پہلے  میری آنکھوں کو اُس کا لوٹ آنا خواب لگتا ہے  اُسے تو کج ادائی کی رَوشِ کچھ اتنی راس آئی  مری راہوں میں اب پلکیں بچھانا خواب لگتا ہے  برسنے لگ گئے ہیں سنگ سب کے پھُول چہروں سے  ہمیں اس شہر میں سر کو بچانا خواب لگتا ہے  جہاں مسموم آندھی تاک میں شب بھر رہے مانوسؔ وہاں اکثر چِراغوں کو جلانا خواب لگتا ہے   پرویز مانوسؔ نٹی پورہ سرینگر  موبائل نمبر؛9622937142  

غزلیات

مرے دل کی بھی کچھ سنا کیجیے کچھ اپنے بھی دل کی کہا کیجیے   ہوں بیمار اے دلربا آپ کا مرے دردِ دل کی دوا کیجیے   مرے دل میں اُٹھتا کہ جو درد ہے کوئی گر نہ جانے تو کیا کیجیے   دلوں سے کہ اٹھتی جو آواز ہے کبھی تو اُسے بھی سنا کیجیے   وہ دل، آپ ہی کے جو بیمار ہیں اب اُن کی شفا کی دعا کیجیے   ہزاروں ہیں دل آپ کی قید میں خدارا اب ان کو رہا کیجیے   نہ دے جائے دھوکہ کوئی اے بشیرؔ ذرا دیکھ کر دل دیا کیجیے   بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ) کشتواڑی موبائل نمبر؛7006606571     میں ہوں مضطرب مرے ساقیا، مجھے پینے کو کوئی جام دو تہہ دل میں اسکو ہے کھوجنا، مجھے صبح دو مجھے شام دو   مرے ہم سفر کو نوید ہو، ترے ہجر کا میں شہید ہوں مری قبر کو ک

غزلیات

اس جہاں کے لوگ بس درد آشنا کہنے کو ہیں  آزمایا سب کو سب اہلِ وفا کہنے کو ہیں    پیشوائی کی نہ ان میں رہنمائی کی صِفت  یہ ہمارے رہنما یہ پیشوا کہنے کو ہیں    وقتِ مشکل ہمنوائی کون کرتا ہے بھلا  زندگی کی راہ میں سب ہمنوا کہنے کو ہیں    کون جانے ہو گیا کیا جذبہء ایثار کو  جو کیا کرتے ہیں جان ودل فدا کہنے کو ہیں    دیکھ کر اب تو ہے میزانِ عدالت دم بخود  عدل کی کرسی پہ اب حق آشنا کہنے کو ہیں    زیست کے گرداب سے ساحلؔ پکارا دوستو قلب ہو جن کے مثالِ آئینہ کہنے کو ہیں    مراد ساحلؔ  ممبئی، مہاراشٹر موبائل نمبر ؛9405187859   کِس قدردیرکی ہے آنے میں کیامِلاہے مُجھے رُلانے میں تُم وفائوں کی بات کرتے ہو

غزلیات

اُن کو دیکھے بِناجی بہلتانہیں  اِس نظرمیں کوئی اَب ٹھہرتانہیں   اُن سے جب سے محبت ہوئی دل بِنا ان کے تب سے مچلتا نہیں   ہے سمائی یہ دُھن کیسی دلدار کی اب کسی دُھن پہ یہ دِل دھڑکتانہیں   ایک عالم بپا بے قراری کاہے لاکھ کوشش کریں کچھ بھی بنتا نہیں   خوب سمجھایا تھا دل کو صورتؔ، مگر دل تو دل ہے کبھی خُو بدلتا نہیں   صورت سنگھ رام بن، موبائل نمبر؛9419364549     کیوں عداوت رکھیں زمانے سے    تیر کو عشق ہے نشانے سے ایک دن دل کو چین آتا تھا باغ میں تتلیاں اُڑانے سے ہے مصیبت اگر تو کیا ہوگا سر پہ یوں آسمان اٹھانے سے آج مایوس ہو کے لوٹا ہوں میں محبت کے آستانے سے اُس کو کوئی فرق نہیں پڑتا یاد رکھنے سے بھول جانے سے دشمنی ہی عزیز ٹ

