غزلیات

در و دیوار کہ ویران ہوئے جاتے ہیں شہر کے شہر بیابان ہوئے جاتے ہیں   میں بھی سورج کو ہتھیلی پہ لئے پھرتا ہوں اور جگنو ہیں پریشان ہوئے جاتے ہیں   تم ہی آؤ مری محفل میں کوئی رنگ جمے ورنہ سب تو یہاں بے جان ہوئے جاتےہیں   با وفائی کا چلو کچھ تو نتیجہ نکلا میرے ہرجائی پشیمان ہوئے جاتے ہیں   آؤ کچھ دیر ہی چلتے ہیں رہِ منزل پہ اب یہ رستے بھی تو انجان ہوئے جاتے ہیں   کیوں ہواؤں سے بغاوت پہ اَڑے ہو جاویدؔ چار سُو قتل کے سامان ہوئے جاتے ہیں   سردارجاویدخان  مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر؛9419175198     چلو راحت ہے دنیا میں ابھی ایما ن باقی ہے  بڑی حیوانیت کے درمیاں انسان باقی ہے  مچلتا ہے یہ دل اب تک تیری یا دیں بھی ہیں زندہ ابھی میں مر نہیں

شکن زاد تخلیق

کشمیر سے دُکھ کا شاعر ہوں اک دھول جمی ہے چہرے پر تشہیرِ دھواں ہے آنکھوں میں قرطاس پہ بکھری ہیں لاشیں اور قطرہ قطرہ رستا ہے اس نوک قلم سے تازہ لہو  آہیں ہیں صریر خامہ میں ہر نقطہ ہے اک تربت سا ہر لفظ ہے سوئے دارورسن ہر حرف ہے میرا پا بہ زنجیر   ہر شوق تخیل زخمی ہے ہر صنف سُخن ہے گریہ کناں رفتارِ غزل پہ قدغن ہے ہر شاخ نظم ہے برق زدہ اور نثر گریباں چاک کئے پیوستہ خنجر فکر میں ہے اک سہما سہما موسم سا گلزارِ معانی ویراں ہے زرخیز زمینیں بنجر ہیں ہر قافیہ بجھتا جگنو سا   جب برگِ ردیف پہ پت جھڑ ہو پھر شعرِ مردّف کیا ہوگا اے دوست نہ کر اب مجھ سے طلب وہ نظم و غزل کی خوشبوئیں وہ باغ کلی وہ تتلی... سب ماضی کی کہانی بن بیٹھے اپنا جو حال ہے رہنے دے........ پر بچے ....

غزلیات

غمِ دوراں میں خوشیوں کا خزانہ خواب لگتا ہے  ہمارے شہر میں اب مُسکرانا خواب لگتا ہے  وراثت پر مری قابض ہُوا کچھ اس طرح  غاصب کہ اپنی ہی زمیں پر گھر بنانا خواب لگتا ہے  جہاں پر چہچہاہٹ کو پرندے بھی ترستے ہوں  وہاں پر امن کا پرچم اُٹھانا خواب لگتا ہے  گیا جو دے کے تنہائی کے تحفے مُدتوں پہلے  میری آنکھوں کو اُس کا لوٹ آنا خواب لگتا ہے  اُسے تو کج ادائی کی رَوشِ کچھ اتنی راس آئی  مری راہوں میں اب پلکیں بچھانا خواب لگتا ہے  برسنے لگ گئے ہیں سنگ سب کے پھُول چہروں سے  ہمیں اس شہر میں سر کو بچانا خواب لگتا ہے  جہاں مسموم آندھی تاک میں شب بھر رہے مانوسؔ وہاں اکثر چِراغوں کو جلانا خواب لگتا ہے   پرویز مانوسؔ نٹی پورہ سرینگر  موبائل نمبر؛9622937142  

غزلیات

مرے دل کی بھی کچھ سنا کیجیے کچھ اپنے بھی دل کی کہا کیجیے   ہوں بیمار اے دلربا آپ کا مرے دردِ دل کی دوا کیجیے   مرے دل میں اُٹھتا کہ جو درد ہے کوئی گر نہ جانے تو کیا کیجیے   دلوں سے کہ اٹھتی جو آواز ہے کبھی تو اُسے بھی سنا کیجیے   وہ دل، آپ ہی کے جو بیمار ہیں اب اُن کی شفا کی دعا کیجیے   ہزاروں ہیں دل آپ کی قید میں خدارا اب ان کو رہا کیجیے   نہ دے جائے دھوکہ کوئی اے بشیرؔ ذرا دیکھ کر دل دیا کیجیے   بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ) کشتواڑی موبائل نمبر؛7006606571     میں ہوں مضطرب مرے ساقیا، مجھے پینے کو کوئی جام دو تہہ دل میں اسکو ہے کھوجنا، مجھے صبح دو مجھے شام دو   مرے ہم سفر کو نوید ہو، ترے ہجر کا میں شہید ہوں مری قبر کو ک