غزلیات

تُو مجھے اپنا بنا بھی لے تو کیا مل جائے گا حسرتیں پہلے گنوا دیں اب فقط دل جائے گا   جھک گیا چوکھٹ پہ تیری میرا سر تو کیا ہُوا میں نے جو نظریں اُٹھائیں آسماں ہِل جائے گا   تُو مسیحا ہے کہاں کا ہاتھ میں تاثیر کیا فصلِ گُل میں داغ میرا خودبخود سِل جائے گا   نفرتوں کا بیج ہی بویا ہے اُس نے ہر طرف اور اب بھی سوچتا ہے پھر کنول کِھل جائے گا   کب تلک دربان بیٹھے گا ترے رُخسار پر حُسن ڈھلتا جا رہا ہے اب ترا تِل جائے گا   اب قیامت کی گھڑی جاویدؔ ہے نزدیک تر خاک سے پیدا ہُوا ہے خاک میں مِل جائے گا   سردار جاوید خان پتہ مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر ؛9419175198     میرے سر پر آج بھی آکر ٹھہرا تھا سورج درد کی حدّت پر دیتا سا  پہرا تھا  سورج   پ

غزلیات

نہ دل نہ جسم مرے رابطے میں کوئی نہیں  غبارِ رہ  کے سوا  راستے میں کوئی نہیں    ابھی تو چاند کی بولے گی خود پرستی اور  شبِ انا کے سوا فائدے میں کوئی نہیں    سفر سفر میں رہی ساتھ آبلہ پائی  جنونِ دل کے سوا قافلے میں کوئی نہیں    اُڑان بھر بھی گئے وہ سبھی پرندے اب  اُجاڑ رُت کے سوا گھونسلے میں کوئی نہیں    فضا نے پھول کے رخ پر چھڑک سی دی شبنم  ہوا نہ رُت نہ صباء قائدے میں کوئی نہیں    زبانِ زیست پہ جیسے مٹھاس بکھری ہے  مذاقِ دل کے سوا ذائقے میں کوئی نہیں    ہماری آنکھ کو بھایا نہیں کوئی عادل ؔ نگاہِ یار کے بھی زاویئے میں کوئی نہیں    اشرف عادلؔؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل

غزلیات

یہ جو اِنبِساط ہے  چار دن کی بات ہے    ہر قدم پہ مات ہے  بس یہی حیات ہے    باقی سب ڈھکوسلہ  اِک خدا کی ذات ہے    سب اُسی کے کھیل ہیں  دِن کہیں پہ رات ہے    تجھ سے کیا مقابلہ  تُو اندھیری رات ہے    اِس جفا پرستی میں  کون خوش صِفات ہے    مختصر سی بات ہے  زیست ہی ممات ہے    اِندرؔ اِس زمانے میں  کون کِس کےساتھ ہے    اِندرؔ سرازی  پریم نگر، ضلع ڈوڈہ، جموں  موبائل نمبر:  7006658731     جہاں پر بپھری لہروں سے کنارا بات کرتا ہے  سفینے سے وہاں طوفاں کا دھارا بات کرتا ہے   خدا ناراض ہونے سے سہارے ٹوٹ جاتے ہیں خدا

غزلیات

وہ جو دن رات یوں بھٹکتا ہے جانے کس کی تلاش کرتا ہے دل بھی اس کا ہے جگنوؤں جیسا شام کے وقت جلتا بُجھتا ہے سامنے بیٹھا ہے مگر پھر بھی لب ہے خاموش، کچھ نہ کہتا ہے ہنس کے رونا، اُداس ہو جانا کیا پتہ کس کو پیار کرتا ہے دل جو لگ جائے غیر کے دل سے پھر سنبھالے کہاں سنبھلتا ہے یاد آ جاتا ہے وہی چہرہ چاند بادل سے جب نکلتا ہے چارہ گر کو خبر کرو کوئی تنہا بسملؔ کا دل تڑپتا ہے    پریم ناتھ بسملؔ مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار رابطہ۔8340505230     نہ گل باقی نہ گلشن میں ثمر کوئی  فقط کانٹوں پہ کرتا ہے بسر کوئی  کبھی پتھر، کبھی افلاک کی زد میں  ثمر افشاں ہوا جب سے شجر کوئی  ستارے کُو بہ کو پھیلے کہ جگنو،شب  مرے در پر گرا لیکن  شرر کوئی  زمین اتن