غزلیات

اس جہاں کے لوگ بس درد آشنا کہنے کو ہیں  آزمایا سب کو سب اہلِ وفا کہنے کو ہیں    پیشوائی کی نہ ان میں رہنمائی کی صِفت  یہ ہمارے رہنما یہ پیشوا کہنے کو ہیں    وقتِ مشکل ہمنوائی کون کرتا ہے بھلا  زندگی کی راہ میں سب ہمنوا کہنے کو ہیں    کون جانے ہو گیا کیا جذبہء ایثار کو  جو کیا کرتے ہیں جان ودل فدا کہنے کو ہیں    دیکھ کر اب تو ہے میزانِ عدالت دم بخود  عدل کی کرسی پہ اب حق آشنا کہنے کو ہیں    زیست کے گرداب سے ساحلؔ پکارا دوستو قلب ہو جن کے مثالِ آئینہ کہنے کو ہیں    مراد ساحلؔ  ممبئی، مہاراشٹر موبائل نمبر ؛9405187859   کِس قدردیرکی ہے آنے میں کیامِلاہے مُجھے رُلانے میں تُم وفائوں کی بات کرتے ہو

غزلیات

اُن کو دیکھے بِناجی بہلتانہیں  اِس نظرمیں کوئی اَب ٹھہرتانہیں   اُن سے جب سے محبت ہوئی دل بِنا ان کے تب سے مچلتا نہیں   ہے سمائی یہ دُھن کیسی دلدار کی اب کسی دُھن پہ یہ دِل دھڑکتانہیں   ایک عالم بپا بے قراری کاہے لاکھ کوشش کریں کچھ بھی بنتا نہیں   خوب سمجھایا تھا دل کو صورتؔ، مگر دل تو دل ہے کبھی خُو بدلتا نہیں   صورت سنگھ رام بن، موبائل نمبر؛9419364549     کیوں عداوت رکھیں زمانے سے    تیر کو عشق ہے نشانے سے ایک دن دل کو چین آتا تھا باغ میں تتلیاں اُڑانے سے ہے مصیبت اگر تو کیا ہوگا سر پہ یوں آسمان اٹھانے سے آج مایوس ہو کے لوٹا ہوں میں محبت کے آستانے سے اُس کو کوئی فرق نہیں پڑتا یاد رکھنے سے بھول جانے سے دشمنی ہی عزیز ٹ

غزلیات

تُو مجھے اپنا بنا بھی لے تو کیا مل جائے گا حسرتیں پہلے گنوا دیں اب فقط دل جائے گا   جھک گیا چوکھٹ پہ تیری میرا سر تو کیا ہُوا میں نے جو نظریں اُٹھائیں آسماں ہِل جائے گا   تُو مسیحا ہے کہاں کا ہاتھ میں تاثیر کیا فصلِ گُل میں داغ میرا خودبخود سِل جائے گا   نفرتوں کا بیج ہی بویا ہے اُس نے ہر طرف اور اب بھی سوچتا ہے پھر کنول کِھل جائے گا   کب تلک دربان بیٹھے گا ترے رُخسار پر حُسن ڈھلتا جا رہا ہے اب ترا تِل جائے گا   اب قیامت کی گھڑی جاویدؔ ہے نزدیک تر خاک سے پیدا ہُوا ہے خاک میں مِل جائے گا   سردار جاوید خان پتہ مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر ؛9419175198     میرے سر پر آج بھی آکر ٹھہرا تھا سورج درد کی حدّت پر دیتا سا  پہرا تھا  سورج   پ

غزلیات

نہ دل نہ جسم مرے رابطے میں کوئی نہیں  غبارِ رہ  کے سوا  راستے میں کوئی نہیں    ابھی تو چاند کی بولے گی خود پرستی اور  شبِ انا کے سوا فائدے میں کوئی نہیں    سفر سفر میں رہی ساتھ آبلہ پائی  جنونِ دل کے سوا قافلے میں کوئی نہیں    اُڑان بھر بھی گئے وہ سبھی پرندے اب  اُجاڑ رُت کے سوا گھونسلے میں کوئی نہیں    فضا نے پھول کے رخ پر چھڑک سی دی شبنم  ہوا نہ رُت نہ صباء قائدے میں کوئی نہیں    زبانِ زیست پہ جیسے مٹھاس بکھری ہے  مذاقِ دل کے سوا ذائقے میں کوئی نہیں    ہماری آنکھ کو بھایا نہیں کوئی عادل ؔ نگاہِ یار کے بھی زاویئے میں کوئی نہیں    اشرف عادلؔؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل

غزلیات

یہ جو اِنبِساط ہے  چار دن کی بات ہے    ہر قدم پہ مات ہے  بس یہی حیات ہے    باقی سب ڈھکوسلہ  اِک خدا کی ذات ہے    سب اُسی کے کھیل ہیں  دِن کہیں پہ رات ہے    تجھ سے کیا مقابلہ  تُو اندھیری رات ہے    اِس جفا پرستی میں  کون خوش صِفات ہے    مختصر سی بات ہے  زیست ہی ممات ہے    اِندرؔ اِس زمانے میں  کون کِس کےساتھ ہے    اِندرؔ سرازی  پریم نگر، ضلع ڈوڈہ، جموں  موبائل نمبر:  7006658731     جہاں پر بپھری لہروں سے کنارا بات کرتا ہے  سفینے سے وہاں طوفاں کا دھارا بات کرتا ہے   خدا ناراض ہونے سے سہارے ٹوٹ جاتے ہیں خدا

غزلیات

وہ جو دن رات یوں بھٹکتا ہے جانے کس کی تلاش کرتا ہے دل بھی اس کا ہے جگنوؤں جیسا شام کے وقت جلتا بُجھتا ہے سامنے بیٹھا ہے مگر پھر بھی لب ہے خاموش، کچھ نہ کہتا ہے ہنس کے رونا، اُداس ہو جانا کیا پتہ کس کو پیار کرتا ہے دل جو لگ جائے غیر کے دل سے پھر سنبھالے کہاں سنبھلتا ہے یاد آ جاتا ہے وہی چہرہ چاند بادل سے جب نکلتا ہے چارہ گر کو خبر کرو کوئی تنہا بسملؔ کا دل تڑپتا ہے    پریم ناتھ بسملؔ مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار رابطہ۔8340505230     نہ گل باقی نہ گلشن میں ثمر کوئی  فقط کانٹوں پہ کرتا ہے بسر کوئی  کبھی پتھر، کبھی افلاک کی زد میں  ثمر افشاں ہوا جب سے شجر کوئی  ستارے کُو بہ کو پھیلے کہ جگنو،شب  مرے در پر گرا لیکن  شرر کوئی  زمین اتن

غزلیات

 بے کلی بڑھ گئی ہے پہلے سے کاش کرتے علاج پہلے سے خوب  اعلان لا علاجی کا ہم یہی کہہ رہے ہیں پہلے سے اب تو لہجے کی کاٹ کچھ بھی نہیں یہ تو بہتر ہوئی ہے پہلے سے خار چوکس ہیں گُل کے پہلو میں ہیں تو گُلچیں سے وہ بھی دہلے سے باغباں آکے بس یہ کہتے ہیں آشیاں جل رہا تھا پہلے سے اِن چراغوں کی روشنی دیکھو تیرگی بڑھ رہی ہے پہلے سے خوب وعدے وعید خواب سراب یہی تو ہو رہا ہے پہلے سے   ڈاکٹر ظفر اقبال بلجرشی الباحہ سعودی عرب موبائل 00966538559811     تُو مجھے اپنا بنا بھی لے تو کیا مل جائے گا حسرتیں پہلے گنوا دیں اب فقط دل جائے گا جُھک گیا چوکھٹ پہ تیری میرا سر تو کیا ہُوا میں نے جو نظریں اُٹھائیں آسماں ہِل جائے گا تُو مسیحا ہے کہاں کا ہاتھ میں تاثیر کیا فصلِ گُل میں داغ میرا خ

غزلیات

 کچھ اور میرے غم کے سوا دیجیے مجھے بیمارِ آرزو ہوں دوا دیجیے منزل کو ڈھونڈھنے کا پتہ دیجیے مجھے کاندھوں پہ ہے سفر تو دعاء دیجیے مجھے مجھ رہ نوردِ شوق پر احسان کیجیے شمعِ رہِ حیات بنا دیجیے مجھے صحرائے زندگی میں کِھلا دیجیے گُلاب پھولوں کی پنکھڑی سے سجا دیجیے مجھے جب تک  جلوں گا روشنی کرتا رہوں گا میں تاریکی چاہیے تو بُجھا دیجیے مجھے میں جارہا ہوں لوٹ کر واپس نہ آؤں گا  ممکن اگر ہے آپ بُھلا دیجیے مجھے سچ بولنے کا پھر سے کیا میں نے ارتکاب سچائی گر خطا ہے سزا دیجیے مجھے مجھ سے اگر تعلقِ خاطر ہے آپ کو  وہ چاند آسمان کا لا دیجیے مجھے میں جاں بہ لب ہوں شمسؔ کے دیدار کیلئے آبِ حیاتِ دید پلا دیجیے مجھے   ڈاکٹر شمسؔ کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نم