غزلیات

 بے کلی بڑھ گئی ہے پہلے سے کاش کرتے علاج پہلے سے خوب  اعلان لا علاجی کا ہم یہی کہہ رہے ہیں پہلے سے اب تو لہجے کی کاٹ کچھ بھی نہیں یہ تو بہتر ہوئی ہے پہلے سے خار چوکس ہیں گُل کے پہلو میں ہیں تو گُلچیں سے وہ بھی دہلے سے باغباں آکے بس یہ کہتے ہیں آشیاں جل رہا تھا پہلے سے اِن چراغوں کی روشنی دیکھو تیرگی بڑھ رہی ہے پہلے سے خوب وعدے وعید خواب سراب یہی تو ہو رہا ہے پہلے سے   ڈاکٹر ظفر اقبال بلجرشی الباحہ سعودی عرب موبائل 00966538559811     تُو مجھے اپنا بنا بھی لے تو کیا مل جائے گا حسرتیں پہلے گنوا دیں اب فقط دل جائے گا جُھک گیا چوکھٹ پہ تیری میرا سر تو کیا ہُوا میں نے جو نظریں اُٹھائیں آسماں ہِل جائے گا تُو مسیحا ہے کہاں کا ہاتھ میں تاثیر کیا فصلِ گُل میں داغ میرا خ

غزلیات

 کچھ اور میرے غم کے سوا دیجیے مجھے بیمارِ آرزو ہوں دوا دیجیے منزل کو ڈھونڈھنے کا پتہ دیجیے مجھے کاندھوں پہ ہے سفر تو دعاء دیجیے مجھے مجھ رہ نوردِ شوق پر احسان کیجیے شمعِ رہِ حیات بنا دیجیے مجھے صحرائے زندگی میں کِھلا دیجیے گُلاب پھولوں کی پنکھڑی سے سجا دیجیے مجھے جب تک  جلوں گا روشنی کرتا رہوں گا میں تاریکی چاہیے تو بُجھا دیجیے مجھے میں جارہا ہوں لوٹ کر واپس نہ آؤں گا  ممکن اگر ہے آپ بُھلا دیجیے مجھے سچ بولنے کا پھر سے کیا میں نے ارتکاب سچائی گر خطا ہے سزا دیجیے مجھے مجھ سے اگر تعلقِ خاطر ہے آپ کو  وہ چاند آسمان کا لا دیجیے مجھے میں جاں بہ لب ہوں شمسؔ کے دیدار کیلئے آبِ حیاتِ دید پلا دیجیے مجھے   ڈاکٹر شمسؔ کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نم

غزلیات

کرکے فریاد شب و رُوز ہیں ہارے آنسو  کس کو فُرصت ہے کہ پلکوں سے اُتارے آنسو  دشتِ تنہائی میں منزل جو دکھا دیتے ہیں  اُن کے رُخسار پہ لگتے ہیں ستارے آنسو  پیاس جسموں کی ہمارے نہ بُجھی کیوں اب تک روز آیئنے سے پوچھیں یہ کنوارے آنسو  ساری دھرتی کو جزیروں میں بدل ڈالیں گے  مل کے بیٹھے جو کسی روز یہ سارے آنسو  دل کو حالات کہیں اور نہ پتھر کردیں  کاش لوٹادے کوئی ہم کو ہمارے آنسو  ایک مُدت سے کنارے پہ نہیں وہ اُترا  جس کی فُرقت میں بہاتے ہیں شکارے آنسو  بے دلی سے بھی جو مانوسؔنے کھینچا دامن کس کے گھر جائیں گے یہ درد کے مارے آنسو   پرویز مانوس ؔ آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر  موبائل 9622937142    غمِ فُرقت میں سوزِ زندگانی کم نہ ہو جائے

غزلیات

آیا جو خیال بھی تو منفی  پوچھا جو سوال بھی تو منفی    تھا خود وہ غزال بھی تو منفی  تھی اس کی اُچھال بھی تو منفی    سر چڑھ کے جادو بولا تھا  دل پر تھا وبال بھی تو منفی    سورج کو نابینا سمجھا  دی اس نے مثال بھی تو منفی    آنکھ میں کیسے بھرتے جلوے  تھا اس کا جمال بھی تو منفی    سرخ کِھلا تھا گُل گلدان میں  رخ پر تھا جلال بھی تو منفی    سوچوں پہ لگے پہرے عادل ؔ آیا تھا خیال بھی تو منفی    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر  رابطہ ؛9906540315       ہر لمحہ اپنے دور کا خنجربکف رہا اپنا وجود اس کے ستم کا ہدف رہا   ہیرے مسرتوں کے تراشے