غزلیات

کرکے فریاد شب و رُوز ہیں ہارے آنسو  کس کو فُرصت ہے کہ پلکوں سے اُتارے آنسو  دشتِ تنہائی میں منزل جو دکھا دیتے ہیں  اُن کے رُخسار پہ لگتے ہیں ستارے آنسو  پیاس جسموں کی ہمارے نہ بُجھی کیوں اب تک روز آیئنے سے پوچھیں یہ کنوارے آنسو  ساری دھرتی کو جزیروں میں بدل ڈالیں گے  مل کے بیٹھے جو کسی روز یہ سارے آنسو  دل کو حالات کہیں اور نہ پتھر کردیں  کاش لوٹادے کوئی ہم کو ہمارے آنسو  ایک مُدت سے کنارے پہ نہیں وہ اُترا  جس کی فُرقت میں بہاتے ہیں شکارے آنسو  بے دلی سے بھی جو مانوسؔنے کھینچا دامن کس کے گھر جائیں گے یہ درد کے مارے آنسو   پرویز مانوس ؔ آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر  موبائل 9622937142    غمِ فُرقت میں سوزِ زندگانی کم نہ ہو جائے

غزلیات

آیا جو خیال بھی تو منفی  پوچھا جو سوال بھی تو منفی    تھا خود وہ غزال بھی تو منفی  تھی اس کی اُچھال بھی تو منفی    سر چڑھ کے جادو بولا تھا  دل پر تھا وبال بھی تو منفی    سورج کو نابینا سمجھا  دی اس نے مثال بھی تو منفی    آنکھ میں کیسے بھرتے جلوے  تھا اس کا جمال بھی تو منفی    سرخ کِھلا تھا گُل گلدان میں  رخ پر تھا جلال بھی تو منفی    سوچوں پہ لگے پہرے عادل ؔ آیا تھا خیال بھی تو منفی    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر  رابطہ ؛9906540315       ہر لمحہ اپنے دور کا خنجربکف رہا اپنا وجود اس کے ستم کا ہدف رہا   ہیرے مسرتوں کے تراشے

غزلیات

غمِ فْرقت میں سوزِ زندگانی کم نہ ہو جائے غموں کا اسقدر بڑھنا علاجِ غم نہ ہو جائے   بڑی مْشکل سے میں نے آب دی ہے تیغِ قاتل کو سنبھل کر دیکھنا یہ آنکھ پھر سے نم نہ ہو جائے   زمانے کی تھکن لے کر یہاں تک آ تو پہنچا ہے ترے در پر یہ دیوانہ کہیں بے دم نہ ہو جائے   ذہن میں گونجتی ہیں اب بھی چیخیں حْسن بانو کی کہیں پھر سے کوئی بہرام زیرِ چھم نہ ہو جائے   اگر سجدہ ہی لازم ہے تو کعبہ اور کلیسا کیوں جبیں چوکھٹ پہ تیری پھر بھلا کیوں خم نہ ہو جائے   جدائی کا یہ موسم اور میری  تشنگی  جاویدؔ مری آنکھوں کا یہ دریا مْجھی میں ضم نہ ہو جائے   سردارجاویدخان  پتہ؛ مہنڈر، پونچھ،رابطہ؛ 9419175198     غزل سانسوں پہ اپنی جیسے مسلط ہے دوڑ دھوپ چھاؤں اُتارتا ہ

رحمتِ عالمؐ

پیغام دے گئے ہیں ہمیں رحمتِ عالمؐ چُھوٹے نہ ہاتھوں سے کبھی توحید کا پرچم   ناکام و نامُراد سب ابلیس کی چالیں  پیوستہ دل میں ہو اگر ایماں تمہیں محکم   اُس رب کی مُعرفت کا جسے جام ہو حاصل   ہر سو نوازا جائے گا انوار سے پیہم   ہو دل میں جس کے جاگزیں اک نعمتِ تقویٰ دربارِ الٰہی میں وہ انساں ہے مُعظّم   باتوں میں اُجالا ہوجسکے، دل میں اندھیرا   وہ روح شب و روز رہے درہم و برہم    طُفیل شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛9596416377                

الیکشن 2019

لو آگئے پھر یہ لوٹنے والے ۔۔۔ کھیل تماشا دکھانے والے   نمک زخموں پر چھڑکنے والے  نئی اسکیموں سے بہکانے والے   معصوموں کو بھڑکانے والے  لو آگئے پھر یہ لوٹنے والے ۔۔۔ اب کی بار کس کی سرکار ؟   لوگوں میں ہے یہ ہاہاکار ! کوئی بھی جیتے میرے یار   ہمارے واسطے بس ہے مار  امن و امان کو پھونکنے والے   انسانیت پر تھوکنے والے  جذباتوں کو کوٹنے والے   لو آگئے پھر یہ لوٹنے والے  لو آگئے پھر یہ لوٹنے والے ۔۔۔ وعدوں کا نیا خزانہ ہوگا   بات چیت کا بھی بہانہ ہوگا  خود مختاری، سیلف رول، آٹونومی !   کیا ایسا بھی کوئی زمانہ ہوگا ؟ سب وعدوں کو بھولنے والے   مظلوموں پر کوسنے والے  35-Aکو توڑنے والے &nb

غزلیات

طاقوں سے رفتگاں کے دئیے کون لے گیا ہر ایک پوچھتا تھا ارے کون لے گیا   ڈرتا ہوں پستیوں کی طرف دیکھنے سے بھی اتنی بلندیوں پہ مجھے کون لے گیا   تمثیلیں، استعارے، تراکیب اور طرز سامان شعر سے یہ مرے کون لے گیا   لایا تھا بحرِ خواب کی تہہ سے میں ایک لعل آنکھوں سے مری رات رہے کون لے گیا   دل کھوگیا تھا اس کا مجھے دیکھ کر کہا کیوں بولتا نہیں تو ابے کون لے گیا   نخلِِ سکوتِ فکر کے پتے رفیق ؔراز تازہ تھے اور تھے وہ ہرے کون لے گیا   رفیق رازؔ سرینگر، موبائل نمبر؛9622661666   غزلیات عشق سے گر گزر چکے ہوتے کب کے ظالم تو ڈر چکے ہوتے   فیصلہ ہوگا قتل کر کے ہی تم جو کہتے تو کر چکے ہوتے   چھین کر چین چہروں سے اب تک زخم یہ کب کے بھر چکے ہوتے

غزلیات

میری پلکوں پہ نئے دیپ جلانے آئے  میرے آنسو ہی مرا ساتھ نبھانے آئے ہم تو جسموں کی کبھی کرتے نہیں ہیں پوجا  دل کے قدموں پہ  فقط پھول چڑھانے آ ئے  کچھ نئے خواب نگاہوں کے نگر میں ٹوٹے  حوصلے پھر مرے تعبیر بتانے آئے  تیری پلکوں پہ کبھی اشک نہ دیتے دستک   تیری آنکھوں سے فقط سرمہ چرانے آئے  استعاروں کے شوالے میں عقیدت سے اب  چند بیتابِ سخن دیپ جلانے آئے  اس کی آنکھوں میں مرے اشک سماتے کیسے  میرے آنسو تو یہاں عید منانے آئے  ہم نے آواز تو پھولوں کو فقط دی عادل ؔ خار ہی ہم سے مگر ہاتھ ملانے آئے    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل نمبر؛9906540315     طبعیت کو تمہاری کیا ہوا ہے مجھے بتلاؤ آخر ک

غزلیات

 کبھی اپنے کبھی اغیار نظر آتے ہیں سائے بھی کتنے پُراسرار نظر آتے ہیں   اب نئے شہر کا نقشہ نہ بنایا ہو کہیں پھر اُجڑتے ہوئے گھر بار نظر آتے ہیں   جان لیتے رہے دیتے بھی رہے جن کے لئے آج وہ مسئلے بے کار نظر آتے ہیں   معجزہ یہ بھی سیاست کا کوئی کم تو نہیں دو نہیں ہوتے مگر چار نظر آتے ہیں   جس نے جو چاہا وہی چھین لیا ہے ہم سے اب تو کوئی لُٹا بازار نظر آتے ہیں   وقت نے چہرے پہ وہ کاریگری کی بلراجؔ آج ہم بھی کوئی شہکار نظر آتے ہیں   بلراج بخشی ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی،  اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)  موبائل نمبر؛09419339303       سر پھرا میں سر فدا کرتا رہا زندگی کے شوق میں مرتا رہا زخم کھا کر درد اک سہتا رہا